صدر مملکت آصف علی زرداری نے چین میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور حالیہ شدید بارشوں کے باعث ہونے والے قیمتی جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر بیانیے میں صدر مملکت نے کہا کہ چین میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور شدید بارشوں سے ہمارے عظیم چینی بھائیوں اور بہنوں کو پہنچنے والے نقصان پر انہیں دلی طور پر گہرا دکھ پہنچا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس قدرتی آفت کے نتیجے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے تمام چینی خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اس انتہائی مشکل وقت میں چین کی حکومت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی جانب سے مکمل اور غیر مشروط یکجہتی کا اعادہ کیا۔ صدر مملکت نے دونوں ممالک کے مابین تزویراتی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے مقتدر الفاظ میں کہا کہ پاکستان اور چین کی یہ لازوال اور آہنی دوستی ہر امتحان کی گھڑی میں ہمیشہ مضبوط، پائیدار اور قائم رہے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کے مختلف علاقوں میں تباہ کن طوفان، شدید بارشوں، بگولوں اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث ہونے والے قیمتی جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر تزویراتی بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ چین کے گوانگ شی ژوانگ خودمختار علاقے سمیت ہوبے اور گانسو صوبوں میں حالیہ تباہ کن موسمیاتی آفات سے ہونے والے قیمتی جانی نقصان پر انتہائی رنجیدہ ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غیور پاکستانی عوام اور اپنی حکومت کی طرف سے چینی صدر شی جن پنگ، چین کی حکومت، وہاں کے عوام اور بالخصوص اس آفت کے نتیجے میں متاثر ہونے والے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اپنے مقتدر بیان میں مزید کہا کہ اس انتہائی مشکل گھڑی میں ہم اپنے عظیم اور دیرینہ چینی بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے آفات کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی اور متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی و ریسکیو کارروائیوں کی مکمل کامیابی کے لیے بھی خصوصی دعا کی۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے امیگریشن حکام نے ایک کامیاب اور مقتدر کارروائی کرتے ہوئے سفری دستاویزات میں جعلسازی کرنے والے مسافر کو موقع پر گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور سے پرواز کے ذریعے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور پہنچنے والے پاکستانی شہری راشد اللہ کے پاسپورٹ کی جب امیگریشن کلیئرنس کے دوران مقتدر جانچ پڑتال کی گئی، تو اس پر پاکستان سے روانگی کی ایک جعلی مہر پائی گئی۔
امیگریشن حکام کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی تفتیش اور سخت پوچھ گچھ کے دوران مسافر نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے اپنے پاسپورٹ پر یہ جعلی مہر لگوانے کے لیے ملائیشیا میں مقیم فضل نامی ایک ایجنٹ کو ۲۶۰۰ ملائیشین رنگٹ کی خطیر رقم ادا کی تھی۔ مقتدر امیگریشن حکام نے قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد ملزم کو مزید تادیبی کارروائی اور گہرائی سے تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے انسدادِ انسانی سمگلنگ سرکل لاہور کے مقتدر حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ ایف آئی اے انتظامیہ کا اس حوالے سے دوٹوک الفاظ میں کہنا ہے کہ جعلی سفری دستاویزات کی تیاری اور انسانی سمگلنگ کے گھناؤنے کاروبار کے خلاف ادارے کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد مستقل جاری ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں سری لنکا کے وزیر داخلہ آنند وجے پالا سے ایک مقتدر ملاقات کی ہے، جس کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس تزویراتی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے انسدادِ منشیات کے حوالے سے مؤثر کوآرڈینیشن قائم کرنے اور پولیس ٹریننگ کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید بڑھانے کا مقتدر فیصلہ کیا ہے۔
ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن اور جعلی پاسپورٹ پر سفر کرنے والے جرائم پیشہ عناصر کی روک تھام کے لیے بھی اشتراکِ کار کو تیز کرنے پر مکمل اتفاق کیا گیا، جس کے تحت دونوں ملکوں کے امیگریشن شعبے کے سربراہان فی الفور ایک دوسرے سے رابطہ قائم کریں گے۔ دونوں وزرائے داخلہ نے عالمی سطح پر جرائم پیشہ افراد کے نیٹ ورکس اور منی لانڈرنگ کے جڑ سے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ مفاہمتی یادداشت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس مقتدر تعاون کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کی وزارتوں کے مابین ایک ’’جوائنٹ ورکنگ گروپ‘‘ تشکیل دینے اور شہریوں کو ویزا سے متعلق درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
پاکستان نے عالمی فورم پر کیوبا کے حق میں مقتدر آواز اٹھاتے ہوئے وہاں عائد اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے فوری خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں کا خاتمہ نہ صرف کیوبا کے غیور عوام کو درپیش شدید انسانی مشکلات اور مصائب میں کمی لانے میں مقتدر حد تک مددگار ثابت ہوگا، بلکہ انہیں ترقی اور خوشحالی کے بنیادی حق سے مستفید ہونے کا مساوی موقع بھی فراہم کرے گا، جبکہ اس اقدام سے کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اشتراکِ عمل کے اصولوں کو بھی پائیدار تقویت ملے گی۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں “ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے کیوبا پر عائد اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت” کے اہم عنوان سے ہونے والے دوسرے مقتدر مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کیوبا اور اس کے عوام پر عائد طویل پابندیوں کے منفی اثرات پر پاکستان کی گہری تشویش کا کھل کر اظہار کیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے کثیرالجہتی نظام اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں سے اپنے دیرینہ و مقتدر عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ خودمختار مساوات اور باہمی احترام پر مبنی بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی روابط ہی اصل میں عالمی نظام کی مضبوط بنیاد ہیں۔ انہوں نے تزویراتی انداز میں اس بات پر زور دیا کہ یکطرفہ اقتصادی اقدامات، خصوصاً جب انہیں ترقی پذیر ممالک کے خلاف امتیازی انداز میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، تو یہ ان تمام بنیادی عالمی اصولوں سے کھلم کھلا متصادم ہو جاتے ہیں، جن کی اجازت بین الاقوامی قانون ہرگز نہیں دیتا۔
پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور زریں اصولوں، بالخصوص دنیا کی تمام ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے غیر مشروط احترام کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے منشور کے باب ششم کے مقتدر قوانین کے مطابق تمام تر بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا اور تمام متعلقہ فریقوں پر یہ واضح کیا کہ وہ آپسی مسائل کے پائیدار حل کے لیے باہمی مکالمے اور سفارت کاری کے مؤثر راستے کو اپنائیں اور اس سلسلے میں اپنی مخلصانہ کوششیں مستقل جاری رکھیں۔
پاکستان نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک مضبوط اور تزویراتی موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ذمہ داری برائے تحفظ’ کے فریم ورک کی سب سے بڑی ناکامی ان مخصوص حالات میں کھل کر نمایاں ہوتی ہے جہاں دہائیوں پرانے طویل تنازعات اور غیر ملکی غاصبانہ قبضے اب بھی جاری ہوں، اور بین الاقوامی برادری کی مسلسل توجہ کے باوجود معصوم انسانوں پر مظالم کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری رہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں “ذمہ داری برائے تحفظ اور نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی تطہیر اور انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام” کے مقتدر عنوان سے منعقدہ اہم مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دنیا کا کیا گیا “دوبارہ کبھی نہیں” کا تاریخی وعدہ آج بھی ادھورا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر اجتماعی مظالم کے شکار لاچار متاثرین کو نہ تو کوئی ذمہ داری میسر آ سکی ہے، نہ تحفظ اور نہ ہی انصاف مل پایا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی تطہیر اور انسانیت کے خلاف جرائم انسانیت کے بدترین اور سنگین ترین جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سال دو ہزار پانچ کے عالمی سربراہی اجلاس میں ‘ذمہ داری برائے تحفظ’ کا یہ مقتدر اصول ایسے ہی سنگین ترین انسانی جرائم کی بیخ کنی اور روک تھام کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ تاہم، دو دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود آج یہ پورا فریم ورک شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جبکہ دنیا بھر میں مختلف تنازعات کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔ ان کے مطابق، اجتماعی مظالم کی روک تھام کا مشترکہ اور تزویراتی مقصد اکثر اوقات عالمی سطح پر بے عملی، حقیقت سے انکار، انتخابی رویوں اور ادارہ جاتی جمود کی نذر ہو جاتا ہے۔
سال دو ہزار پانچ کے عالمی سربراہی اجلاس کے نتائج پر مشتمل مقتدر دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر عاصم نے کہا کہ ذمہ داری برائے تحفظ کا بنیادی تصور ریاستوں کی اپنی اندرونی ذمہ داری اور بین الاقوامی برادری کی مجموعی اجتماعی ذمہ داری کے درمیان ایک توازن پر مبنی تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جو ممالک ماضی میں متنازع نظریات کے تحت کارروائیوں کے سخت حامی تھے، آج وہ رکن ممالک کی متفقہ اجتماعی ذمہ داری کو پوری کرنے سے صاف گریزاں ہیں۔ انہوں نے مقتدر فورم کو بتایا کہ دنیا میں قابض طاقتیں سنگین ترین جرائم کے ارتکاب کے باوجود جوابدہی سے مکمل محفوظ رہتی ہیں، جبکہ بعض دیگر حالات میں حکومتوں کی جانب سے اپنے عوام کے تحفظ اور مستقل امن کی بحالی کی مخلصانہ کوششوں کو بیرونی سیاسی و اقتصادی دباؤ، بیرونی مداخلت اور باغی و دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کے ذریعے جان بوجھ کر کمزور کیا جاتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے مقتدر انداز میں زور دیا کہ اگر اس اصول کو ایک معتبر انسانی اصول کے طور پر زندہ رکھنا ہے، تو اس پر اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق، یکساں، مستقل اور کسی بھی دوہرے معیار کے بغیر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے اجتماعی مظالم کی روک تھام کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں ابتدائی انتباہی نظام، امن مشنز اور امن سازی کی کوششوں میں مستقل سرمایہ کاری شامل ہو۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود طویل المدتی اور دیریںہ تنازعات کو متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔ مزید برآں، انہوں نے نفرت انگیز تقاریر، غیر ملکیوں سے نفرت، اسلاموفوبیا اور دیگر انتہا پسند نظریات کا مؤثر مقابلہ کرنے کو ناگزیر قرار دیا، کیونکہ یہی عوامل دنیا میں امتیازی سلوک، تشدد اور اجتماعی مظالم کو جنم دیتے ہیں۔ اپنے اختتامی کلمات میں سفیر عاصم نے عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر ان مقتدر مقاصد کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مستقل جاری رکھے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے علاقے زیارت میں بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے 9 پولیس اہلکاروں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے مقتدر کارروائی کے دوران 15 بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر پولیس فورس کی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ منگل کو اسلام آباد سے جاری کردہ ایک مقتدر تعزیتی بیان میں وزیر داخلہ نے شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا کی ہے۔
محسن نقوی نے مقتدر شہدا کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں اور ان کی ان لازوال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دو ٹوک اور تزویراتی انداز میں واضح کیا کہ دشمن عناصر یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ ایسے بزدلانہ حملے ملک میں امن و امان کو کسی صورت سبوتاژ نہیں کر سکتے اور دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ کو ہر قیمت پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے مقتدر بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر پوری پولیس ٹیم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ غیور پاکستانی قوم اور ہماری مقتدر سکیورٹی فورسز دشمن کی جانب سے امن کو سبوتاژ کرنے کی ہر سازش اور ناپاک کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح متحد اور پرعزم ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے علاقے زیارت میں فتنہ الخوارج کی جانب سے پولیس چوکی پر کیے گئے بزدلانہ دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ایس ایچ اوز سمیت تمام پولیس اہلکاروں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ منگل کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم نے مقتدر شہدا کے درجات کی بلندی اور ان کے سوگوار اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا کی ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حملے کے بعد کیے گئے کامیاب کلیئرنس آپریشن میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں 15 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر فورسز کے مقتدر جوانوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے اپنے مقتدر بیان میں واضح کیا کہ فتنہ الخوارج کے اس حملے نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ گمراہ لوگ بلوچستان کی تعمیر و ترقی، امن اور معصوم عوام کی خوشحالی کے کھلے دشمن ہیں۔ انہوں نے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مقتدر شہدا کی یہ عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔ وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی شرپسند عنصر کو بلوچستان کے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور امن دشمن دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک ان کے خلاف یہ مقتدر جنگ پوری قوت سے جاری رہے گی۔
وفاقی وزیرِ برائے تجارت جام کمال خان نے کراچی میں رکنِ قومی اسمبلی (ایم این اے) میر اعجاز خان جکھرانی کی رہائش گاہ پر جا کر ان کے جوان سال صاحبزادے میر زاہد خان جکھرانی کے بے وقت انتقال پر گہرے دکھ، افسوس اور دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ منگل کے روز جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وفاقی وزیر نے تعزیتی ملاقات کے دوران مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی فاتحہ خوانی کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ اور مقتدر مقام عطا فرمائے۔
جام کمال خان نے سوگوار خاندان سے گہری ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی باپ کے لیے اس کے جوان بیٹے کا دنیا سے بچھڑ جانا ایک انتہائی بڑا، کمر توڑ اور ناقابلِ تلافی صدمہ ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میر اعجاز خان جکھرانی اور تمام اہلِ خانہ کو یہ عظیم صدمہ ہمت کے ساتھ برداشت کرنے کا حوصلہ اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ واضح رہے کہ میر اعجاز خان جکھرانی کے صاحبزادے میر زاہد خان جکھرانی محض 22 برس کی عمر میں کراچی کے ایک مقامی ہسپتال میں کچھ عرصے تک زیرِ علاج رہنے کے بعد خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے۔
وزارتِ مذہبی امور نے بتایا ہے کہ رواں حج سیزن کے لیے رجسٹریشن کے آغاز کے محض پندرہ دنوں کے اندر رجسٹرڈ عازمینِ حج کی مجموعی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ گزشتہ روز ریکارڈ 12 ہزار 880 عازمین نے گھر بیٹھے اپنی ڈیجیٹل حج رجسٹریشن کا عمل کامیابی سے مکمل کیا۔ منگل کے روز وزارتِ مذہبی امور کے مقتدر ترجمان عمر بٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، حج پورٹل یا مخصوص موبائل ایپلی کیشن ’’پاک حج‘‘ کے ذریعے رجسٹریشن کا یہ مقتدر عمل سائلین کے لیے نہایت آسان اور باسہولت بنا دیا گیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ یہ نظام وزیراعظم کے وژن کے مطابق ‘ڈیجیٹل پاکستان’ کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کی جانب ایک انتہائی اہم اور تزویراتی قدم ہے۔
وزارتِ مذہبی امور نے اپنے اگلے انقلابی مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ مستقبل قریب میں حج کے تمام تر واجبات بھی مکمل طور پر آن لائن وصول کیے جائیں گے۔ نیشنل آئی ٹی بورڈ کا تیار کردہ یہ جدید ‘حج مینجمنٹ سسٹم’ عازمینِ حج اور وزارت کے درمیان بلا تعطل رابطے کا ایک آسان اور شفاف ترین ذریعہ بن چکا ہے۔ اب تک کے مقتدر اعداد و شمار کے مطابق، مجموعی عازمین میں سے ایک لاکھ 87 ہزار افراد نے سرکاری حج سکیم جبکہ 63 ہزار افراد نے پرائیویٹ حج سکیم کا انتخاب کیا ہے۔ رجسٹرڈ ہونے والے عازمینِ حج کی تعلیمی قابلیت بھی مقتدر حد تک نمایاں ہے، جن میں 3 ہزار پی ایچ ڈی ہولڈرز، 45 ہزار ماسٹرز اور 60 ہزار بیچلرز ڈگری کے حامل اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری شامل ہیں۔ عمر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو 33 سے 44 سال کی عمر کے عازمینِ حج 76 ہزار کی ریکارڈ تعداد کے ساتھ سب سے نمایاں گروپ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مختلف کثیرالجہتی اقدامات میں پاکستان کی جاری فعال شمولیت اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی ہے۔ منگل کے روز دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم کو مستقبل قریب میں منعقد ہونے والے مختلف اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی پروگراموں اور کانفرنسوں کی تیاریوں کی اب تک کی پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔
سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان کے مسلسل اور پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے اصولی و تزویراتی مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے حوالے سے وزارتِ خارجہ کے حکام کو ضروری اور مقتدر ہدایات جاری کیں۔ اسلام آباد میں منعقدہ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ، سپیشل سیکرٹری (اقوامِ متحدہ)، ایڈیشنل سیکرٹری (ایشیا پیسیفک) اور وزارتِ خارجہ کے دیگر سینئر سفارتی حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی برآمدات میں تیز رفتار اضافے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کو بینکوں سے قرضوں کی فراہمی میں ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایس ایم ایز کی ترقی کی راہ میں حائل دیرینہ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تزویراتی اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ سمیڈا ملکی نوجوانوں اور ویمن انٹرپرینیورز (خواتین کاروباریوں) کو چھوٹے و درمیانے درجے کی نئی صنعتیں لگانے میں فعال معاونت فراہم کرے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز یہاں اسلام آباد میں سمیڈا کی کارکردگی اور فروغ کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس مقتدر اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے ذاتی طور پر شرکت کی، جبکہ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور صنعت کے مقتدر ماہرین نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کر کے اپنی آراء کا اظہار کیا۔ اجلاس کے دوران سمیڈا حکام کی جانب سے ملک بھر میں ایس ایم ایز کی سہولت اور استعداد کار بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے بریفنگ کا جائزہ لینے کے بعد خصوصی ہدایت کی کہ ایس ایم ایز کی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، بالخصوص ملکی کسانوں کی اجناس و پھلوں کی جدید پراسیسنگ (ویلیو ایڈیشن) کے لیے انہیں تکنیکی آگاہی اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کے حوالے سے تمام تر سہولیات یکجا کی جائیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو قرضوں کی آسان فراہمی کے حوالے سے خصوصی اور پرکشش پراڈکٹس کی تیاری کی حوصلہ افزائی کی جائے، جبکہ نئے کاروباریوں کو فزیبلٹی رپورٹس کی تیاری اور دیگر ابتدائی مراحل میں مکمل پیشہ ورانہ مدد فراہم کی جائے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تمام کمرشل بینکوں کے ساتھ مل کر ایک جامع اور فول پروف لائحہ عمل مرتب کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ ایس ایم ایز کی قرضوں تک رسائی کو ہر سطح پر آسان بنایا جا سکے۔ اجلاس کو مقتدر حکام نے بتایا کہ پاکستانی ایس ایم ایز کی عالمی منڈی تک رسائی اور ملکی برآمدات کو بڑھانے کے لیے رواں برس 700 سے زائد ایس ایم ایز کی 16 بین الاقوامی ایونٹس میں شرکت کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے 35 بڑے شہروں میں ایس ایم ایز کو مالی ضابطوں، ٹیکسیشن اور کاروبار کی جدید تکنیک کے حوالے سے خصوصی ٹریننگ بھی دی گئی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کی ذیلی کمیٹی نے بلوچستان اور پنجاب میں غیرملکی امداد سے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں میں غیرمعمولی تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنانے اور تاخیر کے باعث لاگت میں ہونے والے ہولناک اضافے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لینے کی سخت ہدایت کی ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، ذیلی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پیر کے روز اسلام آباد میں سینیٹر سید وقار مہدی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں پنجاب اور بلوچستان میں غیرملکی مالیاتی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی اور سرسری جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران بلوچستان کے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) کے اعلیٰ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں غیرملکی امداد کی بدولت 11 مختلف اہم شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے مقتدر اراکین کو آگاہ کیا کہ سال 2015ء سے لے کر اب تک غیرملکی معاونت سے مجموعی طور پر 45 بڑے منصوبے شروع کیے گئے، جن میں سے اب تک صرف 14 مکمل ہو سکے ہیں جبکہ باقی ماندہ منصوبے تاحال مختلف تعطل اور مراحل کا شکار ہیں۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے حکام سے استفسار کیا کہ ان اہم ترقیاتی منصوبوں میں اتنی طویل تاخیر کی بنیادی اور اصل وجوہات کیا ہیں؟ جس پر محکمہ پی اینڈ ڈی کے حکام نے بتایا کہ منصوبوں میں تاخیر کی پانچ بڑی وجوہات ہیں، جن میں بعض اوقات ڈونر ایجنسیوں سے متعلق پیچیدہ معاملات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس موقع پر سینیٹر روبینہ خالد نے سخت سوال اٹھایا کہ کیا حکام کا مطلب یہ ہے کہ عالمی بینک (ورلڈ بینک) کی جانب سے منصوبوں میں تاخیر کی جاتی ہے؟ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں ان کا تجربہ یہ رہا ہے کہ عالمی بینک کے مالی تعاون سے چلنے والے منصوبوں میں کبھی بھی کسی قسم کی تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
بلوچستان کے ایڈیشنل سیکرٹری پلاننگ نے معاملے کی مقتدر وضاحت کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اصل مسئلہ بیرونی ڈونر ایجنسیوں کا نہیں بلکہ خود ملکی سرکاری اداروں کی جانب سے خریداری (پروکیورمنٹ) کا عمل بروقت مکمل نہ ہونے کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیرملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں میں بین الاقوامی سخت قواعد و ضوابط کے مطابق پروکیورمنٹ کا عمل درکار ہوتا ہے، جسے ہمارے متعلقہ محکمے اکثر مقررہ وقت میں مکمل کرنے سے قاصر رہتے ہیں، جس کے باعث پورے منصوبے تاخیر کی نذر ہو جاتے ہیں۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے جب منصوبوں میں تاخیر کے باعث لاگت میں ہونے والے اضافے کا پوچھا تو حکام نے ایک حیران کن مثال دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں محض 24 کلومیٹر طویل ایک سڑک کے منصوبے کی ابتدائی لاگت 54 کروڑ روپے طے کی گئی تھی، جو محکموں کی سستی اور تاخیر کے باعث اب بڑھ کر 2 ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ ذیلی کمیٹی نے اس غیرمعمولی مالیاتی نقصان اور لاگت میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو غیرملکی امداد سے جاری تمام منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار کو فوری بہتر بنانے، پروکیورمنٹ کے پورے نظام کو فول پروف و موثر بنانے اور عوامی وسائل کے مزید ضیاع کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات اٹھانے کا مقتدر حکم جاری کیا۔
محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں مون سون بارشوں کے تناظر میں ایک ہنگامی انتباہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق پیر کی رات اور منگل کے روز متوقع موسلادھار بارشوں کے باعث بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خدشہ ہے۔ مقتدر الرٹ کے مطابق، ان شدید بارشوں کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد کے نشیبی و شہری علاقے زیرِ آب (اربن فلڈنگ) آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تیز آندھی، جھکڑ چلنے اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات خصوصاً سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور بل بورڈز کو شدید نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے ماہرین کے مطابق، موجودہ موسمی صورتحال کے پیشِ نظر بحیرہ عرب سے نم آلود اور مرطوب ہوائیں مسلسل ملک کے بالائی علاقوں کا رخ کر رہی ہیں، جبکہ خلیجِ بنگال سے بھی مرطوب ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ آج رات سے شمال مشرقی علاقوں میں داخل ہونے کا واضح امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی مغربی ہواؤں کی ایک لہر ملک کے بالائی حصوں پر پہلے سے موجود ہے، جو کل سے وسطی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں موسم شدید مرطوب رہنے کی توقع ہے، تاہم کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار اور جنوب مشرقی سندھ میں چند مقامات پر تیز ہواؤں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ اس دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری کی بھی پیشگوئی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کل منگل کے روز کشمیر، خیبر پختونخوا، پنجاب، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بادل برسیں گے، جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور حبس زدہ رہے گا، تاہم جنوبی اضلاع میں دن کے اوقات میں مقتدر حد تک شدید گرمی پڑے گی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا، تاہم شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور بالائی خیبر پختونخوا میں چند مقامات پر بارش ریکارڈ کی گئی۔ سب سے زیادہ بارش پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں 27، سیالکوٹ ایئرپورٹ پر 22، دیر میں 22، کاکول میں 16، پٹن میں 15 اور مظفر آباد سٹی میں 14 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ پیر کے روز ملک میں سب سے زیادہ درجہ حرارت سبی اور دادو میں 48 ڈگری سینٹی گریڈ، جبکہ جیکب آباد، نوکنڈی اور دالبندین میں 47 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پیر کے روز ایک خصوصی ویب پورٹل اور موبائل ایپلی کیشن ایکو سسٹم ’’انویسٹ پاک‘‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس جدید ترین ڈیجیٹل پورٹل کو حکومتِ پاکستان کے تمسکات (سرکاری سیکیورٹیز) میں مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں سرمایہ کاری کے لیے ریٹیل (انفرادی) اور کارپوریٹ صارفین کی ضروریات کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ پورٹل کے تزویراتی آغاز کے ساتھ ہی اسٹیٹ بینک نے ایک جامع ملک گیر میڈیا مہم کا بھی آغاز کیا ہے تاکہ ریاستی ڈیٹ مارکیٹ میں خوردہ صارفین کی وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے اور اس حوالے سے عوامی آگاہی کو بڑھایا جائے۔ اسٹیٹ بینک کے کراچی دفتر میں منعقدہ اس باوقار افتتاحی تقریب کی میزبانی گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کی جبکہ تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب تھے۔
افتتاحی تقریب میں اسٹیٹ بینک کی مقتدر سینئر قیادت، ملک بھر کے بینکوں کے صدور، ممتاز کارپوریٹ اداروں، سرمایہ کار کمپنیوں، میوچل فنڈز کے سربراہان اور بینکاری و مالیاتی صنعت کی نمایاں شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کے ڈیجیٹل لحاظ سے فعال اور مالی شمولیت پر مبنی معیشت کے وژن کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی کے فروغ میں اسٹیٹ بینک کے سرگرم اور تزویراتی کردار کو بے حد سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ’انویسٹ پاک‘ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مقتدر نظام کو جمہوری بنانے کی سمت میں ایک فیصلہ کن اقدام ہے جس کے ذریعے عام شہریوں، خصوصاً نوجوانوں، کارپوریٹ اور دیگر اداروں کو محفوظ ترین ریاستی سرمایہ کاری کے مواقع تک براہِ راست ڈیجیٹل رسائی فراہم کی گئی ہے۔ اس اقدام سے باضابطہ مالیاتی شعبے میں عوام کی شرکت زیادہ آسان، زیادہ شمولیتی اور معاشرے کے ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی ہو جائے گی۔ نجی شعبے کو قرض دینے پر اس اقدام کے مثبت اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھنے سے بینکوں کو اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی نجی شعبے کو قرضے دینے پر توجہ مرکوز کرنے اور پیداواری معاشی سرگرمیوں کی اعانت کرنے میں بھرپور مدد ملے گی۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ ’انویسٹ پاک‘ پاکستان کے مالیاتی منظرنامے کے ارتقاء میں ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پلیٹ فارم اسٹیٹ بینک کے سٹریٹجک وژن 2028ء کے تحت ہر شخص تک مالی خدمات کو آسان، پائیدار اور ڈیجیٹل طریقے سے پہنچانے کے مقتدر عزم کی عکاس ہے۔ گورنر نے انویسٹ پاک کو محض ایک ٹیکنالوجی پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک دیرینہ خواب کی تعبیر قرار دیا جس کا مقصد سرکاری تمسکات کی ایک ایسی مارکیٹ کا قیام ہے جو جامع، موثر اور ہر چھوٹے بڑے سرمایہ کار کے لیے قابلِ رسائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ انویسٹ پاک کا آغاز پاکستان بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ڈیجیٹل رسائی اور انہیں مالی طور پر بااختیار بنانے کے ایک نئے دور کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔ ملک گیر میڈیا مہم کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ صرف ٹیکنالوجی سے رویوں میں تبدیلی نہیں آتی، بلکہ آگاہی اس تبدیلی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا اور ایف ایم ریڈیو کے ذریعے ایک مربوط آگاہی مہم چلائے گا تاکہ سرکاری تمسکات میں سرمایہ کاری پر بات چیت گھر گھر میں ہونے لگے۔
گورنر نے اعادہ کیا کہ اسٹیٹ بینک خودکاریت، شفافیت اور بہترین بین الاقوامی روایات کو اپنا کر مارکیٹ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے عزم پر سختی سے قائم رہے گا۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ انویسٹ پاک کو ایک مشترکہ قومی اقدام کے طور پر اپنائیں۔ توقع ہے کہ اس پلیٹ فارم سے روایتی کاغذی کارروائی میں نمایاں کمی آئے گی، شفافیت میں اضافہ ہوگا اور گھروں و دفاتر سے سرکاری تمسکات تک بآسانی رسائی میں مدد ملے گی جس سے انفرادی سرمایہ کاروں، خواتین سرمایہ کاروں، چھوٹی بچت کرنے والوں اور کارپوریٹ اداروں کو یکساں فائدہ پہنچے گا۔ اس سسٹم میں شریک مالیاتی اداروں کو پاکستانی روپے اور آئی پی ایس کے متعدد اکاؤنٹس سنبھالنے کے لیے ایک ہمہ گیر انٹرفیس بھی فراہم کیا گیا ہے جس سے انہیں سہولت اور پورٹ فولیو کی بہتر وزیبیلیٹی دستیاب ہوگی۔ عوام میں اس کی قبولیت کو بڑھانے اور صارفین کے مسائل فوری حل کرنے کے لیے ویب پورٹل اور موبائل ایپ کے ساتھ ساتھ ایک خصوصی ’انویسٹ پاک کال سینٹر‘ اور آن لائن سپورٹ سسٹم بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک مقتدر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ملکی فوجداری نظامِ انصاف میں کسی بھی ملزم کو محض قیاس آرائی، عمومی قسم کے الزامات یا مضبوط شبہات کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی، بلکہ استغاثہ پر قانونی طور پر لازم ہے کہ وہ مبینہ جرم کو ہر معقول شک سے بالاتر ہو کر قابلِ اعتماد اور ناقابلِ تردید شواہد سے ثابت کرے۔ عدالتی رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ مقتدر تحریری فیصلے کے مطابق، معزز جج جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے کراچی کے مشہور بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس میں 39 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے مرکزی ملزمان محمد زبیر عرف چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحہ بلاشبہ ملکی تاریخ کے المناک ترین اور افسوسناک ترین واقعات میں سے ایک تھا، جس میں 264 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں معصوم افراد شدید زخمی ہوئے، تاہم ایسے حساس اور بڑے مقدمات میں بھی قانون کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ سزا صرف اور صرف مضبوط، ٹھوس اور قابلِ اعتماد ثبوتوں کی بنیاد پر ہی دی جائے۔ تحریری فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ واقعے کی ابتدائی معلوماتی رپورٹ (ایف آئی آر) میں فیکٹری مالکان اور انتظامیہ کو حفاظتی انتظامات میں مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، تاہم تقریباً اڑھائی سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو جان بوجھ کر کیمیکل کی مدد سے آگ لگانے کی ایک بالکل نئی کہانی سامنے لائی گئی، جسے استغاثہ بعد میں معتبر عدالتی شواہد سے ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔
سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں مزید قرار دیا کہ ملزم عبدالرحمان عرف بھولا کا بعد میں واپس لیا گیا عدالتی اعترافِ جرم کسی بھی آزاد اور مضبوط شہادت سے ثابت نہیں ہو سکا، جبکہ اس کا یہ بیان گرفتاری کے 9 روز بعد ریکارڈ کیا گیا تھا اور اس غیر معمولی تاخیر کی بھی کوئی قابلِ قبول قانونی وضاحت عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔ عدالتِ عظمیٰ نے تکنیکی پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فرانزک شواہد سے بھی یہ ثابت نہیں ہو پایا کہ فیکٹری میں آگ لگانے کے لیے کسی مخصوص کیمیکل کا استعمال کیا گیا تھا۔ اسی طرح ہولناک سانحے میں معجزاتی طور پر زخمی ہونے والے عینی شاہدین نے بھی ملزمان کے خلاف عدالت میں کوئی براہِ راست بیان قلمبند نہیں کرایا، جبکہ فیکٹری میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی اصل ریکارڈنگ بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی، جو استغاثہ کے بنائے گئے مقدمے میں ایک بہت بڑا اور اہم ترین خلاء ہے۔
عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا کسی مخصوص طبقے کو عمومی الزامات یا محض مفروضوں کی بنیاد پر موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ فوجداری مقدمات کا سنہری اصول ہے کہ ہر الزام کا ثبوت ٹھوس، قانونی طور پر قابلِ قبول اور مقررہ معیار پر پورا اترنے والے شواہد سے فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے آخر میں قرار دیا کہ چونکہ استغاثہ ملزمان کے خلاف اپنا مقدمہ معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، لہٰذا مروجہ قانون کے مطابق دونوں ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے عزت کے ساتھ بری کیا جاتا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے باوقار عہدے کی مضبوط امیدوار اور ایکواڈور کی سابق وزیرِ خارجہ ماریا فرنانڈا ایسپینوسا نے پیر کے روز یہاں اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی ہے۔ دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے معزز مہمان کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ سمیت عالمی امور میں اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کو مستقبل میں مزید مضبوط اور فعال بنانے کے لیے پاکستان کی جانب سے بھرپور حمایت کا پختہ اعادہ کیا۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے اس اہم موقع پر امید ظاہر کی کہ اقوامِ متحدہ کے آئندہ منتخب ہونے والے سیکرٹری جنرل عالمی ادارے کے ڈھانچے میں انتہائی ضروری اصلاحات متعارف کرائیں گے اور سلامتی کونسل کی دیرینہ التواء کا شکار قراردادوں، بالخصوص مظلوم فلسطین اور جموں و کشمیر سے متعلق مقتدر قراردادوں پر مؤثر و منصفانہ عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے، جو اس وقت مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے خطوں میں پائیدار عالمی امن کے قیام کے لیے نہایت ناگزیر ہیں۔
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے ملکی عزم کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی مقاصد اور زریں اصولوں کے فروغ، بین الاقوامی قانون اور سفارتی معاہدات کے مکمل احترام سمیت عالمی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے فعال بین الاقوامی تعاون کو آگے بڑھانے میں اپنا مثبت اور تاریخی کردار ہمیشہ کی طرح جاری رکھے گا۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پروٹیکٹریٹ آف امیگریشن کے تمام تر روایتی نظام کو فوری طور پر ڈیجیٹل کرنے اور بیرونِ ملک قائم پاکستانی سفارتخانوں کو بین الاقوامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افرادی قوت انتہائی باصلاحیت ہے اور حکومت ان کو بین الاقوامی معیار کی فنی تعلیم اور عالمی مارکیٹ تک رسائی دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملکی نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس پیر کے روز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین نیوٹیک راجا قمر الاسلام، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانی سفارتخانوں کو ہدایت کی کہ وہ پاکستانی افرادی قوت کے لیے موزوں روزگار کے مواقع کی تلاش کے عمل میں تیزی لائیں، جبکہ افرادی قوت بالخصوص نوجوانوں کو سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت، نیوٹیک اور یوتھ پروگرام کے تحت مختلف اہم ہنر اور بین الاقوامی زبانوں کے کورسز مع تصدیق شدہ اسناد فراہم کرنا یقینی بنائیں۔ وزیراعظم نے پاکستانی اسناد کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مختلف ممالک سے روابط مضبوط کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن ترقی یافتہ ممالک میں پاکستانی ہنرمند افراد کے لیے روزگار کی گنجائش موجود ہے، وہاں کی مقامی زبان کی تعلیم اور سرٹیفیکیشنز کو لازمی بنایا جائے۔ انہوں نے نیوٹیک کے تحت تکنیکی و فنی تربیت کے اداروں کی مجموعی کارکردگی اور مخصوص ممالک کے لیے قائم کیے جانے والے مراکز کی پیشرفت پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو افرادی قوت بالخصوص نوجوانوں کے لیے اندرون و بیرونِ ملک روزگار کے مواقع پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ حکومت کے ڈیجیٹل یوتھ ہب میں اب تک 8 لاکھ سے زائد نوجوان کامیابی سے رجسٹر ہو چکے ہیں۔ اس وقت بیرونِ ملک تعمیرات، زراعت، سیاحت، صحت، ٹرانسپورٹ، بائیوٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، نرسنگ، ادویہ سازی، اشیائے خوردونوش کی تیاری اور جہاز سازی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ بریفنگ کے مطابق، ان تمام اہم شعبوں میں پاکستانیوں کو کھپانے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام باقاعدگی سے جاری ہیں، جبکہ سمندر پار متعین پاکستانی سفارتخانے مختلف ممالک میں میسر ملازمتوں اور ان کے لیے درکار اہلیت کا تمام تر ڈیٹا ڈیجیٹل یوتھ ہب پورٹل پر باقاعدگی سے فراہم کریں گے تاکہ نوجوانوں کو براہِ راست رسائی حاصل ہو سکے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے محتسب سیکرٹریٹ کے درمیان پیر کے روز ایک اہم اور تزویراتی مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کیے گئے ہیں۔ اس تاریخی معاہدے کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق، خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ، پارلیمانی نظام میں ان کی موثر شمولیت کے فروغ، مقامِ کار پر خواتین کو ہراسگی سے تحفظ فراہم کرنے والے سال 2010ء کے قانون کے موثر نفاذ، جائے ملازمت پر تحفظ اور پارلیمانی روابط سے متعلق تمام اہم امور میں باہمی ادارہ جاتی تعاون، رابطہ کاری اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، اس مفاہمتی یادداشت کے تحت معلومات کے تبادلے، ملازمین کی استعداد کار میں اضافے، باہمی مشاورت اور تکنیکی معاونت کے لیے ایک جامع مشترکہ فریم ورک وضع کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس امر کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ دونوں مقتدر اداروں کے آئینی دائرہ اختیار، ادارہ جاتی خودمختاری اور پارلیمانی مراعات کا مکمل احترام ہر سطح پر برقرار رکھا جائے۔ اس اہم معاہدے کے تحت خواتین کی پارلیمانی کاکس کے ساتھ تعاون کے دائرے کو بھی مزید وسعت دی جائے گی تاکہ عوامی آگاہی میں اضافہ، قانون سازی پر موثر عمل درآمد اور باہمی مکالمے کے ذریعے خواتین کے حقوق کی نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ مفاہمتی یادداشت دونوں مقتدر اداروں کے اس مشترکہ عزم کی عکاس ہے کہ مربوط کوششوں کے ذریعے خواتین کے حقوق، بہتر طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ اس مقتدر تقریب کے دوران قائم مقام سیکرٹری قومی اسمبلی سعید احمد اور محتسب حکومتِ خیبر پختونخوا بیرسٹر رباب مہدی نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس موقع پر سیکریٹری برائے خصوصی اقدامات سید شمعون ہاشمی، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور صوبائی محتسب خیبر پختونخوا کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
لاہور ہائیکورٹ نے والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی ایک بیٹی کی درخواست کو قانونی طور پر ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مستقل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کے معزز جج جسٹس جواد ظفر نے درخواست گزار ایمان فاطمہ کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر تفصیلی سماعت کی، جس میں تحفظِ امن کے عہدیدار (جسٹس آف پیس) کی جانب سے والدین پر مقدمے کے اندراج کی درخواست مسترد کیے جانے کے پرانے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
مقتدر عدالتی کارروائی کے دوران درخواست گزار ایمان فاطمہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ اپنے خاوند سے شدید ناچاقی اور لڑائی جھگڑے کے بعد وہ عارضی طور پر اپنے والدین کے گھر منتقل ہو گئی تھی اور اس کٹھن دورانئے میں اس نے اپنے شوہر سے جہیز اور قیمتی زیورات کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ میں ایک مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔ تاہم، بعد ازاں دونوں فریقین اور میاں بیوی میں باقاعدہ صلح ہو گئی، جس کے بعد وہ دوبارہ اپنے خاوند کے گھر جا کر ہنسی خوشی رہنے لگی۔ درخواست گزار کے مطابق اس صلح کے بعد جب وہ اپنے والدین کے گھر سے اپنے زیورات واپس لینے گئی تو انہوں نے زیورات لوٹانے سے صاف انکار کر دیا۔ اسی تنازع پر تحفظِ امن کے عہدیدار نے دس جون دو ہزار چھبیس کو والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی بیٹی کی پہلی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ ہائیکورٹ میں دائر اس نئی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ نچلی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر والدین کے خلاف چوری یا امانت میں خیانت کا مقدمہ درج کرنے کا مقتدر حکم جاری کیا جائے۔
لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج نے وکلاء کے تفصیلی دلائل سننے اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد درخواست گزار ایمان فاطمہ کی اپنے ہی والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی اس استدعا کو قانون کے مقتدر اصولوں کے منافی اور ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا اور نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔