

محمود احمد May12,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکا حقیقی مذاکرات کے بجائے مکمل ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکی حکام نے ایران پر دباؤ بڑھانے اور عسکری کامیابیوں کے دعوے کیے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات کے لیے جنگ بندی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ بنیادی شرط ہے۔ ان کے مطابق امریکا کا رویہ ایران پر اپنی شرائط مسلط کرنے کے مترادف ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی ذمہ داری بھی امریکا پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحری ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کے تحت اعلانِ جنگ تصور کی جاتی ہے اور ایران اس صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔
چین میں ایران کے سفیر نے بھی ایک بیان میں کہا کہ امریکا دباؤ ڈال کر چین اور ایران کے تعلقات کو متاثر نہیں کر سکتا، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر جنگ نے سینیٹ کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مختلف محاذوں پر کامیابیاں حاصل کر رہا ہے اور ایران کو اپنے عسکری نقصان کا احساس ہو چکا ہے، اسی لیے وہ مذاکرات کی طرف آ رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق تنازع کا حل صرف صدر ٹرمپ کی شرائط کے مطابق ممکن ہے، اور امریکا کے پاس اپنی پوزیشن منوانے کے لیے تمام ضروری عسکری صلاحیتیں موجود ہیں۔
ادھر ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے نیا حملہ کیا گیا تو ایران یورینیئم کی 90 فیصد افزودگی سمیت دیگر آپشنز پر غور کر سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی کہا ہے کہ ایران کے عوام کے حقوق کو تسلیم کیے بغیر کوئی حل ممکن نہیں، اور اس معاملے میں تاخیر سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ناکامی کا بوجھ بالآخر امریکی ٹیکس دہندگان کو برداشت کرنا پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں توانائی، تجارت اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔