
ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے امریکی اثرورسوخ ختم کرنے کا خواہاں: ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنے اسٹریٹجک کنٹرول کے ذریعے خطے کو بیرونی خصوصاً امریکی اثرورسوخ سے آزاد دیکھنا چاہتا ہے۔
ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ 1622ء میں 115 سالہ قبضے کے بعد ایران نے خلیج فارس سے یورپی نوآبادیاتی طاقتوں کا خاتمہ کیا تھا، اور اسی تاریخی کامیابی کی یاد میں آج “یومِ خلیج فارس” منایا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی جغرافیائی اہمیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ خطے کے ممالک امریکی موجودگی اور مداخلت سے پاک ماحول میں ترقی کر سکیں۔
قالیباف نے ایک اور بیان میں امریکہ کی پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ایران کو اندرونی طور پر کمزور کرنا اور سیاسی تقسیم پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے اندر مختلف سیاسی گروہوں کے درمیان اختلافات پیدا کر کے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، تاہم اس صورتحال میں قومی یکجہتی ہی سب سے مؤثر جواب ہے۔
ایرانی اسپیکر نے زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ اتحاد اور ہم آہنگی کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور بیرونی دباؤ کا توڑ اندرونی استحکام میں مضمر ہے۔
