قائدِاعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ بائیو کیمسٹری نے تعلیمی سال دو ہزار چھبیس کے لیے بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگراموں میں نئے داخلوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر تعلیمی اعلامیہ کے مطابق، داخلوں کے خواہشمند تمام پاکستانی اور غیر ملکی طلبہ مقررہ تاریخ تک اپنی درخواستیں آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرا سکتے ہیں۔
جامعہ انتظامیہ کے مطابق، تمام تعلیمی پروگراموں میں داخلہ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے۔ اس سال بی ایس پروگرام میں داخلے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے تحت ہونے والے انڈر گریجویٹ اسٹڈیز ایڈمیشن ٹیسٹ کا پاس ہونا لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔ تمام امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس ٹیسٹ کی رجسٹریشن اور داخلہ فارم کے لیے ایچ ای سی کے ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل پورٹل سے فوری رجوع کریں۔
داخلوں کے خواہشمند طلبہ سے کہا گیا ہے کہ وہ تعلیمی اہلیت، داخلہ پالیسی، مطلوبہ دستاویزات کی فہرست اور درخواست کے تفصیلی طریقہ کار سمیت تمام مقتدر معلومات حاصل کرنے کے لیے قائدِاعظم یونیورسٹی کی دفتری ویب سائٹ اور ایچ ای سی کے کونسل پورٹل سے رہنمائی حاصل کریں۔ جامعہ انتظامیہ نے طلبہ کو مخلصانہ مشورہ دیا ہے کہ وہ آخری تاریخ کا انتظار کیے بغیر اپنی درخواستیں بروقت جمع کرائیں تاکہ آخری دنوں میں انٹرنیٹ یا کسی بھی قسم کی تکنیکی یا انتظامی دشواری سے بچا جا سکے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے محتسب سیکرٹریٹ کے درمیان پیر کے روز ایک اہم اور تزویراتی مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کیے گئے ہیں۔ اس تاریخی معاہدے کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق، خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ، پارلیمانی نظام میں ان کی موثر شمولیت کے فروغ، مقامِ کار پر خواتین کو ہراسگی سے تحفظ فراہم کرنے والے سال 2010ء کے قانون کے موثر نفاذ، جائے ملازمت پر تحفظ اور پارلیمانی روابط سے متعلق تمام اہم امور میں باہمی ادارہ جاتی تعاون، رابطہ کاری اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، اس مفاہمتی یادداشت کے تحت معلومات کے تبادلے، ملازمین کی استعداد کار میں اضافے، باہمی مشاورت اور تکنیکی معاونت کے لیے ایک جامع مشترکہ فریم ورک وضع کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس امر کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ دونوں مقتدر اداروں کے آئینی دائرہ اختیار، ادارہ جاتی خودمختاری اور پارلیمانی مراعات کا مکمل احترام ہر سطح پر برقرار رکھا جائے۔ اس اہم معاہدے کے تحت خواتین کی پارلیمانی کاکس کے ساتھ تعاون کے دائرے کو بھی مزید وسعت دی جائے گی تاکہ عوامی آگاہی میں اضافہ، قانون سازی پر موثر عمل درآمد اور باہمی مکالمے کے ذریعے خواتین کے حقوق کی نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ مفاہمتی یادداشت دونوں مقتدر اداروں کے اس مشترکہ عزم کی عکاس ہے کہ مربوط کوششوں کے ذریعے خواتین کے حقوق، بہتر طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ اس مقتدر تقریب کے دوران قائم مقام سیکرٹری قومی اسمبلی سعید احمد اور محتسب حکومتِ خیبر پختونخوا بیرسٹر رباب مہدی نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس موقع پر سیکریٹری برائے خصوصی اقدامات سید شمعون ہاشمی، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور صوبائی محتسب خیبر پختونخوا کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے نشانِ حیدر پانے والے قوم کے عظیم ہیرو کیپٹن کرنل شیر خان شہید کو ان کے یومِ شہادت پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ اتوار کے روز وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ وطنِ عزیز کے اس عظیم اور بہادر بیٹے کو پوری قوم کا سلام ہو، کیونکہ معرکہ کارگل کے فلک بوس پہاڑ کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی لازوال بہادری اور شجاعت کے چشم دید گواہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے کارگل کے محاذ پر دفاعِ وطن کا فریضہ انجام دیتے ہوئے مقتدر جرات کے ساتھ دشمن کی فوج پر لرزہ طاری کر دیا تھا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے شہید کے پُرعزم کردار کو سراہتے ہوئے مزید کہا کہ دشمن کا ہراول دستوں کی طرح بھرپور مقابلہ کرنے والا قوم کا یہ دلیر سپاہی آج بھی ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے بے مثال جرات سے لڑتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا اور جوانمردی و ملکی دفاع کی ایک ایسی مقتدر تاریخ رقم کی جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ وزیرِ داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید جیسے بہادر اور پُرعزم جوانوں کی موجودگی میں کوئی بھی دشمن وطنِ عزیز پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا، اور پوری قوم اپنے ان مقتدر شہداء کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف آج ایران اور ترکیہ کے مقتدر سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی تزویراتی دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم ایران پہنچیں گے جہاں وہ ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کریں گے۔ اس اہم ترین دورے میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور کابینہ کے دیگر مقتدر ارکان پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران میں قیام کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے اور پاکستانی عوام و حکومت کی جانب سے گہری تعزیت کا اظہار کریں گے۔ وہ اس مشکل اور گہرے غم کی گھڑی میں برادر ایرانی قوم اور مقتدرہ کے ساتھ پاکستان کی مکمل تزویراتی یکجہتی کا اعادہ کریں گے۔ دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ ایران کا یہ مقتدر دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر استنبول روانہ ہوں گے، جہاں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، باہمی تجارت کے حجم میں اضافے، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون اور علاقائی امن و سلامتی سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر اہم شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
استنبول میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی ایک اہم اور تزویراتی بزنس کانفرنس سے خصوصی خطاب بھی کریں گے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، آئی ٹی، تجارت اور نجکاری سمیت مختلف کلیدی شعبوں میں پاکستان کی سرمایہ کاری اور کاروباری صلاحیتوں کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔ اس مقتدر تقریب میں ترکیہ کی ممتاز کاروباری شخصیات، بڑے سرمایہ کار، اعلیٰ سرکاری حکام اور کاروباری برادری کے نمائندے بھرپور شرکت کریں گے۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ وزیراعظم کا ایران اور ترکیہ کا یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے شالیمار اور تیزگام ایکسپریس حادثات کے ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری کے بعد سخت تادیبی کارروائی شروع کرنے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے، جبکہ کراچی اور حیدرآباد سمیت ملک بھر میں ریلوے کی اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔ یہ اہم تزویراتی فیصلے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی کے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت چیئرمین کی عدم موجودگی کے باعث رکن قومی اسمبلی رمیش لال نے اسمبلی کے مقتدر قواعد و ضوابط کے تحت کی۔ اجلاس میں ریلوے کی حفاظت، سابقہ سفارشات پر عمل درآمد، پاکستان ریلوے کی مجموعی کارکردگی اور محکمے کی بحالی کے اسٹریٹجک منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران سیکریٹری پاکستان ریلوے نے قائمہ کمیٹی کو حالیہ ریلوے حادثات پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے سکھر ڈویژن کے لاکھہ روڈ اسٹیشن پر شالیمار ایکسپریس کے ٹکراؤ اور لودھراں-بہاولپور سیکشن پر تیزگام ایکسپریس کے پٹری سے اترنے کے واقعات کی اصل وجوہات سے آگاہ کیا۔ کمیٹی کو مقتدر حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ انکوائری کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں سنگین غفلت کے مرتکب ذمہ دار افسران اور متعلقہ عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے پاکستان ریلوے کو سخت تزویراتی ہدایت جاری کی کہ وہ ریلوے نیٹ ورک کے مختلف سیکشنز، بالخصوص کراچی اور حیدرآباد میں ریلوے کی زمینوں پر قائم تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں ہر صورت پیش کرے۔
اس کے علاوہ وزارت ریلوے کو پابند کیا گیا کہ وہ اگلے اجلاس میں ریلوے کی جامع تنظیم نو، بحالی کے پلان اور کلیدی قومی منصوبوں ’ایم ایل ون‘ اور ’پیپری‘ پر اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دے۔ اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی ابرار احمد، وسیم قادر، محمد نعمان، صادق علی میمن، ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو، سید وسیم حسین، احمد سلیم صدیقی اور محمد الیاس چوہدری نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وزارت ریلوے کے سیکریٹری، سیکریٹری پاکستان ریلوے بورڈ، چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) پاکستان ریلوے اور دیگر اعلیٰ مقتدر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔
شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے باعث ملک بھر میں متعدی امراض کے پھیلاؤ کا خطرہ انتہائی حد تک بڑھ گیا ہے، جس کے پیش نظر قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے مقتدر مون سون صورتحال کے تحت ملک گیر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این آئی ایچ کے حکام کے مطابق، مون سون کی حالیہ طوفانی بارشیں ڈینگی، ملیریا، ہیضہ اور ٹائیفائیڈ جیسی خطرناک وباؤں کے اچانک پھوٹنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ مختلف مقامات پر کھڑا پانی مچھروں کی تیز رفتار افزائش کا باعث بنتا ہے جس سے ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں تشویشناک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ پینے کے صاف پانی میں سیلابی آلودگی شامل ہونے سے ہیضہ اور دیگر آنتوں کے جان لیوا امراض پھیل سکتے ہیں۔
ادارے نے تزویراتی خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مون سون کے دوران کرنٹ لگنے، سانپ کے کاٹنے اور ڈوبنے کے واقعات میں بھی غیر معمولی اضافے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ اسی طرح آسمانی بجلی گرنے، کچی دیواروں اور بوسیدہ چھتوں کے گرنے سے جانی نقصان کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ سیلابی پانی کے طویل عرصے تک جمع رہنے کے باعث لیپٹوسپائروسس سمیت دیگر خطرناک انفیکشنز کے پھیلنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ این آئی ایچ نے تمام صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ضروری ادویات، طبی آکسیجن، او آر ایس اور اینٹی سنیک وینم (سانپ کے کاٹنے کی ویکسین) کے وافر ذخائر کی موجودگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
وفاقی ادارے کی جانب سے مزید ہدایت کی گئی ہے کہ مچھروں کی افزائش کے خاتمے کے لیے مچھر مار سپرے مہمات کو فوری طور پر تیز کیا جائے اور ممکنہ متاثرہ علاقوں میں وبائی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ اس مقتدر موقع پر عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیلابی پانی اور گرے ہوئے بجلی کے تاروں سے مکمل دور رہیں، بچوں کو گندے نالوں، نہروں، تالابوں اور سیلابی پانی میں جانے سے سختی سے روکیں، اور تیز ہواؤں یا بارش کے دوران کمزور دیواروں، پرانی عمارتوں اور درختوں کے قریب پناہ لینے سے بالکل گریز کریں۔ این آئی ایچ کے حکام کا کہنا ہے کہ مون سون کے دوران بیماریوں کی بروقت نشاندہی، فوری رپورٹنگ اور قومی سطح پر نگرانی کے تزویراتی نظام کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی وبائی صورتحال پر فوری قابو پایا جا سکے۔
داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے تعمیراتی میدان میں ایک اور مقتدر اور اہم ترین سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جس کے تحت پراجیکٹ پر فل سکیل رولر کمپیکٹڈ کنکریٹ (آر سی سی) ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ فل سکیل ٹرائل پراجیکٹ کے مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا باقاعدہ کام شروع کرنے سے پہلے ایک لازمی اور تزویراتی مرحلہ ہے۔ اس وقت انجینئرز اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل مقتدر ٹیمیں مین ڈیم سائٹ کے بالکل قریب واقع مخصوص ٹرائل سیکشن میں آر سی سی بچھانے کے اس فل سکیل ٹرائل میں مصروف ہیں۔ اس اہم ترین مشق کا بنیادی مقصد تعمیراتی طریقہ کار کی گہرائی سے جانچ اور توثیق کرنا، ڈیم کی تعمیر کے یکساں اور اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنانا، لاجسٹک اور آپریشنل سسٹم کا تفصیلی جائزہ لینا، ممکنہ تکنیکی چیلنجز کی پیشگی نشاندہی کرنا اور پراجیکٹ پر موجود افرادی قوت کو جدید عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔
مقتدر انجینئرز کے مطابق، ٹیسٹنگ سمیت یہ فل سکیل ٹرائلز مسلسل چار ماہ تک جاری رہیں گے، جس کے دوران کنٹریکٹر، کنسلٹنٹس اور واپڈا کی ماہر ٹیمیں ٹرائل کے تمام باریک تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی سائنسی تجزیہ کریں گی۔ اس ٹرائل کی کامیاب تکمیل کے بعد مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا باقاعدہ آغاز رواں سال کے آخر میں شیڈول ہے، تاہم مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا حتمی آغاز گنی ایریا سے درکار اہم تعمیراتی میٹریل پوزولان کی بروقت دستیابی پر منحصر ہے، کیونکہ گزشتہ دس سال پر محیط طویل کوششوں کے باوجود گنی ایریا کی قانونی تحویل اب تک واپڈا کو حاصل نہیں ہو پائی ہے۔ اس فل سکیل آر سی سی ٹرائل کے ساتھ ساتھ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے تئیس مختلف ورک فرنٹس پر بھی تعمیراتی سرگرمیاں تیز رفتاری سے جاری ہیں، جن مقتدر ورک فرنٹس میں مین ڈیم کی بنیاد، زیرِ زمین پاور ہاؤس اور زیرِ زمین ٹرانسفارمر ہال کی تعمیر قابلِ ذکر ہے، جبکہ آر سی سی کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے درکار کرشنگ اور بیچنگ پلانٹس کو بھی مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔
یہ امر انتہائی قابلِ ذکر ہے کہ بجلی کی سالانہ پیداوار کے لحاظ سے داسو پاکستان کا سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ ہے، جو ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے نیشنل گرڈ کو ہر سال اکیس ارب یونٹ بجلی فراہم کرنے کی مقتدر صلاحیت رکھتا ہے۔ پراجیکٹ کی کل پیداواری صلاحیت چار ہزار تین سو بیس میگاواٹ ہے اور اسے دو تزویراتی مراحل میں تقسیم کر کے مکمل کیا جا رہا ہے، جہاں ہر مرحلے کی انفرادی پیداواری صلاحیت دو ہزار ایک سو ساٹھ میگاواٹ ہے۔ واپڈا اس وقت پراجیکٹ کے پہلے مرحلے پر انتہائی سرگرمی سے کام کر رہا ہے، جس کی کامیاب تکمیل کے بعد قومی گرڈ کو سالانہ بارہ ارب یونٹ صاف، ماحول دوست اور انتہائی کم لاگت پن بجلی فراہم کی جائے گی، جو ملک میں جاری توانائِی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں “سینٹر آف ایکسی لینس فار آٹزم” کے ایڈوائزری بورڈ کے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر اجلاس کی صدارت کی ہے، جس میں ادارے کی اب تک کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر سے متاثرہ معصوم بچوں کے لیے جامع تعلیم، ابتدائی طبی و نفسیاتی مداخلت اور دیگر معاون خدمات کو مزید مؤثر و فعال بنانے کے تزویراتی اقدامات پر غور کیا گیا۔ دفترِ خارجہ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس اہم بیٹھک کے موقع پر حکومتِ پاکستان کے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک میں آٹزم کے حامل تمام افراد کے لیے ایک جامع، ہمدردانہ اور مؤثر معاون ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ معاشرے کا مفید شہری بن سکیں۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے مقتدر حکام نے کمیٹی کو اسلام آباد میں آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے قائم کیے جانے والے اس جدید ترین سینٹر آف ایکسی لینس کے سلسلے میں اب تک کیے گئے عملی اقدامات اور تزویراتی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر آٹزم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ملک کے معروف ترین طبی و تعلیمی ماہرین کی قیمتی آراء اور تجاویز بھی طلب کی گئیں تاکہ سینٹر کے ڈھانچے کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق استوار کیا جا سکے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے متعلقہ وفاقی اداروں کو سخت ہدایت جاری کی کہ ان خصوصی بچوں کی نازک ضروریات کے مطابق معیاری تعلیم، جدید تھراپی اور دیگر ضروری خدمات کی فراہمی کے لیے دنیا بھر میں رائج بہترین تزویراتی طریقہ کار کو اپنایا جائے اور حکومت کے اس مخلصانہ عزم پر تیز رفتاری سے عمل درآمد کرتے ہوئے اس اسٹیٹ آف دی آرٹ سینٹر آف ایکسی لینس کو جلد از جلد فعال کیا جائے۔ اس مقتدر اجلاس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکریٹریز برائے تعلیم و صحت اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ ترین حکام نے بھی شرکت کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک حادثے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی نقصان پر انتہائی گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ منگل کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس ناگہانی حادثے میں معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں اور لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی ہے، جبکہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی مخلصانہ دعا کی ہے۔ وزیراعظم نے انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ حادثے میں زخمی ہونے والے تمام بچوں اور افراد کی جلد صحت یابی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں اور انہیں ہسپتالوں میں ہر ممکن اور بہترین طبی امداد فوری طور پر فراہم کی جائے۔
چیئریٹر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ خان سے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر ملاقات کی ہے، جس میں پاکستان کے اندر مستحق خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی تحفظ کے موجودہ اقدامات کو مزید سہل، شفاف اور تزویراتی طور پر مؤثر بنانے کے لیے باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ منگل کے روز جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، اس اہم بیٹھک کے دوران بینظیر ہنرمند پروگرام کے تحت بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والی خواتین کے لیے جدید ہنر مندی اور مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق تربیت کے مواقع فراہم کرنے پر بات چیت کی گئی، جبکہ بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت ماں اور بچے کی صحت سے متعلق آگاہی کے فروغ کے لیے خصوصی خواتین بینیفشری کونسلز کے قیام، کاروباری مواقع کی فراہمی کے ذریعے خواتین کی معاشی خودمختاری کو فروغ دینے اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے پسماندہ طبقات بشمول خواجہ سراؤں اور غیر شادی شدہ مستحق خواتین کے لیے معاون اقدامات اٹھانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے حالیہ ورلڈ بینک کی تزویراتی تحقیق کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے وفد کو بتایا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے فراہم کی جانے والی مالی معاونت نہ صرف غریب خاندانوں کو سہارا دے رہی ہے بلکہ یہ مقامی معیشت کو مقتدر سطح پر مضبوط بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس عالمی تحقیق کے مطابق، بی آئی ایس پی کے ذریعے مستحقین کو منتقل کیے جانے والے ہر ایک روپے کے بدلے مقامی مارکیٹ اور معیشت میں تقریباً دو اعشاریہ چوتیس روپے کی حقیقی آمدن پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے سماجی تحفظ کے شعبے میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ باہمی اشتراک، تجربات کے تبادلے اور ایک دوسرے کے کامیاب ماڈلز سے سیکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستحق خواتین تک مؤثر رسائی اور زیادہ مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی آگاہی مہمات کو مزید مقتدر اور مضبوط بنانے کی شدید ضرورت ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے ایک بڑے تزویراتی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ بی آئی ایس پی اس وقت ایک کروڑ سے زائد مستحق خواتین کے لیے ڈیجیٹل سوشل پروٹیکشن والٹس کے جدید نظام کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہا ہے، جو کہ ملک میں مالی شمولیت کے حوالے سے اپنی نوعیت کے سب سے بڑے تزویراتی اقدامات میں سے ایک ہے اور جس کا بنیادی مقصد خواتین کو محفوظ، مکمل شفاف اور انتہائی باوقار انداز میں مالی سہولیات اور وظائف تک براہِ راست رسائی فراہم کرنا ہے۔ یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ خان نے خواتین کی معاشی بااختیاری کے لیے بی آئی ایس پی کے ان مقتدر اقدامات کو بھرپور انداز میں سراہا اور اس پروگرام کو ایک کامیاب اور مؤثر ماڈل قرار دیا جو پاکستان میں پسماندہ خواتین کی زندگیوں میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لانے میں سماجی تحفظ کے حقیقی کردار کو واضح طور پر اجاگر کرتا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے مشترکہ وسائل کے فروغ، تکنیکی سطح پر باقاعدہ مشاورت کے تسلسل اور آئندہ کے تزویراتی لائحہ عمل کی تیاری کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر کامل اتفاق کیا۔
چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے مون سون کے متوقع سیزن کے تناظر میں بروقت پیشگی انتباہات، مؤثر بین الادارتی رابطہ کاری اور فعال پیشگی منصوبہ بندی کی اہمیت پر مقتدر زور دیا ہے، جبکہ تمام وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں نے مون سون کے دوران مشترکہ اقدامات اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت ریسپانس یقینی بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ منگل کے روز این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز میں قائم نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این سی او سی) میں ایک اعلیٰ سطحی “قومی مون سون کوآرڈینیشن کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی و ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز اور ڈی ڈی ایم ایز)، فلاحی تنظیموں اور دیگر متعلقہ اداروں کے مقتدر حکام نے شرکت کی۔
کانفرنس کے دوران مون سون سیزن کے دوران ملک کو درپیش ممکنہ خطرات بشمول گلیشئیر پگھلنے، طغیانی و سیلابی صورتحال، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور شہری سیلاب ) جیسے تزویراتی چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تمام اداروں کو ہدایت کی کہ وہ جدید انتباہی نظام خطرات سے قبل از وقت آگاہی، ہمہ وقت نگرانی اور مستند معلومات پر مبنی فیصلہ سازی کو اپنا شعار بنائیں۔ اجلاس میں وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر فوری معلومات کے تبادلے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے امدادی وسائل کی بروقت فراہمی کا تزویراتی فریم ورک بھی طے پایا۔
شرکاء کو این ڈی ایم اے کے مربوط رابطہ کاری فریم ورک، فلڈ مانیٹرنگ اور ایمرجنسی رسپانس پلاننگ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر سیلاب سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے اضلاع، گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خطرات سے دوچار حساس علاقوں، انخلاء کے تزویراتی منصوبوں، عوامی آگاہی مہموں اور لائف سیونگ آلات کی دستیابی کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس کے اختتام پر این ڈی ایم اے نے عام شہریوں سے مخلصانہ اپیل کی کہ وہ متوقع موسم اور خطرات کے حوالے سے سوشل میڈیا کی افواہوں کے بجائے صرف مستند سرکاری ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر بھروسہ کریں اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بہبودِ آبادی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قومی وسائل اور آبادی کے مابین کامل توازن ہی ملک کی پائیدار ترقی اور معاشی بقا کی اصل ضمانت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث قومی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جو پاکستان کی مجموعی ترقی اور استحکام کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ منگل کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم نے زور دیا کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری کے ساتھ فوری طور پر ہم آہنگ کرنے کی تزویراتی ضرورت ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے “نیشنل پاپولیشن کونسل” کا افتتاحی اجلاس جلد از جلد بلانے اور قومی سطح پر مربوط پالیسی سازی کے لیے کونسل کا تنظیمی ڈھانچہ فوری طور پر مرتب کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اس مقتدر کونسل کی سربراہی خود وزیراعظم کریں گے، جبکہ اس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور دیگر اہم ترین اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول اور بہبود کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ مستقبل میں سماجی تحفظ کے پروگراموں (جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام وغیرہ) کو خاندانی منصوبہ بندی سے جوڑا جائے گا، جبکہ خواتین کی تعلیم اور انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانا اس قومی حکمتِ عملی کا کلیدی جزو ہوگا۔
اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ آبادی میں توازن کے حوالے سے ملک بھر میں ایک مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے گی، اور اس ضمن میں برادر اسلامی ممالک بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران کے آبادی پر قابو پانے کے کامیاب ترین ماڈلز سے استفادہ کیا جائے گا۔ نیشنل پاپولیشن کونسل کا مرکزی سیکریٹریٹ وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی میں قائم ہوگا جو صوبائی حکومتوں کے تعاون سے اس مہم کو تزویراتی طور پر آگے بڑھائے گا۔ اس اہم ترین اور مقتدر اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ ترین عسکری و سرکاری حکام نے شرکت کی۔
امریکی مصنفہ و عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائوں کے بہائو سے متعلق اہم ترین تزویراتی اعدادوشمار کو روکنا اور پاکستان کی باضابطہ تحریری مراسلت کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، کیونکہ کوئی بھی ریاست کسی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دے کر اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ منگل کے روز وفاقی دارالحکومت کے جناح کنونشن سینٹر میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کے زیرِ اہتمام ’’سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) بین الاقوامی سفارت کاری کی حقیقی و تاریخی کامیابیوں میں سے ایک ہے جو 60 برس سے زائد عرصے تک مؤثر انداز میں کام کرتا رہا ہے۔
لاری واٹکنز نے اپنے خطاب میں تزویراتی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں دریائوں سے متعلق بین الاقوامی معاہدے بنیادی طور پر تنازعات کو روکنے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں جبکہ اس ضمن میں قائم “مستقل انڈس کمیشن” عالمی معیار کے مطابق ایک غیر معمولی اور انتہائی قابلِ قدر ادارہ ہے، جس کے تحت مشترکہ معائنے اور تنازعات کے حل کا ایک مربوط، مرحلہ وار اور مقتدر نظام مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں بھارت کو دریائے چناب کے پانی کے بہائو کے بارے میں متعدد باضابطہ خطوط ارسال کیے، تاہم بھارت نے دریائوں کے غیر مستقل بہائو کے بارے میں ضروری معلومات اور اعدادوشمار فراہم نہیں کیے اور پاکستان کی تحریری مراسلت کا کوئی جواب بھی نہیں دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ محض ایک روایتی، انتظامی یا تکنیکی شکایت نہیں ہے بلکہ دنیا کے دریائی نظاموں کا تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ ایسی صورتحال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ جب آبی معلومات کا تبادلہ رک جائے تو فریقین کے مابین شدید بداعتمادی، غلط اندازے اور بالآخر عسکری و سیاسی کشیدگی جنم لیتی ہے۔
عالمی پالیسی ماہر نے زور دیا کہ کسی بھی بین الاقوامی آبی معاہدے کی اصل طاقت اور پائیداری رابطوں کے مستقل تسلسل میں مضمر ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ بھارت نے چالبازی دکھاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دیا ہے، تاہم اس کے باوجود دریائوں کے بہائو سے متعلق معلومات روکنا اور پڑوسی ملک کے مقتدر خطوط کا جواب نہ دینا بین الاقوامی عرفی قانون کے اصولوں کے یکسر خلاف ہے۔ لاری واٹکنز نے بین الاقوامی قوانین کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ “ویانا کنونشن برائے قانون معاہدات” کے مطابق تمام عالمی معاہدوں پر دستخط کنندگان کی جانب سے ہمیشہ نیک نیتی کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے، لہٰذا بھارت پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرے تاکہ خطے کا امن اور تزویراتی استحکام برقرار رہ سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ حکومت نے معرکہ حق اور معرکہ سفارت کاری میں مقتدر کامیابیاں حاصل کر لی ہیں اور اب پاکستان کو ہر صورت معرکہ معیشت جیتنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملکی برآمدات کو اب ایٹمی پروگرام کے مساوی قومی اہمیت دینا ہوگی اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے وفاق اور صوبے مل کر سماجی شعبے کو قومی ایمرجنسی کے طور پر آگے بڑھائیں گے۔ وہ منگل کے روز وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر میڈیا نمائندگان سے مقتدر خطاب کر رہے تھے۔
احسن اقبال نے معاشی صورتحال کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سیلاب، عالمی تجارتی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران جیسے بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت تزویراتی استحکام کی راہ پر گامزن رہی۔ انہوں نے بتایا کہ سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باوجود شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح ہے۔ معیشت میں زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، خدمات کی 4.1 فیصد جبکہ صنعتی شعبے کی شرح نمو 3.5 فیصد رہی۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں دو سال بعد نمایاں بحالی آئی اور اس شعبے نے 6.4 فیصد کی مقتدر نمو ریکارڈ کی، جس میں آٹو موبائل، الیکٹریکل آلات اور گارمنٹس کے شعبے نمایاں رہے۔ انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ 2026 کے دوران ملک میں تقریباً 1.7 کھرب روپے کی معاشی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں جس نے لیدر، ٹرانسپورٹ اور مویشی منڈیوں کو مقتدر فائدہ پہنچایا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ بیرونی شعبہ مستحکم رہا اور جولائی تا مئی ترسیلاتِ زر 9.2 فیصد اضافے کے ساتھ 38.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ مئی میں 4.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات موصول ہوئیں۔ خدمات کی برآمدات میں 17.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ آئی ٹی برآمدات نے کرنٹ اکاؤنٹ کو مضبوط بنیاد فراہم کی اور ایف بی آر کے محصولات 11.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2026-27 کے لیے 4 فیصد معاشی شرح نمو کا ہدف اور 3.675 کھرب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی ہے، جس میں سے وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان ترقیاتی منصوبوں سے تقریباً 10 ہزار براہِ راست اور 45 ہزار سے زائد بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ موثر منصوبہ بندی کے باعث قومی خزانے کو پہلے ہی 12.1 ارب روپے کی مقتدر بچت ہو چکی ہے۔
احسن اقبال نے بڑھتی ہوئی آبادی کو پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اڑان پاکستان‘ کے تحت خواتین کی مالی شمولیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بلوچستان کو سی پیک کے دوسرے مرحلے کا ابھرتا ہوا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے مالی سال میں کراچی-حیدرآباد ایم-9 کی توسیع، سکھر-حیدرآباد ایم-6 موٹر وے، اور سی پیک کے مقتدر ایم ایل ون منصوبے پر پیش رفت کی جائے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے باعث متاثر ہونے والی قراقرم ہائی وے کے متبادل کے طور پر “قراقرم ہائی وے ٹو” منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے تاکہ پاک چین بلا تعطل تجارتی رابطہ قائم رہے، جبکہ اسلام آباد میں “کوانٹم ویلی” بھی قائم کی جائے گی۔ اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو ملک بھر کی جامعات کا سات نکاتی پرفارمنس آڈٹ کرنے کی مقتدر ہدایت کر دی گئی ہے جس کی رپورٹ آئندہ چند ہفتوں میں پیش کر کے جامع اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ایک باوقار قومی تقریب کے دوران “بیسٹ یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ 2025” کے تحت ملک بھر کی جامعات سے تعلق رکھنے والے 7 ممتاز اور قابلِ فخر اساتذہ کو تدریس، جدید تحقیق اور علمی خدمات میں نمایاں ترین کارکردگی دکھانے پر بہترین یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈز سے نوازا ہے۔ ایچ ای سی سیکریٹریٹ میں منعقدہ اس مقتدر تقریب میں چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق، مشیر برائے تحقیق و اختراع ڈاکٹر محمد علی ناصر، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، پرو ریکٹرز اور جانچ کمیٹیوں کے اعلیٰ ارکان بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ایچ ای سی کے آفیشل اعلامیے کے مطابق، اس سال ایوارڈ حاصل کرنے والے مقتدر اساتذہ میں کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد (واہ کیمپس) کی ڈاکٹر نادیہ نواز (انجینئرنگ، مینوفیکچرنگ اینڈ کنسٹرکشن)، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور کے ڈاکٹر راشد جلیل (نیچرل سائنسز، ریاضی و شماریات)، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) لاہور کے ڈاکٹر عرفان بشیر (شعبہ تعلیم)، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور کے ڈاکٹر ابرار اشرف علی (صحت و بہبود)، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور کے ڈاکٹر اویس مفتی (بزنس، ایڈمنسٹریشن اینڈ لا)، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کے ڈاکٹر احسن الحق (سوشل سائنسز، صحافت و اطلاعات) اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے ڈاکٹر راؤ زاہد (زراعت، جنگلات، ماہی گیری و ویٹرنری) شامل ہیں۔ تمام مقتدر ایوارڈ یافتگان کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں 10 لاکھ روپے کا نقد انعام اور خصوصی تعریفی اسناد پیش کی گئیں۔
تقریب سے اپنے تزویراتی خطاب میں چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ یہ قومی ایوارڈ صرف روایتی تدریسی مہارت کا اعتراف نہیں بلکہ طلبہ کی مؤثر رہنمائی، معاشرے میں علم کی ترویج اور مستقبل کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ صلاحیتوں کی نشوونما میں اساتذہ کے کلیدی کردار کا کھلا اعتراف ہے۔ انہوں نے مقتدر اساتذہ پر زور دیا کہ وہ دیانتداری اور پیشہ وارانہ اخلاقیات کے ذریعے طلبہ کے لیے ایک مثالی رول ماڈل بنیں اور جامعات میں ایسی اختراعات کو فروغ دیں جو نوجوانوں کو حقیقی دنیا کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنا سکیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے اپنے خیر مقدمی کلمات میں تدریس کو دنیا کا باوقار ترین پیشہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ایچ ای سی نے اس ایوارڈ کا آغاز سال 2003 میں کیا تھا تاکہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تدریسی معیار اور علمی تحقیق کا تسلسل مقتدر طور پر برقرار رکھا جا سکے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایک مقتدر تزویراتی اقدام کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ترمیمی آرڈیننس 2026 پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ ملک بھر میں فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے منگل کے روز جاری کردہ ایک اعلیٰ سطحی سرکاری بیان کے مطابق، صدرِ مملکت نے وزیراعظم پاکستان کے مقتدر مشورے اور سمری پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 کی بنیادی دفعات 2 اور 3 میں ترامیم سے متعلق نئے آرڈیننس کی باضابطہ منظوری دیتے ہوئے اسے جاری کرنے کے احکامات صادر کیے۔
اس نئے ترمیمی آرڈیننس کا بنیادی مقصد اوگرا کے انتظامی ڈھانچے، دائرہ اختیار اور ریگولیٹری امور کو موجودہ معاشی و تزویراتی تقاضوں کے مطابق زیادہ فعال اور مؤثر بنانا ہے۔ وزارتِ پٹرولیم اور متعلقہ حکام کے مطابق، دفعات دو اور تین میں کی جانے والی ان مقتدر ترامیم سے ملک میں تیل و گیس کے شعبے کی نگرانی، لائسنسنگ کے عمل اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی کے قانونی اختیارات کو مزید تقویت ملے گی۔ ایوانِ صدر کے مطابق آرڈیننس پر صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے اس کا باقاعدہ گزٹ نوٹیفکیشن بھی جلد جاری کر دیا جائے گا۔
نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی، سینیٹر شیری رحمان نے “عالمی یومِ پارلیمان” کے مقتدر موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں واضح کیا ہے کہ یہ اہم دن جمہوری اداروں کی پائیدار مضبوطی، آئینی بالادستی اور عوامی نمائندگی کے مخلصانہ عزم کی تجدید کا دن ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ملکی تاریخ کے ہر دور میں پارلیمنٹ کی خودمختاری اور جمہوری تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ تاریخی اور مقتدر کردار ادا کیا ہے۔
منگل کے روز عالمی یومِ پارلیمان پر وفاقی دارالحکومت سے جاری کردہ اپنے ایک اعلیٰ سطحی بیان میں سینیٹر شیری رحمان نے پیپلز پارٹی کی مقتدر قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کے غیور عوام کو حقیقی سیاسی شعور، بنیادی آئینی حقوق اور پارلیمانی بالادستی کا روشن راستہ دکھایا، جبکہ ان کے بعد محترمہ شہید بینظیر بھٹو نے بھی ملک میں جمہوریت کی بحالی، آئین کی بقا اور عوام کے مقتدر حقِ حکمرانی کے لیے ایسی بے مثال قربانیاں دیں جن کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔
انہوں نے تزویراتی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط اور خودمختار پارلیمان ہی عوامی امنگوں اور فلاح و بہبود کو مؤثر قانون سازی اور قومی پالیسی کے سانچے میں ڈھالنے کی حقیقی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر گہرا زور دیا کہ پارلیمان کے اندر اور باہر اختلافِ رائے کا دل سے احترام کرنا، بامقصد مکالمے کو فروغ دینا اور ہمیشہ آئینی راستہ اختیار کرنا ہی پائیدار جمہوری معاشروں کی اصل قوت اور پہچان ہوا کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں خواتین، نوجوانوں اور معاشرے کے دیگر تمام محروم طبقات کی پارلیمان کے اندر بامعنی شمولیت سے ہی ہمارا مجموعی جمہوری نظام مزید مستحکم اور فعال ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوامی حقوق، آئین کی سربلندی اور جمہوری اقدار کے مستقل فروغ کے اپنے اصولی عزم پر ہمیشہ ثابت قدم رہے گی۔ شیری رحمان نے بین الاقوامی روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر مختلف ممالک کے پارلیمانوں کے مابین تزویراتی تعاون، باہمی احترام اور مشترکہ کاوشیں ہی دنیا بھر میں پائیدار امن، ترقی اور افہام و تفہیم کی اصل بنیاد ہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخی اور مقتدر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی بین السنیارٹی (باہمی سینیارٹی) کا حتمی تعین قانون اور مروجہ قواعد کے مطابق ہی کیا جائے گا، جبکہ حکومت محض سینیارٹی کے تنازعے میں خود کو متاثرہ فریق قرار دے کر مقدمہ بازی نہیں کر سکتی۔ رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری اور تفصیلی فیصلے کے مطابق، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی مقتدر بنچ نے سندھ حکومت کی جانب سے دائر کردہ 18 سول پٹیشنز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سندھ سروس ٹربیونل کا دو جون دو ہزار پچیس کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ “سندھ سول سرونٹس رولز 1975” کے رول 11 کے تحت پہلی سلیکشن میں منتخب ہونے والا ملازم بعد میں منتخب ہونے والے ملازم پر قانونی طور پر سینیارٹی کا برحق حق رکھتا ہے اور مشترکہ سینیارٹی لسٹ تیار کرتے وقت بھی اس بنیادی اصول کو کسی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
مقدمے کے پسِ منظر کے مطابق، کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سندھ نے سال دو ہزار بارہ میں تیئس مختلف مضامین کے لیکچررز کی بھرتی کے لیے اشتہار دیا تھا، تاہم سندھ پبلک سروس کمیشن نے مختلف مضامین کے امیدواروں کی سفارشات انتظامی وجوہات کی بنا پر مختلف اوقات میں ارسال کیں۔ بعد ازاں، محکمہ تعلیم کی جانب سے بعض امیدواروں کی اصل سلیکشن تاریخ کو سینیارٹی لسٹ میں مدنظر نہ رکھنے پر متاثرہ ملازمین نے سندھ سروس ٹربیونل سے رجوع کیا تھا جس نے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آبزرویشن دی کہ انگریزی کے لیکچررز کے معاملے میں صوبائی محکمہ نے پہلے سلیکشن کی بنیاد پر سینیارٹی درست طے کی، لیکن دیگر مضامین کے لیکچررز کو اسی یکساں قانونی اصول سے محروم رکھنا واضح طور پر امتیازی سلوک اور قواعد کے یکسر منافی تھا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے مقتدر فیصلے میں مزید ریمارکس دیے کہ اگر کوئی متعلقہ ملازم ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف خود اپیل دائر نہیں کرتا، تو حکومت کو ایک “منصف اور غیر جانبدار آجر کے طور پر ٹربیونل کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کرنا چاہیے، نہ کہ ایک حریف ملازم کی طرح عدالتوں میں مقدمہ بازی کو بلاوجہ طول دینا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے پر (متاثرہ فریق کے بغیر اپیل نہیں) کا مقتدر اصول پوری طرح لاگو ہوتا ہے، کیونکہ عدالت سے رجوع کرنے کا حق صرف اسی شخص کو ہے جس کے قانونی حقوق براہِ راست متاثر ہوئے ہوں۔ سپریم کورٹ نے “پروونس آف پنجاب بنام ڈاکٹر محمد افضل” کیس کے عدالتی نظیر کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ حکومت کو ملازمین کے مابین تنازعات میں مدِ مقابل فریق بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ سندھ سروس ٹربیونل کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم، بے ضابطگی یا خلافِ قانون پہلو موجود نہیں، لہٰذا سندھ حکومت کی تمام درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کیا ہے کہ پارلیمان کسی بھی جمہوری ریاست کا بنیادی ستون اور عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہوتی ہے، جبکہ اس کی بالادستی ہی آئینی نظام کے استحکام، قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کی واحد ضامن ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار “عالمی یومِ پارلیمنٹیرین” کے موقع پر جاری اپنے ایک مقتدر بیان میں کیا، جو اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ہر سال تیس جون کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ سپیکر نے زور دیا کہ ایک فعال، شفاف اور مؤثر پارلیمان ہی ملک کو درپیش عوامی مسائل کے پائیدار حل اور طویل المدتی قومی ترقی کی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی جمہوری اقدار کے تحفظ، آئینی بالادستی، شفاف ترین قانون سازی اور مؤثر احتساب کے فروغ کے لیے اپنی تمام تر آئینی ذمہ داریوں کو تندہی سے انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون سازی کا بنیادی مقصد محض نئے قوانین کی منظوری دینا نہیں بلکہ ایک ایسا جامع، پائیدار اور عوام دوست قانونی فریم ورک تشکیل دینا ہے جو عام آدمی کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف کی فراہمی، معاشی ترقی اور قومی یکجہتی کو فروغ دے سکے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے اندر قانون سازی کے اس پورے عمل کو مزید نتیجہ خیز بنانے کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں کے تزویراتی کردار کو پہلے سے زیادہ مضبوط کیا جا رہا ہے، جبکہ بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، ڈیجیٹل نظام اور پارلیمانی اراکین کی استعدادِ کار میں اضافے کے ذریعے قانون سازی کے معیار کو بہتر بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے سیاسی و جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے عوام اور مقننہ کے مابین مؤثر ترین رابطے اور عوامی شمولیت کو ناگزیر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی کے ساتھ ساتھ پارلیمان کی یہ بھی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ انتظامیہ کی مؤثر جواب طلبی کو یقینی بنائے اور اپنے حلقہ ہائے انتخاب کی بھرپور اور برحق نمائندگی کا فریضہ سر انجام دے۔ انہوں نے ملک کی تمام سیاسی قوتوں پر مقتدر زور دیا کہ وہ اعلیٰ قومی مفاد، جمہوری تسلسل اور پارلیمان کی مضبوطی کے لیے اپنے تمام تر باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر برداشت، باہمی تعاون اور مثبت سیاسی مکالمے کے کلچر کو فروغ دیں، کیونکہ ایک مضبوط پارلیمان ہی مستحکم اور خوشحال پاکستان کی واحد ضمانت ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر ملکی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی “بین الپارلیمانی یونین” (آئی پی یو) کی ایک سرگرم رکن کی حیثیت سے جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، اور خواتین و نوجوانوں کی سیاسی عمل میں شمولیت کے لیے مؤثر پارلیمانی سفارت کاری کا استعمال کر رہی ہے اور عالمی امن و پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی فورمز کے ساتھ اشتراکِ عمل جاری رکھا جائے گا۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے معاملے کو صرف پاکستان اور بھارت کے مابین دوطرفہ تنازع کے طور پر نہیں بلکہ عالمی انصاف، بنیادی انسانی حقوق اور زیریں کنارے واقع ممالک کے پانی تک رسائی کے برحق اصول کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان کی معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ کا بنیادی انحصار پانی اور زراعت پر ہے، اس لیے ملک اپنے مقتدر آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پیر کے روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے یہ اہم معاملہ اقوامِ متحدہ، اس کے ذیلی اداروں اور بین الاقوامی ثالثی کے فورمز پر مؤثر انداز میں اٹھایا ہے جہاں ملکی موقف کی تائید کی گئی ہے، جبکہ آئندہ عالمی کانفرنس میں بھی انڈس واٹر ٹریٹی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت زیریں علاقوں کے آبی حقوق کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا جائے گا۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقے کے ایک متاثرہ کسان اقبال سولنگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کا پورا گاؤں سال دو ہزار دس، دو ہزار بارہ اور دو ہزار بائیس کے تباہ کن سیلابوں سے شدید متاثر ہوا جبکہ دیگر اوقات میں زمین اس قدر خشک ہو جاتی ہے کہ وہاں کاشتکاری ناممکن ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بالائی کنارے سے پانی کے بہاؤ کا غیر منصفانہ کنٹرول بھی ہے۔ وفاق وزیر نے بتایا کہ پاکستان کی چالیس سے پچاس فیصد آبادی کا ذریعہ معاش زراعت ہے، قومی معیشت کا بیس سے پچیس فیصد حصہ اسی شعبے سے وابستہ ہے اور ملک کی غذائی سلامتی کا انحصار بھی پانی کی باقاعدہ دستیابی پر ہے۔ لہٰذا، یہ فیصلہ کسی دوسرے ملک کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کو پانی کب اور کتنا ملے۔ انہوں نے برسلز سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے گئے اپنے سوالات کو دہراتے ہوئے کہا کہ اگر بالائی کنارے پر واقع ممالک کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ زیریں کنارے والے ممالک کا پانی روک سکیں تو دنیا بھر کے سرحد پار دریا خطرے میں پڑ جائیں گے، کیونکہ یورپ یا دنیا کے دیگر خطوں میں مشترکہ دریاؤں پر قائم ممالک نے کبھی زیریں ممالک کا پانی اس طرح نہیں روکا۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو پہلے ہی شدید خدشات تھے کہ بھارت رن آف دی ریور ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے ذریعے فصلوں کے اہم ترین موسم میں محدود مدت کے لیے پانی روک کر پاکستان کی زرعی پیداوار کو مقتدر نقصان پہنچا سکتا ہے، اور حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مختصر مدت کے لیے بھی پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ زرعی سرگرمیوں کو شدید متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیم صرف پانی ذخیرہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ پانی کی بروقت تقسیم اور زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہیں کیونکہ سیلاب کے دوران منگلا اور تربیلا جیسے کئی ڈیموں کے برابر پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے جبکہ بوائی کے موسم میں کسان پانی کی قلت کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ پانی ذخیرہ کرنے اور آبی وسائل کے انتظام کے منصوبوں پر سیاست سے بالاتر ہو کر ایک مقتدر قومی اتفاقِ رائے پیدا کریں۔ دیامر بھاشا اور داسو ڈیم منصوبوں سے متعلق انہوں نے واضح کیا کہ اگر بین الاقوامی قرضے یا امداد نہ بھی ملی تو بھی حکومت اپنے وسائل سے ان کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے، جس کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ آبی منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے اور پانی سے متعلق امور پر تمام سیاسی جماعتوں سے تزویراتی مشاورت کا عمل مزید تیز کیا جائے گا۔