تہران: جنگ بندی کی غیر یقینی صورتحال، ایرانی فوج ہائی الرٹ، آبنائے ہرمز سے امریکی فوجی سازوسامان گزارنے پر پابندی کا اعلان

محمود احمد May13,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز): خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ بندی کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر ایرانی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ کسی بھی امریکی فوجی سازوسامان کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ترجمان ایرانی فوج کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں دشمن کے سامنے پیچھے ہٹنے کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج دشمن کے کسی بھی ممکنہ جارحانہ اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملکی دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں۔

بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم کے مطابق، آبنائے ہرمز کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور امریکی فوجی نقل و حرکت کو روکنا ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ ایرانی فوج کے اس تازہ ترین بیان کے بعد خطے میں بحری اور فوجی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

بجلی کے بلوں میں ‘ان ٹارگٹڈ کراس سبسڈی’ ختم کرنے کا فیصلہ، کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پر بوجھ بڑھے گا

محمود احمد May13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز): وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور کڑی شرط تسلیم کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے، جس کے تحت بجلی کے بلوں پر دی جانے والی ‘ان ٹارگٹڈ کراس سبسڈی’ کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں یکم جنوری 2027 سے تمام صارفین سے بجلی کی اصل اور پوری قیمت وصول کی جائے گی، جس سے کم بجلی استعمال کرنے والے طبقے کے بلوں میں بڑے اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

حکومتی منصوبے کے مطابق، اب سبسڈی صرف ان مستحق صارفین تک محدود رہے گی جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت رجسٹرڈ ہوں گے۔ ماہانہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے پر ملنے والی رعایت کا یکم جنوری 2027 سے خاتمہ کر دیا جائے گا اور ریلیف کا نیا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس نئے طریقہ کار کے تحت صارفین کو اپنے بجلی کے بل پر موجود ‘کیو آر کوڈ’ کے ذریعے بی آئی ایس پی میں رجسٹریشن کروانا ہوگی، جس کے بعد صرف اہل افراد کو ہی مالی معاونت مل سکے گی۔

حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال سے 500 ارب روپے سے زائد کی پاور سبسڈی بی آئی ایس پی کو منتقل کر دی جائے گی۔ اس اقدام کا ایک بڑا مقصد ان افراد کو روکنا ہے جو بڑے گھروں میں ایک سے زائد میٹر لگوا کر سستی بجلی کی سہولت حاصل کر رہے تھے۔ پاور ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک سے زائد میٹرز کی وجہ سے ‘پروٹیکٹڈ صارفین’ کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ کر 2 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جسے اب درست کیا جائے گا۔

حکومت اگست تک اس نئے سبسڈی سسٹم کا تجرباتی معائنہ (ٹیسٹنگ) کرے گی، جبکہ اس کا مکمل نفاذ جنوری 2027 سے ہوگا۔ علاوہ ازیں، پاکستان نے آئی ایم ایف سے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ (کلائمیٹ ترجیح) کے بجٹ کو 30 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ اس نئے سسٹم کے بعد بجلی کے بل براہِ راست صارفین کی مالی حیثیت سے منسلک کر دیے جائیں گے۔

وزیرِ داخلہ سندھ کی انمول پنکی کو ‘بہادری’ کی سند: عدالت سے نہ بھاگنے پر شکریہ ادا کر کے سب کو حیران کر دیا

محمود احمد May13,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز): صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کوکین ڈیلر انمول پنکی کی عدالت میں پیشی کے دوران پولیس کے ناقص انتظامات اور کمزور کسٹڈی پر شدید مایوسی اور شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے نظام کے لیے لمحہ فکریہ قرار دے دیا ہے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انتہائی طنزیہ انداز میں کہا کہ جس طرح کی پولیس کسٹڈی دیکھی گئی، اس پر وہ ملزمہ کے شکر گزار ہیں کہ وہ عدالت سے بھاگی نہیں، ورنہ وہاں فرار ہونے سے روکنے کے لیے خاطر خواہ انتظامات موجود نہ تھے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بطور سربراہِ محکمہ انہیں اس صورتحال پر شدید شرمندگی ہے کہ کیا اس طرح سے نظام چلایا جائے گا۔

انہوں نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جس میں ایڈیشنل آئی جی، انٹیلی جنس کے نمائندے اور بیورو کریٹس شامل ہوں گے، جو اس بات کا جائزہ لیں گے کہ پولیس کا چالان کتنا مضبوط تھا اور کوتاہی کہاں ہوئی۔ ضیاء الحسن لنجار نے خاتون مجسٹریٹ کی جانب سے ریمانڈ نہ دیے جانے پر بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے کیس میں 24 گھنٹے کا ریمانڈ بھی نہ ملنا سوالیہ نشان ہے، جس کے خلاف وہ باقاعدہ درخواست دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملزمہ انمول پنکی ایک ‘چلتی پھرتی منشیات کی فیکٹری’ ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ وہ کسی صورت رہا نہ ہو سکے۔ وزیر داخلہ نے مزید انکشاف کیا کہ کراچی منشیات کے گینگز کا گڑھ بن چکا ہے اور انمول پنکی کے علاوہ بھی کئی گروہ یہاں سرگرم ہیں جن کے خلاف انٹیلی جنس اور پولیس کی محنت سے کریک ڈاؤن جاری ہے، تاہم اس کیس میں جو بھی پولیس افسر ذمہ دار پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی اور گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔

راولپنڈی میں منشیات فروشوں کا راج، نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر

منصور احمد ,May 13,2026

راولپنڈی،(نیوز اینڈ نیوز ) شہر میں منشیات فروشی ایک سنگین مسئلہ بنتی جارہی ہے، جبکہ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ خصوصاً تھانہ رتہ امرال، تھانہ پیرودھائی اور تھانہ گنج منڈی کی حدود میں منشیات فروش کھلے عام سرگرم ہیں اور نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق نالہ لئی کے اطراف، حاجی روڈ، ہزارہ کالونی، رتہ امرال اور ملحقہ علاقوں میں ہیروئن، آئس اور دیگر خطرناک منشیات کی خرید و فروخت دن رات جاری ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ متعدد مقامات پر نوجوان سرعام نشہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے نہ صرف علاقے کا امن و سکون متاثر ہورہا ہے، بلکہ جرائم کی شرح میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ شہریوں کے مطابق منشیات فروشوں کے ساتھ ساتھ چھری مار اور دیگر جرائم پیشہ عناصر بھی متحرک ہیں، جس کے باعث عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ علاقہ مکینوں نے الزام لگایا کہ بعض بااثر عناصر اور مبینہ سیاسی پشت پناہی کی وجہ سے منشیات فروش بلا خوف و خطر اپنا دھندا چلا رہے ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان نسل کو دانستہ طور پر نشے کا عادی بنایا جارہا ہے، جبکہ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ شہریوں نے حکومت پنجاب، اعلیٰ پولیس حکام اور اے این ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ جڑواں شہروں راولپنڈی و اسلام آباد کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر آپریشن کیے جائیں اور منشیات فروشوں و ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نوجوان نسل کا مستقبل مزید خطرے میں پڑ سکتا ہے

امریکہ ایران کشیدگی: جنگی اخراجات 29 ارب ڈالر سے تجاوز، جنگ بندی غیر یقینی

محمود احمد May13,2026

واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز رپورٹ)
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے منگل کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے آغاز سے اب تک امریکہ کے جنگی اخراجات 29 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ امن کی امیدیں مسلسل کمزور ہو رہی ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق یہ اخراجات فروری میں شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد سے اب تک کے ہیں، جن میں فوجی ساز و سامان کی مرمت، متبادل آلات کی خریداری اور آپریشنل اخراجات شامل ہیں۔ اس سے قبل 29 اپریل کو یہ تخمینہ 25 ارب ڈالر بتایا گیا تھا۔

کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے قائم مقام کمپٹرولر جولز ہرسٹ نے بتایا کہ یہ تخمینہ مسلسل اپڈیٹ کیا جا رہا ہے کیونکہ فوجی ٹیمیں ہر مرحلے پر اخراجات کا جائزہ لے رہی ہیں۔

انہوں نے یہ بیان وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے ہمراہ دیا۔

ادھر صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات کمزور پڑ رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے سخت مؤقف کے باعث کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

اسی دوران عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی اثرات دیکھے جا رہے ہیں، جہاں اپریل میں امریکہ میں افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے چین کے طویل انتظار کے دورے سے قبل کہا ہے کہ وہ “امن کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے کامیابی حاصل کریں گے”۔

دوسری جانب ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ ماہ ایران کی ایک توانائی تنصیب پر حملہ کیا تھا، جبکہ یورپی یونین جنگ کے بعد بحری مشن پر غور کر رہی ہے۔

مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے، جو عالمی توانائی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے بھی خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، اور اسلام آباد نے چین اور آذربائیجان سمیت مختلف ممالک کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے رابطے بڑھائے ہیں۔ امریکی صدر نے اس کردار کو سراہتے ہوئے پاکستان کو “انتہائی بہترین ثالث” قرار دیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز
(بین الاقوامی ڈیسک)

لکی مروت دھماکہ: دو پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد جاں بحق، 33 زخمی

کاشف عباسی ,May 13 ,2026

لکی مروت، نیوز اینڈ نیوز:
خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں منگل کے روز ایک مصروف بازار میں ہونے والے خوفناک بم دھماکے کے نتیجے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم نو افراد جاں بحق جبکہ 33 افراد زخمی ہوگئے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق دھماکہ ایک رکشے میں نصب بارودی مواد پھٹنے سے ہوا، جس کے باعث بازار میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکے سے متعدد دکانوں اور رکشوں کو بھی نقصان پہنچا۔

ڈپٹی کمشنر لکی مروت حمید اللہ خان نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دہشت گردوں نے بارودی مواد ایک رکشے میں نصب کیا تھا۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔

ضلعی پولیس افسر کے ترجمان قدرت اللہ خان کے مطابق شہید ہونے والے ٹریفک پولیس اہلکاروں کی شناخت عادل جان اور راحت اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔

ٹی ایچ کیو ہسپتال کی انتظامیہ نے بتایا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے 33 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہونے پر انہیں بنوں ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان شہداب خان کے مطابق دھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں اور ایمبولینسز فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے قومی عزم کا اعادہ کیا اور متعلقہ حکام کو واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت جاری کی

پٹرولیم لیوی کی بدولت پاکستان کا مالیاتی خسارہ 27 سال کی کم ترین سطح پر آگیا

کاشف عباسی ,May 13 ,2026

اسلام آباد، نیوز اینڈ نیوز:
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے جولائی تا مارچ مالی سال کے دوران تقریباً تین دہائیوں کا کم ترین مالیاتی خسارہ ریکارڈ کیا ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف 0.7 فیصد رہا۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارہ کم ہو کر 856 ارب روپے تک محدود رہا، جس کی بڑی وجوہات صوبوں کی جانب سے بجٹ سرپلس، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی ریکارڈ وصولیاں اور قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں کمی قرار دی جا رہی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حکومت کو 2.1 ٹریلین روپے کا تاریخی سرپلس حاصل ہوا تھا، تاہم دوسری سہ ماہی کے اختتام تک یہ کم ہو کر 542 ارب روپے رہ گیا، جبکہ تیسری سہ ماہی کے اختتام پر مجموعی طور پر 857 ارب روپے کا خسارہ سامنے آیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق پٹرولیم لیوی حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن کر ابھری، جس میں 45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور وصولیاں بڑھ کر 1.205 ٹریلین روپے تک پہنچ گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود لیوی وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے لیے پٹرولیم لیوی کا ہدف 1.468 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا تھا، جس کے تجاوز کرنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اس مد میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

دوسری جانب دفاع، پنشن اور سبسڈی کے اخراجات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ریونیو اور جی ڈی پی کے تناسب میں کمی بھی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط اور صوبائی تعاون نے خسارہ محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

کسانوں کو کھاد کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی ,May 13 ,2026

اسلام آباد، نیوز اینڈ نیوز:
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کسانوں کو بروقت اور بلا تعطل کھاد کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے تاکہ ملک کی غذائی سلامتی کو محفوظ رکھا جا سکے۔

وزیراعظم نے وفاقی دارالحکومت میں غذائی تحفظ اور کھاد کے ذخائر سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کی ضروریات پوری کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، کیونکہ قومی غذائی سلامتی کا انحصار مضبوط زرعی نظام پر ہے۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت دی کہ خلیجی ممالک سے سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر وسطی ایشیائی ممالک سے متبادل کھاد درآمد کرنے کے امکانات اور ہنگامی منصوبوں پر کام کیا جائے۔

شہباز شریف نے خریف اور ربیع سیزن کے لیے کھاد کے وافر ذخائر یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے مقامی سطح پر کھاد کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نئے پلانٹس کی تنصیب سے مقامی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور درآمدی انحصار کم کیا جا سکے گا۔

وزیراعظم نے مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی بھی ہدایت کی تاکہ کسانوں کا استحصال روکا جا سکے اور مارکیٹ میں کھاد کی فراہمی مستحکم رہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں کھاد کی سپلائی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسانوں کو بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بیرونِ ملک میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کیلئے پی ایم ڈی سی رجسٹریشن لازمی قرار

کاشف عباسی ,May 13 ,2026

اسلام آباد، نیوز اینڈ نیوز:
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے بیرونِ ملک میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بیرونِ ملک روانگی سے قبل میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) پاس کریں اور اپنی رجسٹریشن لازمی مکمل کروائیں۔

پی ایم ڈی سی کے مطابق یہ اقدام پاکستان میں طبی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ کو منظم بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی رجسٹریشن مستقبل میں ان کی ڈگریوں کی تصدیق اور پیشہ ورانہ معاملات میں معاون ثابت ہوگی۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی ملک میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے ریگولیٹری فریم ورک کو مزید مؤثر بنانے کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں پی ایم ڈی سی کی ذیلی کمیٹی برائے ایکریڈیشن کا ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں جاری اصلاحات، ایکریڈیشن کے نظام اور رجسٹریشن کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ طبی تعلیم کے شعبے میں شفافیت، معیار اور آسان رجسٹریشن کے نظام کو یقینی بنایا جائے۔

پی ایم ڈی سی حکام کے مطابق اصلاحات کا مقصد نہ صرف ملکی سطح پر طبی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہے بلکہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کے لیے ایک واضح اور منظم ریگولیٹری نظام فراہم کرنا بھی ہے۔

پاکستانی بندرگاہوں کو علاقائی ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کیلئے اقدامات جاری، جنید انوار چوہدری

منصور احمد ,May 13,2026

اسلام آباد، نیوز اینڈ نیوز:
وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت پاکستانی بندرگاہوں کو علاقائی ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، تاکہ ملک کو خطے میں ایک اہم بحری تجارتی حب کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں بندرگاہوں کی تیاریوں اور سمندری تجارت کے فروغ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

اجلاس میں بلا تعطل سمندری تجارت، آپریشنل کارکردگی میں بہتری، فیڈر کنیکٹیویٹی کے استحکام اور کاروباری طریقہ کار کو آسان بنانے جیسے امور پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ کراچی کو ایک قابلِ اعتماد میری ٹائم گیٹ وے کے طور پر فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔

محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ بندرگاہوں کی استعداد کار میں اضافے، لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور جدید فیڈر سروسز کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریگولیٹری نظام میں بہتری اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے بندرگاہی نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران ریگولیٹری چیلنجز، اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی، ڈیٹنشن چارجز کے مسائل اور علاقائی کارگو کے حصول کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ٹرمینلز کی ہینڈلنگ صلاحیت بڑھانے اور جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل شاہد احمد (ر) نے اجلاس کو بتایا کہ کراچی بندرگاہ پر گاڑیوں اور ایس یو ویز کی ہینڈلنگ کے لیے اضافی جگہ مختص کر دی گئی ہے، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں مزید آسانی پیدا ہوگی۔

وفاقی وزیر نے مزید ہدایت کی کہ ملک کی تینوں بڑی بندرگاہوں کی کارکردگی اور سہولیات کو اجاگر کرنے کے لیے باقاعدہ نیوز لیٹر جاری کیا جائے اور عالمی سطح پر مؤثر مارکیٹنگ کے ذریعے پاکستان کی بندرگاہوں کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور شپنگ کمپنیوں کے لیے مزید پرکشش بنایا جائے

راولپنڈی میں نو تعمیر شدہ ’معرکۂ حق اسکوائر‘ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا

کاشف عباسی ,May 13 ,2026

راولپنڈی، نیوز اینڈ نیوز:
راولپنڈی شہر کے جدید انفراسٹرکچر میں ایک اور اہم منصوبے کا اضافہ ہو گیا، جہاں نو تعمیر شدہ ’’معرکۂ حق اسکوائر‘‘ پر باقاعدہ ٹریفک کی روانی شروع کر دی گئی۔ منصوبے کے فعال ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں نمایاں سہولت میسر آئے گی جبکہ ٹریفک کے دباؤ میں بھی کمی متوقع ہے۔

اس جدید اسکوائر میں ٹریفک کے بہتر بہاؤ کے لیے فلائی اوورز، کشادہ سڑکیں اور جدید ٹریفک مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جس سے روزانہ سفر کرنے والے شہریوں کو آسانی حاصل ہوگی۔ حکام کے مطابق منصوبے کا مقصد شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک مسائل پر قابو پانا اور سفری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

معرکۂ حق اسکوائر کی خاص پہچان اس کا جدید طرز کا پیڈسٹرین برج ہے، جس کا منفرد جالی دار اور دائرہ نما ڈیزائن شہریوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس ڈیزائن نے علاقے کو بین الاقوامی معیار کی شکل دے دی ہے اور یہ منصوبہ راولپنڈی کی خوبصورتی میں نمایاں اضافہ ثابت ہوگا۔

منصوبے کے تحت گرین بیلٹس، پودوں اور خوبصورت شجرکاری کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ سڑکوں کے اطراف اور پل کے نیچے لگائے گئے درخت اور پودے ماحول کو خوشگوار بنانے کے ساتھ ساتھ شہری حسن میں اضافہ کر رہے ہیں۔

مقامی شہریوں نے اس منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے نہ صرف ٹریفک کے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ راولپنڈی کی شہری ترقی کو بھی نئی سمت ملے گی۔

منشیات فروش خاتون کو ’پروٹوکول‘ دینے پر تین پولیس اہلکار معطل

کاشف عباسی ,May 13 ,2026

کراچی، نیوز اینڈ نیوز:
کراچی میں ایک مشتبہ منشیات فروش خاتون کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کرنے اور مبینہ طور پر ’’پروٹوکول‘‘ دینے پر تین پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سندھ حکومت نے سخت نوٹس لیا۔

پولیس کے مطابق مشتبہ خاتون انمول عرف پنکی کو گارڈن کے علاقے میں ایک مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ کارروائی پولیس اور ایک سول انٹیلی جنس ادارے نے مشترکہ طور پر کی، جس میں خاتون کے اپارٹمنٹ سے منشیات اور غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا کہ خاتون کو بغیر ہتھکڑیوں کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جبکہ وہ دھوپ کا چشمہ لگائے اور ہاتھ میں پانی کی بوتل تھامے عدالت کی راہداری میں چل رہی تھی۔ ویڈیو میں تفتیشی افسر کو اس کے پیچھے چلتے اور رہنمائی کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جس پر سوشل میڈیا صارفین اور مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔

سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا، جس کے بعد تفتیشی افسر، گارڈن تھانے کے ایس ایچ او اور اسٹیشن انویسٹی گیشن افسر کو معطل کر دیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق انمول عرف پنکی مبینہ طور پر منشیات کی تیاری اور سپلائی کے ایک منظم نیٹ ورک میں ملوث تھی۔ تلاشی کے دوران اس کے فلیٹ سے ڈیڑھ کلوگرام کوکین، تقریباً 6.9 کلوگرام دیگر نشہ آور مواد اور ایک غیر قانونی 9 ایم ایم پستول برآمد کیا گیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تاکہ ملزمہ کے ساتھیوں، سپلائی نیٹ ورک اور مجرمانہ ریکارڈ کی مزید تحقیقات کی جا سکیں، تاہم عدالت نے خاتون کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور مقررہ مدت میں چالان پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔

پولیس کے مطابق ملزمہ کراچی کے پوش علاقوں کلفٹن، ڈی ایچ اے اور دیگر مقامات پر مخصوص رائیڈرز کے ذریعے آن لائن منشیات سپلائی کرتی تھی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے لیے خواتین رائیڈرز کا بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

دہلی اور کابل میں اب کوئی فرق نہیں رہا، دہشتگردی پر سخت مؤقف اپنائیں گے: خواجہ آصف

محمود احمد May13,2026

اسلام آباد، نیوز اینڈ نیوز:
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہلی اور کابل میں اس وقت کوئی تفریق نہیں رہی، پاکستان دہشتگردی کے مسئلے پر واضح اور دوٹوک مؤقف رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ کابل حکومت ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرے تاکہ دہشتگردی کا مؤثر سدباب کیا جا سکے، تاہم اگر تعاون نہ کیا گیا تو پھر وہی پالیسی اپنائی جائے گی جو بھارت کے حوالے سے اختیار کی گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان مسلسل دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے اور اس کے تانے بانے سرحد پار عناصر سے ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت افغانستان کو بارہا باور کرایا گیا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، لیکن اگر اس معاملے میں سنجیدہ پیش رفت نہ ہوئی تو پاکستان اپنے دفاع اور سلامتی کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور خطے میں استحکام کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اب کسی بھی قسم کی مداخلت یا سہولت کاری برداشت نہیں کی جائے گی۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں اور ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں۔

امریکا اور ایران میں کشیدگی میں اضافہ، آبنائے ہرمز بحران پر الزامات کا تبادلہ

محمود احمد May12,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکا حقیقی مذاکرات کے بجائے مکمل ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکی حکام نے ایران پر دباؤ بڑھانے اور عسکری کامیابیوں کے دعوے کیے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات کے لیے جنگ بندی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ بنیادی شرط ہے۔ ان کے مطابق امریکا کا رویہ ایران پر اپنی شرائط مسلط کرنے کے مترادف ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی ذمہ داری بھی امریکا پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحری ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کے تحت اعلانِ جنگ تصور کی جاتی ہے اور ایران اس صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔

چین میں ایران کے سفیر نے بھی ایک بیان میں کہا کہ امریکا دباؤ ڈال کر چین اور ایران کے تعلقات کو متاثر نہیں کر سکتا، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر جنگ نے سینیٹ کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مختلف محاذوں پر کامیابیاں حاصل کر رہا ہے اور ایران کو اپنے عسکری نقصان کا احساس ہو چکا ہے، اسی لیے وہ مذاکرات کی طرف آ رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق تنازع کا حل صرف صدر ٹرمپ کی شرائط کے مطابق ممکن ہے، اور امریکا کے پاس اپنی پوزیشن منوانے کے لیے تمام ضروری عسکری صلاحیتیں موجود ہیں۔

ادھر ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے نیا حملہ کیا گیا تو ایران یورینیئم کی 90 فیصد افزودگی سمیت دیگر آپشنز پر غور کر سکتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی کہا ہے کہ ایران کے عوام کے حقوق کو تسلیم کیے بغیر کوئی حل ممکن نہیں، اور اس معاملے میں تاخیر سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ناکامی کا بوجھ بالآخر امریکی ٹیکس دہندگان کو برداشت کرنا پڑے گا۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں توانائی، تجارت اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ: سابق انتظامیہ نے ٹی20 ورلڈ کپ معاملہ درست طور پر ہینڈل نہیں کیا

محمود احمد May12,2026

ڈھاکا (نیوز اینڈ نیوز) — بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی ایڈ ہاک کمیٹی کے سربراہ تمیم اقبال نے کہا ہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ کے معاملے کو سابق بورڈ انتظامیہ نے درست انداز میں ہینڈل نہیں کیا، جس کے باعث صورتحال پیچیدہ ہو گئی۔

بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں تمیم اقبال نے کہا کہ وہ اس معاملے پر ابتدا ہی میں مؤقف اختیار کر چکے تھے کہ اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا، تاہم سابق انتظامیہ نے مناسب حکمت عملی اختیار نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اس معاملے میں نرمی دکھائی تھی اور حل نکالنے کے مواقع موجود تھے، لیکن بدقسمتی سے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔

تمیم اقبال کے مطابق بنگلہ دیش نے باقاعدہ ڈائیلاگ کے بغیر ورلڈ کپ کی صورتحال کو آگے بڑھنے دیا، جس کے باعث ٹیم کو ایک اہم ایونٹ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے اس اسکواڈ کے کچھ کھلاڑیوں کو دوبارہ ورلڈ کپ کھیلنے کا موقع نہ ملے، جو افسوسناک ہے۔

بھارت اور بنگلہ دیش کرکٹ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز کے درمیان اب کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے اور سیکیورٹی سے متعلق بھی کوئی خدشات موجود نہیں۔ ان کے مطابق بھارت کی ٹیم جب بھی بنگلہ دیش کا دورہ کرتی ہے تو اسٹیڈیم تماشائیوں سے بھر جاتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سیریز شائقین کے لیے بہت دلچسپ ہوتی ہے۔

پاکستان کی جانب سے یکجہتی کے طور پر ورلڈ کپ کے بائیکاٹ سے متعلق سوال پر تمیم اقبال نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کا حصہ نہیں تھے، اس لیے اس پر کوئی رائے نہیں دے سکتے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ اس صورتحال میں ورلڈ کپ کھیلنے کا موقع ضائع ہوا۔

پنجاب اسمبلی میں “معرکہِ حق” کی کامیابی پر قرارداد منظور، مسلح افواج کو خراجِ تحسین

کاشف عباسی ,May 12 ,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — پنجاب اسمبلی میں ایک نادر سیاسی اتفاقِ رائے دیکھنے میں آیا جب ایوان نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں “معرکہِ حق” کی کامیابی پر پاک فوج اور مسلح افواج کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

قرارداد وزیرِ خزانہ و پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پیش کی، جس میں کہا گیا کہ “معرکہِ حق” میں پاکستان نے دشمن کے خلاف فیصلہ کن کامیابی حاصل کی، اور اس موقع پر مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کو سراہا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ یہ کامیابی صرف عسکری طاقت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں پوری قوم کی یکجہتی شامل تھی، جس میں مذہبی اسکالرز، میڈیا، سول سوسائٹی اور اقلیتی برادریوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

ایوان میں پیش کیے گئے متن کے مطابق پاکستان نے دشمن کو ایسی شکست دی کہ وہ پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوا، اور ایوان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حوصلے اور ایمان سے جیتی جاتی ہیں۔

اجلاس کے دوران حکومتی ارکان نے پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے، ڈیسک بجائے اور اسے ملکی دفاع کی تاریخ کا اہم لمحہ قرار دیا۔ ارکان نے کہا کہ اس کامیابی نے قوم کے مورال کو مزید بلند کیا ہے۔

اپوزیشن ارکان نے بھی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا، تاہم انہوں نے زور دیا کہ قومی استحکام کے لیے جمہوری تسلسل، سیاسی ہم آہنگی اور عوامی مسائل کا حل بھی ضروری ہے۔

اجلاس کے اختتام پر “پاکستان زندہ باد” اور “پاک فوج پائندہ باد” کے نعرے لگائے گئے جبکہ ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے دعا بھی کی گئی

ایتھوپیا کے سفیر کا سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کا دورہ، دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ پر زور

منصور احمد ,May 12,2026

سیالکوٹ (نیوز اینڈ نیوز) — ایتھوپیا کے ہائی کمشنر و سفیر برائے پاکستان ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے منگل کے روز سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SCCI) کا سرکاری دورہ کیا، جہاں ان کا پرتپاک استقبال سینئر نائب صدر مراد ارشد اور ایگزیکٹو ممبران نے کیا۔

سفیر نے سیالکوٹ کی صنعتی صلاحیت کو سراہتے ہوئے پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کی انڈسٹریل طاقت دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے کہا کہ ایتھوپیا غیر ملکی سرمایہ کاروں خصوصاً پاکستانی کاروباری برادری کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے، جن میں بڑی آبادی، ہنر مند افرادی قوت، سستی گرین انرجی اور علاقائی منڈیوں تک رسائی شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایتھوپیا میں جاری ہوم گرون اکنامک ریفارمز کے نتیجے میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے، جس میں مختلف مراعات اور ٹیکس چھوٹ بھی شامل ہیں۔ ان اصلاحات نے معاشی عدم توازن کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ پیداوار اور روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ کیا ہے۔

سفیر نے پاکستانی تاجروں کو دعوت دی کہ وہ ایتھوپیا کا دورہ کریں اور زراعت، ایگرو پروسیسنگ، مینوفیکچرنگ، کان کنی، سیاحت اور آئی سی ٹی کے شعبوں میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔

اس موقع پر سید احتشام مظہر نے سفیر کے دورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ کی صنعتی برادری دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تقریب کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ISSI میں سفیر جی آر بلوچ کی کتاب کی تقریبِ رونمائی

منصور احمد ,May 12,2026

اسلام آباد (اینڈ نیوز) انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹیڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں سفیر جی آر بلوچ کی کتاب "تیسری جہت کی پالیسی پرزم” کی تقریبِ منعقد ہوئی، جس میں سفارت کار، ماہر تعلیم، محققین اور میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد نے کہا۔

تقریب میں جنرل (ر) خالد نعیم لودھی، سابق سیکریٹری دفاع، سفیر مسعود خالد، ڈاکٹر منور حسین، ڈاکٹر شازیہ خالد چیمہ اور کالم نگار و اینکر فرخ پتی نے بطور مقرر شرکت کی۔

ڈائریکٹر سینٹر فار اسٹریٹجک پرسپیکٹیوز (ISSI) ڈاکٹر نیلم نگار نے اپنے ابتدائی کلمات میں سفیر جی آر بلوچ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی اہم تصنیف کے اجرا کے لیے ISSI کا انتخاب کیا، جو ادارے کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

سفیر خالد محمود نے اپنے خطاب میں کتاب کو موجودہ عالمی سیاست میں ایک اہم علمی اضافہ قرار دیا۔ ان کے مطابق آج کی دنیا جیو پولیٹیکل مقابلے، ٹیکنالوجی، معیشت اور سیکیورٹی کے نئے چیلنجز سے گزر رہی ہے، جس میں اس نوعیت کی تحقیق انتہائی اہم ہے۔

مصنف سفیر جی آر بلوچ نے کہا کہ آج کا دور “بیانیوں کی جنگ” کا دور ہے، جہاں طاقت خیالات اور بیانیے کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ کتاب روایتی نصابی طرز کے بجائے ایک فکری مکالمہ ہے۔

جنرل (ر) خالد نعیم لودھی نے کہا کہ کتاب میں “تیسری جہت” کے تصور کے تحت خارجہ پالیسی میں اخلاقیات اور انسانیت کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو اسے منفرد بناتا ہے۔

سفیر مسعود خالد نے کتاب کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم مسائل پر ایک جامع اور قابلِ فہم تجزیہ قرار دیا۔

ڈاکٹر منور حسین نے کہا کہ بین الاقوامی سیاست میں صرف طاقت نہیں بلکہ اقدار اور نظریات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور یہ کتاب اسی پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔

ڈاکٹر شازیہ خالد چیمہ نے کہا کہ کتاب سیاسی بیانیوں، میڈیا اور ثقافتی عوامل کے ذریعے شناخت کی تشکیل کو واضح کرتی ہے۔

فرخ پتی نے کہا کہ یہ کتاب سفارتی اور تعلیمی دونوں حلقوں کے لیے اہم ہے اور اس میں جدید عالمی تبدیلیوں کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

تقریب کے اختتام پر کتاب کی باقاعدہ رونمائی کی گئی اور شرکاء میں یادگاری تحائف تقسیم کیے گئے

امریکہ ایران مذاکرات میں تعطل، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز

کاشف عباسی ,May 12 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے آثار نمایاں ہونے کے بعد پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی جانب سے پیش کیے گئے تصفیہ فریم ورک کو مسترد کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق پیر کے روز خطے میں اہم سفارتی سرگرمیاں جاری رہیں جبکہ فوجی دباؤ اور دوبارہ محاذ آرائی کے خدشات بھی بڑھنے لگے ہیں۔ پاکستان اس دوران ایک باضابطہ ثالث کے طور پر مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جواب کو “مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی خلیج بہت وسیع ہے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے جنگ بندی کی صورتحال کو شدید خطرے میں قرار دیا اور کہا کہ یہ ایسے ہے جیسے کسی مریض کے بچنے کے امکانات صرف ایک فیصد رہ جائیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے تیل بردار اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اس صورتحال کے تناظر میں پاکستان کا دفتر خارجہ مسلسل سفارتی رابطے کر رہا ہے۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا اور علاقائی استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر گفتگو کی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان خلیجی ممالک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کئی متعلقہ ممالک ایران سے رابطے کر رہے ہیں جبکہ اسلام آباد اب بھی اس معاملے میں ایک فعال ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں تعطل پیدا ہوا تو عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو خوراک اور توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہرمز کشیدگی کے بعد حکومت متحرک، آئل ریفائننگ پالیسی پر عملدرآمد تیز

Screenshot

کاشف عباسی ,May 12 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ممکنہ بحران کے خدشات کے بعد حکومت نے پٹرولیم ریفائننگ پالیسی پر تیزی سے عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد ملک میں ایندھن کی فراہمی کو محفوظ بنانا اور درآمدی انحصار کم کرنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے حکومت کو تقریباً تین سال قبل منظور کی گئی پٹرولیم ریفائننگ پالیسی دوبارہ فعال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا ہے کہ پالیسی پر عملدرآمد میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ مقامی ریفائنریز کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کیا جا سکے۔ انہوں نے ملکی ریفائنریز کو “اہم قومی اثاثہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بہتری قومی توانائی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

ماہانہ ایک ارب ڈالر بچت کا دعویٰ

ایندھن کا معیار بہتر ہوگا درآمدی تیل پر انحصار کم ہوگا اور ملک کو ماہانہ تقریباً 1 ارب ڈالر تک زرمبادلہ کی بچت ممکن ہو سکے گیانہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات آئی ایم ایف کے استحکام اور پائیداری کے اہداف سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔

ہرمز کی صورتحال کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آئل شپنگ گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی یا سپلائی متاثر ہوئی تو پاکستان سمیت کئی درآمدی ممالک کو ایندھن بحران اور قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی ریفائننگ صلاحیت میں اضافہ مستقبل میں پاکستان کو بیرونی جھٹکوں سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔