عازمین حج کو غیر مجاز کمپنیوں کو رقم نہ دینے کی ہدایت؛ تمام ادائیگیاں صرف آفیشل پورٹل اور پاک حج ایپ کے ذریعے کرنے کی سخت تاکید

منصور احمد,September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

وفاقی وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے آئندہ حج سیزن کے لیے پرائیویٹ حج سکیم کے تحت فریضہ حج ادا کرنے کے خواہش مند شہریوں کو شدید فراڈ اور گمراہ کن مہم سے بچانے کے لیے ایک اہم انتباہی اعلامیہ جاری کیا ہے۔

جمعہ کو وزارت مذہبی امور کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ (بی ایم ایچ 786) نامی ادارہ بالکل بھی رجسٹرڈ یا لائسنس یافتہ حج آرگنائزر (منظم) نہیں ہے، اور نہ ہی حکومتِ پاکستان کی طرف سے پرائیویٹ حج سکیم کے تحت اس ادارے کو کوئی حج کوٹہ الاٹ کیا گیا ہے۔

وزارت نے عام عازمینِ حج کو سخت خبردار کیا ہے کہ وہ حج انتظامات، بکنگ یا کوٹے کے نام پر اس نام نہاد ادارے یا کسی بھی دیگر غیر لائسنس یافتہ فرد، ایجنٹ یا کمپنی کو کسی قسم کی ادائیگی یا رقم کی لین دین ہرگز نہ کریں۔ حکام نے وضاحت کی کہ موجودہ حج سیزن کے لیے منظور شدہ اور تمام مجاز لائسنس یافتہ منظمین کی درست اور تازہ ترین فہرست وزارت کے سرکاری حج مینجمنٹ سسٹم کی ویب سائٹ اور “پاک حج” موبائل ایپلیکیشن پر ہر وقت دستیاب ہے۔

اعلامیے میں اس بات پر بھی شدید زور دیا گیا ہے کہ پرائیویٹ حج سکیم کے تحت تمام تر مالی ادائیگیاں — قطع نظر اس کے کہ وہ کسی تصدیق شدہ لائسنس یافتہ منظم کے ساتھ ہی کیوں نہ کی جا رہی ہوں — صرف اور صرف سرکاری ‘حج مینجمنٹ سسٹم’ یا ‘پاک حج ایپ’ کے ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے ہی انجام دی جائیں۔

وزارت نے خبردار کیا ہے کہ نقد رقم (کیش) کی صورت میں یا کسی فرد یا کمپنی کے ذاتی و نجی بینک اکاؤنٹ میں براہِ راست رقم منتقل کرنے کی صورت میں عازمِ حج تمام تر معاشی و قانونی نقصانات کا خود ذمہ دار ہوگا، اور ایسی صورت میں وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے فراہم کردہ تحفظ، کسٹمر سپورٹ اور داد رسی کے قانونی طریقہ کار سے استفادہ حاصل کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کا معاملہ: سپریم کورٹ نے مبینہ طور پر ملوث ڈاکٹر نادر کی ضمانت منظور کر لی

منصور احمد,September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے انسانی اعضا کی مبینہ غیر قانونی خریدو فروخت اور گردوں کی پیوند کاری (ٹرانسپلانٹ) کے کیس میں نامزد ملزم ڈاکٹر نادر کی باضابطہ درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کے فاضل جج جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے جمعہ کے روز اس اہم کیس کی باقاعدہ سماعت کی۔

دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالتِ عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ ملک میں نافذ قانون کے تحت اگر مریض کا کوئی قانونی رشتہ دار گردہ عطیہ نہ کر رہا ہو تو غیر متعلقہ فرد سے پیوند کاری کے لیے مجاز اتھارٹی سے خصوصی اور باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔

کیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر تفتیشی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم ڈاکٹر کے موبائل فون کے فرانزک تجزیے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ اب تک 65 مختلف ٹرانسپلانٹ کیسز میں راست یا بالواسطہ ملوث رہا ہے، جبکہ ڈاکٹر کا تحریر کردہ ایک نسخہ بھی بطور ثبوت پولیس تحویل میں لیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ زیرِ بحث مقدمے میں گردے کی پیوند کاری کا عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا تھا، یعنی ٹرانسپلانٹ کا عملی عمل مکمل نہیں ہو سکا تھا۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ مذکورہ ڈاکٹر مسلسل گردوں کی پیوند کاری کے معاملات میں مصروف ہے اور انہوں نے فاضل عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ ٹرائل کورٹ کو اس مقدمے کا جلد از جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کی جائے۔

سپریم کورٹ نے دونوں فریقین کے دلائل اور کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر نادر کی ضمانتِ بعد از گرفتاری منظور کر لی اور درخواست کو باضابطہ طور پر نمٹا دیا۔

ٹیکس اصلاحات، وسائل میں اضافہ اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں: وفاقی وزیر احسن اقبال

کاشف عباسی , September 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو تیز رفتار، پائیدار اور مستحکم معاشی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے روایتی طرزِ حکمرانی اور پرانے معاشی طریقہ کار سے نکل کر جدید ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیزی سے منتقل ہونا پڑے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بنیادی ٹیکس اصلاحات، قومی وسائل میں خاطر خواہ اضافہ اور معیشت کی کامل ڈیجیٹلائزیشن ‘اڑان پاکستان’ کے طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے بنیادی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

قومی اقتصادی مشن، ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور وسائل میں اضافہ کا اہم مشن ‘اڑان پاکستان’ کے تحت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کی جانب سے منظور کیے گئے 11 قومی اقتصادی مشنز میں کلیدی مقام رکھتا ہے، اور یہی مشن درحقیقت پورے معاشی اصلاحاتی پروگرام کے لیے بنیادی مالیاتی انجن کی حیثیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قابلِ اعتماد اور پائیدار ذرائع سے ملکی آمدن میں اضافہ کیے بغیر دیگر 10 قومی اقتصادی مشنز کو کامیابی سے چلانے کے لیے درکار مالی وسائل کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جا سکتی۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ قومی اقتصادی کونسل نے جن 11 قومی اقتصادی مشنز کی منظوری دی ہے، ان کا بنیادی اور حتمی مقصد پاکستان کو سال 2035ء تک 1 ٹریلین (ایک کھرب) ڈالر کی دیوہیکل معیشت بنانا ہے۔

احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘اڑان پاکستان’ کے تمام تر معاشی اہداف مکمل طور پر قابلِ حصول ہیں، تاہم ان کو حاصل کرنے کے لیے معیشت کے ہر چھوٹے بڑے شعبے میں بنیادی تبدیلی، کڑی اصلاحات اور نفاذ درکار ہے۔ موجودہ روایتی نظام کو برقرار رکھتے ہوئے 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوگا، اسی لیے معمول کے سست روی والے طریقہ کار سے ہٹ کر تیز رفتار معاشی و ساختار تبدیلی لانا پڑے گی۔

انہوں نے واضح الفاظ میں ہدایت کی کہ پاکستان کو اب معاشی میدان میں ’’کچھوے کی رفتار‘‘ کے بجائے ’’ڈیجیٹل رفتار‘‘ سے آگے بڑھنا ہوگا۔ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ملک کو پرانے تکنیکی طریقہ کار سے مکمل طور پر نکل کر ایک تیز رفتار، جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی اور شفاف ڈیجیٹل معیشت کی طرف منتقل ہونا پڑے گا۔

وفاقی وزیر نے معاشی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت نے ملک میں بنیادی معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے، لیکن صرف اس موجودہ سطح کا استحکام طویل المیعاد پائیدار ترقی کے لیے ہرگز کافی نہیں ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار کو عالمی سطح پر معتبر بنانے کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافہ اور عوامی ترقیاتی سرگرمیوں (پی ایس ڈی پی) کے لیے مطلوبہ مالی وسائل کی فراہمی بلاشبہ سب سے لازمی جزو ہے۔

انہوں نے ماضی سے موازنہ کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ سال 2018ء میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں ترقیاتی بجٹ کا تناسب کافی زیادہ تھا، جبکہ موجودہ صورتحال میں ترقیاتی بجٹ کی سطح نمایاں طور پر سکڑ کر کم ہو چکی ہے۔ تقریباً دو ہزار ارب روپے کے محدود ترقیاتی بجٹ کے ذریعے حاصل ہونے والے ظاہری استحکام کو ہم کبھی بھی مکمل یا حتمی معاشی استحکام قرار نہیں دے سکتے۔

پروفیسر احسن اقبال نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا قومی ترقیاتی بجٹ مسلسل سکڑ رہا ہے، اور بجٹ کا موجودہ روایتی ڈھانچہ نئے ترقیاتی اخراجات کے لیے گنجائش پیدا کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر زیرِ التوا اور جاری ترقیاتی منصوبوں کو وقت پر فنڈز فراہم کر کے مکمل نہیں کیا جا سکتا تو نئے مفادِ عامہ کے منصوبوں کا آغاز کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے معیشت میں نئے وسائل پیدا کرنے اور موجودہ وسائل کو زیادہ موثر اور شفاف انداز میں متحرک کرنے کی اشد ضرورت ہے، جس کے لیے ملک کے ٹیکس نظام میں انقلابی اور بنیادی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ذاتی کاوشوں اور خصوصی دلچسپی سے گزشتہ دو برس کے دوران ملک میں ٹیکس وصولیوں اور ریونیو کی جمع آوری میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، لیکن اب اصل چیلنج عوام اور صنعتوں پر ٹیکس کی شرح میں کمی لاتے ہوئے ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار وسیع کرنا اور مجموعی وصولیوں میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ عام شہری اور تاجر پر سے ٹیکس کا اضافی بوجھ کم کرنا اور باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد بڑھانا ہماری ملکی معاشی پالیسی کی پہلی اور اہم ترین ترجیح ہونی چاہیے۔ ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ملکی وسائل بڑھانے کے ساتھ ساتھ غیر رسمی معیشت کو زیادہ سے زیادہ دستاویزات کے دائرے میں لانا ہوگا۔

احسن اقبال نے برآمدات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تیز رفتار معاشی بحالی اور ترقی کے لیے برآمدات (ایکسپورٹس) میں غیر معمولی اور ریکارڈ اضافہ ناگزیر ہے، اور یہ موضوع اس وقت ریاست کی اہم ترین قومی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ منصوبہ بندی کی یہ بنیادی آئینی و انتظامی ذمہ داری ہے کہ وہ وزیراعظم کی رہنمائی میں ایک جامع اور قابلِ عمل قومی ترقیاتی منصوبہ تیار کر کے تمام متعلقہ وزارتوں کو فراہم کرے اور اس کے ایک ایک نقطے پر موثر عملدرآمد یقینی بنائے۔

وفاقی وزیر نے وزارتِ منصوبہ بندی کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وزارت کی تجزیاتی اور تحقیقی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے تمام اہم صنعتی شعبوں کے لیے برآمدات کے واضح، جرات مندانہ اور معین اہداف مقرر کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد از جلد یہ طے کیا جائے کہ کن مخصوص شعبوں سے کتنی برآمدات حاصل کی جا سکتی ہیں اور ان مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے کون سے عملی و تکنیکی اقدامات فوری طور پر ضروری ہیں، کیونکہ پاکستان کا مستقبل صرف اور صرف ٹیکنالوجی، شفافیت اور برآمدات پر مبنی معیشت سے وابستہ ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تمام شیشہ کیفیز پر تاحکمِ ثانی مکمل پابندی عائد: انتظامیہ کا بلاامتیاز سیلنگ اور مقدمات درج کرنے کا انتباہ

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں شیشہ کیفے چلانے پر تاحکمِ ثانی مکمل اور سخت ترین پابندی عائد کر دی ہے، جس کا بلاامتیاز اطلاق سابقہ این او سی رکھنے والے کیفیز اور تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز پر یکساں طور پر ہوگا۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اس پابندی پر بلاامتیاز اور سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے شیشہ کیفیز کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر گرینڈ آپریشنز اور کارروائیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں صراحت کی گئی ہے کہ اس مکمل قدغن کا اطلاق ان ڈور اور آؤٹ ڈور، دونوں طرح کی سائٹس پر قائم شیشہ کیفیز پر ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح اور سخت الفاظ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ اس سرکاری پابندی کی ذرہ برابر بھی خلاف ورزی کرنے والے شیشہ کیفے کو موقع پر فوری سیل کر دیا جائے گا، جبکہ کیفے کے مالک اور انتظامیہ کے خلاف سخت ترین تعزیراتی دفعات کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنے اپنے علاقائی دائرہ کار میں باقاعدگی سے ہنگامی انسپکشن کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

انتظامیہ کا یہ حتمی اور سخت فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں شیشہ کیفے کی سرگرمیوں اور قانونی حیثیت سے متعلق دائر کی گئی اہم درخواستوں کی سماعت کے بعد سامنے آیا ہے۔ بدھ کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے کیس کی اعلیٰ سطحی سماعت کی، جس میں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر، ایڈووکیٹ جنرل اور قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل ذاتی طور پر عدالتِ عالیہ کے سامنے پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس کے حکام نے عدالت کو باضابطہ آگاہ کیا کہ سابقہ عدالتی احکامات کی روشنی میں شیشہ کیفیز کے خلاف گرینڈ ایکشن لیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کی گئی ہیں، تاہم ان کارروائیوں کے دوران انتظامیہ اور پولیس کو کیفے مالکان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اپنے اہم ریمارکس میں واضح کیا کہ ملک میں شیشہ کیفے کے حوالے سے فی الوقت کوئی قانونی یا باقاعدہ قواعد و ضوابط (رولز) موجود نہیں ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے دوٹوک فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ باقاعدہ رولز اور قانونی فریم ورک وضع کیے بغیر شیشہ کیفے کے اس کاروبار کو اس طرح بے لگام جاری رکھنے کی بالکل اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے اسلام آباد کی مقامی ضلعی انتظامیہ کو شیشہ کیفے کی قانونی تنظیم سازی اور باقاعدہ قواعد و ضوابط کی تیاری کے لیے ایک ماہ کی مہلت فراہم کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین باضابطہ حکم کے تحت فی الحال شہر کا کوئی بھی شیشہ کیفے، خواہ وہ کسی قسم کا این او سی رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، یا ان ڈور و آؤٹ ڈور لوکیشن پر قائم ہو، صارفین کو شیشہ فراہم کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ یہ سخت پابندی قانون سازی اور نئے قواعد و ضوابط کی تشکیل تک تاحکمِ ثانی نافذ العمل رہے گی۔

سمندر میں گشت کے دوران سکیورٹی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے پاک بحریہ کے 2 اہلکار ہلاک

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاک بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ (ڈی جی پی آر نیوی) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق سمندری حدود میں معمول کے گشت اور سکیورٹی ڈیوٹی انجام دینے کے دوران پاک بحریہ کے دو جوان ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاک بحریہ کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق سمندر میں پیٹرولنگ اور وطنِ عزیز کی آبی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت شعیب الرحمان اور غفران نثار کے ناموں سے ہوئی ہے۔

پاک بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ نے بدھ کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک مختصر بیان میں دونوں جوانوں کی ہلاکت کا باضابطہ اعلان کیا، تاہم اس المناک واقعے کے پیچھے پیش آنے والے حالات اور حتمی وجوہات کے حوالے سے فی الوقت مزید تفصیلی معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

ترجمان پاک بحریہ کی جانب سے جاری کی گئی باضابطہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاک بحریہ کے انتہائی سینئر بحری افسران اور جوانوں نے دونوں اہلکاروں کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ ہلاک ہونے والے اہلکار شعیب الرحمان کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقے تلہ گنگ میں ادا کی گئی جبکہ غفران نثار کی نمازِ جنازہ ضلع بھمبر میں ادا کی گئی۔

نمازِ جنازہ کے ان روح پرور اجتماعات میں پاک بحریہ کے اعلیٰ افسران، جوانوں، شہداء کے لواحقین اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں دونوں جوانوں کے جسدِ خاکی کو مکمل فوجی اعزاز، سلامی اور عقیدت کے ساتھ ان کے آبائی قبرستانوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

قانونی چارہ جوئی کے لیے مقررہ مدت کی پابندی بنیادی اصول ہے: وفاقی آئینی عدالت کا تفصیلی تحریری فیصلہ

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے ایک اہم اور تفصیلی تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ قانونی داد رسی اور چارہ جوئی کے لیے متعین کردہ مقررہ مدت پر عمل کرنا قانون کا بنیادی اور اہم ترین اصول ہے، اس لیے محض کسی معاملے کو بنیادی حقوق کا مسئلہ قرار دے کر غیر معمولی تاخیر سے دائر کی گئی آئینی درخواست کے ذریعے قانون میں طے شدہ مدت کو نظر انداز یا بائی پاس نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی تحریری فیصلے میں مذہبی لٹریچر، کتب اور مواد پر پابندی اور ان کی ضبطگی کے خلاف دائر کی گئی متعدد اپیلیں اور درخواستیں بلاجواز تاخیر کی بنیاد پر خارج کر دی گئی ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے قرار دیا ہے کہ درخواستوں کی دائرگی میں بغیر کسی ٹھوس وجہ کے غیر معمولی تاخیر قانونی اصطلاح میں “لیشز” کا باعث بنتی ہے، اور آئینی درخواست کے ذریعے قانونی مدت سے بچنے کی ایسی تمام کاوشیں دراصل آئین اور قانون کے جائز عمل کا غلط استعمال ہیں۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے نشاندہی کی کہ درخواست گزاروں کے پاس صوبائی حکومت کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 99 اے کے تحت کی گئی انتظامی کارروائی کے خلاف دفعہ 99 بی کے تحت ہائی کورٹ سے باضابطہ رجوع کرنے کا مؤثر اور متبادل قانونی راستہ موجود تھا۔ اس کے علاوہ متعلقہ آرڈیننس کے تحت بھی متفقہ طور پر اپیل کا حق میسر تھا، تاہم تمام تر درخواست گزاروں نے مقررہ قانونی مدت کے اندر یہ لازمی قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے انتہائی تاخیر کا مظاہرہ کیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں بنیادی قانونی نقطہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اختیارات کا ہر قسم کا استعمال قانون کے اندر موجود باضابطہ ماخذ سے منسلک ہونا ضروری ہے۔ محض یہ حقیقت کہ کوئی فیصلہ انتظامی افسر کی جانب سے ہوا ہے، اسے ازخود غیر قانونی یا محض صوابدیدی اختیار نہیں بنا دیتی، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اختیار کس بنیادی قانون کے تحت حاصل کیا گیا تھا اور اس کا ماخذ کیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ بنیادی حقوق بلاشبہ آئین پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ اہم ترین ضمانتیں ہیں، تاہم ان حقوق کا استعمال ملکی قانون، عمومی پالیسی اور اخلاقیات کے واضح تابع ہوتا ہے۔ مذہبی آزادی سمیت آئین میں درج تمام بنیادی حقوق کو ہمیشہ وسیع تر عوامی مفاد، بین المذاہب ہم آہنگی اور امنِ عامہ کے ساتھ متوازن بنانا قانون کے لیے بے حد ضروری ہے۔

مقدمے کے پس منظر کے مطابق درخواست گزار محمد عبد القدوس نے پنجاب حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 25 جون 2014 کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت “روحانی خزائن” کی جلد اول سے 23 پر باضابطہ پابندی عائد کی گئی تھی اور تمام دستیاب نقول کو ضبط کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر تمام درخواست گزاروں نے بھی مختلف دینی و دیگر لٹریچر اور متنازع مواد کے خلاف کی جانے والی حکومتی و انتظامی کارروائیوں کو عدالت عالیہ میں چیلنج کر رکھا تھا۔

عدالت نے حتمی طور پر قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے وقت پر متبادل قانونی چارہ جوئی کا فورم اختیار کرنے کے بجائے برسوں کی تاخیر کے بعد براہِ راست آئینی درخواستیں دائر کی ہیں اور عدالت کے سامنے تاخیر کی کوئی معقول یا قابلِ قبول وجہ بھی پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلوں کو بحال رکھتے ہوئے قرار دیا کہ زیرِ نظر فیصلے میں کوئی قانونی یا دائرہ اختیار کی خامی موجود نہیں جس کی بنیاد پر مداخلت کی جائے، اور اسی بنا پر تمام درخواستیں خارج کرتے ہوئے زیر التوا متفرق متفرقات کو نمٹا دیا گیا۔

واپڈا کی جانب سے ملک کے اہم دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی روزانہ رپورٹ جاری

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے منگل کے روز ملک بھر کے تمام اہم دریاؤں، بیراجوں اور ڈیموں میں پانی کی مجموعی آمد، اخراج اور ریزروائر میں ذخیرہ شدہ پانی کے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔

واپڈا کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 25 ہزار 600 کیوسک اور اخراج بھی 1 لاکھ 25 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر آمد اور اخراج 23 ہزار 300 کیوسک رہا، جبکہ خیرآباد پل پر پانی کی آمد اور اخراج 1 لاکھ 37 ہزار 400 کیوسک درج کیا گیا ہے۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 12 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 9 ہزار کیوسک رہا، جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر آمد 42 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 16 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

ملک کے اہم بیراجوں کے اعداد و شمار کے مطابق جناح بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 14 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 6 ہزار 700 کیوسک، چشمہ بیراج میں آمد 1 لاکھ 93 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 80 ہزار کیوسک، اور تونسہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 16 ہزار 500 کیوسک جبکہ اخراج 1 لاکھ 95 ہزار 800 کیوسک رہا۔ جنوبی حصوں میں گدو بیراج کے مقام پر آمد 2 لاکھ 65 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 34 ہزار 500 کیوسک، سکھر بیراج پر آمد 2 لاکھ 3 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 50 ہزار 500 کیوسک، جبکہ کوٹری بیراج میں آمد 87 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 44 ہزار 700 کیوسک درج کیا گیا۔ اس کے علاوہ تریموں بیراج پر آمد 27 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 16 ہزار 200 کیوسک، اور پنجند بیراج پر آمد 27 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 13 ہزار 200 کیوسک رہا۔

آبی ذخائر اور ڈیموں کی صورتحال سے متعلق بتایا گیا ہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح اپنی انتہائی گنجائش یعنی 1550 فٹ تک پہنچ چکی ہے، جہاں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح بھی 1550 فٹ ہی ہے اور اس کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے، جبکہ تربیلا میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ، پانی کی موجودہ سطح 1222.35 فٹ، انتہائی گنجائش 1242 فٹ اور قابلِ استعمال ذخیرہ 5.755 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح چشمہ میں کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ، پانی کی موجودہ سطح 648.30 فٹ، انتہائی گنجائش 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.274 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سی ڈی اے کی فائر سیفٹی موک ڈرل: آتشزدگی سے نمٹنے کی عملی مشقیں مکمل

منصور احمد, September 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی عمارت میں فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی تدابیر کے حوالے سے ایک خصوصی موک ڈرل کا باقاعدہ انعقاد کیا گیا ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس عملی مشق کا بنیادی مقصد کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعہ یا آتشزدگی کی صورتحال میں فوری کارروائی، مؤثر حفاظتی اقدامات اور ہنگامی ردِعمل کے پورے نظام کی صلاحیتوں کو آزمائشی بنیادوں پر جانچنا اور مزید مضبوط بنانا تھا۔

موک ڈرل کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس کی اہم عمارت میں آتشزدگی کی فرضی صورتحال پیدا کی گئی اور امدادی کارروائیوں کا عملًا معائنہ کیا گیا۔ اس موقع پر آگ لگنے کی صورت میں عمارت کے اندر موجود افراد کے محفوظ انخلا، ریسکیو اداروں کو بلا تاخیر اطلاع دینے، آگ پر قابو پانے اور ضروری طبی امداد کی فراہمی جیسے تمام مرحلہ وار طریقہ کار کی مشقیں انجام دی گئیں۔

مشق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سینیئر افسران، ملازمین اور سی ڈی اے کی فائر فائٹنگ و ریسکیو ٹیموں نے مکمل ہم آہنگی اور تعاون کے ساتھ حصہ لیا۔

حکام نے اس موقع پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے موجود تمام موجودہ انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ سی ڈی اے حکام کے مطابق ایسی فرضی اور عملی مشقوں کا مقصد ادارہ جاتی تیاریوں کو ہر وقت فعال رکھنا ہے تاکہ کسی بھی واقعی ایمرجنسی میں قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ اور مالی نقصانات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا پمز کارڈیک سنٹر اور الیکٹرو فیزیالوجی کیتھ لیب کا اچانک دورہ: طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ

منصور احمد, September 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے کارڈیک سنٹر کا دورہ کیا اور وہاں دل کے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اپنے دورے کے دوران وفاقی وزیر صحت نے کارڈیک سنٹر میں زیرِ علاج مریضوں اور ان کے لواحقین سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور علاج معالجے کے معیار، مفت ادویات کی دستیابی اور انتظامی امور سے متعلق درپیش مشکلات کے بارے میں دریافت کیا۔

مصطفیٰ کمال نے پمز ہسپتال میں قائم جدید ترین الیکٹرو فیزیالوجی کیتھ لیب کا بھی خصوصی معائنہ کیا جہاں انہوں نے دل کے امراض کے علاج کے لیے دستیاب جدید ترین آلات اور تکنیکی سہولیات کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر پمز انتظامیہ اور متعلقہ طبی حکام نے وفاقی وزیر صحت کو کیتھ لیب کی کل روزمرہ کی استعداد، جدید مشینری کے فعال ہونے اور آنے والے مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر صحت نے ہسپتال انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور جدید ترین طبی سہولیات کی بلا تاخیر فراہمی یقینی بنائی جائے اور ہسپتال آنے والے ہر مریض کے مسئلے کے فوری حل کو انتظامیہ اپنی اولین ترجیح بنائے۔

عوام کو صحت کی اعلیٰ سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ہیلتھ سیکٹر اصلاحات میں تیزی

منصور احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ عوام الناس کو صحت عامہ کی جدید اور معیاری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی سرِ فہرست ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے ملک میں ہیلتھ کیئر اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت جمعرات کو اسلام آباد میں مجوزہ ‘جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر’ اور ‘فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک فیز 2 ایکسٹینشن’ کی تعمیر و پیشرفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس کے دوران وفاقی دارالحکومت کے باشندوں کو فوری اور معیاری طبی علاج کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا گیا۔ فیصلے کے تحت اسلام آباد کے سیکٹرجی/ 11″ میں زیرِ تعمیر فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک ایکسٹینشن کو جناح میڈیکل کمپلیکس کے پہلے فیز کے طور پر شروع اور فعال کیا جائے گا تاکہ ہسپتال کی تعمیر میں تاخیر کو ختم کر کے اسے فوری شہریوں کی خدمت کے لیے کھولا جا سکے۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو حتمی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جناح میڈیکل کمپلیکس کے اس پہلے فیز کی تعمیر کو ہر صورت مارچ 2027ء تک مکمل کیا جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ اس ہسپتال کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید اور ‘سٹیٹ آف دی آرٹ’ بنایا جائے اور اس میں اعلیٰ ترین اور ہائی ٹیک میڈیکل مشینری کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے۔

اس کے ساتھ ہی وزیراعظم شہباز شریف نے شفافیت قائم رکھنے کے لیے ہدایت کی کہ منصوبے کی تعمیراتی پیشرفت کے ساتھ ساتھ مسلسل تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کو یقینی بنایا جائے۔ اس اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیرِ توانائ سردار اویس احمد خان لغاری اور دیگر سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی۔

پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ اور معیشت کے لیے بڑا پیش رفت: قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی تیاری تیزی سے جاری

کاشف عباسی , September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملکی و بین الاقوامی طویل مدتی سرمائے کو متحرک کرنے اور کاروباری شعبے کو پیداواری سرمائے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ‘قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک’ پر کام تیز کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی تیاری کے لیے قائم کی گئی اعلیٰ سطح کمیٹی کے دوسرے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد صرف نئے مالیاتی ڈھانچے بنانا نہیں بلکہ حقیقی سرمائے کو عملی اور پیداواری سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے۔

اجلاس کے آغاز میں کمیٹی ارکان کی جانب سے پاکستان کی طرف سے عالمی مارکیٹ میں 3 ارب ڈالر مالیت کے یورو بانڈز کے انتہائی کامیاب اجرا اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر وزیر خزانہ کو مبارکباد پیش کی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی کیپٹل مارکیٹ کا یہ مثبت ردِعمل پاکستان کی معاشی سمت پر عالمی اعتماد کا بین ثبوت ہے اور اس سے ملک کے طویل مدتی فنانسنگ ذرائع کو وسیع کرنے کا بہترین ماحول میسر آیا ہے۔

اجلاس کے دوران سٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پرائیویٹ ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل کے لیے تیار کردہ قانونی، ٹیکس اور ضابطہ کاری ورک سٹریمز کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بینکوں، ڈی ایف آئیز انشورنس کمپنیوں اور پنشن فنڈز جیسے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی پرائیویٹ ایکویٹی میں شمولیت، سرمائے کے اخراج و آمد کو آسان بنانے اور انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ سٹینڈرڈز کے مطابق اکاؤنٹنگ طریقہ کار وضع کرنے پر غور کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ ایکویٹی ڈھانچوں کے لیے “ٹیکس نیوٹرلٹی” اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ویلیو ایشن طریقہ ہائے کار اپنانے پر اتفاق کیا گیا تا کہ ٹیکس کا دوہرا بوجھ پڑے بغیر حقیقی شفاف سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ ایک مضبوط اور شفاف ایکوسسٹم کے قیام سے نہ صرف مقامی فنڈ مینجمنٹ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ملکی پیداواریت کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔

اس اعلیٰ سطح اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، مشیر نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور نجی و سرکاری شعبے کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔

پمز ہسپتال آتشزدگی کیس: وزیراعظم شہباز شریف کی نومولود بچی کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین سے ملاقات، ‘تمغۂ خدمت’ اور 1 کروڑ روپے انعام کا اعلان

منصور احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے کے دوران اپنی جان پر کھیل کر ایک نومولود بچی کی جان بچانے والی بہادر نرس رضیہ نورین سے جمعرات کے روز یہاں وزیراعظم ہاؤس میں خصوصی ملاقات کی اور ان کی بے مثال ہمت، بہادری اور انسانیت کے جذبے کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نرس رضیہ نورین نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر جس عظمت اور ہمت کے ساتھ نومولود بچی آصفہ کو آگ کی لپیٹ سے محفوظ باہر نکالا، وہ ایک عظیم انسانی عمل ہے جس پر پوری قوم کو ان پر بے حد فخر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم کی اس بیٹی کا کارنامہ ملکی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور بچی کی والدہ زندگی بھر انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گی۔

وزیراعظم نے رضیہ نورین کی اس اعلیٰ ترین کارکردگی اور قربانی کے اعتراف میں اعلان کیا کہ آنے والے قومی دن یعنی 23 مارچ کو انہیں باضابطہ طور پر “تمغۂ خدمت” سے نوازا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے نرس کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک کروڑ روپے کے خصوصی مالی انعام کا اعلان کیا اور چیک بھی ان کے حوالے کیا۔

ملاقات کے دوران نرس رضیہ نورین نے وزیراعظم کو واقعے کی دلدوز تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی انہوں نے ہسپتال کے شعبے میں اچانک آگ کی خوفناک لپٹیں اور دھواں دیکھا تو اپنی جان کا خطرہ مول لے کر اندر داخل ہو گئیں اور چھوٹی بچی آصفہ کو محفوظ نکال کر ڈاکٹر عبدالرحمٰن کے حوالے کیا تا کہ بھگدڑ میں بچی محفوظ رہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر بچوں کو بچانے کی بھی کوشش کی گئی تاہم آگ اور سیاہ دھوئیں کے تیزی سے پھیلنے کے باعث ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پمز آتشزدگی کے واقعے کو انتہائی دلخراش قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ اس غفلت اور حادثے کے ذمہ دار افراد کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزارتِ صحت کو پمز ہسپتال میں مریضوں اور عملے کے تحفظ کے لیے سہولیات اور حفاظتی اقدامات فوری بہتر بنانے کی سخت ہدایات جاری کیں۔ تقریب میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔

پاکستانی نوجوانوں کی ڈیجیٹل و کاروباری ترقی کے لیے بڑا قدم: وزیراعظم یوتھ پروگرام، ایزمر اور کاروٹ سسٹمز کے درمیان معاہدے پر دستخط

کاشف عباسی , September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

پاکستان کے نوجوانوں کو جدید ترین ڈیجیٹل مہارتوں، پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے بہترین مواقع سے آراستہ کرنے کے لیے ایک اہم پیشرفت کے تحت وزیراعظم یوتھ پروگرام اور معروف اداروں ایزمر و کاروٹ سسٹمز کے کنسورشیم کے درمیان ‘لیٹر آف انٹینٹ’ پر باضابطہ دستخط کر دیے گئے ہیں۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، اس شراکت داری کا باضابطہ معاہدہ وزیراعظم آفس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران ہوا، جس میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان اور کنسورشیم کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔

اس سٹریٹجک شراکت داری کا بنیادی مقصد ملک بھر کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی ترقی، آئی ٹی لٹریسی، تکنیکی ہنرمندی، کاروباری صلاحیتوں ، اور اخلاقی و کردار سازی کے جدید اور وسیع تر مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ انہیں مستقبل کے عالمی و قومی تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔

معاہدے میں شامل ادارہ ‘ایزمر’ تنظیمی اخلاقیات، کیپیسٹی بلڈنگ، ہنرمندی کی ترقی اور اینٹراپرینیورشپ ٹریننگ میں مہارت رکھتا ہے، جبکہ ‘کاروٹ سسٹمز’ آئی ٹی کنسلٹنگ، ڈیجیٹل ایجوکیشن، اور کمپیوٹر لٹریسی کے میدان میں معروف ادارہ ہے۔ یہ دونوں ادارے مل کر پاکستانی نوجوانوں کی بااختیاری کے لیے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے ساتھ مل کر مختلف منصوبے شروع کریں گے۔

اس مشترکہ فریم ورک کے تحت اساتذہ اور طلبہ کی جدید ترین تربیت، کیریئر کونسلنگ، ڈیجیٹل لرننگ، صحت و ماحولیاتی آگاہی اور تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے جدید ترین ٹریننگ سیشنز اور پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا۔

تقریب کے دوران چیئرمین رانا مشہود احمد خان اور کنسورشیم کے عہدیداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام فریقین مل کر ایسے بامقصد اور نتیجہ خیز اقدامات کو فروغ دیں گے جو پاکستان کی یوتھ کو ہنرمند، باصلاحیت، ذمہ دار اور روزگار کے قابل بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا گندم کے ذخائر کا جائزہ اجلاس: 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے کا اعادہ

منصور احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

ملک میں گندم کی وافر دستیابی اور آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمد کے فیصلے کا اعادہ کیا گیا۔

نائب وزیراعظم کے آفس کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اسحاق ڈار نے اجلاس میں صوبوں، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزارتِ تجارت کے باہمی رابطہ اور گندم کی ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے کی جانے والی مشترکہ کاوشوں کو سراہا۔

اجلاس کے دوران اقتصادی رابطہ کمیٹی اور اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا کہ پاسکو تمام صوبوں کو ان کے منظور شدہ کوٹے کے مطابق فوری گندم کی ترسیل شروع کرے۔ اس کے ساتھ ہی نائب وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو بھی ہدایات جاری کیں کہ وہ پاسکو کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنائیں تاکہ گندم کا اپنا مقررہ حصہ بلا تاخیر اٹھایا جا سکے۔

ملک میں مستقبل کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اجلاس میں 1 ملین (10 لاکھ) میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کا حکم دیا گیا، جس کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو فوری طور پر تمام ضروری کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

منصوبہ بندی کے مطابق پہلے مرحلے میں 2 لاکھ 50 ہزار (250,000) میٹرک ٹن گندم درآمد کی جائے گی جس کی پہلی کھیپ رواں سال نومبر کے مہینے میں پاکستان کی بندرگاہوں پر پہنچ جائے گی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تمام وفاقی و صوبائی اداروں کو قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی تاکہ ملک بھر میں گندم کا وافر ذخیرہ موجود رہے اور عوام کو سستے آٹے کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ، وزیر تجارت، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، اور چاروں صوبوں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

پانی کو کبھی عسکری یا سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے: بشکیک میں ایس سی او اجلاس سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

منصور احمد, September 01,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ پانی انسانی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے اور اسے کبھی بھی ہتھیار، دباؤ یا سیاسی مفادات کے حصول کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

اگرچہ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران براہِ راست انڈیا کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ واضح طور پر نئی دہلی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور عدم پاسداری کی کوششوں کی طرف تھا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پانی ہمارے پورے خطے میں انسانی زندگی اور بقا کی بنیاد ہے، جو لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو برقرار رکھتا ہے، ہماری زراعت و زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے مشترکہ آبی وسائل سے متعلق تمام تر معاہدے سنجیدہ، باہم طے شدہ اور پابند بین الاقوامی عہد ہیں، یہ کوئی ایسے معمولی سیاسی معاملات نہیں ہیں جنہیں کوئی بھی ملک اپنی مرضی یا پسند ناپسند کے مطابق نظر انداز کر دے۔

دہشت گردی اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے ہمیشہ کی طرح فعال اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور معاشی طور پر خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ تاہم، انہوں نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ اس حوالے سے کسی کے ذہن میں کوئی ابہام یا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ جب تک دہشت گرد افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے بے گناہ پاکستانیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کا خون بہاتے رہیں گے، تب تک خطے میں پائیدار اور حقیقی امن ہماری پہنچ سے دور ہی رہے گا۔

پاکستان کا ڈیجیٹل انقلابی فریم ورک: 1 لاکھ 32 ہزار سے زائد نوجوانوں کی تربیت اور آئی ٹی برآمدات کو وسعت دینے کے لیے ریکارڈ اقدامات کا آغاز

منصور احمد, September 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کی حکومت نے ملکی ڈیجیٹل افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق وسعت دینے اور آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ حاصل کرنے کے لیے جامع اور ہمہ جہت اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ اس خصوصی فریم ورک کے تحت نیشنل سیمی کنڈکٹر ایچ آر ڈویلپمنٹ پروگرام (انسپائر) کا آغاز کیا گیا ہے جس میں 7 ہزار 200 پیشہ ور افراد کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں مزید 25 ہزار سے زائد نوجوانوں اور صنعتی شراکت داری کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد طلبہ کو خصوصی ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔

حکومت کو موصول ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے زیرِ انتظام انسپائر پروگرام کے ذریعے قائم سیمی کنڈکٹر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کلسٹرز سے 2 ہزار 200 انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ براہِ راست مستفید ہوں گے، جبکہ ملک گیر اپ سکلنگ پروگرامز کے تحت مزید 5 ہزار انجینئرز کو سیمی کنڈکٹر ڈیزائننگ اور ٹیکنالوجی کی جدید ترین تربیت دی جائے گی تاکہ ملک میں سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کی بنیاد رکھی جا سکے۔

اس کے ساتھ ہی وزیراعظم ‘سکل ٹیک پاکستان’ انیشی ایٹو کے تحت آئندہ تین سال کے دوران 25 ہزار سے زائد نوجوانوں کو مارکیٹ کی طلب کے مطابق مصنوعی ذہانت سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا اینالیٹکس اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی عملی تربیت دی جائے گی۔ اس منصوبے میں بوٹ کیمپس، انٹرن شپس اور عالمی سرٹیفیکیشنز بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ برآمدات کے لیے تیار باصلاحیت افرادی قوت تشکیل دی جا سکے۔

علاوہ ازیں، پی ایس ای بی نے عالمی کمپنی زیڈ ٹی ای پاکستان کے ساتھ یوتھ ڈویلپمنٹ کا بڑا معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت آرٹیفیشل انٹیلی جنس، فائیو جی اور مواصلاتی ٹیکنالوجیز میں آن لائن تعلیمی پروگرامز کے ذریعے ایک لاکھ طلبہ کو مکمل مفت تربیت فراہم کی جائے گی، جس کے لیے 100 ماسٹر ٹرینرز بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔

ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی مضبوطی کے لیے حکومت وزیراعظم نیشنل ٹیکنالوجی پارکس کی تعداد بڑھا کر 250 مراکز تک لے جا رہی ہے جبکہ اسلام آباد اور کراچی میں وسیع اسٹیٹ آف دی آرٹ آئی ٹی پارکس کا قیام آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ آئی ٹی برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے پی ایس ای بی کا ‘ون ونڈو پلیٹ فارم’ 24 گھنٹے خدمات فراہم کر رہا ہے جس کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن، ویزا سہولت اور زرِ مبادلہ کی ترسیلات کے طریقہ کار کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے انتہائی آسان اور شفاف بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان نے امریکی سرکاری خریداری کے طریقہ کار کو سمجھنے اور عالمی ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے اپنا پہلا ‘یو ایس ایس ایل ای ڈی’ پروکیورمنٹ ٹریننگ پروگرام بھی شروع کر دیا ہے۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا اڈیالہ جیل انتظامیہ کو قیدِ تنہائی ختم کرنے کا بڑا حکم

کاشف عباسی , September 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

اسلام آباد ہائیکورٹ کے محترم جسٹس خادم حسین سومرو نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات اور بنیادی حقوق سے متعلق دائر درخواستوں پر اہم اور تفصیلی فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو واضح حکم جاری کیا ہے کہ دونوں شخصیات کو کسی بھی صورت قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے اور آئین و قانون کے مطابق تمام قانونی و بنیادی حقوق اور انسانی سہولیات بلا تاخیر فراہم کی جائیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اڈیالہ جیل انتظامیہ کو باقاعدہ ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپس میں باقاعدہ ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے اپنے اہل خانہ، وکلاء اور عزیز و اقارب سے جیل قوانین کے مطابق تمام ملاقاتیں یقینی بنائی جائیں۔ اس کے علاوہ مطالعے کے لیے کتابیں، روزنامچے اور ٹیلی ویژن کی سہولت فوری طور پر بحال کرنے کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ عمران خان کو جیل احاطے میں روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ ایسی کھلی جگہ پر واک اور قدم زنی کی اجازت دی جائے جہاں معمول کا انسانی میل جول ممکن ہو، جبکہ ان سے ملنے والے تمام افراد کا باقاعدہ اندراج اور ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔

عمران خان کے لیگل کونسل خالد یوسف چوہدری نے عدالتی فیصلے کی تفصیلات ذرائع ابلاغ کو بتاتے ہوئے تصدیق کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے تحت سابق وزیراعظم کو بیرونِ ملک مقیم اپنے بیٹوں سے آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہنے کی اجازت مل گئی ہے۔ تاہم، عدالت عالیہ نے فیصلے میں ایک اہم مشروط شق بھی شامل کی ہے کہ اگر ان ٹیلی فونک یا ویڈیو کالز کو ریکارڈ کر کے بعد میں کسی بھی قسم کے سیاسی مقاصد یا مہم جوئی کے لیے استعمال کیا گیا تو جیل حکام کے پاس یہ سہولت واپس لینے کا قانونی اختیار ہو گا۔

ہائیکورٹ نے اپنے جامع فیصلے میں اس قانونی نقطے کو بھی نمایاں کیا ہے کہ اگر جیل انتظامیہ عمران خان یا بشریٰ بی بی کو قانون یا عدالت کے تحت حاصل کسی بھی ریلیف یا سہولت سے محروم کرتی ہے، تو انتظامیہ کو اس محرومی کی باقاعدہ تحریری وجوہات اور قانونی جواز فراہم کرنا ہوں گے۔ عدالت عالیہ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو پابند کیا ہے کہ وہ آئندہ 15 روز کے اندر ان تمام عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

پبلک سروس گاڑیوں میں اوور لوڈنگ، زائد کرائے اور خطرناک ڈرائیونگ پر کیو آر کوڈ کے ذریعے فوری رپورٹنگ کی سہولت متعارف

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے شاہراہوں پر محفوظ سفر کو یقینی بنانے اور عوامی تعاون کے فروغ کے لیے ایک جدید اور اہم مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد شہریوں کو موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے میں ایک مؤثر اور ذمہ دار شراکت دار بنانا ہے۔

اس مہم کے تحت دورانِ سفر عام شہری کسی بھی قسم کی ٹریفک خلاف ورزی، بالخصوص پبلک سروس گاڑیوں (بَسوں اور ویگنوں) میں گنجائش سے زائد مسافر یا سامان بھرنے (اوور لوڈنگ)، مسافروں سے مقررہ نرخوں سے زائد کرایہ وصول کرنے، تیز رفتاری اور خطرناک یا غیر محتاط ڈرائیونگ کی فوری اطلاع موٹروے پولیس کو دے سکیں گے۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے حکام کے مطابق شہریوں کے لیے شکایت درج کروانے کے عمل کو انتہائی آسان اور فوری بنایا گیا ہے۔ شاہراہوں پر سفر کرنے والے مسافر اور شہری پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر چسپاں موٹروے پولیس کے خصوصی اسٹیکرز پر درج ‘کیو آر کوڈ’ کو اپنے موبائل فون سے اسکین کر کے فوری طور پر متعلقہ پورٹل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور ثبوت کے ساتھ اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کی بروقت اور ذمہ دارانہ اطلاع ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی فوری روک تھام، موٹرویز پر ہونے والے خوفناک حادثات میں کمی اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ترجمان موٹروے پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایک بہتر ٹریفک نظام اور شاہراہوں پر قانون کی عملداری کے لیے مہم کا فعال حصہ بنیں اور سفر کے دوران نظر آنے والی کسی بھی خلاف ورزی کو نظر انداز کرنے کے بجائے فوری رپورٹ کریں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: نجی ہسپتال میں علاج کے لیے دائر اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستیں مسترد

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولت حاصل کرنے اور جیل سے بیرونِ ملک ٹیلی فونک رابطوں کی اجازت کے لیے دائر کی گئی اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستوں کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے نامور جج جسٹس محمد آصف نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا اہم فیصلہ جاری کیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق قیدیوں کو قانون اور جیل مینول کے مطابق ہی طبی و دیگر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں، جس کے تحت نجی ہسپتال منتقل کرنے کا کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کیا گیا۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ان تینوں قیدیوں نے اپنے وکلاء کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں، جن میں استدعا کی گئی تھی کہ انہیں علاج معالجے کے لیے جیل سے باہر کسی نجی ہسپتال منتقل کیا جائے اور بیرونِ ملک مقیم اپنے اہلخانہ یا متعلقہ افراد سے ٹیلی فون پر بات چیت کرنے کی خصوصی سہولت فراہم کی جائے۔ تاہم، عدالتِ عالیہ نے ان تمام استدعاؤں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے درخواستوں کو باقاعدہ ڈسمس (مسترد) کر دیا۔

پاکستان اور ایتھوپیا کے بڑھتے ہوئے تعلقات: اسلام آباد میں پہلے ’ایتھوپیئن کافی کیفے‘ کا باقاعدہ افتتاح

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین تجارتی، ثقافتی اور عوامی روابط کے فروغ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ملک کے پہلے اختصاصی ’ایتھوپیئن کافی کیفے‘ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ دونوں برادر ممالک کے بڑھتے ہوئے دوطرفہ سفارتی تعلقات کے تناظر میں اسے ثقافتی پل کی تعمیر کی جانب ایک غیر معمولی اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

افتتاحی تقریب کے بعد روایتی ایتھوپیئن کافی کی مخصوص اور خوبصورت رسم بھی منعقد کی گئی، جس میں پاکستان میں مقیم ایتھوپیئن کمیونٹی، سفارتخانے کے اعلیٰ عملے، ممتاز شخصیات اور میڈیا کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے کہا کہ اس کیفے کا افتتاح پاکستان میں ایتھوپیئن کافی اور اس کی عظیم تاریخ کے باقاعدہ تعارف کی علامت ہے، جبکہ جڑواں شہروں (اسلام آباد و راولپنڈی) کی سطح پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد ایتھوپیئن کافی ہاؤس ہے۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ ایتھوپیا کو انسانیت کی جائے پیدائش اور دنیا کی بہترین ‘عربیکا کافی’ کا اصل وطن ہونے کے باعث بجا طور پر “لینڈ آف اوریجنز” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

ایتھوپیئن سفیر نے مزید بتایا کہ اس کیفے کا قیام اور اس کی ملکیت ایک ایتھوپیئن-پاکستانی جوڑے کے پاس ہونا اس اقدام کو عوامی سطح پر مزید دوآتشہ اور اہم بناتا ہے، جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اور برادری کی روشن عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیفے کا باضابطہ نام “حبیشہ” رکھا گیا ہے، جو کہ ایتھوپیا کا قدیم اور تاریخی نام ہے۔ یہ نام پاکستانی عوام کے لیے بھی خاص روحانی و تاریخی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مسلمان حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ اور حبشہ کے منصف مزاج بادشاہ نجاشی سے گہری اور تاریخی عقیدت رکھتے ہیں، جنہوں نے ہجرتِ حبشہ کے کٹھن وقت میں ابتدائی مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ فراہم کی تھی۔ سفیر نے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ثقافتی تبادلوں میں اضافے پر زور دیا۔

کیفے کے مالکان میں شامل نعیم ہاشمی نے تقریب کے موقع پر میڈیا کو بتایا کہ “حبیشہ کیفے” کے قیام کا بنیادی مقصد پاکستان اور ایتھوپیا کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے کے لیے ایک ایسا فعال پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے کے آرٹ، ثقافت، روایتی موسیقی، رسم و رواج اور سیاحتی مقاصد سے آگاہی حاصل کر سکیں اور ان کا آزادانہ تبادلہ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیفے محض بہترین کافی پیش کرنے کا مرکز نہیں، بلکہ پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان مضبوط ثقافتی اور عوامی روابط کے فروغ کا ایک اہم زریعہ ثابت ہو گا۔