

کاشف عباسی ,May 12 ,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ممکنہ بحران کے خدشات کے بعد حکومت نے پٹرولیم ریفائننگ پالیسی پر تیزی سے عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد ملک میں ایندھن کی فراہمی کو محفوظ بنانا اور درآمدی انحصار کم کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے حکومت کو تقریباً تین سال قبل منظور کی گئی پٹرولیم ریفائننگ پالیسی دوبارہ فعال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا ہے کہ پالیسی پر عملدرآمد میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ مقامی ریفائنریز کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کیا جا سکے۔ انہوں نے ملکی ریفائنریز کو “اہم قومی اثاثہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بہتری قومی توانائی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
ماہانہ ایک ارب ڈالر بچت کا دعویٰ
ایندھن کا معیار بہتر ہوگا درآمدی تیل پر انحصار کم ہوگا اور ملک کو ماہانہ تقریباً 1 ارب ڈالر تک زرمبادلہ کی بچت ممکن ہو سکے گیانہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات آئی ایم ایف کے استحکام اور پائیداری کے اہداف سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔
ہرمز کی صورتحال کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آئل شپنگ گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی یا سپلائی متاثر ہوئی تو پاکستان سمیت کئی درآمدی ممالک کو ایندھن بحران اور قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی ریفائننگ صلاحیت میں اضافہ مستقبل میں پاکستان کو بیرونی جھٹکوں سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔