

محمود احمد May13,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز): وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور کڑی شرط تسلیم کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے، جس کے تحت بجلی کے بلوں پر دی جانے والی ‘ان ٹارگٹڈ کراس سبسڈی’ کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں یکم جنوری 2027 سے تمام صارفین سے بجلی کی اصل اور پوری قیمت وصول کی جائے گی، جس سے کم بجلی استعمال کرنے والے طبقے کے بلوں میں بڑے اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
حکومتی منصوبے کے مطابق، اب سبسڈی صرف ان مستحق صارفین تک محدود رہے گی جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت رجسٹرڈ ہوں گے۔ ماہانہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے پر ملنے والی رعایت کا یکم جنوری 2027 سے خاتمہ کر دیا جائے گا اور ریلیف کا نیا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس نئے طریقہ کار کے تحت صارفین کو اپنے بجلی کے بل پر موجود ‘کیو آر کوڈ’ کے ذریعے بی آئی ایس پی میں رجسٹریشن کروانا ہوگی، جس کے بعد صرف اہل افراد کو ہی مالی معاونت مل سکے گی۔
حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال سے 500 ارب روپے سے زائد کی پاور سبسڈی بی آئی ایس پی کو منتقل کر دی جائے گی۔ اس اقدام کا ایک بڑا مقصد ان افراد کو روکنا ہے جو بڑے گھروں میں ایک سے زائد میٹر لگوا کر سستی بجلی کی سہولت حاصل کر رہے تھے۔ پاور ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک سے زائد میٹرز کی وجہ سے ‘پروٹیکٹڈ صارفین’ کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ کر 2 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جسے اب درست کیا جائے گا۔
حکومت اگست تک اس نئے سبسڈی سسٹم کا تجرباتی معائنہ (ٹیسٹنگ) کرے گی، جبکہ اس کا مکمل نفاذ جنوری 2027 سے ہوگا۔ علاوہ ازیں، پاکستان نے آئی ایم ایف سے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ (کلائمیٹ ترجیح) کے بجٹ کو 30 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ اس نئے سسٹم کے بعد بجلی کے بل براہِ راست صارفین کی مالی حیثیت سے منسلک کر دیے جائیں گے۔



































