انتخابات میں حصہ نہ لینا کوئی عارضی تزویراتی چال نہیں بلکہ عوامی امنگوں اور حقِ خودارادیت سے یکجہتی کا کھلا ثبوت ہے، مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ دگرگوں صورتحال، راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں جاری عوامی دھرنوں اور پرامن مظاہرین پر ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف سخت مقتدر احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے وہاں کے آئندہ انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، تحریکِ انصاف کا یہ فیصلہ کسی عارضی تزویراتی جوڑ توڑ یا سیاسی نفع نقصان کا حساب نہیں، بلکہ یہ کشمیری عوام کے حقوق، ان کے حقِ خودارادیت اور جمہوری جدوجہد کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا کھلا ثبوت ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب کشمیری عوام اپنے جائز مطالبات کے لیے خود سڑکوں پر ہوں، تو پی ٹی آئی اقتدار کی روایتی سیاست کے لیے کسی ایسے انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکتی جو زمینی حقائق سے عاری ہو۔

اعلامیے میں آزاد کشمیر کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید مقتدر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ راولاکوٹ اور دیگر اہم ترین علاقوں میں ہزاروں شہری اپنے بنیادی معاشی و سیاسی مطالبات کے لیے دھرنا دیے بیٹھے ہیں، مگر مقتدرہ کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پنجاب سے آزاد کشمیر کو اشیائے خوردونوش کی ترسیل بھی مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے، جس نے وہاں ایک بدترین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ان مخدوش حالات میں الیکشن کا انعقاد کشمیری عوام کو مزید سیاسی و انتظامی عدم استحکام کی دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے موجودہ مقتدر حلقوں کی کشمیر پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومتی طرزِ عمل سے آزاد جموں و کشمیر کی تاریخی، آئینی اور جمہوری شناخت کو شدید مجروح کیا جا رہا ہے، اور دانستہ طور پر ایسا ماحول تخلیق کیا جا رہا ہے جس سے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان موجود بنیادی فرق ہی مٹ جائے، جو پاکستان کی روایتی اور مقتدر کشمیر پالیسی کے لیے انتہائی مہلک اور تزویراتی طور پر نقصان دہ ہے۔ قیادت کی بلاجواز گرفتاریوں، میڈیا پر سخت ترین قدغنوں اور سیاسی کارکنوں پر جاری جبر کے سائے میں انتخابی عمل اپنی تمام تر ساکھ کھو چکا ہے۔

اعلامیے کے آخر میں پی ٹی آئی نے اپنی مقتدر شرائط پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک آزاد کشمیر میں کسی بھی انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنے گی جب تک حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آ جاتے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات افہام و تفہیم سے تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ مزید برآں، موجودہ یکطرفہ انتخابی شیڈول پر نظرثانی کر کے تمام سیاسی قوتوں کو مساوی، آزادانہ اور منصفانہ ماحول فراہم کرنا لازم ہوگا۔ پارٹی نے اپنے تمام امیدواروں کو جاری کردہ یا تجویز کردہ ٹکٹوں کی سفارشات کو فی الفور معطل کرتے ہوئے انتخابی سرگرمیاں مؤخر کر دی ہیں، اور اب تحریکِ انصاف کی مہم کا بنیادی مرکز و محور الیکشن لڑنا نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگا۔

اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی: عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے پر سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر بیان

محمود احمد, JULY 02,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اہم اجلاس میں عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے پر پاکستان کا مقتدر تزویراتی مؤقف پیش کرتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جدوجہد میں ہمیشہ صفِ اول میں رہا ہے اور اس راہ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ اپنے مقتدر خطاب میں انہوں نے فن لینڈ اور مراکش کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے نویں جائزہ عمل کی مشترکہ سہولت کاری کی، جبکہ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے سعودی عرب کے اصولی بیان کی مکمل تائید کرتے ہوئے قرارداد کی منظوری کی توثیق کی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک رہا ہے اور ہمارے خطے میں موجود بدخواہ مخالف عناصر، تحریکِ طالبان پاکستان ، بلوچ لبریشن آرمی مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور ان سے وابستہ دیگر خطرناک پراکسی نیٹ ورکس کی پشت پناہی اور مالی معاونت کرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں صرف گزشتہ سال بارہ سو سے زائد معصوم پاکستانیوں کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہماری بھرپور کوششوں کے باوجود نویں جائزے کے عمل میں عالمی حکمتِ عملی کی خامیوں کو دور نہیں کیا جا سکا اور او آئی سی کے ان جائز خدشات کو شامل کرنے میں ناکامی ہوئی جن کے ارکان اس ناسور سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی سے پاک مستقبل کے لیے اقوامِ متحدہ کے سامنے ایک جامع اور مقتدر گیارہ (11) نکاتی تزویراتی ایجنڈا پیش کیا جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

اول، جسمانی اور ورچوئل دونوں شعبوں میں ابھرنے والے نئے خطرات اور رجحانات کا جامع جائزہ لیا جائے؛ دوم، طویل عرصے سے حل طلب علاقائی تنازعات کے پائیدار اور حقیقت پسندانہ حل کے لیے قابلِ عمل راستے تجویز کیے جائیں؛ سوم، غیر ملکی ناجائز قبضے کے خاتمے اور انسانی حقوق کی بالادستی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جائے؛ چہارم، اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق عوام کے حقِ خودارادیت کے جائز حق کی توثیق کی جائے اور آزادی کی جائز جدوجہد کو دہشت گردی سے خلط ملط کرنے کی ہر کوشش کو یکسر مسترد کیا جائے؛ پنجم، ان ظالم ریاستوں کی سخت مذمت کی جائے جو غیر ملکی قبضے کا شکار مظلوم عوام کے خلاف منظم ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

ششم، زینوفوبیا، نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے ٹھوس بین الاقوامی اقدامات کیے جائیں؛ ہفتم، پُرتشدد قوم پرست، انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند، نو فاشسٹ اور مساجد کو نشانہ بنانے والے و قرآنِ مجید کی بے حرمتی کرنے والے بالادست نظریاتی گروہوں کا مؤثر مقابلہ کیا جائے؛ ہشتم، اسلاموفوبک بیانیوں اور متعصبانہ اصطلاحات جیسے کہ “اسلامک ٹیررازم” اور “ریڈیکل اسلام” کے امتیازی استعمال کو فوری ختم کر کے مسلمانوں کی بدنامی کا سدِباب کیا جائے؛ نہم، اقوامِ متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے اور پابندیوں کے نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں؛ دہم، سوشل میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو باضابطہ منظم کیا جائے تاکہ آن لائن انتہا پسندی، نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات کا مقابلہ ہو سکے؛ اور گیارہویں، ڈیجیٹل مالیاتی نظام، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسیوں کے مؤثر تزویراتی ضابطے کو یقینی بنایا جائے۔

اپنے مقتدر خطاب کے آخر میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے ایف اے ٹی ایفجیسے بین الحکومتی اداروں کے نظام پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ ان اداروں کو ہر صورت جامع، منصفانہ، شفاف اور مکمل غیر سیاسی ہونا چاہیے اور کسی بھی ملک کو یہ ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ان تکنیکی فورمز کو اپنے داخلی یا سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال گزرنے کے باوجود حکمتِ عملی میں کوئی قابلِ ذکر بہتری نہ ہونا افسوسناک ہے اور اگرچہ اس تعطل کو ناکامی قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم یہ عالمی برادری کے لیے ایک بیدار کرنے والا پیغام بھی ہے، پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف اپنا مقتدر کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کل سے ایران اور ترکیہ کا مقتدر سرکاری دورہ، مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کل تین سے پانچ جولائی تک ایران اور ترکیہ کے مقتدر سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کے روز یہاں پریس بریفنگ کے دوران اس تزویراتی دورے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس دورے میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، دیگر وفاقی وزراء اور مقتدر سرکاری حکام پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوگا۔ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کے لیے تہران جائیں گے، جہاں وہ پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کریں گے اور اس گہرے غم کی گھڑی میں برادر ایرانی قوم کے ساتھ پاکستان کی تزویراتی یکجہتی کا اعادہ کریں گے۔

ترجمان کے مطابق، ایران کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر استنبول روانہ ہوں گے، جہاں دونوں رہنماؤں کے مابین برادر ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے تمام تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت ہوگی جس میں باہمی تجارت کے حجم کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ دونوں رہنما خطے کے امن و سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ استنبول میں قیام کے دوران وزیراعظم پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اہم بزنس کانفرنس سے خصوصی خطاب بھی کریں گے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز، متبادل توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجکاری سمیت دیگر ترجیحی شعبوں میں ترک سرمایہ کاروں کے لیے موجود شاندار مواقع کو اجاگر کرنا ہے، جبکہ اس کانفرنس میں ترکیہ کی ممتاز کاروباری شخصیات، مقتدر سرمایہ کار اور اعلیٰ سرکاری حکام شرکت کریں گے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور ترکیہ کے یہ دورے دونوں برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، تزویراتی، ثقافتی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کے عکاس ہیں۔

اسرائیلی بربریت پر خاموشی اور جنگ کے بعد ایران سے تیل کی خاطر دوستی، بھارتی منافقانہ خارجہ پالیسی عیاں ہو گئی

کاشف عباسی , JULY 02,026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

اسرائیلی بربریت پر مجرمانہ خاموشی اور جنگ بندی کے بعد ایران کے معاملے پر خالصتاً مفاد پرستی پر مبنی بھارتی مودی حکومت کی منافقانہ خارجہ پالیسی عالمی سطح پر ایک بار پھر بری طرح عیاں ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حملے سے محض دو روز قبل بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا ایک مقتدر دورہ کیا اور پھر مابعد جنگ کے دوران ایران کے معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی؛ تہران پر حملوں کے دوران بھارت کھلم کھلا اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا اور آج اپنے توانائی و تجارتی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے دوبارہ ایران سے عارضی قربت اختیار کر رہا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر سے حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں نریندر مودی نے علاقائی تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر منافقانہ زور دیا ہے، حالانکہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران پر مالی پابندیوں میں نرمی جیسے اہم نکات پہلے ہی حالیہ ’ایران امریکا چودہ (14) نکاتی معاہدے‘ میں شامل کیے جا چکے ہیں۔ اس گفتگو میں مودی نے آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی بحالی اور تجارتی آزادی کے تحفظ کو عالمی و بھارتی مفاد قرار دے کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کی ہے۔

عالمی و دفاعی ماہرین کے مطابق، بھارت کا آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی پر بار بار زور دینا درحقیقت ایران کی کوئی اخلاقی یا سفارتی حمایت نہیں ہے، بلکہ یہ خالصتاً بھارتی تجارت، مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی بلا تعطل رسد اور اپنے معاشی مفادات کا تزویراتی تحفظ ہے۔ ماضی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ بھارت امریکی دباؤ پر ایرانی تیل کی خریداری یکسر ترک کر چکا تھا، جس سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ امریکی مفادات کے سامنے ایران کے ساتھ نئی دہلی کے تعلقات ہمیشہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

بھارت نے عالمی اصولوں کے برعکس ایران پر اسرائیلی حملے کی واضح الفاظ میں کوئی مذمت نہیں کی اور ایران کی خودمختاری کے دفاع میں بھی مودی سرکار نے مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ معتبر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل بھارت کی اسرائیل کے ساتھ تزویراتی شراکت داری، دورانِ جنگ سفارتی میدان میں مکمل خاموشی اور جنگ بندی کے فوری بعد ایران سے دوبارہ تیل کی خاطر دوستی کا راگ الاپنا مودی حکومت کی موقع پرستی، تضاد اور بدترین خارجہ منافقت کی واضح علامت ہے۔

ایکواڈور کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے مقتدر اسٹرائیکر اینر ویلنسیا کی انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ

محمود احمد, JULY 02,2026

میکسیکو سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

ایکواڈور کی فٹبال تاریخ میں سب سے زیادہ بین الاقوامی گول کرنے والے چھتیس سالہ مقتدر اسٹرائیکر اینر ویلنسیا نے فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس سے اپنی ٹیم کے باہر ہونے کے فوری بعد انٹرنیشنل فٹبال سے باقاعدہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، وہ ٹورنامنٹ سے قبل ہی یہ تزویراتی اعلان کر چکے تھے کہ وہ ایکواڈور کی اگلی ورلڈ کپ کوالیفائنگ مہم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اینر ویلنسیا نے میکسیکو سٹی میں صحافیوں سے انتہائی جذباتی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی ٹیم کے لیے اپنا آخری میچ کھیل چکے ہیں؛ انہوں نے انتہائی اداس دل کے ساتھ تمام ساتھی کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کو الوداع کہا، کیونکہ وہ ایکواڈور کی جرسی میں اپنی رخصتی اس شکست خوردہ انداز میں نہیں چاہتے تھے۔

یاد رہے کہ فیفا ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے ایک سنسنی خیز اور آخری میچ میں جرمنی جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دے کر ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف تھرٹی ٹو (32) میں جگہ بنانے والی ایکواڈور کی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے کے اہم میچ میں میکسیکو کے خلاف صفر کے مقابلے میں دو (0-2) کی شکست کے بعد ٹورنامنٹ کی دوڑ سے باہر ہو گئی تھی، جو ویلنسیا کا آخری انٹرنیشنل میچ ثابت ہوا۔ ویسٹ ہیم اور ایورٹن جیسے مقتدر انگلش کلبز کے سابق فارورڈ نے سال دو ہزار بارہ میں اپنے انٹرنیشنل ڈیبیو کے بعد سے ایکواڈور کے لیے اب تک ریکارڈ ایک سو نو (109) میچوں میں انچاس (49) شاندار گول کیے۔ انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کے بعد اب وہ میکسیکو کے مقتدر کلب پاچوکا کے ساتھ اپنے کلب کیریئر کو باقاعدہ جاری رکھیں گے، جہاں ان کا پیشہ ورانہ معاہدہ دسمبر دو ہزار ستائیس تک برقرار ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین کرکٹ کے فروغ کا تاریخی معاہدہ، جدہ میں بین الاقوامی معیار کا جدید کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا

منصور احمد, JULY 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کے درمیان کرکٹ کے فروغ اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے ایک مقتدر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر باقاعدہ دستخط کر دیے گئے ہیں، جس کے تحت جدہ میں بین الاقوامی معیار کا جدید ترین کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا۔ ترجمان پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس تاریخی معاہدے پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور چیئرمین سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن شہزادہ سعود نے دستخط کیے۔ اس تزویراتی موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ جدہ میں تعمیر ہونے والا جدید کرکٹ سٹیڈیم بین الاقوامی مقابلوں کے تمام جدید ترین تقاضوں پر پورا اترے گا اور وہاں اعلیٰ معیار کی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔

انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کرکٹ انفراسٹرکچر کی ترقی، آپریشنل معیارات اور کھیل کے فروغ کے مختلف شعبوں میں مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ ان کے مطابق پی سی بی سعودی عرب میں کرکٹ کی ترقی میں اپنا تزویراتی کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے اور یہ شراکت داری دونوں برادر ممالک کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاک سعودی تعاون کے تحت جدید اور مربوط کرکٹ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ اور کھلاڑیوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کیے جائیں گے، جس سے وہاں کے ٹیلنٹ کو بین الاقوامی سطح پر ابھرنے کا موقع ملے گا۔

دوسری جانب، چیئرمین سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن شہزادہ سعود نے پاکستان کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری صرف ایک کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ سعودی عرب میں کرکٹ کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کی جانب ایک اہم اور تزویراتی پیش رفت ثابت ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی سی بی کے وسیع تجربے اور تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھا کر سعودی عرب جلد کرکٹ کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے مابین کھیلوں کے سفارتی روابط میں ایک نئے اور خوش آئند باب کا اضافہ ہے۔

فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس: ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی میں ناکامی کے باوجود ایرانی فٹبال ٹیم کا وطن واپسی پر پرتپاک استقبال

محمود احمد, JULY 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلے جا رہے فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس کے گروپ مرحلے سے باہر ہونے کے باوجود، ایرانی قومی فٹبال ٹیم کا بدھ کے روز وطن واپسی پر تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر سیکڑوں شائقین، بچوں اور اہل خانہ نے انتہائی پرتپاک اور تاریخی استقبال کیا ہے۔ ایئرپورٹ پر موجود مداحوں نے “ایران، ایران” کے فلک شگاف نعرے لگائے، قومی پرچم لہرائے اور ٹیم کی آفیشل جرسی پہن کر کھلاڑیوں کی زبردست حوصلہ افزائی کی۔ ایرانی فٹبال ٹیم ترکی کے راستے میکسیکو سے تہران پہنچی، جہاں ورلڈ کپ کے دوران تزویراتی مشکلات کے باعث اس کا عارضی بیس کیمپ قائم کیا گیا تھا۔

کھلاڑیوں کے طیارے سے اترنے پر ایئرپورٹ پر موجود فوجی بینڈ نے قومی ترانہ پیش کر کے ان کا استقبال کیا، جبکہ متعدد شائقین نے مقتدر گول کیپر علی رضا بیرانوند کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جنہوں نے بیلجیم کے خلاف میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس موقع پر جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے علی رضا بیرانوند نے شائقین سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے میں رسائی حاصل نہ کرنے پر قوم سے معذرت خواہ ہیں اور انہیں مطلوبہ خوشی نہ دے سکے جس کا پوری ٹیم کو گہرا افسوس ہے۔ ٹیم کے دفاعی کھلاڑی رامین رضائیان نے واضح کیا کہ ان کی ٹیم تکنیکی طور پر مزید آگے جانے کی مستحق تھی، تاہم ٹورنامنٹ کے دوران امریکی امیگریشن پابندیوں نے ان کے لیے حالات کو انتہائی مشکل بنا دیا تھا۔ ایئرپورٹ پر موجود ایک خاتون مداح، مونا بنی صفا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کھلاڑیوں نے نامساعد حالات میں بھی اپنی بھرپور کوشش کی اور وہ صرف ان کا شکریہ ادا کرنے آئی ہیں۔

یاد رہے کہ فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس میں ایران اپنے گروپ میں تینوں میچ برابر کھیلنے کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر رہا، تاہم بہتر گول فرق نہ ہونے کے باعث وہ ٹورنامنٹ کی بہترین آٹھ تیسرے نمبر کی ٹیموں میں جگہ بنانے میں ناکام رہا اور یوں ناک آؤٹ مرحلے کی دوڑ سے باہر ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق، ٹورنامنٹ کے دوران ایران کی اسپورٹس مہم پر شدید سفری اور انتظامی مسائل اثرانداز رہے۔ ایرانی وفد کے متعدد مقتدر ارکان اور آفیشلز کو امریکی ویزے جاری نہ کیے جانے کے باعث ٹیم کو اپنا مرکزی بیس کیمپ امریکہ کے بجائے میکسیکو منتقل کرنا پڑا تھا، جس پر ایرانی حکام نے بین الاقوامی سطح پر امریکی انتظامیہ کی عائد کردہ سفری پابندیوں اور امتیازی سلوک کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا غلط اندازہ آرائی کا ہماری مسلح افواج سخت ترین جواب دیں گی، کمانڈر علی عبداللہی؛ قم میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے انتظامات مکمل

کاشف عباسی , JULY 02,026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

ایران نے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی سے قبل اپنے روایتی حریفوں امریکا اور اسرائیل کو کڑی وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ تہران کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے یا تزویراتی جارحیت سے مکمل گریز کریں۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے سینئر کمانڈر علی عبداللہی نے ایک تزویراتی بیان میں واضح کیا کہ ہم ایران کے دشمنوں، بالخصوص امریکا اور اسرائیل کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہیں کہ وہ خطے کی موجودہ صورتحال میں کسی بھی قسم کی غلط اندازہ آرائی سے باز رہیں اور یہ بات اپنے ذہن نشین رکھیں کہ ہمارے ملک کے خلاف اٹھنے والے کسی بھی خطرے یا جارحیت کا ہماری مسلح افواج انتہائی سخت اور دندان شکن جواب دیں گی۔

ایرانی حکام کی جانب سے یہ مقتدر بیان ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی سرکاری سطح پر نمازِ جنازہ کی بڑے پیمانے پر تیاریاں جاری ہیں اور خطے میں تزویراتی کشیدگی عروج پر ہے۔ دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ کے انتظامات سے متعلق حتمی صورتحال غیر معمولی ہجوم کے باعث اب بھی واضح نہیں ہے۔ ایران کے مقتدر صوبہ قم میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے بتایا کہ سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے جلوس کے لیے فول پروف سیکیورٹی منصوبہ بندی تو مکمل کر لی گئی ہے، تاہم لاکھوں کی تعداد میں متوقع ہجوم اور سیکیورٹی خدشات کے باعث حتمی طور پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تمام انتظامات سو فیصد منصوبے کے عین مطابق ہی آگے بڑھیں گے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، صوبہ قم میں پاسدارانِ انقلاب کے مقتدر کمانڈر فتح اللّٰہ جمیری نے روٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ نمازِ جنازہ کا مرکزی جلوس مسجدِ جمکران سے شروع ہو کر حضرت فاطمہ معصومہ کے روضہ مبارک تک جانے کا تزویراتی منصوبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس سیکیورٹی فورسز کی مدد سے نمازِ جنازہ کے جلوس کا مکمل روٹ اور متبادل راستے موجود ہیں، لیکن عوام کی ریکارڈ توڑ تعداد، بیرونی شرکاء کی آمد اور ٹریفک کی غیر معمولی صورتحال کے باعث ہم سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ عملی طور پر زمینی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔ تہران اور قم سمیت پورے ایران میں اس وقت سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

جرمنی کے شہر لودوِگس لسٹ میں ہسپتال کے اندر خوفناک آتشزدگی، دو افراد ہلاک اور چونتیس زخمی

محمود احمد, JULY 02,2026

برلن/لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

جرمنی کے شمال مشرقی شہر لودوِگس لسٹ میں ایک ہسپتال میں اچانک خوفناک آگ لگنے کے باعث دو افراد ہلاک اور چونتیس دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، مقامی حکام نے مقتدر ذرائع سے بتایا ہے کہ آگ جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے چار بجے ہسپتال کے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی عمارت کی چھت میں لگی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کے دیگر حصوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر تزویراتی کارروائی کی اور انتھک کوششوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا، تاہم مقامی انتظامیہ اور فائر حکام ابھی تک آگ لگنے کی اصل وجہ کا تعین نہیں کر سکے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق، کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے اور احتیاطی تدابیر کے تحت ہسپتال اور اس سے ملحقہ دیگر تمام عمارتوں کو فوری طور پر خالی کرایا جا رہا ہے۔ فائر حکام کا کہنا ہے کہ عمارت میں محبوس تمام مریضوں کو بحفاظت نکال کر ہسپتال کے احاطے میں ہی قائم ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹرز اور طبی عملہ انہیں فوری طبی امداد اور ضروری دیکھ بھال فراہم کر رہا ہے۔ جرمن سیکیورٹی اداروں نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ آتشزدگی کی اصل وجوہات کا سراغ لگایا جا سکے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سعودی ہم منصب شہزادہ عبدالعزیز بن سعود سے ریاض میں مقتدر ملاقات؛ ریاض کے جدید ترین یونیفائیڈ سیکیورٹی آپریشنز سنٹر نائن ون ون کا تفصیلی دورہ

محمود احمد, JULY 02,2026

ریاض/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان اور سعودی عرب نے دونوں برادر ممالک کے مابین دیرینہ تزویراتی شراکت داری اور برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے سیکیورٹی کے شعبے میں ایک مقتدر مفاہمت کی یادداشت پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیرِ داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اپنے مقتدر بیان میں بتایا کہ انہوں نے اپنی اعلیٰ قیادت کی خصوصی ہدایات کے تحت پاکستانی ہم منصب، وفاقی وزیرِ داخلہ و انسدادِ منشیات محسن رضا نقوی سے ریاض میں ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ اس اہم بیٹھک کے دوران دونوں مقتدر رہنماؤں نے دوطرفہ سیکیورٹی تعاون کو فول پروف بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور اس دستخط شدہ معاہدے کو دونوں برادر ممالک کے گہرے اور مستحکم تعلقات کا عکاس قرار دیا۔

اپنے اس مقتدر دورے کے دوران وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ریاض ریجن میں واقع جدید ترین “یونیفائیڈ سیکیورٹی آپریشنز سنٹر” (نائن ون ون) کا تفصیلی معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے سنٹر کے مختلف اہم شعبوں کا دورہ کیا جہاں انہیں تمام متعلقہ سیکیورٹی اور سروسز کے اداروں کے مابین بہترین ہم آہنگی، روابط اور انضمام کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کی جانے والی جدید ترین ٹیکنالوجیز کے بارے میں تزویراتی بریفنگ دی گئی۔ محسن نقوی نے شہریوں، مقامی مقیم افراد اور زائرین کے لیے ہنگامی رپورٹس پر انتہائی تیز رفتار اور درست ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے سعودی حکام کی انتھک کوششوں اور جدید ترین تکنیکی نظام کو خاص طور پر سراہا۔

واضح رہے کہ ریاض ریجن کا یہ مرکزی آپریشنز سنٹر (نائن ون ون) سعودی عرب کے اہم ترین سیکیورٹی انفراسٹرکچر میں شمار ہوتا ہے، جو ریاض شہر کے علاوہ خطے کی بائیس گورنریٹس کو اپنی چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ایک ہی چھت تلے قائم اس جدید ترین کنٹرول روم میں باسٹھ آپریشنل ورکنگ یونٹس چوبیس گھنٹے متحرک رہتے ہیں، جو تمام ہنگامی نوعیت کی کالز کو موصول کر کے فوری کارروائی کو یقینی بناتے ہیں۔ سیکیورٹی اور ہنگامی خدمات کا یہ مربوط نظام سعودی عرب کے تاریخی “وژن بیس تیس” اور “کوالٹی آف لائف پروگرام” کے اعلیٰ اہداف کے تحت کامیابی سے کام کر رہا ہے۔

’گلوبل لیڈرشپ ان کمیونیکیشن پروگرام‘ روایتی تربیت سے ہٹ کر ثقافتی ابلاغ اور سعودی عرب کے مثبت عالمی تشخص کو اجاگر کرنے پر مرکوز

محمود احمد, JULY 01,2026

ریاض/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

سعودی عرب کے سلام پراجیکٹ برائے ثقافتی رابطہ نے سعودی نوجوان مرد و خواتین کو علم، عملی مہارتوں اور قائدانہ صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مملکت سعودی عرب کی مؤثر نمائندگی کر سکیں اور بین الثقافتی مکالمے اور مہذب ابلاغ کے ذریعے سعودی عرب کے مثبت بین الاقوامی تشخص کو مزید مستحکم بنا سکیں۔ سلام پراجیکٹ برائے ثقافتی رابطہ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ابرار عبدالمنان بار نے الاخباریہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل لیڈرشپ ان کمیونیکیشن پروگرام ایک منفرد قومی اقدام ہے، جو روایتی قائدانہ تربیت سے ہٹ کر ثقافتی ابلاغ، تہذیبی روابط اور عالمی سطح پر سعودی عرب کے مثبت تاثر کو اجاگر کرنے پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام محض ایک تربیتی کورس نہیں بلکہ ایک جامع تعلیمی و عملی سفر ہے، جس میں شرکاء کو سب سے پہلے اپنے وطن سعودی عرب، اس کی ترقی، قومی کامیابیوں، تہذیبی و انسانی اقدار، ثقافتی شناخت اور عالمی کردار سے گہری آگاہی فراہم کی جاتی ہے، جس کے بعد انہیں وہ عملی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں جو بین الاقوامی فورمز پر مملکت کی مؤثر، باوقار اور پیشہ ورانہ نمائندگی کے لیے ناگزیر ہیں۔

ڈاکٹر ابرار عبدالمنان بار کے مطابق، پروگرام کا بنیادی مقصد ایسے باصلاحیت نوجوان تیار کرنا ہے جو سعودی عرب کی حقیقی تصویر، اس کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار اور قومی تشخص کو اعتماد، فہم اور مہارت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں، جبکہ ان میں اپنی تہذیبی شناخت اور قومی ورثے سے وابستگی بھی مزید مضبوط ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں محض نظریاتی تعلیم پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ حقیقی زندگی کے عملی تجربات کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے۔ شرکاء کو تجربہ کار سفارت کاروں، مقامی و بین الاقوامی ماہرین اور ابلاغ عامہ کے متخصصین سے براہِ راست سیکھنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے، جس سے انہیں سفارت کاری، عالمی ابلاغ اور بین الثقافتی روابط کے عملی تقاضوں سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پروگرام میں خصوصی تعلیمی مواد، فکری و تربیتی نشستیں، مطالعاتی دورے اور عملی منصوبے بھی شامل ہیں، جن کے ذریعے شرکاء اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، خود اعتمادی اور مؤثر ابلاغ کی مہارتوں کو فروغ دیتے ہیں اور عالمی سطح پر سعودی عرب کے ذمہ دار نمائندے بننے کے لیے درکار تمام اوصاف حاصل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ابرار عبدالمنان بار نے کہا کہ پروگرام مکمل کرنے والے نوجوان نہ صرف جامع علمی و عملی تربیت حاصل کرتے ہیں بلکہ وہ ایسی قائدانہ اور ابلاغی صلاحیتوں سے بھی مزین ہوتے ہیں جو انہیں بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر سعودی عرب کی نمائندگی کرتے ہوئے مثبت، مؤثر اور دیرپا تاثر قائم کرنے کے قابل بناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سلام پراجیکٹ برائے ثقافتی رابطہ سعودی عرب کا ایک مقتدر قومی اقدام ہے، جس کا مقصد مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا، اقوام کے درمیان باہمی احترام اور افہام و تفہیم کو مستحکم کرنا، اور سعودی نوجوانوں کو عالمی سطح پر تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے پراجیکٹ خصوصی تربیتی پروگراموں، عملی تجربات اور جدید ابلاغی مہارتوں کے ذریعے نوجوانوں کو مختلف ثقافتوں کے ساتھ مؤثر رابطہ استوار کرنے، بین الاقوامی فورمز میں فعال شرکت کرنے اور سعودی عرب کے مثبت عالمی تشخص کو مزید اجاگر کرنے کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سلام پراجیکٹ سعودی وژن بیس تیس کے اہداف سے مکمل ہم آہنگ ہے، جس کے تحت مملکت کھلے پن، بقائے باہمی، ثقافتی تبادلوں اور تعمیری عالمی شراکت داری کو فروغ دیتے ہوئے باصلاحیت قومی افرادی قوت کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی مؤثر موجودگی کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔

پاک بھارت قونصلر رسائی معاہدہ، دونوں ممالک کے مابین قیدیوں کی تازہ ترین فہرستوں کا تبادلہ

منصور احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

پاکستان اور بھارت نے دوطرفہ قونصلر رسائی کے تاریخی معاہدے کے تحت روایتی سفارتی ذرائع سے ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی تازہ ترین فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا ہے۔ بدھ کے روز دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اکیس مئی دو ہزار آٹھ کو طے پانے والے دوطرفہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک پابند ہیں کہ وہ ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو اپنی جیلوں میں بند قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کریں۔ اسی تزویراتی فریم ورک کے تحت، حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کو اپنی تحویل میں موجود دو سو پچاس بھارتی قیدیوں کی سرکاری فہرست فراہم کی، جن میں باون سویلین قیدی اور ایک سو اٹھانوے ماہی گیر شامل ہیں۔ دوسری جانب، حکومتِ بھارت نے بھی نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو اپنی جیلوں میں موجود چار سو انتالیس پاکستانی یا بظاہر پاکستانی قیدیوں کی تازہ فہرست مقتدر ذرائع سے فراہم کی ہے، جن میں تین سو چھیاسی سویلین قیدی اور ترپن ماہی گیر شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کے مقتدر ترجمان کے مطابق، پاکستان نے بھارتی حکومت پر کڑا زور دیا ہے کہ وہ اپنی جیلوں میں اپنی مقررہ سزا مکمل کرنے والے ستانوے پاکستانی قیدیوں، جن میں چونسٹھ سویلین قیدی اور تینتیس ماہی گیر شامل ہیں، کو فوری طور پر رہا کر کے باوقار طریقے سے وطن واپس بھیجے کیونکہ ان تمام قیدیوں کی پاکستانی شہریت کی حتمی تصدیق مکمل ہو چکی ہے۔ پاکستان نے اس موقع پر بھارت سے یہ اہم تزویراتی مطالبہ بھی کیا کہ رہائی اور اپنے وطن واپسی کے منتظر تمام معصوم پاکستانی اور بظاہر پاکستانی قیدیوں کی جیلوں کے اندر مکمل حفاظت، سلامتی اور سماجی فلاح و بہبود کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

آفیشل بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت سے ان تمام بظاہر پاکستانی قیدیوں کو بھی جلد سے جلد قونصلر رسائی فراہم کرنے کا مقتدر مطالبہ کیا ہے جن کے مقدمات ابھی زیرِ التوا ہیں، تاکہ ان کی اصل شہریت کی بروقت اور قانونی تصدیق کا عمل جلد مکمل کیا جا سکے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، حکومتِ پاکستان بھارتی جیلوں میں اس وقت محبوس تمام معصوم پاکستانی قیدیوں کے قانونی حقوق کے تحفظ اور ان کی جلد از جلد وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ تزویراتی و سفارتی کوششیں مسلسل جاری رکھے گی تاکہ وہ جلد اپنے خاندانوں سے مل سکیں۔

پاکستان میں موسمیاتی اور انسانی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے حکومت اور اقوامِ متحدہ کا باہمی اشتراک بڑھانے پر اتفاق

روزینہ اسماعیل, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک سے اسلام آباد میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امداد کے نو منتخب اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور اور ڈپٹی ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اہم بیٹھک کے موقع پر اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اعلیٰ نمائندگان بھی موجود تھے۔ بدھ کے روز وزارتِ موسمیاتی تبدیلی سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، ملاقات کے آغاز میں وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے محمد یحییٰ کو اقوامِ متحدہ میں اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور اور ڈپٹی ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر کے باوقار عہدے پر تقرری پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے سابق ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے محمد یحییٰ کی شاندار خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ان کے مسلسل تزویراتی تعاون کی تعریف کی۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی امداد سے متعلق خدمات اس عالمی ادارے کے سب سے اہم، قابلِ ستائش اور مؤثر ترین کرداروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر بالخصوص پاکستان میں قدرتی آفات، انسانی بحرانوں اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے سنگین تزویراتی چیلنجز سے نمٹنے میں اقوامِ متحدہ کی انتھک کاوشوں کا اعتراف کیا۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مختلف تزویراتی امکانات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا، جس کے تحت موسمیاتی مزاحمت ، ناگہانی آفات سے نمٹنے کی پیشگی تیاری، پائیدار ترقی، اور انسانی امداد سے متعلق اہم شعبوں میں مشترکہ پراجیکٹس شروع کرنے پر غور کیا گیا۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے آئندہ برسوں میں مشترکہ تزویراتی تعاون کے لیے ترجیحی شعبوں کے حتمی تعین اور باہمی اشتراک پر مبنی دوررس منصوبہ بندی کے حوالے سے تفصیلی اتفاقِ رائے پیدا ہوا۔ دونوں مقتدر شخصیات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قریبی اشتراک سے ایسے تمام ماحولیاتی اقدامات کو عملی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا، تاکہ پاکستان میں موسمیاتی موافقت اور انسانی ترقی کے اہداف کا بہتر، تیز رفتار اور پائیدار حصول ہر صورت ممکن بنایا جا سکے۔

آٹھ بار کی ومبلڈن چیمپئن سیرینا ولیمز چار برس بعد ایونٹ میں واپسی پر پہلے ہی راؤنڈ میں شکست کھا گئیں، آسٹریلیا کی مایا جوائنٹ نے ہرا دیا

محمود احمد, JULY 01,2026

واشنگٹن: (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

آٹھ بار کی ومبلڈن ٹینس چیمپئن، امریکہ کی مایاناز کھلاڑی سیرینا ولیمز چار برس بعد اس باوقار ایونٹ میں اپنی واپسی کو خوشگوار بنانے میں ناکام رہیں اور انہیں پہلے ہی راؤنڈ میں اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لندن کے آل انگلینڈ کلب میں جاری سال کے تیسرے گرینڈ سلم ٹورنامنٹ کے ویمن ایونٹ میں دنیائے ٹینس کی مقتدر کھلاڑی سیرینا ولیمز کی کورٹ پر واپسی پورے چار سال بعد ہوئی تھی، مگر وہ پہلے راؤنڈ کا تزویراتی مرحلہ بھی عبور نہ کرسکیں۔ چوالیس سالہ سیرینا ولیمز نے آسٹریلیا کی مایا جوائنٹ کا پورے تین سیٹ تک بھرپور مقابلہ کیا۔ وہ پہلا سیٹ تین چھ کے اسکور سے ہار گئیں، تاہم انہوں نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے دوسرا سیٹ ٹائی بریکر پر سات چھ سے اپنے نام کیا، لیکن تیسرے اور فیصلہ کن سیٹ میں وہ صرف تین گیمز جیت سکیں اور دو ایک کے مجموعی اسکور سے میچ ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئیں۔

ٹورنامنٹ کے دیگر مقتدر مقابلوں میں ویمن ایونٹ کی نمبر آٹھ سیڈ یوکرین کی ایلینا سیوٹولینا بھی اپ سیٹ شکست کا شکار ہو کر ایونٹ سے باہر ہو گئیں، انہیں سنی گور نے دو سیدھے سیٹس میں سات پانچ اور چھ دو سے مات دی۔ دوسری جانب، نمبر دو سیڈ ایلینا ریبا کینا نے انتہائی دباؤ میں اپنا میچ جیت لیا، انہوں نے بوائسن کو چھ چار، ایک چھ اور چھ تین سے سخت مقابلے کے بعد شکست دی۔ اسی طرح نمبر تین سیڈ پولینڈ کی ایگا شیواٹک نے بھی اپنا میچ جیت کر اگلے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا، انہوں نے ٹاؤن سینڈ کو تین سیٹ کے دلچسپ مقابلے کے بعد چھ ایک، دو چھ اور چھ تین سے مات دی۔

مینز سنگلز کے مقتدر مقابلوں میں جرمنی کے نمبر دو سیڈ الیگزینڈر زیوریو نے چار سیٹ کے انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد بیلجئم کے الیگزینڈر بلاگسک کو زیر کر کے اگلے مرحلے میں جگہ بنا لی۔ دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے مایہ ناز کھلاڑی اسٹین واورینکا کو پہلے ہی راؤنڈ میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، انہیں اٹلی کے میٹیو بیریٹینی نے چار سیٹ کے طویل اور اعصاب شکن مقابلے کے بعد چھ سات، سات چھ، سات چھ اور سات چھ کے اسکور سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔

فرانسیسی اسٹار کایلیان ایم باپے نے جرمن فٹ بالر کلوزے کا ریکارڈ توڑ دیا، ورلڈ کپ تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے دوسرے کھلاڑی بن گئے

محمود احمد, JULY 01,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

دنیائے فٹ بال کے مقتدر اور مایہ ناز اسٹار کھلاڑی، فرانس کے کایلیان ایم باپے نے سوئیڈن کے خلاف میچ میں دو شاندار گول اسکور کر کے میگا ایونٹ کی تاریخ میں ایک نیا تزویراتی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ ان دو گولز کی بدولت وہ فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ گول کرنے والے دنیا کے دوسرے کھلاڑی بن گئے ہیں، جہاں ان کے کل گولز کی تعداد اب اٹھارہ ہو گئی ہے۔ ایم باپے کے ان دو شاندار گولز نے انہیں فٹ بال کی دنیا کے منفرد ریکارڈز کا مالک بنا دیا ہے اور انہوں نے جرمنی کے سابق مقتدر فٹ بالر میروسلاو کلوزے کے سولہ گول کرنے کا دیرینہ ریکارڈ کامیابی سے توڑ دیا ہے۔

اس مقتدر ریکارڈ کے ساتھ اب وہ ارجنٹائن کے کپتان اور لیجنڈری فٹ بالر لیونل میسی سے صرف ایک گول پیچھے رہ گئے ہیں، جن کے ورلڈ کپ میں مجموعی گولوں کی تعداد انیس ہے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی فارورڈ جاری ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں اب تک مجموعی طور پر چھ گول اسکور کر چکے ہیں، جس کے بعد وہ اس میگا ایونٹ میں چھ گول کرنے والے میسی کے برابر آ گئے ہیں اور ٹورنامنٹ کے سب سے باوقار انعام یعنی “گولڈن بوٹ” حاصل کرنے کی دوڑ میں مضبوط ترین امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، ایم باپے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے انتہائی دباؤ والے ناک آؤٹ مرحلے میں بھی دنیا کے سب سے زیادہ گول کرنے والے مقتدر کھلاڑی بن گئے ہیں؛ میگا ایونٹس کے ناک آؤٹ راؤنڈز میں اب ان کے انفرادی گول کرنے کی کل تعداد دس ہو گئی ہے، جو ان کی شاندار تکنیکی مہارت اور تزویراتی کھیل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فرانسیسی عوامی اور اسپورٹس حلقوں نے ایم باپے کی اس تاریخی کارکردگی پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات جاری ہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا انکشاف

https://images.openai.com/static-rsc-4/mGVmkBkIQMxRXU6ToycDTEhgT7R4tviSAkVn7rbNZbLjTo-SRX_tb4UAnw7qOSpmWVhIdqz9oaJwtiV3Q83onRWfDwj0zIqUJ0jla7S3gD_hhFVGEUVkSishwd48KYG-uOqWQzKIgutD2s2waUdOo4z507Wz8YUFBDpqrh-qbXWlo9LxEXn8hopltPTVoZQw?purpose=fullsize

محمود احمد, JULY 01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ملک اور ایران کے درمیان سفارتی و تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے “بی بی سی” کے مطابق، امریکی نائب صدر نے واضح کیا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ان اہم مذاکرات سے متعلق ایران کی عوامی سطح پر تردید دراصل ایک دانستہ “فارسی طرزِ مذاکرات” کا حصہ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی حکومت اور ایرانی حکومت کے درمیان پسِ پردہ تکنیکی سطح کی بات چیت مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ “دی مائیکل نولز شو” کو دیے گئے اپنے ایک مقتدر انٹرویو میں جے ڈی وینس نے تصدیق کی کہ یہ مقررہ مذاکرات ہونے تھے، جو پہلے سے جاری سفارتی رابطوں اور بنیادی تزویراتی فریم ورک کے تحت یکم جولائی کو شیڈول کے مطابق ہو رہے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انٹرویو کے دوران کہا کہ تہران کے عوامی بیانات انہیں انتہائی دلچسپ اور کسی حد تک پریشان کن لگتے ہیں، کیونکہ ایرانی حکام ایک طرف کھلے عام امن مذاکرات کی تردید کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب اندرونی طور پر تکنیکی سطح کی بات چیت کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایرانی کہتے ہیں کہ کوئی امن مذاکرات نہیں ہو رہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے مقتدر پہلوؤں پر تکنیکی مذاکرات جاری ہیں؛ یہ ایک خاص فارسی طرزِ مذاکرات اور بیانیہ ہے جسے سمجھنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے مقتدر نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پیر کے روز اس وقت دوحہ کے لیے روانہ ہوئے تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ ایران نے قطری دارالحکومت میں اعلیٰ سطح کی ملاقات کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ اگرچہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی براہِ راست ملاقات کی منصوبہ بندی کی سختی سے تردید کی ہے، تاہم ایرانی حکام نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے سفارتی مشاورت کا عمل مسلسل جاری ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے ایک اہم تزویراتی کوشش ہے۔

مسلح افواج کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرنے کا عمل تیز کیا جائے گا، چینی صدر شی جن پنگ

کاشف عباسی , JULY 01,026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

چینی صدر شی جن پنگ نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ چین اپنی مسلح افواج کی عالمی معیار کے مطابق ترقی کو مزید تیز کرے گا اور مقررہ مدت کے اندر اپنے قومی دفاع اور فوج کی جدید کاری کا عمل ہر صورت مکمل کرے گا۔ روس کی مقتدر خبر رساں ایجنسی “تاس” کے مطابق، انہوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے 105ویں یومِ تاسیس کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروقار اور اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عالمی معیار کی چینی مسلح افواج کی ترقی کو تیز کرنا ہوگا، جبکہ فوج کے قیام کو 100 سال مکمل ہونے کے سلسلے میں طے شدہ تمام تزویراتی اہداف کو وقت پر حاصل کرنا ہوگا۔ چینی صدر نے زور دیا کہ ملک کی خودمختاری، قومی سلامتی اور اس کے ترقیاتی مفادات کا بھرپور دفاع کرنا چین کی اولین ترجیح ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے مقتدر خطاب میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ ایک مضبوط ملک کی بقا اور خوشحالی کے لیے ایک مضبوط اور جدید فوج کا ہونا ناگزیر ہے، اور طاقتور مسلح افواج کے بغیر کسی بھی صورت قومی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اپنی فوجی ترقی کے منفرد اور خودمختار راستے پر پوری ثابت قدمی سے گامزن رہے گا؛ اس مقصد کے لیے فوج کے سیاسی، تکنیکی، افرادی اور قانونی پہلوؤں کو مزید مربوط اور مضبوط بنایا جائے گا تاکہ چینی افواج نہ صرف اپنے ملک کا تزویراتی دفاع کر سکیں بلکہ عالمی امن، استحکام اور عالمی ترقی کے فروغ میں بھی دنیا بھر میں پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر اور کلیدی کردار ادا کر سکیں۔

ہیکرز نے اینڈرائیڈ و آئی او ایس ایپس سمیت آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا کنٹرول سنبھال کر قرآنی آیت اور ویڈیو چلا دی؛ بھارت کے سائبر سیکیورٹی دعوؤں کا پول کھل گیا

محمود احمد, JULY 01,2026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

نامعلوم ہیکرز کی جانب سے بھارتی ٹی وی چینلز پر تابڑ توڑ سائبر حملوں کا تزویراتی سلسلہ انتہائی شدت کے ساتھ جاری ہے، جس کے تحت ایک اور مقتدر بھارتی نیوز چینل کو کامیابی سے ہیک کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، ہیکرز نے بھارت کے بڑے اور معروف نیوز چینل “اے بی پی نیوز” کو ہیک کر کے اس کی لائیو نشریات کو مکمل طور پر معطل کر دیا ہے۔ سائبر حملے کی زد میں صرف ٹی وی نشریات ہی نہیں آئیں بلکہ ہیکرز نے اے بی پی نیوز کے آفیشل اینڈرائیڈ اور آئی او ایس موبائل ایپلی کیشنز کو بھی مکمل طور پر ہیک کر کے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ ہیکنگ کے دوران ہیکرز نے اے بی پی کے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور لائیو فیڈ پر قرآنی آیت اور خصوصی ویڈیو بھی دکھائی۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اے بی پی نیوز بھارت کا ایک انتہائی مقتدر اور بڑا میڈیا نیٹ ورک ہے، جس کے صرف یوٹیوب پر پندرہ ملین (ڈیڑھ کروڑ) سے زائد سبسکرائبرز ہیں جبکہ اس کی ماہانہ ویورشپ کا اندازہ تقریباً ایک سو چوبیس ملین (بارہ کروڑ چالیس لاکھ) سے زائد ہے۔ انیس سو اٹھانوے میں قائم ہونے والا یہ نیوز چینل ماضی میں “اسٹار نیوز” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ سائبر سیکیورٹی کے مقتدر ماہرین کے مطابق، بھارت جو دنیا بھر میں آئی ٹی گرو ہونے کے بلند و بانگ دعوے کرتا ہے، اس کے بڑے میڈیا چینلز پر یکے بعد دیگرے ہونے والے ان کامیاب حملوں نے اس کے ڈیجیٹل دفاع اور سائبر سیکیورٹی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیکنگ کے ان پے در پے لرزہ خیز واقعات نے بھارت کی سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل تحفظ اور ڈیٹا انفراسٹرکچر کے دعوؤں پر سنگین تزویراتی سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں۔ یہ تباہ کن سائبر حملے واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ بھارت کی مجموعی سیکیورٹی، خصوصاً آئی ٹی کے شعبے کا انتظام انتہائی ناقص اور کمزور ہے، جو جدید دور کے سائبر خطرات کا مقابلہ کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی

محمود احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کو نئی رفتار دینے اور مقتدر انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی خطیر مالی معاونت کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ یہ تزویراتی معاونت “کنیکٹڈ پنجاب پروگرام” کے تحت فراہم کی جائے گی، جس کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھانا، سرکاری خدمات کو جدید ترین ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرنا اور روایتی نقد رقم کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ ورلڈ بینک کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، یہ پروگرام پاکستان کے قومی ڈیجیٹل وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے اور وفاقی حکومت کے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ کے تحت تیار کیے جانے والے قومی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا، جس کا مقصد وفاقی سطح پر کی جانے والی ڈیجیٹل سرمایہ کاری، پالیسیاں اور ٹیکنالوجی پنجاب کے شہریوں، کاروباری اداروں اور سرکاری محکموں تک مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق، اس منصوبے کے لیے فراہم کی جانے والی 7 کروڑ ڈالر کی آئی ڈی اے فنانسنگ پنجاب حکومت کے 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مساوی شراکتی فنڈز کے ساتھ مل کر 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مجموعی سرمایہ کاری پروگرام کا حصہ ہوگی۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے اس حوالے سے بتایا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل رابطہ محض ایک سہولت نہیں بلکہ پائیدار ترقی، روزگار اور مساوی مواقع کی مضبوط بنیاد بن چکا ہے؛ وفاقی حکومت نے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک جامع وژن پیش کیا ہے اور کنیکٹڈ پنجاب پروگرام اس وژن کو صوبے کے کروڑوں شہریوں کی دہلیز تک پہنچانے کا مقتدر ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ براڈبینڈ انفراسٹرکچر کی توسیع اور پنجاب کے ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے سے خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور معیاری سرکاری خدمات تک رسائی کے نئے تزویراتی امکانات پیدا ہوں گے۔

عالمی بینک کے مطابق، پنجاب میں براڈبینڈ نیٹ ورک کی توسیع میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں ریگولیٹری پیچیدگیاں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے اخراجات شامل ہیں، اسی مقصد کے تحت یہ پروگرام رائٹ آف وے کے اجازت ناموں کے حصول کا عمل نمایاں طور پر آسان بنائے گا، جس کے تحت اجازت نامے جاری کرنے کا اوسط دورانیہ موجودہ 90 دن سے کم کر کے صرف 21 دن تک لایا جائے گا تاکہ نجی شعبے کی جانب سے فائبر آپٹک اور دیگر براڈبینڈ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ پروگرام کے تزویراتی اہداف کے مطابق، جون 2031ء تک پنجاب میں فکسڈ براڈبینڈ کی رسائی 78 لاکھ افراد سے بڑھ کر 99 لاکھ افراد تک پہنچ جائے گی، جس کے نتیجے میں تقریباً 21 لاکھ نئے شہری پہلی مرتبہ تیز رفتار انٹرنیٹ سے مستفید ہو سکیں گے، جبکہ اسی عرصے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں نجی شعبے کی جانب سے کم از کم 5 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

منصوبے کا ایک اور اہم حصہ پنجاب کے سرکاری اداروں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافہ کرنا بھی ہے، جس کے لیے حکومت کے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کو جدید بنایا جائے گا تاکہ مختلف سرکاری محکمے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خدمات تیار کر سکیں اور انہیں بڑے پیمانے پر عوام تک پہنچا سکیں۔ عالمی بینک کے مطابق، اس اقدام سے جون 2031ء تک تقریباً 2 کروڑ 89 لاکھ افراد جدید ڈیجیٹل سرکاری خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ پروگرام میں خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، صوبے میں نقد لین دین پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل انوائس مینجمنٹ سسٹم قائم کیا جائے گا، جو ادائیگیوں، انوائسز اور حکومتی رپورٹنگ کو ایک مربوط ادائیگی کے نظام کے تحت ایک دوسرے سے منسلک کر دے گا۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں، بہبود کے منصوبوں میں مزید تیزی لائی جائے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سخت ہدایت

کاشف عباسی , JULY 01,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بہبود اور ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے جاری تمام تزویراتی منصوبوں اور اقدامات میں مزید تیزی لانے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی قوم کا انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں جو دنیا بھر میں اپنی شبانہ روز محنت کی کمائی پاکستان بھیج کر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور معیشت کی مضبوطی میں اپنا مقتدر حصہ ڈالتے ہیں۔ بدھ کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید قمر رضا اور منیجنگ ڈائریکٹر او پی ایف افضال بھٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں ان سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات کی۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو درپیش مختلف مسائل کے مستقل حل اور ان کی سہولت کے لیے فاؤنڈیشن کی جانب سے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سماجی و معاشی بہبود اور ان کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے او پی ایف کے مستقبل کے لائحہ عمل پر ایک تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ وزیراعظم نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے اب تک کے مقتدر اقدامات اور کارکردگی پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا اور اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ تارکینِ وطن کے حقوق کے تحفظ اور سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک جامع اور فول پروف لائحہ عمل مرتب کر کے جلد از جلد پیش کیا جائے تاکہ اس پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ملاقات کے دوران چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید قمر رضا اور ایم ڈی او پی ایف افضال بھٹی نے عالمی امن، علاقائی استحکام اور اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے مقتدر تحفظ کے لیے وفاقی حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف کی انتھک تزویراتی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔