

کاشف عباسی ,May 13 ,2026
کراچی، نیوز اینڈ نیوز:
کراچی میں ایک مشتبہ منشیات فروش خاتون کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کرنے اور مبینہ طور پر ’’پروٹوکول‘‘ دینے پر تین پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سندھ حکومت نے سخت نوٹس لیا۔
پولیس کے مطابق مشتبہ خاتون انمول عرف پنکی کو گارڈن کے علاقے میں ایک مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ کارروائی پولیس اور ایک سول انٹیلی جنس ادارے نے مشترکہ طور پر کی، جس میں خاتون کے اپارٹمنٹ سے منشیات اور غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا کہ خاتون کو بغیر ہتھکڑیوں کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جبکہ وہ دھوپ کا چشمہ لگائے اور ہاتھ میں پانی کی بوتل تھامے عدالت کی راہداری میں چل رہی تھی۔ ویڈیو میں تفتیشی افسر کو اس کے پیچھے چلتے اور رہنمائی کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جس پر سوشل میڈیا صارفین اور مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔
سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا، جس کے بعد تفتیشی افسر، گارڈن تھانے کے ایس ایچ او اور اسٹیشن انویسٹی گیشن افسر کو معطل کر دیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق انمول عرف پنکی مبینہ طور پر منشیات کی تیاری اور سپلائی کے ایک منظم نیٹ ورک میں ملوث تھی۔ تلاشی کے دوران اس کے فلیٹ سے ڈیڑھ کلوگرام کوکین، تقریباً 6.9 کلوگرام دیگر نشہ آور مواد اور ایک غیر قانونی 9 ایم ایم پستول برآمد کیا گیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تاکہ ملزمہ کے ساتھیوں، سپلائی نیٹ ورک اور مجرمانہ ریکارڈ کی مزید تحقیقات کی جا سکیں، تاہم عدالت نے خاتون کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور مقررہ مدت میں چالان پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔
پولیس کے مطابق ملزمہ کراچی کے پوش علاقوں کلفٹن، ڈی ایچ اے اور دیگر مقامات پر مخصوص رائیڈرز کے ذریعے آن لائن منشیات سپلائی کرتی تھی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے لیے خواتین رائیڈرز کا بھی استعمال کیا جاتا تھا۔