سپریم کورٹ نے انور سیف اللہ خان کی سزا کالعدم قرار دے دی، لاہور ہائیکورٹ کا بریت فیصلہ بحال

منصور احمد ,May 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز):
سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی سزا کے خلاف دائر نظرِثانی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی سزا کالعدم قرار دے دی اور لاہور ہائی کورٹ کا بریت کا فیصلہ بحال کر دیا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ماضی میں کیے گئے کسی فعل پر بعد میں بننے والے قانون کے تحت زیادہ سزا نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے دو ہزار سولہ کا اکثریتی فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ انور سیف اللہ خان پر انیس سو چھیانوے کے الزامات کے تحت انیس سو ننانوے کے قومی احتساب آرڈیننس کا اطلاق درست نہیں تھا۔ عدالت کے مطابق استغاثہ رشوت لینے یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ صرف انتظامی بے ضابطگی کو مجرمانہ بدنیتی کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ نظرِثانی درخواست میں اگر ریکارڈ پر واضح غلطی موجود ہو تو اس کی اصلاح کرنا عدالت کی آئینی ذمہ داری ہے