عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیاں اور تعلیمی بحران: سال 2025 میں 171 ملین طلباء کی سکولنگ متاثر، یونیسف کی ہنگامی رپورٹ جاری

روزینہ اسماعیل, September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) کی جانب سے جاری کی گئی ایک اہم اور عالمی تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال 2025ء کے دوران بین الاقوامی سطح پر 171 ملین (17 کروڑ 10 لاکھ) سے زائد طلباء کی پری پرائمری سے لے کر اعلیٰ ثانوی سطح تک کی تعلیم شدید موسمیاتی خطرات اور آفتوں کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے، جو دنیا بھر کے کل طلباء کی تعداد کے لحاظ سے ہر 10 میں سے ایک طالب علم بنتا ہے۔

یونیسف نے 106 ممالک اور خطوں کے تفصیلی اعداد و شمار کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ شدید طوفانوں، تباہ کن سیلابوں، غير معمولی ہیٹ ویوز، خشک سالی اور جنگلاتی آگ کی وجہ سے ہزاروں تعلیمی اداروں میں کلاسیں معطل ہوئیں، سکولوں کا بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہوا یا تعلیمی دورانیے کو مجبورا مختصر کرنا پڑا۔ یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ موسمیاتی بحران لاکھوں بچوں کے سیکھنے کے عمل کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ غریب خاندانوں کو تباہ کر رہا ہے اور خصوصاً لڑکیوں کو تعلیمی دھارے سے باہر دھکیل رہا ہے۔

رپورٹ کی تفصیلا ت کے مطابق گزشتہ سال کے دوران سکولوں کی بندش کا سب سے بڑا سبب شدید سمندری و میدانی طوفان بنے جس سے عالمی سطح پر 109 ملین طلباء متاثر ہوئے۔ اس کے بعد سیلاب سے کم از کم 70 ملین بچوں کی تعلیم رک گئی جبکہ شدید گرمی کی لہروں (ہیٹ ویوز) نے تقریباً 50 ملین بچوں کی سکولنگ پر منفی اثرات مرتب کیے۔ متاثرہ بچوں میں سے تین چوتھائی کا تعلق غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک سے ہے جن کے پاس موسمیاتی آفتوں سے بچاؤ کے تزویراتی وسائل کا فقدان ہے۔

یونیسف نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2025ء کے دوران پاکستان میں آنے والے مون سون کے شدید سیلاب اور طغیانی کی وجہ سے 28 ملین (2 کروڑ 80 لاکھ) سے زیادہ بچوں کی سکولوں کو واپسی اور پڑھائی میں تاخیر ہوئی، جو سال 2025ء کے دوران عالمی سطح پر ریکارڈ کی گئی سب سے بڑی تعلیمی رکاوٹوں میں شمار کی گئی۔ دوسری طرف مصر میں خمسین طوفان نے ایک ہی دن میں 2 ملین طلباء کی کلاسیں معطل کیں جبکہ سپین کی ویلنسیئن کمیونٹی میں طوفانوں نے 5 لاکھ بچوں کو متاثر کیا۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کلاس رومز سے غیر حاضری اور سکول چھوڑنے (ڈراپ اؤٹ) کی بڑھتی شرح سے ممالک کی معاشی نمو سست پڑ جائے گی۔ یونیسف کے تخمینے کے مطابق 2025ء میں تعلیم میں پڑنے والے اس تعلیمی حرج کی وجہ سے متاثرہ بچوں کی آئندہ زندگی بھر کی مجموعی کمائی میں کم از کم 200 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، ہنگامی حالات میں لڑکیوں پر گھریلو کام اور پانی لانے کا بوجھ بڑھنے سے ان کی کم عمری کی شادی اور تعلیمی سلسلے سے ہمیشہ کے لیے محرومی کا خطرہ بھی نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

یونیسف نے اس عالمی مسئلے کے حل کے لیے حکومتوں کو تجویز دی ہے کہ وہ تعلیمی پالیسیوں میں موسمیاتی لچک کو شامل کریں، سکولوں کو قدرتی آفات سے محفوظ بنیادوں پر تعمیر کریں، اور نصاب میں کلائمیٹ ایجوکیشن کو لازمی جزو بنائیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے نے تمام عالمی ممالک سے ہنگامی بنیادوں پر تعلیمی انفراسٹرکچر کے لیے عالمی اور ملکی مالی معاونت میں فوری اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جدید تھیٹر ہال کا شاندار افتتاح

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے مرکزی اکیڈمک کمپلیکس میں علم و ادب، ثقافتی اقدار اور تخلیقی سرگرمیوں کے ہمہ گیر فروغ کے لیے تمام جدید ترین سہولیات سے آراستہ ایک وسیع تھیٹر ہال کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔

افتتاح کیا جانے والا یہ جدید تھیٹر ہال یونیورسٹی کے لاکھوں طلبہ کو روایتی نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے آزادانہ اظہارِ خیال، پوشیدہ تخلیقی صلاحیتوں، فنونِ لطیفہ اور متنوع ثقافتی سرگرمیوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بلاشبہ موثر اور جدید ترین قومی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ اس پروقار افتتاحی تقریب میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود، یونیورسٹی کے سرکردہ اساتذہ، اور شعبہ جات کے پرنسپل افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس نو تعمیر شدہ تھیٹر ہال میں پہلی علمی و ادبی تقریب کے طور پر پنجاب یونیورسٹی کی پروفیسر ایمریٹس اور ممتاز ترین ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا کی شہرہ آفاق کتاب “ٹیچر ایجوکیشن ان پاکستان” کی باقاعدہ رونمائی کی گئی، جس کی صدارت کا اعزاز چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے سنبھالا۔

تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ پاکستان کے اندر معیاری اور عالمی سطح کی تعلیم کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے باصلاحیت، جدید تربیت یافتہ اور بلند کردار استاد کا ہونا بنیادی طور پر ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ استاد صرف کتابی معلومات کا امین یا ناقل نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنے طلبہ، ان کے والدین اور پورے معاشرے کے لیے ایک عملی نمونہ اور حقیقی رول ماڈل ہونا چاہیے۔ دورِ حاضر کے بدلتے ہوئے عالمی اور تعلیمی تقاضوں کے پیشِ نظر انہوں نے اساتذہ کی علمی، تدریسی اور جدید پیشہ ورانہ تربیت پر بلا تعطل مسلسل توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ “ٹیچر ایجوکیشن ان پاکستان” ایک بلاشبہ معرکہ الآرا کتاب ہے جو اساتذہ کی جدید تعلیم و تربیت، ان کے معاشرتی کردار اور پیشہ ورانہ ترقی کے بنیادی پہلوؤں کو باریک بینی سے سمجھنے میں مشعلِ راہ ثابت ہوگی، جس کا تمام اساتذہ کو لازمی مطالعہ کرنا چاہیے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے مصنفہ پروفیسر ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا کی دہائیوں پر محیط علمی و تدریسی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا ملکی تعلیم و تدریس کے میدان میں ایک نہایت معتبر، صاحبِ بصیرت اور قابلِ فخر شخصیت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریر کردہ کتاب ان کی سالہا سال کی فکری کاوش، عمیق تجربے اور سائنسی بصیرت کا بہترین مظہر ہے جو تعلیم کے شعبے سے وابستہ تمام افراد کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔

افتتاحی تقریب سے وفاقی وزارتِ تعلیم کے ایڈیشنل سیکرٹری حسن ثقلین، پارلیمانی سیکرٹری رابعہ نسیم، سابق وائس چانسلر و پروفیسر ایمریٹس پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن بٹ اور معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر افشاں ہما نے بھی خطاب کیا۔ تمام مقررین نے اس کتاب کو ملک میں اساتذہ کی تربیت کے موضوع پر ایک انتہائی جامع اور بروقت تحقیقی کاوش قرار دیتے ہوئے مصنفہ کی گرانقدر خدمات کو سراہا۔

ٹیلی میڈیسن عوامی صحت کا اہم انقلابی منصوبہ، شہریوں کو علاج کی سہولیات دہلیز کے قریب ملیں گی: وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ٹیلی میڈیسن کا قیام ایک انتہائی اہم اور انقلابی قومی منصوبہ ہے، جس کے زبردست ثمرات کے ذریعے عام شہریوں کو ان کے گھروں اور دہلیز کے بالکل قریب جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی اور معمولی عوارض یا بیماریوں کے علاج کے لیے انہیں دور دراز بڑے ہسپتالوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔

اسلام آباد میں جدید ٹیلی میڈیسن سینٹر کی پروقار افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصیہ خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے صحت نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت عوام کو صحت کی بنیادی اور معیاری سہولیات ان کے اپنے علاقوں میں فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان جدید ٹیلی میڈیسن سینٹرز کے ذریعے عام شہریوں کو ماہر ترین ڈاکٹروں اور طبی معالجین کی فوری مشاورت کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے نہ صرف وقت اور پیسے کی بچت ہوگی بلکہ بڑے سرکاری و نجی ہسپتالوں پر مریضوں کا غیرضروری بوجھ اور رش بھی نمایاں طور پر کم ہو سکے گا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران مصطفیٰ کمال نے ملک بھر کے تمام والدین سے پُرزور اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو جیسی موذی بیماری سے بچانے کے لیے ہر مہم میں قطرے لازمی پلوائیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہر نونہال کو پولیو سے محفوظ بنانا ہم سب کی اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حکومت نے بچوں کو 13 دیگر خطرناک اور مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدہ حفاظتی ٹیکہ جات (ویکسینیشن) کی مفت اور موثر سہولت قائم کر رکھی ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ ایک سے پانچ سال کی عمر کے کسی بچے کا بھی کوئی حفاظتی ٹیکہ کورس سے چھوٹ نہ جائے۔

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ بیماریاں پھیلنے سے قبل ہی اگر بروقت، مناسب اور سائنسی احتیاطی تدابیر اختیار کر لی جائیں تو بچوں کو بعد میں شدید بیمار ہونے، ڈسپنسریوں یا ہسپتالوں کی ایمرجنسیز کا رخ کرنے کی ضرورت کافی حد تک ختم ہو سکتی ہے۔ ایک صحتمند اور فعال معاشرے کی تعمیر کے لیے بیماریوں سے پہلے ہی بچاؤ، باقاعدہ ویکسینیشن اور بروقت تدابیر بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے ٹیلی میڈیسن منصوبے کے پہلے مرحلے کے آخری اور مرکزی ہیلتھ سینٹر کے باضابطہ افتتاح اور اس ابتدائی فیز کی کامیاب تکمیل پر ڈاکٹر سارہ، ان کی پوری تکنیکی ٹیم، ڈی ایچ او اسلام آباد ڈاکٹر راشدہ انجم اور تمام متعلقہ انتظامی افسران اور ہیلتھ ورکرز کی انتھک محنت کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن سینٹرز سے فائدہ اٹھانے والے غریب و مستحق مریضوں کی خدمت کرنا ایک عظیم انسانی اور دینی عمل ہے، جس کا اجر دنیا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ عوامی بہبود اور بلا معاوضہ علاج کے اس سلسلے کو مستقبل میں ملک کے دیگر حصوں تک پھیلا کر مزید موثر اور وسیع بنایا جائے گا۔

عالمی یومِ خواندگی پر اہم پیغام؛ بلوچستان کے باصلاحیت اور مستحق طلبہ کے لیے 23 ہزار سے زائد اسکالرشپس کی فراہمی مکمل

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (بی ای ای ایف) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ خواندگی اور معیاری تعلیم کسی بھی معاشرے کی پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی اور سماجی استحکام کی بنیاد ہیں۔

خالد ماندائی نے واضح کیا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا بنیادی مقصد صوبے کے باصلاحیت اور مستحق طلبہ و طالبات کو مالی مشکلات سے بالاتر ہو کر تعلیم کے حصول اور اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ای ای ایف حکومتِ بلوچستان کے تعلیم دوست وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف اسکالرشپ پروگرامز کے ذریعے طلبہ و طالبات کی تعلیمی معاونت کا ایک انتہائی مؤثر، شفاف اور جامع نظام فراہم کر رہا ہے۔ میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع کے اصولوں کے تحت فراہم کی جانے والی ان اسکالرشپس کا مقصد نوجوان نسل کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع دینا اور انہیں مستقبل کا خودمختار و ذمہ دار شہری بنانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے تعلیم دوست وژن کے تحت صوبے میں تعلیم کو ترقی کے بنیادی محرک کے طور پر خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں یہ امر نمایاں ہے کہ صوبے کا کوئی بھی باصلاحیت بچہ محض مالی وسائل کی کمی کے باعث تعلیم کے اپنے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔ ادارہ اسی وژن کے تحت اسکول سے لے کر اعلیٰ ترین تعلیمی سطح تک اسکالرشپ اسکیمز کے دائرہ کار کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔

دستیاب سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے سی ای او بی ای ای ایف نے بتایا کہ ادارے کے مختلف پروگرامز کے تحت اب تک 23 ہزار 520 اسکالرشپس طلبہ و طالبات کو فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان میں بی ایس، یونیورسٹی و کالج کی جزوی اسکالرشپس، اے ڈی پی، اے ڈی ای، انٹرمیڈیٹ، ڈی اے ای، میٹرک ڈسٹرکٹ ٹاپرز، کیڈٹ ایکسیلنس اسکالرشپ پروگرام، خصوصی طبقات کے لیے اسکالرشپس، بیرونِ صوبہ تعلیم، آکسفرڈ پاکستان پروگرام اور فارن پی ایچ ڈی پروگرامز شامل ہیں۔

خالد ماندائی نے زور دے کر کہا کہ اسکالرشپ محض مالی معاونت نہیں بلکہ بلوچستان کے انسانی سرمائے میں ایک طویل المدتی سرمایہ کاری ہے۔ ایک طالب علم کو تعلیم مکمل کرنے کا موقع فراہم کرنا دراصل ایک پورے خاندان کو مضبوط بنانے اور صوبے کے مستقبل کو روشن کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ مستقبل میں بھی میرٹ اور شفافیت کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے خدمات کا دائرہ مزید وسیع کرے گا تاکہ کوئی بھی طالب علم مالی مجبوری کے باعث تعلیم سے دور نہ رہے۔

ایف بی آئی ایس ای کا ایچ ایس ایس سی پارٹ اول اور دوم کے سالانہ نتائج 9 ستمبر کو جاری کرنے کا اعلان

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) اسلام آباد ایچ ایس ایس سی (انٹرمیڈیٹ) پارٹ اول اور پارٹ دوم کے فرسٹ اینول امتحانات 2026 کے نتائج کا باضابطہ اعلان 9 ستمبر بروز بدھ کو کرے گا۔

فیڈرل بورڈ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، امتحانات کے نتائج کا باضابطہ اعلان صبح 11:30 بجے بورڈ کے مرکزی دفتر میں ایک پروقار تقریب کے دوران کیا جائے گا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ تمام طلبہ و طالبات، والدین اور اساتذہ نتائج کے اعلان کے فوری بعد فیڈرل بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ پر اپنے رول نمبرز کی مدد سے آن لائن رزلٹ چیک کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی رہنمائی، معلومات یا شکایت کی صورت میں بورڈ کی مخصوص ہیلپ لائن UAN: 051-111-473-032 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی بورڈ کے تحت ہر سال ہزاروں طلبہ و طالبات ایچ ایس ایس سی کے امتحانات میں شرکت کرتے ہیں، اور نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی کامیاب امیدواروں کی میرٹ لسٹ اور پوزیشن ہولڈرز کے ناموں کا بھی باضابطہ اجرا کیا جائے گا۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جدید تدریسی مواد کی تیاری کے لیے 3 روزہ کنٹینٹ ڈویلپمنٹ ورکشاپ کا آغاز

روزینہ اسماعیل, September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سنٹر فار لائف لانگ لرننگ کے زیرِ اہتمام یونیورسٹی فیکلٹی کی پیشہ ورانہ استعدادِ کار، یونٹ رائٹنگ اور جدید ترین معیاری تدریسی مواد کی تیاری کے لیے 3 روزہ ‘کنٹینٹ ڈویلپمنٹ ورکشاپ’ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

اس اہم اور عملی تربیتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد یونیورسٹی کے لاکھوں طلبہ و طالبات کے لیے اوپن اینڈ ڈسٹنس لرننگ کے جدید تقاضوں کے مطابق مؤثر، آسان اور جامع تعلیمی کورسز تیار کرنا اور اساتذہ کی فنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

ورکشاپ کی پروقار افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ اوپن یونیورسٹی کے فاصلاتی تعلیمی نظام میں معیاری تعلیمی مواد ہی استاد اور طالب علم کے درمیان بنیادی پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے طلبہ کی علمی ضروریات، بین الاقوامی ترجیحات اور جدید ہائبرڈ تدریسی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر مواد تیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی مسلسل تربیت اور جدید طریقوں سے آگاہی یونیورسٹی کے تعلیمی گراف کو مزید بلند کرے گی۔

سنٹر فار لائف لانگ لرننگ کی ڈائریکٹر طوبیٰ سلیم نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد اور طریقہ کار پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ تربیتی سرگرمی کے دوران فیکلٹی ممبران کو یونٹ ڈویلپمنٹ، تعلیمی تحریر، اور کورس اسٹرکچرنگ کے جدید عملی و فنی پہلوؤں سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔

تقریب میں جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے نمائندے عابد گل نے بھی شرکت کی اور کہا کہ معیاری تعلیمی مواد کسی بھی فاصلاتی تعلیمی ادارے کی کامیابی کی بنیادی بنیاد ہوتا ہے۔ انہوں نے اے آئی او یو کی اس انتظامی کاوش کو سراہا اور جائیکا کے تعاون کا اعادہ کیا۔

ورکشاپ کے پہلے روز نامور تعلیمی ماہرین کی جانب سے شرکاء کو کورس آؤٹ لائنز، یونٹ اسائنمنٹس اور گائیڈ لائنز کے حوالے سے عملی مشقیں کرائی گئیں تاکہ معیاری تعلیمی مواد کو حتمی شکل دی جا سکے۔

قائداعظم یونیورسٹی میں جدید زبان لیبارٹری کا قیام: شعبہ انگریزی اور ایس آئی ایل انٹرنیشنل کے درمیان اعلیٰ سطح کا اجلاس

روزینہ اسماعیل, September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

پاکستان کی اعلیٰ ترین تعلیمی درسگاہ قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی اور بین الاقوامی لسانی ادارے ‘ایس آئی ایل انٹرنیشنل’ کے درمیان یونیورسٹی میں اپنی نوعیت کی پہلی جدید ترین لینگویج لیبارٹری کے قیام کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

اسی سلسلے میں قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس آئی ایل انٹرنیشنل کے علاقائی ڈائریکٹر وین لونسفورڈ، پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر ایمی سنیل اور یونیورسٹی میں ایس آئی ایل کے نمائندے نکولس ہائڈاک نے شرکت کی۔ اجلاس میں شعبہ انگریزی کی چیئرپرسن پروفیسر عروسہ کنول، ڈاکٹر عمیما کامران اور ڈاکٹر یاسر حسین بھی موجود تھے۔

اجلاس کے دوران مجوزہ زبان لیبارٹری کے تکنیکی ڈیزائن، جدید ترین ساؤنڈ و لینگویج سافٹ ویئرز، ضروری آلات اور اس کے مستقبل کے تعلیمی و تحقیقی استعمال سے متعلق مختلف انتظامی و سائنسی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

شعبہ انگریزی کی چیئرپرسن پروفیسر عروسہ کنول نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ایل انٹرنیشنل کے عالمی تعاون سے قائم ہونے والی یہ لینگویج لیبارٹری شعبے کے تعلیمی و تحقیقی ڈھانچے کو جدید ترین عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے نہ صرف زبان کی تدریس اور سیکھنے کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے گا بلکہ طلبہ کی عملی مہارتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

اجلاس میں اس بات پر خصوصی تمرکز کیا گیا کہ اس لیبارٹری کے قیام سے انگریزی زبان، ڈسکورس اینالسز، ترجمہ نگاری اور بالخصوص پاکستان میں معدومیت کے خطرے سے دوچار علاقائی زبانوں پر سائنسی تحقیق کرنے والے اساتذہ، محققین اور طلبہ کو عالمی سطح کی تکنیکی سہولیات میسر آئیں گی۔

قائداعظم یونیورسٹی کی انتظامیہ اور شعبہ انگریزی نے ایس آئی ایل انٹرنیشنل کی جانب سے تعلیمی و سائنسی تعاون کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ باہمی اشتراک ملک میں زبانوں کی فروغ اور تعلیمی تحصیلاسی و تحقیقی سرگرمیوں کو ایک نیا موڑ دے گا۔

ایچ ای سی کے سمارٹ کلاس روم نیٹ ورک کے ذریعے اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر اضلاع کے 330 سے زائد اساتذہ کی آن لائن اور آن سائیٹ تربیت؛ ایم ڈی ‘ناہے’ ڈاکٹر نور آمنہ ملک کا اختتامی تقریب سے خطاب


روزینہ اسماعیل, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے، نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سرکاری شعبے کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ کے لیے چار روزہ جامع تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔

“اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت کی آگاہی: مصنوعی ذہانت کے لیے تیار اداروں کی تعمیر” کے عنوان سے منعقدہ اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد سرکاری جامعات کے لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کو تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر اور اخلاقی استعمال کے قابل بنانا تھا۔

ایچ ای سی کے جدید ‘سمارٹ کلاس روم نیٹ ورک’ کے تحت منعقدہ اس چار روزہ کورس میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی جامعات سے تعلق رکھنے والے 32 اساتذہ نے ایچ ای سی ہیڈکوارٹر کے سمارٹ کلاس روم میں براہِ راست (آن سائیٹ) شرکت کی، جبکہ ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں میں قائم سمارٹ کلاس رومز اور ویڈیو کانفرنس رومز کے ذریعے 300 سے زائد اساتذہ نے آن لائن اس تربیتی سیشن میں حصہ لیا اور ماہرین کے ساتھ سوال و جواب کیے اور فوری تفاعل گفتگو کی۔

اس اختراعی ٹریننگ کے دوران پروفیسروں اور لیکچررز کو نصاب کی جدید تشکیل، دروس کی منصوبہ بندی تدریسی مواد کی تیاری، سائنسی و تعلیمی تحریر، تحقیقی معاونت، طلبہ کی کارکردگی پر ڈیٹا اینالیٹکس، اور امتحانی جائزے جیسے مختلف شعبوں میں AI ٹولز کے عملی اطلاق اور “انسان اور کے باہمی تعامل” کے اصولوں کی تربیت فراہم کی گئی۔

اختتامی تقریب میں نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اعلیٰ تعلیم، ریسرچ اور علم کی تخلیق کے روایتی طریقوں کو تیزی سے بدل رہی ہے۔

ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے زور دیا کہ جامعات کو اپنے اساتذہ اور طلبہ کو ای آئی سے لیس ماحول کے لیے فوری طور پر تیار کرنا ہو گا، تاہم انہوں نے انبہانہ انداز میں کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران تعلیمی معیار، اخلاقی تحفظات، انسانی بصیرت اور ادارہ جاتی ذمہ داری کو ہر صورت برقرار رکھنا ہو گا۔

ایچ ای سی بیسٹ یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ 2026: ایچ ای سی نے ملک بھر سے نامزدگیاں طلب کر لیں

روزینہ اسماعیل, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تدریس، تحریری و تحقیقی جدت، طلبہ کے تعلیمی نتائج اور علمی ترقی میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والے اساتذہ کی پذیرائی کے لیے “ایچ ای سی بیسٹ یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ 2026” کے لیے نامزدگیاں طلب کر لی ہیں۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ اعلان کے مطابق پاکستان کی تمام سرکاری و نجی جامعات کے پاس موقع ہے کہ وہ یونیورسٹی سطح پر قائم کمیٹی کے منظور شدہ طریقہ کار کے تحت اپنے بہترین فیکلٹی ممبر کی نامزدگی بھیجیں۔ نامزدگی کا عمل مکمل کرنے کے لیے جامعہ کی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی اور مکمل سپورٹنگ دستاویزات کی ہارڈ کاپی کے ساتھ سافٹ کاپی بھی جمع کرانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

تمام نامزدگی برائے ایوارڈ ڈائریکٹر جنرل (اکیڈمکس)، ایچ ای سی، سیکٹر ایچ ایٹ ون اسلام آباد کے دفتر میں جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ ایچ ای سی حکام کے مطابق نامزدگیوں کی کاغذی و ڈیجیٹل اسناد جمع کرانے کی آخری تاریخ 7 اکتوبر 2026ء مقرر کی گئی ہے، جبکہ مقررہ تاریخ کے بعد موصول ہونے والی کسی بھی درخواست پر غور نہیں کیا جائے گا۔

تمام میڈیکل و ڈینٹل ڈاکٹرز کے لیے پی ایم ڈی سی کی اہم ہدایت: رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی تجدید کے لیے 6 ماہ کی حتمی مہلت جاری

روزینہ اسماعیل, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ملک بھر کے تمام میڈیکل اور ڈینٹل پریکٹیشنرز سمیت سپیشلسٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022ء اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت اپنے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی باقاعدہ تجدید کرائیں۔ پی ایم ڈی سی کے جاری کردہ اہم اعلان کے مطابق تمام ڈاکٹرز کو اپنے لائسنس کی تجدید کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے تاکہ قانونی، اخلاقی اور پیشہ ورانہ تقاضوں کی مسلسل پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔

پی ایم ڈی سی حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک بھر میں لائسنس یافتہ ڈاکٹروں کے قومی رجسٹر کو اپ ڈیٹ اور قابلِ تصدیق بنانا ہے تاکہ جعلی پریکٹس، اتائی پن ، اور رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کے فراڈ پر مبنی استعمال کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ایک جدید اور مستند ڈیٹا بیس کے ذریعے مرحوم یا غیر فعال ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ اسناد کے غلط استعمال کو روکا جا سکے گا، جس سے صحت عامہ کے نظام پر عوام کے اعتماد کو مزید تقویت ملے گی۔

کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بروقت تجدید نہ صرف پاکستان میں قانونی پریکٹس کے لیے ضروری ہے بلکہ بیرونِ ملک ملازمت، پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ اور عالمی لائسنسنگ کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ پی ایم ڈی سی نے تمام ڈاکٹروں اور ڈینٹسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ چھ ماہ کی درکار مدت ختم ہونے کا انتظار کیے بغیر جلد از جلد اپنی رجسٹریشن کی تجدید کا عمل مکمل کریں۔

طبی آپریشنز سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ لازمی قرار: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس

روزینہ اسماعیل, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت وزارتِ صحت میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں ایچ آئی وی کی مجموعی صورتحال، انسدادِ ایچ آئی وی پروگرام پر عملدرآمد، ڈیجیٹل ڈیٹا مینجمنٹ اور صوبائی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ہدایت جاری کی کہ ملک بھر میں ہر بڑے یا معمولی آپریشن اور جلد کو چیرنے یا چھیدنے والے تمام طبی طریقہ کار سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ کو لازمی طور پر یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ، پنجاب اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں جراحی کے عمل سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ پہلے ہی جاری ہے، جبکہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے متعلقہ حکام کو بھی اس کے نفاذ کے لیے فوری نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔

وزیرِ صحت نے تاکید کی کہ ایچ آئی وی سے متأثرہ بچوں کی دیکھ بھال صرف طبی علاج تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے لیے غذائی، نفسیاتی اور فلاحی معاونت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارتِ صحت میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ صوبے کے ایچ آئی وی ڈیٹا کو قومی ایچ آئی وی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ساتھ جلد از جلد منسلک کیا جائے تاکہ ملک گیر سطح پر مربوط نگرانی ممکن ہو سکے۔

اجلاس میں ڈبلیو ایچ او ، یونیسف، یو این ڈی پی، یو این ایڈز ، گلوبل فنڈ کے نمائندگان اور تمام صوبوں و علاقوں کے سیکرٹریز صحت نے شرکت کی۔

مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے کاروباری ترقی کے نئے مواقع: وزارتِ آئی ٹی اور میٹا کا چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام کا آغاز

روزینہ اسماعیل, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ سے کاروباری ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنی “میٹا” کے اشتراک سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

اس مجوزہ تربیتی پروگرام کے تحت ملک کے 9 بڑے شہروں میں ایک ہزار سے زائد کاروباری افراد کو مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے متعلق عملی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قومی ڈیجیٹل معیشت سے منسلک کرنا اور ان کی آن لائن کاروباری استعداد کار میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔

یہ پروگرام میٹا کے ایشیا پیسیفک خطے کے 12 ممالک پر مشتمل “سمال بزنس ٹریننگ پروگرام” کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے ذریعے مقامی کاروباری افراد کو اے آئی ٹولز، جدید ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے کاروبار کو علاقائی اور عالمی سطح پر وسعت دینے کے مواقع ملیں گے۔ وزارتِ آئی ٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ اس نوعیت کی شراکت داری سے پاکستانی نوجوانوں اور تاجروں کے لیے نئے معاشی راستے کھلیں گے۔

آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹم کین کا قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کا دورہ، تعلیمی و تحقیقی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت

روزینہ اسماعیل, August 18,2026

گلگت (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

آسٹریلیا کے ہائی کمشنر برائے پاکستان ٹم کین نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں یونیورسٹی کے سینئر افسران نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ اس دورے کے دوران آسٹریلوی ہائی کمشنر کے پولیٹکل سیکرٹری جیگر کونیدارس بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ہائی کمشنر نے جامعہ کے انتظامی اور تدریسی حکام سے اہم ملاقات کی، جس میں یونیورسٹی میں جاری تعلیمی و تحقیقی اقدامات، مستقبل کے منصوبوں اور آسٹریلوی جامعات کے ساتھ اعلیٰ تعلیم و تحقیق میں باہمی تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ملاقات کے دوران یونیورسٹی کے نمائندوں نے بتایا کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں اس وقت 10 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جہاں انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور مختلف ڈپلومہ کورسز کروائے جا رہے ہیں۔ جامعہ کی جانب سے آسٹریلوی حکومت کو ماؤنٹین ریسرچ، اکیڈمیا، ماؤنٹین سپورٹس، جدید ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ اور سکالرشپس میں تعاون کی سفارشات پیش کی گئیں۔

آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹم کین نے اعلیٰ تعلیم، ووکیشنل ایجوکیشن، زراعت اور ڈیری کے شعبوں میں جامعہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آسٹریلوی حکومت نے اس بار سکالرشپ اور ایوارڈز کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے طلبہ اور فیکلٹی ممبران کو ان سکالرشپس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ ہائی کمشنر نے یونیورسٹی کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ آسٹریلیا پاکستان کے زرعی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا۔ ملاقات کے اختتام پر معزز مہمان کو یادگاری کتاب پیش کی گئی۔

نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی: وزیراعظم شہباز شریف کا نوجوانوں بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے یوتھ کے لیے روزگار کے مواقع کی فراہمی پر زور

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہنر مند اور باصلاحیت نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت ملک کے طول و عرض، بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے نوجوانوں اور خواتین کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے اور انہیں جدید فنی ہنر سے آراستہ کرنے کے لیے مربوط اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اسلام آباد میں پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی پر پیشرفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لیے ہر ماہ اجلاس منعقد ہوگا تاکہ بین الوزارتی تعاون اور جامع حکمتِ عملی کے ذریعے اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی ہنر مند افرادی قوت کو اندرون و بیرونِ ملک صنعتی اور کاروباری ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے نیوٹک اور سمیڈا میں بنیادی ادارہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے نوجوانوں میں اس پالیسی سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے بھرپور آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایات جاری کیں۔

اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب کے ذریعے نوجوانوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر ملکی اور بین الاقوامی روزگار کے مواقع کی معلومات دی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ تمام تعلیمی اداروں میں “یوتھ ڈویلپمنٹ سیلز” قائم کیے جا رہے ہیں جو طلبہ کو کیریئر کونسلنگ اور ہنرمندی کے مواقع سے آگاہ کریں گے۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احسن اقبال، احد چیمہ، عطا اللہ تارڑ، مصدق ملک، شزا فاطمہ خواجہ اور چیئرمین پی ایم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ملک بھر میں ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ تیز، وزارتِ صحت کے ملازمین اور 12 سال سے زائد عمر کے شہریوں کے لیے ٹیسٹ لازمی قرار

روزینہ اسماعیل, August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے میڈیا بریفنگ کے دوران اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے اور 12 سال سے زائد عمر کے تمام افراد اور وزارتِ صحت کے تمام ملازمین کے لیے یہ ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے میڈیا بریفنگ کے دوران خود بھی اپنا ہیپاٹائٹس سی ٹیسٹ کروایا جس کی رپورٹ منفی آئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیسٹ نہ کروانے والے سرکاری ملازمین کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی جبکہ تمام وفاقی وزارتوں کو بھی مراسلے جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ وزراء سمیت تمام ملازمین کی سکریننگ یقینی بنائی جا سکے۔

وفاقی وزیرِ صحت نے بتایا کہ اسلام آباد میں سکریننگ کے لیے 17 پوائنٹس قائم کر دیے گئے ہیں اور نجی ہسپتالوں کو بھی سکریننگ کٹس اور ضروری آلات فراہم کیے جائیں گے۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہیں اور بروقت تشخیص نہ ہونے پر یہ بیماری جگر کے کینسر کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے پروگرام کے تحت ہیپاٹائٹس سی کے علاج کی تمام ادویات مفت فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہو کر آنے والے افراد، گلگت بلتستان کے رہائشیوں اور آئندہ تین ماہ تک تمام پروازوں سے آنے والے مسافروں کو بھی اس سکریننگ کے عمل سے گزارنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق سکریننگ کا پورا ڈیٹا تیار کرنے کے لیے نظام کو نادرا اور مردم شماری کے سافٹ ویئر سے منسلک کیا جا رہا ہے، جبکہ شناختی کارڈ کے ریکارڈ سے سکریننگ کو جوڑنے اور بیرونِ ملک سفر سے قبل اسے لازمی قرار دینے کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔ پنجاب سے ڈیٹا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پنجاب سے ابھی مکمل اعداد و شمار موصول نہیں ہوئے اور وہ اس سلسلے میں خود وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کریں گے۔ وفاقی وزیر نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس مفت سکریننگ کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور اپنا ٹیسٹ لازمی کروائیں۔

ایچ ای سی کا یورپی زبانیں پڑھانے والے اساتذہ کے لیے ‘قومی فیکلٹی رجسٹر’ کے قیام کا اعلان

روزینہ اسماعیل, August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ذیلی ادارے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (این اے ایچ ای) نے ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات میں یورپی زبانیں پڑھانے والے تمام اساتذہ کو قومی فیکلٹی رجسٹر میں فوری رجسٹریشن کی باقاعدہ دعوت دی ہے۔ ایچ ای سی حکام کے مطابق اس قومی رجسٹر کی تشکیل کا بنیادی مقصد ملک میں جرمن، فرانسیسی، اطالوی، ہسپانوی اور دیگر اہم یورپی زبانوں کی تدریس سے وابستہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، وسائل کے باہمی اشتراک اور مستقبل میں یورپی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کے مواقع کو مزید فروغ دینا ہے۔

ایچ ای سی نے تمام متعلقہ فیکلٹی ممبران سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے کوائف اس قومی ڈیٹا بیس کا حصہ بنائیں۔ تمام اہل اور دلچسپی رکھنے والے اساتذہ اپنی آن لائن رجسٹریشن کے لیے ایچ ای سی رجسٹریشن فارم پر اپنے معلومات جمع کرا سکتے ہیں۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے تین نائب صدور کی تعیناتی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج، یونیورسٹی سے جواب طلب

منصور احمد, August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ ریسرچ اینڈ انٹرپرائز، ایڈمنسٹریشن اینڈ فنانس، اور اکیڈمکس کے تین نائب صدور (نائب صدرین) کی تعیناتیوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں قانونی طور پر چیلنج کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد اسلامی یونیورسٹی کی انتظامیہ کو باقاعدہ نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

جسٹس ایاز شوکت نے شہری جاوید اختر کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست پر سماعت کی، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے وکیل آکاش تارا عدالتِ عالیہ میں پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابقہ واضح احکامات کے مطابق اسلامی یونیورسٹی تمام اہم اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں شفاف اور اوپن میرٹ پر کرنے کی پابند ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے قانونی عمل اور کھلے مقابلے (اوپن میرٹ) کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ہی اندرونی فیکلٹی ممبران میں سے من پسند پروسیجر کے تحت تعیناتیاں کر ڈالیں۔

سماعت کے دوران جسٹس ایاز شوکت نے قانونی باریکیوں پر نکتہ اٹھاتے ہوئے ہدایت کی کہ یہ بات بھی قانون کے مطابق جانچ لی جائے کہ آیا یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز (BoG) نے اپنا باقاعدہ اختیار تعیناتی کمیٹی کو تفویض کیا تھا یا نہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی انتظامیہ کو آئندہ دو ہفتوں میں قانونی موقف اور تحریری جواب عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

اسلامی یونیورسٹی کا تحقیقی میدان میں بڑا سنگِ میل، 105 اساتذہ کے 331 مقالے عالمی رینکنگ میں شامل

روزینہ اسماعیل, August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے پاکستان کی یومِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر اپنے “ریسرچ ایکسیلنس انسینٹو فریم ورک” کے تحت ایک بڑی علمی و تحقیقی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق فریم ورک کے باقاعدہ اجرا کے صرف ایک سال کے اندر 105 پی ایچ ڈی اساتذہ نے سال دو ہزار پچیس کے دوران 331 اعلیٰ معیار اور عالمی رینکنگ سے متعلق تحقیقی مقالے تحریر کیے، جن سے قومی و بین الاقوامی سطح پر یونیورسٹی کی علمی ساکھ کو بے پناہ تقویت ملی ہے۔ اس منصوبے کا آغاز اگست دو ہزار پچیس میں صدرِ جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کے وژن کے تحت ہوا تھا، جس کے لیے مملکتِ سعودی عرب کے تعاون سے اڑتالیس لاکھ تیس ہزار روپے کے وسائل حاصل کیے گئے۔

فریم ورک کے تحت معیار کے مطابق تیار کیے گئے مقالوں کے لیے ایک سو امریکی ڈالر اور اسی امریکی ڈالر کے مساوی رقم بطور اعزازیہ مقرر کی گئی، جبکہ بہترین کارکردگی دکھانے والے محققین کے لیے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے فی کس کا خصوصی انعام بھی مختص کیا گیا۔ یونیورسٹی کے 501 پی ایچ ڈی اساتذہ میں سے تقریباً 21 فیصد نے اس عالمی رینکنگ منصوبے میں حصہ لیا، جس میں فیکلٹی آف سائنسز 221 مقالوں کے ساتھ سرِفہرست رہی۔ جبکہ فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور فیکلٹی آف سوشل سائنسز نے بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ صدرِ جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے تمام کامیاب اساتذہ پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ خود ایک تقریب میں ان میں انعامات اور اعزازیے تقسیم کریں گے۔

ڈاکٹر نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل 3 سالہ تقرری کا فیصلہ: صوبائی کابینہ کی ہدایت پر قانونی اور انتظامی سوالات اٹھ گئے

روزینہ اسماعیل, August 12,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (جے ایس ایم یو) کی پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائرمنٹ سے محض ایک روز قبل صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں مزید 3 سال کے لیے بطور پروفیسر مقرر کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ اس تقرری کے سامنے آنے پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے قواعد و ضوابط اور صوبائی حکومت کی ہدایت کے درمیان واضح فرق پر سنگین انتظامی و قانونی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن میں صوبائی کابینہ کے 5 اگست کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے وائس چانسلر جے ایس ایم یو کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی 3 سال کے لیے بطور پروفیسر تقرری پر غور کریں۔ نوٹیفکیشن میں وائس چانسلر کو مزید کارروائی بلا تاخیر اور من و عن مکمل کر کے ترجیحی بنیادوں پر رپورٹ محکمہ بورڈز و جامعات کو فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

اس تقرری کے لیے پی ایم اینڈ ڈی سی کے جس نوٹیفکیشن کا سہارا لیا گیا ہے، اس میں واضح لکھا گیا ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کو کنٹریکٹ پر رکھنے کا فیصلہ محض ایک سہولت کے طور پر ہے اور کوئی ادارہ اس کا پابند نہیں، بلکہ متعلقہ یونیورسٹی اپنی ضرورت اور قواعد کے مطابق فیصلہ کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پی ایم اینڈ ڈی سی پالیسی کے مطابق ریٹائرڈ فیکلٹی کی تعیناتی سے جونیئر فیکلٹی کی سنیارٹی یا ترقیاں متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔

اس تمام صورتحال میں یہ سوالات شد و مد سے اٹھ رہے ہیں کہ جب اختلافی اختیارات یونیورسٹی کے پاس تھے تو ایک مخصوص فرد کا کیس صوبائی کابینہ کے سامنے کیوں لایا گیا اور اس پر ہنگامی بنیادوں پر عمل درآمد کا حکم کیوں دیا گیا۔ دوسری جانب جے ایس ایم یو کی سینئر ایسوسی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر شازیہ نصیب، ڈاکٹر نسرین فاطمہ، ڈاکٹر صبا خان، ڈاکٹر ارم ماجد اور ڈاکٹر میمونہ رحمان کی سنیارٹی اور ترقی کے امکانات متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جس سے یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان 5 سالہ فل برائٹ ایچ ای سی معاہدے کی تجدید: اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے 6.4 ارب روپے سے زائد مختص

روزینہ اسماعیل, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

پاکستان اور امریکہ نے اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور انسانی وسائل کی پیشہ ورانہ ترقی کو وسعت دینے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور یونائیٹڈ سٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن ان پاکستان (یو ایس ای ایف پی) کے درمیان تاریخی پانچ سالہ فل برائٹ-ایچ ای سی معاہدے کی باقاعدہ تجدید کر دی ہے۔

وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق تجدید شدہ معاہدہ مالی سال 2026-27ء سے مالی سال 2031-32ء تک اگلے پانچ برسوں کے لیے نافذ العمل رہے گا۔ اس معاہدے کے تحت فل برائٹ ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز، پوسٹ ڈاکٹریٹ وزٹنگ اسکالر پروگرام، فارن لینگوئج ٹیچنگ اسسٹنٹ پروگرام اور ہیوبرٹ ایچ ہمفری فیلوشپ پروگرام کے ذریعے پاکستانی طلبہ اور محققین کو امریکی جامعات میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

معاہدے کے تحت آئندہ پانچ سالوں کے دوران 66 پاکستانی پی ایچ ڈی اسکارلرز کو خصوصی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس فنڈنگ کے لیے ایچ ای سی سالانہ کم از کم 4.54 ملین ڈالر فراہم کرے گا جبکہ پانچ سال کی مدت میں مجموعی مالیاتی حجم 6.48 ارب روپے تک ہوگا۔ مزید برآں، یو ایس ای ایف پی کے پاس موجود فنڈز سے حاصل ہونے والے منافع کو بھی مزید اسکالرشپس کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق طلبہ اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔

معاہدے کی اہم شرط کے مطابق اسکارلرز کا انتخاب مکمل طور پر شفاف میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا اور کسی خطے یا شعبے کے لیے کوئی مخصوص کوٹہ نہیں ہوگا، جبکہ انتخابی کمیٹی میں ایچ ای سی کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ پروگرام کی کارکردگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ جائزہ کمیٹی سال میں دو بار اجلاس منعقد کرے گی اور تمام مالیاتی معاملات کا سالانہ آڈٹ کرایا جائے گا۔

یہ معاہدہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی شراکت داری کے تیسرے مرحلے کا آغاز ہے جو کہ فروری 2016ء کے ابتدائی معاہدے کے تسلسل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں معیاری اعلیٰ تعلیم، جدت اور بین الاقوامی تعلیمی و تحقیقی روابط کو بے حد فروغ حاصل ہوگا۔