تہران (نیوز اینڈ نیوز): خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ بندی کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر ایرانی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ کسی بھی امریکی فوجی سازوسامان کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ترجمان ایرانی فوج کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں دشمن کے سامنے پیچھے ہٹنے کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج دشمن کے کسی بھی ممکنہ جارحانہ اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملکی دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم کے مطابق، آبنائے ہرمز کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور امریکی فوجی نقل و حرکت کو روکنا ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ ایرانی فوج کے اس تازہ ترین بیان کے بعد خطے میں بحری اور فوجی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز رپورٹ) امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے منگل کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے آغاز سے اب تک امریکہ کے جنگی اخراجات 29 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ امن کی امیدیں مسلسل کمزور ہو رہی ہیں۔
پینٹاگون کے مطابق یہ اخراجات فروری میں شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد سے اب تک کے ہیں، جن میں فوجی ساز و سامان کی مرمت، متبادل آلات کی خریداری اور آپریشنل اخراجات شامل ہیں۔ اس سے قبل 29 اپریل کو یہ تخمینہ 25 ارب ڈالر بتایا گیا تھا۔
کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے قائم مقام کمپٹرولر جولز ہرسٹ نے بتایا کہ یہ تخمینہ مسلسل اپڈیٹ کیا جا رہا ہے کیونکہ فوجی ٹیمیں ہر مرحلے پر اخراجات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے یہ بیان وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے ہمراہ دیا۔
ادھر صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات کمزور پڑ رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے سخت مؤقف کے باعث کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
اسی دوران عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی اثرات دیکھے جا رہے ہیں، جہاں اپریل میں امریکہ میں افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے چین کے طویل انتظار کے دورے سے قبل کہا ہے کہ وہ “امن کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے کامیابی حاصل کریں گے”۔
دوسری جانب ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ ماہ ایران کی ایک توانائی تنصیب پر حملہ کیا تھا، جبکہ یورپی یونین جنگ کے بعد بحری مشن پر غور کر رہی ہے۔
مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے، جو عالمی توانائی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے بھی خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، اور اسلام آباد نے چین اور آذربائیجان سمیت مختلف ممالک کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے رابطے بڑھائے ہیں۔ امریکی صدر نے اس کردار کو سراہتے ہوئے پاکستان کو “انتہائی بہترین ثالث” قرار دیا ہے۔
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکا حقیقی مذاکرات کے بجائے مکمل ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکی حکام نے ایران پر دباؤ بڑھانے اور عسکری کامیابیوں کے دعوے کیے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات کے لیے جنگ بندی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ بنیادی شرط ہے۔ ان کے مطابق امریکا کا رویہ ایران پر اپنی شرائط مسلط کرنے کے مترادف ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی ذمہ داری بھی امریکا پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحری ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کے تحت اعلانِ جنگ تصور کی جاتی ہے اور ایران اس صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔
چین میں ایران کے سفیر نے بھی ایک بیان میں کہا کہ امریکا دباؤ ڈال کر چین اور ایران کے تعلقات کو متاثر نہیں کر سکتا، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر جنگ نے سینیٹ کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مختلف محاذوں پر کامیابیاں حاصل کر رہا ہے اور ایران کو اپنے عسکری نقصان کا احساس ہو چکا ہے، اسی لیے وہ مذاکرات کی طرف آ رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق تنازع کا حل صرف صدر ٹرمپ کی شرائط کے مطابق ممکن ہے، اور امریکا کے پاس اپنی پوزیشن منوانے کے لیے تمام ضروری عسکری صلاحیتیں موجود ہیں۔
ادھر ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے نیا حملہ کیا گیا تو ایران یورینیئم کی 90 فیصد افزودگی سمیت دیگر آپشنز پر غور کر سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی کہا ہے کہ ایران کے عوام کے حقوق کو تسلیم کیے بغیر کوئی حل ممکن نہیں، اور اس معاملے میں تاخیر سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ناکامی کا بوجھ بالآخر امریکی ٹیکس دہندگان کو برداشت کرنا پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں توانائی، تجارت اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے آثار نمایاں ہونے کے بعد پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی جانب سے پیش کیے گئے تصفیہ فریم ورک کو مسترد کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق پیر کے روز خطے میں اہم سفارتی سرگرمیاں جاری رہیں جبکہ فوجی دباؤ اور دوبارہ محاذ آرائی کے خدشات بھی بڑھنے لگے ہیں۔ پاکستان اس دوران ایک باضابطہ ثالث کے طور پر مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جواب کو “مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی خلیج بہت وسیع ہے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے جنگ بندی کی صورتحال کو شدید خطرے میں قرار دیا اور کہا کہ یہ ایسے ہے جیسے کسی مریض کے بچنے کے امکانات صرف ایک فیصد رہ جائیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے تیل بردار اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
اس صورتحال کے تناظر میں پاکستان کا دفتر خارجہ مسلسل سفارتی رابطے کر رہا ہے۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا اور علاقائی استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر گفتگو کی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان خلیجی ممالک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کئی متعلقہ ممالک ایران سے رابطے کر رہے ہیں جبکہ اسلام آباد اب بھی اس معاملے میں ایک فعال ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں تعطل پیدا ہوا تو عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو خوراک اور توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لندن، نیوز اینڈ نیوز: برطانیہ نے ایران سے منسلک تنظیموں اور مبینہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ برطانوی وزارتِ خارجہ کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد برطانیہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا اور خطے میں غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام یقینی بنانا ہے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی ریاست سے منسلک بعض گروہ یورپ اور امریکا میں غیرقانونی سرگرمیوں، مالی جرائم اور سلامتی کے لیے خطرات پیدا کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اسی تناظر میں متعدد افراد، تنظیموں اور نیٹ ورکس پر سفری پابندیاں، اثاثے منجمد کرنے اور مالی لین دین محدود کرنے جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانیہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر عالمی سلامتی کو درپیش خطرات کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور کسی بھی ایسے نیٹ ورک کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان پابندیوں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں تہران مغربی ممالک کے ایسے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق برطانیہ کے اس اقدام سے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی تنازع کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے جواب کو “مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جس کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کا جواب پڑھ لیا ہے، لیکن یہ انہیں بالکل پسند نہیں آیا۔ انہوں نے اسے “TOTALLY UNACCEPTABLE” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ ایران کی شرائط قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے اپنے جواب میں لبنان میں جاری جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور خطے میں دشمنی کم کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ پابندیوں میں نرمی اور ایٹمی تنازع جیسے حساس معاملات کو بعد کے مرحلے کے لیے مؤخر رکھنے کی تجویز دی گئی۔
اسلام آباد میں معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ “ایران کا جواب موصول ہو چکا ہے”۔ وزیراعظم نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی واضح کیا کہ مذاکرات کا مطلب “ہتھیار ڈالنا یا پسپائی اختیار کرنا نہیں” بلکہ برابری اور احترام کی بنیاد پر مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے عسکری قیادت سے اہم ملاقات کی، جبکہ امریکی اتحادیوں کو مختلف مقامات پر ڈرون حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ تہران کا “صبر ختم ہو چکا ہے” اور مسلسل جنگ بندی خلاف ورزیوں کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
ادھر قطر کے وزیراعظم نے واشنگٹن میں اہم ملاقاتوں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے خطے میں جاری سفارتی کوششوں اور امن کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
واشنگٹن / تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ امن معاہدے کیلئے 30 روزہ مذاکراتی دور کی تجویز سامنے آگئی، جبکہ عالمی میڈیا نے 14 نکاتی خفیہ پلان کی تفصیلات بھی جاری کر دیں۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ پلان کے تحت ایران کو 60 فیصد افزودہ تقریباً 440 کلوگرام یورینیم بین الاقوامی نگرانی میں حوالے کرنا ہوگا، جبکہ اس کے بدلے امریکہ مرحلہ وار ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم کرے گا۔
خفیہ پلان میں ایرانی تیل کی برآمدات پر نرمی، بینکاری پابندیوں میں جزوی کمی اور بیرون ملک منجمد اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں کی بحالی بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کم کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر نیا فریم ورک طے کرنا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق مذاکرات کے دوران جنگ بندی، خلیج میں بحری کشیدگی میں کمی اور قیدیوں کے تبادلے جیسے معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔ تاہم ایران نے تاحال پلان کی تمام شقوں پر باضابطہ رضامندی ظاہر نہیں کی۔
ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سفارتی حل اب بھی ترجیح ہے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ قومی خودمختاری اور دفاعی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اسلام آباد, پاکستان تحریک انصاف نے 9 مئی 2023ء کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کی شفاف، غیرجانبدار اور آزادانہ تحقیقات کیلئے ایک بااختیار عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔
تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اپنے بیان میں کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری نہ صرف عدلیہ کے تقدس کی خلاف ورزی تھی بلکہ اس نے ریاستی جبر اور آمریت کی خطرناک مثال قائم کی۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کی حقیقت سامنے لانے، ذمہ داران کا تعین کرنے اور انصاف کی فراہمی کیلئے سپریم کورٹ کے حاضر سروس سینئر ججز پر مشتمل عدالتی کمیشن فوری طور پر تشکیل دیا جائے۔
شیخ وقاص اکرم نے سی سی ٹی وی فوٹیج غائب ہونے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم شواہد کا منظرعام پر نہ آنا تحقیقات کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 9 مئی سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز فوری طور پر عوام کے سامنے لائی جائیں۔
انہوں نے عمران خان، بشریٰ بی بی اور 9 مئی کے بعد گرفتار ہونے والے تمام کارکنوں، خصوصاً خواتین، کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔
دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی نے بھی کہا کہ 9 مئی کے واقعات کو سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں کیلئے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا، جس سے جمہوری آزادیوں، انسانی حقوق اور سیاسی عمل کو شدید نقصان پہنچا۔
ڈھاکا (نیوز اینڈ نیوز) بنگلادیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے محمد عباس کی شاندار پانچ وکٹوں اور ڈیبیوٹنٹ اذان اویس کی ناقابل شکست نصف سنچری کی بدولت مضبوط جواب دیا۔
شیرِ بنگلا نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے میچ کے دوسرے روز بنگلادیش نے اپنی پہلی اننگز 413 رنز پر ختم کی، جس کے جواب میں پاکستان نے ایک وکٹ کے نقصان پر 179 رنز بنا لیے۔
پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے اوپنر اذان اویس 85 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ ایک اور نئے کھلاڑی عبداللہ فضل 37 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔ دونوں نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو مستحکم آغاز فراہم کیا۔
اس سے قبل تجربہ کار فاسٹ باؤلر محمد عباس نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 34 اوورز میں 92 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ یہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کی چھٹی پانچ وکٹیں ہیں۔
بنگلادیش کی جانب سے کپتان نجم الحسن شانتو نے 101 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ مشفق الرحیم نے 71 رنز بنائے۔ شاہین شاہ آفریدی نے بھی عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستانی اوپنرز امام الحق اور اذان اویس نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 106 رنز جوڑ کر ٹیم کو بہترین آغاز فراہم کیا۔ امام الحق 45 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
میچ کے اختتام پر پاکستان کو بنگلادیش کی پہلی اننگز کا خسارہ ختم کرنے کیلئے مزید 234 رنز درکار ہیں جبکہ اس کی 9 وکٹیں باقی ہیں۔
لندن (نیوز اینڈ نیوز) انگلش پریمیئر لیگ میں لیورپول اور چیلسی کے درمیان دلچسپ مقابلہ 1-1 سے برابر ہوگیا، جبکہ مانچسٹر یونائیٹڈ کو سنڈر لینڈ کے خلاف بغیر کسی گول کے ڈرا پر اکتفا کرنا پڑا۔
اینفیلڈ میں کھیلے گئے میچ میں لیورپول نے چھٹے ہی منٹ میں ریان گراوینبرخ کے شاندار گول کی بدولت برتری حاصل کرلی، تاہم چیلسی کے اینزو فرنینڈیز نے 35ویں منٹ میں فری کک پر گول کرکے مقابلہ برابر کردیا۔
میچ کے اختتام پر لیورپول شائقین نے ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر شدید ردعمل دیا۔ اس ڈرا کے بعد لیورپول چوتھی پوزیشن پر موجود ہے اور چیمپئنز لیگ میں رسائی کی دوڑ میں اسے چھٹے نمبر پر موجود بورن ماؤتھ پر چار پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔
چیلسی کی ٹیم اب ٹاپ فائیو میں جگہ بنانے کی دوڑ سے ریاضیاتی طور پر باہر ہوگئی ہے اور نویں نمبر پر موجود ہے، تاہم عبوری کوچ کیلم میک فارلین نے ٹیم کی کارکردگی کو حوصلہ افزا قرار دیا۔
دوسری جانب مانچسٹر یونائیٹڈ اور سنڈر لینڈ کے درمیان مقابلہ بغیر کسی گول کے ختم ہوا۔ مانچسٹر یونائیٹڈ گزشتہ نومبر کے بعد پہلی مرتبہ لیگ میچ میں گول کرنے میں ناکام رہی۔
ادھر بورن ماؤتھ نے فلہم کو 0-1 سے شکست دے کر چیمپئنز لیگ میں جگہ بنانے کی امیدیں برقرار رکھیں۔ برازیلین نوجوان کھلاڑی رایان نے 53ویں منٹ میں فیصلہ کن گول اسکور کیا۔
برائٹن اینڈ ہوو البیون نے بھی وولوز کو 0-3 سے شکست دے کر یورپی مقابلوں میں رسائی کی امیدیں روشن رکھیں۔ جیک ہنشل ووڈ، لیوس ڈنک اور یانکوبا منٹیہ نے گول اسکور کیے۔
تہران / واشنگٹن / بیروت (نیوز اینڈ نیوز) ایران نے خلیج میں حالیہ بحری جھڑپوں اور بڑھتی کشیدگی کے بعد امریکی سفارت کاری کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتے ہوئے واشنگٹن کی تازہ تجاویز پر فوری جواب دینے سے گریز کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے امکانات تاحال برقرار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی کے باوجود صورتحال نسبتاً پرسکون ہے، تاہم امریکہ ایران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے تاکہ دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری تنازع کے خاتمے اور ممکنہ امن مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن کو ایران کے جواب کی توقع ہے، لیکن ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترک ہم منصب کے ساتھ گفتگو میں امریکی قیادت کی نیت اور سفارتی سنجیدگی پر شکوک کا اظہار کیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ خلیج فارس میں امریکی افواج کی حالیہ کارروائیوں اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں نے سفارتی عمل کے حوالے سے ایران کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ادھر جمعے کو پیش آنے والے ایک واقعے میں امریکی جنگی طیارے نے دو ایرانی پرچم بردار آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن پر امریکہ نے اپنی بحری ناکہ بندی چیلنج کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ایرانی فوجی حکام کے مطابق ایران نے امریکی کارروائی کا جواب دیا، تاہم بعد ازاں جھڑپیں ختم ہو گئیں۔
رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز، جو عالمی تجارت کیلئے ایک اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ایران اپنے معاشی اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایران آئندہ کئی ماہ تک شدید معاشی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے تہران پر واشنگٹن کے دباؤ کی محدود حیثیت ظاہر ہوتی ہے۔
ادھر بحرین میں حکام نے مبینہ طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے حامی 40 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ برطانیہ نے بھی مشرق وسطیٰ میں اپنی جنگی سرگرمیوں کے پیش نظر ایک جنگی بحری جہاز تعینات کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے لبنان میں بھی فضائی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے بیروت کے جنوب میں ایک اہم شاہراہ کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل کے زیرِ اہتمام معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب میں مقررین نے معرکۂ حق کو پاکستان کی قومی قوت، استقامت، سفارتی بصیرت اور عسکری تیاری کا تاریخی مظہر قرار دیا۔
تقریب میں سفارتکاروں، کشمیری رہنماؤں اور پاکستانی کمیونٹی کے ارکان نے شرکت کی، جبکہ تقریب کا موضوع “معرکۂ حق: پاکستان کی فتح، استقامت، عزم اور انصاف کے سفر کی یادگار” رکھا گیا۔
مقررین نے کہا کہ بھارت کی بلااشتعال جارحیت کے مقابلے میں پاکستان نے ذمہ دارانہ، متوازن اور مضبوط ردعمل دے کر واضح کر دیا کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے پاک مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے لیکن اس کے امن کے عزم کو کمزوری نہیں سمجھا جا سکتا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ معرکۂ حق پاکستان کی حالیہ تاریخ کا ایک فیصلہ کن باب ہے، جس نے قومی اتحاد، اسٹریٹجک بصیرت اور خودمختاری کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف عسکری میدان میں کامیابی حاصل کی بلکہ سفارتی سطح پر بھی عالمی برادری کے سامنے اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے مسئلۂ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ناگزیر ہے، جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مکالمے، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔
سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ معرکۂ حق نے بھارت کے جارحانہ عزائم اور جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کیا، جبکہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں نے عالمی سطح پر ملک کے وقار اور مؤقف کو مزید مضبوط بنایا۔ انہوں نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں امن مسئلۂ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔
قونصل جنرل عامر احمد آتوزئی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے معرکۂ حق کے دوران ذمہ داری، تحمل اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے مکمل تیاری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کی حب الوطنی اور پاکستان کیلئے غیر متزلزل حمایت کو بھی سراہا۔
ڈاکٹر غلام مجتبیٰ نے کہا کہ بھارت کے عزائم کو قومی اتحاد، اسٹریٹجک عزم اور پاک افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت کے ذریعے ناکام بنایا گیا، جبکہ ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا کہ معرکۂ حق نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو مزید بلند کیا اور کشمیری عوام نے بھی پاکستان کی کامیابی کو امید کی علامت قرار دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمیونٹی رہنما علی راشد نے کہا کہ معرکۂ حق نے ثابت کیا کہ پاکستان ایک مضبوط، باوقار اور ذمہ دار ریاست ہے جو امن بھی چاہتی ہے اور اپنے قومی مفادات کے دفاع کی مکمل صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ جبکہ کشمیری رہنما تاج خان نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے عوام کے درمیان رشتہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے اور بھارت کا پروپیگنڈا عالمی سطح پر ناکام ثابت ہوا۔
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مبینہ “ہدفی بے دخلی” کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کسی بھی ملک، خصوصاً یو اے ای، کی جانب سے پاکستانیوں یا کسی مخصوص فرقے کے خلاف کارروائی کے شواہد نہیں ملے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹس میں پاکستانی شہریوں کی بے دخلی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کا نوٹس لیا گیا ہے، تاہم تحقیقات کے دوران ایسی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی کہ پاکستانیوں کو مخصوص بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہو۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں متعدد بین الاقوامی میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں، خصوصاً شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، کو گرفتار کرکے ملک بدر کیا جا رہا ہے۔
امریکی اخبار “نیویارک ٹائمز” نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران متعدد پاکستانی شہریوں کو اچانک گرفتار، حراست میں لینے اور پھر ڈی پورٹ کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ رپورٹ میں ان مبینہ اقدامات کو مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے تعلقات سے بھی جوڑا گیا تھا۔
تاہم پاکستانی وزارت داخلہ نے ان دعوؤں کو قیاس آرائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کے تحفظ کیلئے متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔
واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز) امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے تبادلے کے باوجود دونوں ممالک نے کشیدگی کو مزید بڑھانے سے گریز کیا ہے، جبکہ واشنگٹن اب بھی تہران کے امن معاہدے سے متعلق جواب کا منتظر ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جمعہ کے روز آبنائے ہرمز میں امریکی بحری افواج اور ایرانی فورسز کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوئیں۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکہ پر ایرانی حدود میں حملوں کا الزام بھی عائد کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی حملوں کے جواب میں کارروائی کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ کے تین ڈسٹرائرز پر حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد امریکی فورسز نے بھرپور جواب دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں لنکن میموریل کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “انہوں نے آج ہمیں چیلنج کیا، ہم نے انہیں بھرپور جواب دیا۔”
تاہم امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں حالیہ جھڑپیں خطے میں جاری کشیدگی کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے مکمل تصادم سے گریز کو سفارتی پیشرفت کیلئے اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نہایت گہرے اور برادرانہ ہیں، سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے انتہائی اہم ہے جبکہ حرمین شریفین کا دفاع ہر پاکستانی کیلئے باعثِ فخر اور اعزاز ہے۔
معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت سعودی عرب کی قومی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے اور سعودی عرب کو کسی بھی قسم کا خطرہ پاکستان کیلئے بھی خطرہ تصور کیا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن “غضب للحق” دہشتگردی کے خلاف قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہے اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور پاکستان کئی دہائیوں سے دہشتگردی اور پراکسی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے معرکہ حق میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر واضح پیغام دیا کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا جبکہ کشمیری عوام کو حق خودارادیت ملنا چاہیے۔ انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں دہشتگردی کو بطور ریاستی ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور سیاسی مسائل سیاسی قیادت کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی روایتی، غیر روایتی، سائبر اور بیانیاتی جنگ کیلئے مکمل تیار ہے اور قوم کو اپنی افواج پر مکمل اعتماد ہے۔
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) کاشف عباسی ،٠7 مئی 2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی خوشگوار گفتگو میں خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے جاری سفارتی کوششوں کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 16 اپریل کو دوحہ کے اپنے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور قطری قیادت کے ساتھ ملاقاتیں خطے میں امن کے فروغ کیلئے نہایت مفید ثابت ہوئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی عوام امیرِ قطر کے جلد دورۂ پاکستان کے منتظر ہیں اور یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
قطر کے وزیراعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کیلئے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ قطر، پاکستان کی قیادت میں جاری سفارتی اقدامات کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
2026 اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) کاشف عباسی ، 07 مئی
امریکہ اور ایران نے مشرق وسطیٰ میں کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد ممکنہ معاہدے کی جانب پیش رفت کا اشارہ دیا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ دونوں فریق ان تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں جن کا مقصد دشمنی کو کم کرنا اور سفارتی تصفیہ کی طرف بڑھنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نتیجہ خیز بات چیت کے بعد کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ بہت ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی حفاظت سے متعلق کارروائیاں روک دی گئی ہیں، جب کہ فوجی آپریشن "ایپک فیوری” ختم ہو چکا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ امریکہ کی تازہ ترین تجویز کا فی الحال جائزہ لیا جا رہا ہے اور تہران کا ردعمل پاکستان کے ذریعے پہنچایا جا سکتا ہے۔ ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ بامعنی مذاکرات کے لیے بات چیت میں شامل ہونے کے لیے دونوں طرف سے حقیقی رضامندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن ایک مختصر "ایک صفحے کی” مفاہمت کی یادداشت پر متفق ہونے کے قریب ہیں، جو وسیع تر مذاکرات اور علاقائی استحکام کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے پاس موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کافی مقامی مالیاتی صلاحیت موجود ہے اور اسے فوری طور پر بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کے بجائے دستیاب ملکی وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا چاہیے۔ بریتھ پاکستان کانفرنس کے دوران "کلائمیٹ فنانسنگ فار پاکستان” سیشن سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے میکرو اکنامک استحکام کو "بنیادی حفظان صحت” قرار دیا۔ عالمی بینک کے ایک اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ عالمی معیشت کے پاس موسمیاتی مالیاتی فرق کو پورا کرنے کے لیے کافی وسائل موجود ہیں۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان موسمیاتی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم اس مسئلے سے کامیابی سے نمٹنے کے لیے مضبوط اقتصادی پالیسیاں اور موثر مالیاتی حکمت عملی ضروری ہے۔
اسلام آباد:(نیوز اینڈ نیوز) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے طرز عمل میں تبدیلی ضروری ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ صرف پالیسی سازی سے زیادہ موثر عمل درآمد اہمیت رکھتا ہے۔ ڈان میڈیا گروپ کے زیر اہتمام "بریتھ پاکستان” کلائمیٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دیں اور سنگل یوز پلاسٹک پر انحصار کم کریں۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا آغاز انفرادی سطح سے ہونا چاہیے اور یہ کہ ماحولیات کا تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔ وفاقی وزیر نے لاہور کی اورنج لائن میٹرو ٹرین کو صاف اور موثر پبلک ٹرانسپورٹ کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں میں آلودگی اور ٹریفک کے ہجوم کو کم کرنے کے لیے جدید ٹرانزٹ سسٹم ضروری ہے۔ تارڑ نے نوٹ کیا کہ مسئلہ قوانین کی عدم موجودگی نہیں بلکہ نفاذ کی کمی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آج سنجیدگی سے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو آنے والی نسلیں ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کرتی رہیں گی۔ اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے موسمیاتی مسائل سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ سندھ کے ایم پی اے مخدوم فخر زمان نے سندھ پر موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے 2022 کے تباہ کن سیلاب کو یاد کیا جس نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کو اب نہ صرف ایک بحران کے طور پر بلکہ ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جانا چاہئے جو طویل مدتی کارروائی اور لچک کا مطالبہ کرتا ہے۔
تہران (نیوز اینڈ نیوز): ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران میں امریکا کی جانب سے دی گئی تجاویز پر غور جاری ہے اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے بعد پاکستان کو اپنے مؤقف سے آگاہ کیا جائے گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اپنی پوزیشن سے متعلق پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کرے گا، تاہم مذاکرات صرف اسی صورت ممکن ہوتے ہیں جب ان میں نیک نیتی شامل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈکٹیشن، دباؤ یا دھوکا دہی کو مذاکرات نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ طریقہ کار بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ جبراً فیصلے مسلط کرنا یا زبردستی شرائط منوانا مذاکرات کے بنیادی تصور کے خلاف ہے، جبکہ عالمی قوانین میں نیک نیتی کو ایک لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ امریکی تجاویز دراصل یکطرفہ مطالبات پر مشتمل ہیں اور امریکا جنگ یا دباؤ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ملک دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے شرائط تسلیم نہ کیں تو مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے صحافی کے اس سوال پر کہ کیا امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے دوبارہ پاکستان جایا جائے گا، جواب دیا کہ اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران شرائط مان لیتا ہے تو جاری آپریشن ختم کیا جا سکتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں براہِ راست مذاکرات کے امکانات کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا ممکن نہیں
نیویارک/لندن (نیوز اینڈ نیوز): ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے اثرات عالمی منڈی پر نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت کم ہو کر 92 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جس میں تقریباً 9 ڈالر کی کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل بھی تقریباً 100 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرنے لگا ہے۔
ماہرین کے مطابق مذاکرات میں بہتری کی امید نے عالمی منڈی میں سپلائی کے خدشات کو کم کیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں پر دباؤ آیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی پیشرفت جاری رہی تو آئندہ دنوں میں قیمتوں میں مزید استحکام یا کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
دوسری جانب توانائی مارکیٹ سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کی صورت میں عالمی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کو بھی ریلیف ملنے کا امکان ہے۔