پٹرولیم لیوی کی بدولت پاکستان کا مالیاتی خسارہ 27 سال کی کم ترین سطح پر آگیا

کاشف عباسی ,May 13 ,2026

اسلام آباد، نیوز اینڈ نیوز:
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے جولائی تا مارچ مالی سال کے دوران تقریباً تین دہائیوں کا کم ترین مالیاتی خسارہ ریکارڈ کیا ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف 0.7 فیصد رہا۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارہ کم ہو کر 856 ارب روپے تک محدود رہا، جس کی بڑی وجوہات صوبوں کی جانب سے بجٹ سرپلس، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی ریکارڈ وصولیاں اور قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں کمی قرار دی جا رہی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حکومت کو 2.1 ٹریلین روپے کا تاریخی سرپلس حاصل ہوا تھا، تاہم دوسری سہ ماہی کے اختتام تک یہ کم ہو کر 542 ارب روپے رہ گیا، جبکہ تیسری سہ ماہی کے اختتام پر مجموعی طور پر 857 ارب روپے کا خسارہ سامنے آیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق پٹرولیم لیوی حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن کر ابھری، جس میں 45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور وصولیاں بڑھ کر 1.205 ٹریلین روپے تک پہنچ گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود لیوی وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے لیے پٹرولیم لیوی کا ہدف 1.468 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا تھا، جس کے تجاوز کرنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اس مد میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

دوسری جانب دفاع، پنشن اور سبسڈی کے اخراجات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ریونیو اور جی ڈی پی کے تناسب میں کمی بھی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط اور صوبائی تعاون نے خسارہ محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

بیرونِ ملک میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کیلئے پی ایم ڈی سی رجسٹریشن لازمی قرار

کاشف عباسی ,May 13 ,2026

اسلام آباد، نیوز اینڈ نیوز:
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے بیرونِ ملک میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بیرونِ ملک روانگی سے قبل میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) پاس کریں اور اپنی رجسٹریشن لازمی مکمل کروائیں۔

پی ایم ڈی سی کے مطابق یہ اقدام پاکستان میں طبی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ کو منظم بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی رجسٹریشن مستقبل میں ان کی ڈگریوں کی تصدیق اور پیشہ ورانہ معاملات میں معاون ثابت ہوگی۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی ملک میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے ریگولیٹری فریم ورک کو مزید مؤثر بنانے کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں پی ایم ڈی سی کی ذیلی کمیٹی برائے ایکریڈیشن کا ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں جاری اصلاحات، ایکریڈیشن کے نظام اور رجسٹریشن کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ طبی تعلیم کے شعبے میں شفافیت، معیار اور آسان رجسٹریشن کے نظام کو یقینی بنایا جائے۔

پی ایم ڈی سی حکام کے مطابق اصلاحات کا مقصد نہ صرف ملکی سطح پر طبی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہے بلکہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کے لیے ایک واضح اور منظم ریگولیٹری نظام فراہم کرنا بھی ہے۔

پاکستانی بندرگاہوں کو علاقائی ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کیلئے اقدامات جاری، جنید انوار چوہدری

منصور احمد ,May 13,2026

اسلام آباد، نیوز اینڈ نیوز:
وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت پاکستانی بندرگاہوں کو علاقائی ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، تاکہ ملک کو خطے میں ایک اہم بحری تجارتی حب کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں بندرگاہوں کی تیاریوں اور سمندری تجارت کے فروغ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

اجلاس میں بلا تعطل سمندری تجارت، آپریشنل کارکردگی میں بہتری، فیڈر کنیکٹیویٹی کے استحکام اور کاروباری طریقہ کار کو آسان بنانے جیسے امور پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ کراچی کو ایک قابلِ اعتماد میری ٹائم گیٹ وے کے طور پر فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔

محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ بندرگاہوں کی استعداد کار میں اضافے، لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور جدید فیڈر سروسز کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریگولیٹری نظام میں بہتری اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے بندرگاہی نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران ریگولیٹری چیلنجز، اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی، ڈیٹنشن چارجز کے مسائل اور علاقائی کارگو کے حصول کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ٹرمینلز کی ہینڈلنگ صلاحیت بڑھانے اور جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل شاہد احمد (ر) نے اجلاس کو بتایا کہ کراچی بندرگاہ پر گاڑیوں اور ایس یو ویز کی ہینڈلنگ کے لیے اضافی جگہ مختص کر دی گئی ہے، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں مزید آسانی پیدا ہوگی۔

وفاقی وزیر نے مزید ہدایت کی کہ ملک کی تینوں بڑی بندرگاہوں کی کارکردگی اور سہولیات کو اجاگر کرنے کے لیے باقاعدہ نیوز لیٹر جاری کیا جائے اور عالمی سطح پر مؤثر مارکیٹنگ کے ذریعے پاکستان کی بندرگاہوں کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور شپنگ کمپنیوں کے لیے مزید پرکشش بنایا جائے

ISSI میں سفیر جی آر بلوچ کی کتاب کی تقریبِ رونمائی

منصور احمد ,May 12,2026

اسلام آباد (اینڈ نیوز) انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹیڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں سفیر جی آر بلوچ کی کتاب "تیسری جہت کی پالیسی پرزم” کی تقریبِ منعقد ہوئی، جس میں سفارت کار، ماہر تعلیم، محققین اور میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد نے کہا۔

تقریب میں جنرل (ر) خالد نعیم لودھی، سابق سیکریٹری دفاع، سفیر مسعود خالد، ڈاکٹر منور حسین، ڈاکٹر شازیہ خالد چیمہ اور کالم نگار و اینکر فرخ پتی نے بطور مقرر شرکت کی۔

ڈائریکٹر سینٹر فار اسٹریٹجک پرسپیکٹیوز (ISSI) ڈاکٹر نیلم نگار نے اپنے ابتدائی کلمات میں سفیر جی آر بلوچ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی اہم تصنیف کے اجرا کے لیے ISSI کا انتخاب کیا، جو ادارے کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

سفیر خالد محمود نے اپنے خطاب میں کتاب کو موجودہ عالمی سیاست میں ایک اہم علمی اضافہ قرار دیا۔ ان کے مطابق آج کی دنیا جیو پولیٹیکل مقابلے، ٹیکنالوجی، معیشت اور سیکیورٹی کے نئے چیلنجز سے گزر رہی ہے، جس میں اس نوعیت کی تحقیق انتہائی اہم ہے۔

مصنف سفیر جی آر بلوچ نے کہا کہ آج کا دور “بیانیوں کی جنگ” کا دور ہے، جہاں طاقت خیالات اور بیانیے کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ کتاب روایتی نصابی طرز کے بجائے ایک فکری مکالمہ ہے۔

جنرل (ر) خالد نعیم لودھی نے کہا کہ کتاب میں “تیسری جہت” کے تصور کے تحت خارجہ پالیسی میں اخلاقیات اور انسانیت کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو اسے منفرد بناتا ہے۔

سفیر مسعود خالد نے کتاب کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم مسائل پر ایک جامع اور قابلِ فہم تجزیہ قرار دیا۔

ڈاکٹر منور حسین نے کہا کہ بین الاقوامی سیاست میں صرف طاقت نہیں بلکہ اقدار اور نظریات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور یہ کتاب اسی پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔

ڈاکٹر شازیہ خالد چیمہ نے کہا کہ کتاب سیاسی بیانیوں، میڈیا اور ثقافتی عوامل کے ذریعے شناخت کی تشکیل کو واضح کرتی ہے۔

فرخ پتی نے کہا کہ یہ کتاب سفارتی اور تعلیمی دونوں حلقوں کے لیے اہم ہے اور اس میں جدید عالمی تبدیلیوں کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

تقریب کے اختتام پر کتاب کی باقاعدہ رونمائی کی گئی اور شرکاء میں یادگاری تحائف تقسیم کیے گئے

وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم میں 13 جون تک توسیع، 18ویں ترمیم کے مستقبل پر نئی بحث

کاشف عباسی ,May 12 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے پیشِ نظر، وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز ملک گیر کفایت شعاری مہم میں 13 جون تک توسیع کا حکم دے دیا ہے۔
​دریں اثنا، ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں کے درمیان، وزیراعظم اور ان کی ٹیم نے صدر آصف علی زرداری اور ان کے معاونین سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس جاری تھے۔
​ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی موجود تھے۔
​18ویں ترمیم کا مستقبل
ذرائع نے ‘ڈان’ کو بتایا کہ اگر 28ویں ترمیم نافذ کی گئی تو اس کا مطلب 18ویں ترمیم کا مکمل خاتمہ ہوگا، جسے 2010 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے متعارف کرایا تھا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس قانون سازی کے ذریعے صحت، آبادی، تعلیم اور معدنیات جیسے شعبے صوبوں سے واپس وفاق کو منتقل کیے جا سکتے ہیں۔
​تاہم، ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے میں اس مجوزہ قانون سازی کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق صدر اور وزیراعظم نے ملک کی مجموعی صورتحال، افغانستان سے متعلق امور اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
​کفایت شعاری کے اقدامات
​کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، کفایت شعاری کے اقدامات میں درج ذیل فیصلے شامل ہیں:
​سرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنس میں 50 فیصد کٹوتی (ایمبولینس اور پبلک بسوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا)۔
​60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو کھڑا کرنے (استعمال نہ کرنے) کا فیصلہ۔
​سرکاری خرچ پر غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی۔

آئی پی پیز کا دور “دفن” کرنے کا دعویٰ، بجلی مزید سستی کرنے کا اعلان

Screenshot

منصور احمد ,May 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز، 11 مئی 2026) — وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے توانائی شعبے میں بڑے اور انقلابی اصلاحاتی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی پی پیز کے پرانے نظام کو آئندہ کے لیے “دفن” کر دیا گیا ہے اور اب ملک میں بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی لائی جا رہی ہے۔

وزیر توانائی کے مطابق توانائی سیکٹر میں جاری اصلاحات کے بعد نہ صرف صنعت اور زراعت کے لیے بجلی کے الگ نرخ ہوں گے بلکہ دن کے اوقات میں بی-3 اور بی-4 صارفین کو 6 سے 7 روپے فی یونٹ سستی بجلی فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ بجلی کو اس قدر سستا کیا جائے کہ صارفین دن کے اوقات میں اضافی بجلی بیٹریوں میں ذخیرہ کر کے رات کے وقت استعمال کر سکیں، جس سے توانائی کے استعمال میں انقلابی تبدیلی آئے گی۔

اویس لغاری نے کہا کہ حکومت نجی کمپنیوں کو اسمارٹ میٹرنگ سسٹم لانے کی اجازت دے رہی ہے جبکہ کوشش کی جا رہی ہے کہ کوئی بھی خراب میٹر تین ماہ سے زیادہ فعال نہ رہے تاکہ صارفین کو بلنگ میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ توانائی شعبے میں 20 سے 25 اصلاحاتی اقدامات پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں کلین انرجی کی شرح گزشتہ سال 55 فیصد رہی جبکہ ہدف ہے کہ 2036 تک یہ شرح 96 فیصد تک پہنچ جائے۔

وزیر توانائی نے یہ بھی بتایا کہ سرکلر ڈیٹ جو پہلے 2400 ارب روپے تھا، اسے کم کر کے 1600 ارب روپے تک لایا گیا ہے اور آئندہ دو سے تین سال میں اس کے مکمل خاتمے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے منصوبے کے مطابق پانچ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری اگلے سال جون تک مکمل کر لی جائے گی۔

اس سے قبل حکومت نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 16 روپے فی یونٹ کمی جبکہ کمرشل اور گھریلو صارفین کے لیے 8 سے 9 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا تھا۔

یونائٹیڈ کونسل آف چرچز کے زیر اہتمام یومِ معرکۂ حق ریلی، افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین

منصور احمد ,May 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) یومِ معرکۂ حق “آپریشن بنیان المرصوص” کا ایک سال مکمل ہونے پر یونائٹیڈ کونسل آف چرچز کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ایک پُرجوش ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں مسیحی برادری نے بھرپور انداز میں افواجِ پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

ریلی کی قیادت یونائٹیڈ کونسل آف چرچز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پاسٹر سمیسن سہیل نے کی، جبکہ یو جی اے چرچ کی ایگزیکٹو باڈی، سینئر پاسٹر عنایت جلال، پاسٹر مشتاق غفور، پاسٹر افضال بھٹی، پاسٹر ایمانوئل رفیق، پاسٹر اشر جان، بشپ جاوید صدیق سمیت مسیحی خواتین، بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

شرکاء نے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور “پاکستان زندہ باد”، “پاک فوج پائندہ باد” اور “معرکۂ حق کامیاب رہے” کے نعرے لگاتے رہے۔ ریلی کے شرکاء نے افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور ملکی سلامتی، امن اور استحکام کیلئے خصوصی دعائیں بھی کیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاسٹر سمیسن سہیل نے کہا کہ پاکستانی مسیحی برادری ہمیشہ ملک کی سلامتی، اتحاد اور ترقی کیلئے افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یومِ معرکۂ حق قومی یکجہتی، قربانی اور حب الوطنی کا درس دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ “ہم افواجِ پاکستان کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں وطن عزیز کے دفاع کو یقینی بنایا۔ پاکستانی مسیحی قوم ملک کی ترقی، امن اور استحکام کیلئے متحد ہے اور ہمیشہ اپنی افواج کے ساتھ کھڑی رہے گی۔”

پاسٹر سمیسن سہیل کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام اقلیتوں کا مشترکہ وطن ہے اور مسیحی برادری ہر مشکل گھڑی میں ملک و قوم کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ مسیحی برادری ملک میں امن، بھائی چارے، انسانی خدمت اور قومی یکجہتی کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

ریلی کے اختتام پر پاکستان کی خوشحالی، امن اور قومی اتحاد کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔