پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کا لانگ مارچ: اسلام آباد ہائی کورٹ کا کے پی کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو حلف نامہ جمع کروانے کا حکم

کاشف عباسی , September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی طرف 27 ستمبر کو ممکنہ لانگ مارچ کو روکنے سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری اور صوبائی پولیس سربراہ (آئی جی) کو حکم دیا ہے کہ وہ پیر کے روز تک عدالت عالیہ میں باضابطہ بیان حلفی جمع کروائیں کہ اس سیاسی احتجاج کے دوران صوبائی حکومت کی سرکاری مشینری کسی سیاسی مقصد یا پارٹی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے لانگ مارچ کو روکنے اور سیکیورٹی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے آغاز میں خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار پر شدید آئینی اعتراضات اٹھائے۔

ایڈووکیٹ جنرل کے پی شاہ فیصل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار آئین اور ایکٹ کے تحت صرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود تک محدود ہے، لہٰذا پنجاب، سندھ، بلوچستان یا خیبر پختونخوا کے افسران کو احکامات جاری کرنا یا انہیں ذاتی حیثیت میں طلب کرنا اس عدالت کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ تمام صوبوں کے اعلیٰ افسران کو طلب کرے گی تو یہ دیگر صوبائی ہائی کورٹس اور صوبائی خود مختاری کے دائرہ اختیار میں مداخلت شمار ہوگی۔

کے پی حکومت کے وکیل نے درخواست گزار کی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا کہ لانگ مارچ ابھی شروع ہی نہیں ہوا تو درخواست گزار کیسے متاثرہ فریق بن گیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ اس درخواست میں صرف ایک مخصوص سیاسی جماعت پی ٹی آئی کو ہدف بنایا جا رہا ہے، جبکہ لانگ مارچ دیگر جماعتیں بھی کرتی رہی ہیں۔ شاہ فیصل نے وفاقی حکومت کی جانب سے احتجاج سے قبل ہی راستے بند کرنے اور کے پی ہاؤس کے باہر کنٹینرز لگانے کے اقدام پر بھی عدالت سے نوٹس لینے کی استدعا کی اور اس سے متعلق ویڈیو ثبوت پیش کرنے کی پیشکش کی۔

سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے مشاورت کی ہے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وزیراعلیٰ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی جماعت کے رکن ہیں، تاہم انہیں جماعت سے زیادہ ریاست کے ساتھ مخلص ہونا چاہیے۔ کے پی کے چیف سیکرٹری نے جب احتجاج کو سیاسی سرگرمی قرار دیا تو چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کو بھی سیاسی سرگرمی کہا جائے گا؟

کیس کی سماعت کے دوران عدالت کے معاون اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں نقطہ اٹھایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے سال 2022ء اور 2024ء میں بھی اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے لانگ مارچ کے حوالے سے جاری کردہ احکامات و ضمانتوں کی کھلی خلاف ورزی کی تھی۔

فاضل بینچ نے تمام فریقین کے ابلاغ کو سننے کے بعد کے پی کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو پیر تک سرکاری مشینری کے عدم استعمال کا حلف نامہ جمع کروانے کی ہدایت کی، جبکہ دیگر تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کو آئندہ سماعت پر ذاتی پیشی سے استثنیٰ دے دیا۔

موسمیاتی چیلنجز اور ذمہ دارانہ صحافت: پاکستان ریڈ کریسنٹ اور جرمن ریڈ کراس کے تعاون سے دو روزہ نیشنل کلائمیٹ جرنلزم ٹریننگ ورکشاپ اختتام پذیر

کاشف عباسی , September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (ہلال احمر پاکستان) کے کلائمیٹ چینج ایڈاپٹیشن اور میڈیا اینڈ کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹس کے زیر اہتمام جرمن ریڈ کراس کے خصوصی تعاون سے منعقدہ دو روزہ نیشنل کلائمیٹ جرنلزم ٹریننگ ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی ہے۔

اس دو روزہ قومی تربیتی ورکشاپ میں گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کے موسمیاتی خطرپذیری کا شکار اضلاع سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد نمائندہ صحافیوں اور فیلڈ رپورٹرز نے متحرک شرکت کی۔

ورکشاپ کے ابتدائی سیشنز میں پاکستان ریڈ کریسنٹ کے نمائندگان سجاد علی کندھیر اور مرتضیٰ تالپور نے تربیتی مقاصد پر بریفنگ دی، جبکہ جرمن ریڈ کراس کے آصف امان اور پروگرام کوآرڈینیٹر غلام رسول فاروقی نے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے ماحول اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ذمہ دارانہ اور اثر انگیز صحافت کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ مزید برآں، ادارے کے ہیڈ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن شیر زمان نے ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ موومنٹ کی تاریخ، مینڈیٹ اور بالخصوص پاکستان میں جاری انسانی خدمات پر تفصیلی پریزنٹیشن دی، جس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریحان علی نے معاونت فراہم کی۔

تربیتی نشستوں کے دوران ماحول اور موسمیاتی امور کی ماہر صحافی انیبہ وقار نے موسمیاتی سائنس، سٹوری ڈویلپمنٹ، کلائمیٹ پالیسی اور تحریری مشقوں پر خصوصی سیشنز کا انعقاد کیا، جبکہ براڈکاسٹ جرنلسٹ عبدالرزاق کھٹی نے جدید موبائل جرنلزم (MoJo) کے تکنیکی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ورکشاپ میں کلائمیٹ ڈیٹا جرنلزم، روزمرہ کی خبروں کے موسمیاتی زاویے اور انسانی مرکز کہانیوں کی تشکیل پر عملی کام کروایا گیا اور صحافیوں کو ماہرین سے براہِ راست فیڈ بیک فراہم کیا گیا۔

اس موقع پر چیئرپرسن ہلال احمر پاکستان فرزانہ نائیک نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ موسمیاتی اقدامات کی شروعات ایسے پائیدار حل سے ہونی چاہیے جو مقامی آبادیوں کی حقیقی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ انہوں نے صحافیوں کی کارکردگی اور Capacity Building کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا نمائندگان متاثرہ کمیونٹیز کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچانے کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔

سیکرٹری جنرل ہلال احمر پاکستان محمد عبیداللہ خان نے اختتامی گفتگو میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں ملک بھر میں عام شہریوں کے روزگار، صحت اور انسانی زندگیوں کو شدید متاثر کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے درست اور حقائق پر مبنی کلائمیٹ رپورٹنگ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافیوں کی استعداد کار میں اضافے سے پالیسی سازوں اور متاثرہ عوام کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

بانیِ پاکستان قائداعظمؒ کی دیانت، اصول پسندی اور قومی عزم آج بھی ہماری مشعلِ راہ ہے: وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

منصور احمد,September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی برسی کے موقع پر اپنے ایک خصوصی اور پرعزم پیغام میں کہا ہے کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی سچی دیانت، بے مثال اصول پسندی اور غیر متزلزل قومی عزم آج بھی ملک و قوم کی درست سمت میں رہنمائی کے لیے بنیادی سرچشمہ اور مشعلِ راہ ہیں۔

وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے بانیِ پاکستان کے یومِ وفات کی مناسبت سے جاری کردہ رسمی بیان میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بابائے قوم کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بانیٔ پاکستان کی ان گنت خدمات، بصیرت اور تاریخی قربانیوں کو دنیا کی تاریخ ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظمؒ کا پیش کردہ تصورِ پاکستان ایک بنیادی طور پر مضبوط، خوددار، جدید، خودمختار، ہر شعبے میں ترقی یافتہ اور خوشحال ریاست کی کامل عکاسی کرتا تھا۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بابائے قوم کی لازوال قیادت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے برصغیر کے منتشر مسلمانوں کو ایک واحد اور واضح مقصد کے پرچم تلے متحد کر کے آزادیِ ہند اور قیامِ پاکستان کی عظیم جدوجہد کو کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بابائے قوم کا یومِ وفات پوری قوم کے لیے قائداعظمؒ کی لازوال قومی خدمات، تاریخی سرفروشی اور عظیم جدوجہد کو تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے دیے گئے بلند افکار و نظریات پر ازسرنو غور کرنے کا ایک انتہائی اہم موقع فراہم کرتا ہے۔

وفاقی وزیر نے ملک کو درپیش معاشی و انتظامی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظمؒ کے سنہری فرمودات پر روح کے مطابق عمل درآمد ہی اس وقت پاکستان کو درپیش تمام درپیش معاشی و سیاسی چیلنجز سے بحفاظت نکالنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی اتحاد، مضبوط نظم و ضبط اور قانون کی بلا تفریق پاسداری قائد اعظمؒ کے حقیقی پاکستان کی تعمیر کے سب سے بنیادی اور بنیادی اصول ہیں۔

رانا تنویر حسین نے اپنے پیغام کے اختتام پر تمام شہریوں پر زور دیا کہ تمام تر ذاتی، گروہی اور سیاسی مفادات سے یکسر بالاتر ہو کر قومی یکجہتی، سالمیت اور ملکی ترقی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے خوابوں کی حقیقی تعبیر صرف اور صرف ایک مستحکم، معاشی طور پر خودمختار، مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تشکیل کے ذریعے ہی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس: پاکستان میں 15 اور 16 نومبر کو ہونے والے ای سی او کونسل آف منسٹرز کے اجلاس کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ

کاشف عباسی , September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں رواں سال 15 اور 16 نومبر 2026ء کو منعقد ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے تاریخی کونسل آف منسٹرز اجلاس کی تیاریوں کا تفصیلی اور جامع جائزہ لیا گیا۔

جمعہ کے روز ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کو ای سی او کونسل آف منسٹرز کے متوقع اجلاس کی اب تک کی تیاریوں، مجوزہ ورکنگ پروگرام، اجلاس کے ایجنڈے، رکن ممالک کے وزرائے خارجہ و نمائندگان کی ممکنہ شرکت، لاجسٹکس اور دیگر تمام سفارتی و انتظامی انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ فراہم کی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے آئندہ کونسل آف منسٹرز اجلاس کی انتظامی و سفارتی پیش رفت کا باریک بینی سے احاطہ کیا اور تمام اہم امور پر متعلقہ حکام کو فوری نوعیت کی ضروری ہدایات جاری کیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی اہمیت کو اجاگر کیا اور خطے میں آزادانہ تجارت، مواصلاتی روابط، توانائی کے تعاون اور اقتصادی شراکت داری کے فروغ میں اس تنظیم کے متحرک کردار کو پاکستان کی جانب سے دی جانے والی ترجیحی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام کو واضح طور پر ہدایت کی کہ پاکستان کی میزبان میں منعقد ہونے والے اس بین الاقوامی کونسل آف منسٹرز کے اجلاس کو ہر لحاظ سے نتیجہ خیز، بااثر اور کامیاب بنانے کے لیے تمام تر سیکیورٹی و لاجسٹک انتظامات وقت سے پہلے اور جامع انداز میں مکمل کیے جائیں۔

دفتر خارجہ میں منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سمیت وزارتِ خارجہ کے تمام متعلقہ ڈائریکٹر جنرلز اور اعلیٰ سفارتی افسران نے شرکت کی اور نائب وزیراعظم کو تیاریوں کے مختلف مراحل سے آگاہ کیا۔

زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر رابطے اور شراکت داری کی اشد ضرورت ہے: وزیراعظم شہباز شریف

منصور احمد,September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فی ایکڑ زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافے، زراعت کے روایتی شعبے میں جدت لانے، لائیو سٹاک کی جدید بنیادوں پر ترقی اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور تمام صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر رابطہ، یکسانیت اور مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے اور نئی بین الاقوامی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔

وزیراعظم آفس کے پریس ونگ سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک کے زرعی شعبے کی ترقی اور زرعی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زرعی شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی، خوراک کی خودمختاری اور مجموعی استحکام میں کلیدی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے اور لائیو سٹاک کو منافع بخش بنانے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرونِ ملک تعینات تمام پاکستانی کمرشل افسران عالمی منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے اپنا فعال اور موثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کسانوں کی سہولت کے لیے دستیاب موبائل ایپ سے متعلق آگاہی مہم چلانے اور برآمدات بڑھانے کے لیے مصنوعات میں ‘ویلیو ایڈیشن’ یقینی بنانے کا حکم دیا۔

اجلاس کو دی گئی تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی زرعی برآمدات کا حجم 5.18 ارب ڈالر رہا، جن میں چاول، فشریز، حلال گوشت، آلو، تل، تمباکو، آم اور مکئی نمایاں ترین برآمدی مصنوعات رہیں۔ اجلاس میں زرعی برآمدات کو پائیدار بنانے کے لیے مکمل ‘ویلیو چینز’ تشکیل دینے کی تجویز منظور کی گئی اور نشاندہی کی گئی کہ چین، سعودی عرب، ایران اور خلیجی ممالک پاکستانی زرعی برآمدات کے لیے سب سے اہم اور بڑی مارکیٹس ہیں۔

اجلاس کے دوران نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سکیورٹی کونسل کو مکمل طور پر فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبوں کی باضابطہ نمائندگی کریں گے۔ اس کے علاوہ ملک گیر سطح پر ‘ڈیجیٹل فارمرز ڈائری-ایگری سٹیک’ کی تشکیل کی جدید تجویز پیش کی گئی، جس کے تحت ملک بھر کے تمام کسانوں، زرعی زمینوں کے ریکارڈز، مٹی اور پانی کی جانچ کی تفصیلات کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جائے گا۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بہتر زرعی نتائج اور عالمی معیار کی پابندی کے لیے ‘پاک-گیپ’

کا باقاعدہ نظام نافذ کیا جائے گا، جبکہ زرعی برآمد کنندگان کی ہمت افزائی کے لیے خصوصی زرعی فنانسنگ اور مالیاتی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

اس اہم اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیر مملکت برائے قومی غذائی تحفظ ملک رشید احمد اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

جمعتہ المبارک کے موقع پر پنجاب بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ: آئی جی پنجاب عبدالکریم نے سخت سیکیورٹی اور پٹرولنگ بڑھانے کی ہدایت کر دی

منصور احمد,September 11,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) پنجاب عبدالکریم نے جمعتہ المبارک کے مقدس اور حساس موقع پر لاہور سمیت صوبہ بھر میں عمومی سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت، الرٹ اور فول پروف بنانے کے صریح احکامات جاری کر دیے ہیں۔

پنجاب پولیس کے باضابطہ ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آئی جی پنجاب عبدالکریم نے تمام تمام صوبائی فیلڈ افسران کو سخت ہدایت کی ہے کہ صوبے کی تمام مساجد، مرکزی امام بارگاہوں، صوفیائے کرام کے مزارات، گنجان مارکیٹوں اور دیگر اہم و حساس مقامات کی سیکیورٹی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مساجد، کاروباری مراکز، تجارتی شاہراہوں کے اطراف اور اہم سڑکوں پر پولیس کی موبائل پٹرولنگ اور ڈولفن سکواڈ کی گشت میں فوری اور نمایاں اضافہ کیا جائے۔

آئی جی پنجاب نے صوبہ بھر کے تمام ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز (ڈی پی اوز) اور سینئر پولیس افسران کو خود فیلڈ میں موجود رہنے، فرائض انجام دینے والے اہلکاروں کی چیکنگ کرنے اور سیکیورٹی پلان کے عملی طریقہ کار کا خود جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے تاکہ تشکیل دیے گئے سیکیورٹی پلان پر کامل اور موثر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔

آئی جی پنجاب عبدالکریم نے ایک اہم عوامی خدمت کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد تمام متعلقہ پولیس افسران مساجد کے اندر اور احاطے میں موجود رہ کر عام شہریوں کے مسائل براہِ راست سنیں۔ انہوں نے کہا کہ سینئر پولیس افسران مساجد کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے شہریوں کی دہلیز تک پہنچیں اور ان کی شکایات و مسائل کے فوری حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کریں۔

ڈولفن سکواڈ کی لاہور میں بڑی اور کامیاب کارروائی: شیخوپورہ، اوکاڑہ اور لاہور پولیس کو مطلوب 8 مفرور ملزمان گرفتار

کاشف عباسی , September 11,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ڈولفن سکواڈ نے ایک موثر اور کامیاب سمارٹ آپریشن کے دوران شیخوپورہ، اوکاڑہ اور لاہور پولیس کو سالہا سال سے مطلوب 8 خطرناک اشتہاری اور مفرور ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے یہ تمام 8 ملزمان گزشتہ 8 سال کی طویل مدت سے پنجاب کی مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت سنگین مقدمات میں مسلسل مفرور اور روپوش چلے آ رہے تھے۔

ڈولفن سکواڈ نے لاہور شہر کے مختلف اور حساس علاقوں میں خصوصی “سٹاپ اینڈ سرچ” ڈرائیو اور چیکنگ کارروائی کے دوران ان تمام مفرور ملزمان کو گھیر کر حراست میں لیا۔

لاہور پولیس کے باضابطہ ترجمان کے مطابق عدالتی مفرور اور اشتہاری ملزمان سہیل، سجاول، یاسین اور ان کے دیگر ساتھیوں کو فوری طور پر قانونی اور ضابطے کی مزید سخت کارروائی کے لیے متعلقہ تھانوں کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں سے انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔

ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: افغان خارجی سمیت 4 دہشت گرد ہلاک، وزیر داخلہ محسن نقوی کا خراجِ تحسین

کاشف عباسی , September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے اہم ضلع کرم میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے انتہائی کامیاب اور بروقت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر فورسز کے جوانوں اور کمانڈرز کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع اور سرکاری رپورٹ کے مطابق ضلع کرم میں کی گئی اس کامیاب کارروائی کے دوران خطرناک افغان خارجی سمیت فتنہ الخوارج کے 4 ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔

اپنے ایک اہم مذمتی و تحسینی بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، ملٹری انٹیلی جنس اور بروقت و حتمی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں پرامن فضا قائم کرنے اور امن و امان کی بحالی کے لیے ہماری پاک افواج اور سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیاں اور پیہم کوششیں بلاشبہ لائقِ تحسین اور قابلِ فخر ہیں۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے بہادر اور جری جوان پوری قوم کا حقیقی فخر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا اور تمام سرحدی علاقوں سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل اور حتمی خاتمے تک تمام پاکستانی شہری اپنی بہادر افواج اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔

لاہور کی خصوصی اینٹی ریپ عدالت کا بڑا فیصلہ: 6 سالہ بچی کے ساتھ جنسی استحصال کی کوشش پر ملزم اصغر کو 14 سال قید کی سزا

منصور احمد,September 11,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی خصوصی اینٹی ریپ عدالت نے چھ سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی استحصال اور ریپ کی کوشش کا جرم ثابت ہونے پر ملزم اصغر کو 14 سال قید با مشقت اور 50 ہزار روپے مالی جرمانے کا باضابطہ حکم سنا دیا ہے۔

یہ اہم اور عبرتناک فیصلہ خصوصی اینٹی ریپ عدالت کے فاضل ایڈیشنل سیشن جج ظفر یاب چدھڑ نے کیس کا مکمل ٹرائل اور دلائل مکمل ہونے کے بعد سنایا۔

اس افسوسناک واقعے کا باضابطہ مقدمہ 24 مارچ 2025ء کو لاہور کے تھانہ ساؤتھ کینٹ میں متاثرہ چھ سالہ بچی کے والد کی مدعیت میں نامزد ملزم اصغر کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ پولیس میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں متاثرہ بچی کے والد نے موقف اختیار کیا تھا کہ 23 مارچ 2025ء کی شام جب وہ اپنے گھر پہنچے تو ان کی چھ سالہ بیٹی نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا ایک محلے دار اصغر اسے بہلا پھسلا کر اپنے گھر لے گیا اور وہاں اس کے ساتھ ریپ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم معصوم بچی کے بروقت شور مچانے پر ملزم گھبرا کر بچی کو اپنے گھر میں ہی چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا۔

لاہور پولیس نے اس مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی سخت ترین دفعہ 377 بی شامل کی تھی، جو کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے ہر قسم کے جنسی استحصال اور زبردستی پر عائد کی جاتی ہے۔ یہ قانونی طور پر ایک سنگین اور ناقابلِ ضمانت جرم ہے جس میں قانون کے تحت کم از کم سزا 14 برس اور زیادہ سے زیادہ 20 سال قید مقرر ہے۔

کیس کی نوعیت کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس نے اس مقدمے کا مکمل چالان خصوصی اینٹی ریپ عدالت میں بھیجا، جہاں فاضل عدالت نے ملزم پر 7 جولائی 2025ء کو باضابطہ فردِ جرم عائد کی تھی۔ ٹرائل کے آغاز پر ملزم نے صحتِ جرم سے صاف انکار کیا تھا جس کے بعد عدالت نے باقاعدہ شہادتوں اور گوابان کی طلب کا سلسلہ شروع کیا۔

عدالتی کارروائی کے حوالے سے سینئر پراسیکیوٹر رضوان محمود نے بتایا کہ اس حساس کیس میں استغاثہ کی جانب سے کل 8 گواہان نے عدالت میں پیش ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کروائے اور سائنسی و طبی ثبوت کے طور پر میڈیکل رپورٹ بھی باقاعدہ مثلِ مقدمہ کا حصہ بنائی گئی۔

دورانِ سماعت عدالت عالیہ نے تمام گواہان کے بیانات، فورنسک و میڈیکل رپورٹس، دیگر ٹھوس شواہد اور پراسیکیوشن کی جانب سے دیے گئے حتمی دلائل کی روشنی میں ملزم اصغر کو بلا شبہ قصوروار قرار دیا اور اسے 14 سال قید با مشقت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا کا فیصلہ سنا دیا۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی برسی: مزار قائد پر گورنر سندھ نہال ہاشمی اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی حاضری

منصور احمد,September 11,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی برسی کے پروقار اور عقیدت مندانہ موقع پر گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی کابینہ کے اراکین کے ساتھ مزار قائد پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک و قوم کی سلامتی و ترقی کے لیے باوقار فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر پاک فوج، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے اعلیٰ نمائندگان نے بھی مزار قائد پر حاضر ہو کر پھولوں کے گلدستے رکھے اور قومی قائد کو سلامی پیش کی۔

مزار قائد کے احاطے میں صحافیوں و میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بانیِ پاکستان قائد اعظم کے رہنما اصولوں اور افکار کی روشنی میں متحد و متفق رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے قیامِ پاکستان کے لیے اپنا آرام، وقت اور تمام ذاتی مفادات قربان کر دیے تھے، اس لیے اب ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ملک کے اہم فیصلوں کو باہمی مشاورت، افہام و تفہیم اور اتفاقِ رائے سے آگے بڑھائیں۔

پراُمن احتجاج سے متعلق ایک سوال پر گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت پرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری اور بنیادی حق ہے، تاہم احتجاجی سیاست کے دوران عام شہریوں، ہسپتال جانے والے مریضوں اور سکول و کالج جانے والے طلبہ و طالبات کو درپیش مشکلات کو ملحوظِ خاطر رکھنا لازمی ہے۔ بانیِ پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ کلی طور پر آزاد عدلیہ کے اختیارات میں آتا ہے، اگر عدالت عالیہ یا عظمٰی انہیں بے گناہ قرار دیتی ہے تو انہیں باقاعدہ قانونی ریلیف مل جائے گا، جبکہ حکومتِ وقت عدالتی کارروائی اور فیصلوں میں قطعی مداخلت نہیں کر سکتی۔ نہال ہاشمی نے مزید کہا کہ وہ سندھ کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام اور صوبائی حدود کے بارے میں واضح کیا کہ صوبائی حدود میں تبدیلی آئینی راستے کے بغیر ناممکن ہے۔ آئینِ پاکستان میں درج طریقہ کار کے مطابق اس کے لیے اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ باقاعدہ قرارداد کی منظوری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری اور آزاد معاشرے میں ہر شہری کو سندھ میں نئے صوبے کے قیام کی بات کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن عملی اور قانونی قدم اٹھانے کے لیے آئینی طریقہ کار پر پورا اترنا پڑے گا۔

مراد علی شاہ نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور تمام صوبوں کے درمیان جون کے مہینے میں این ایف سی ایوارڈ پر پہلے ہی کامل اتفاقِ رائے ہو چکا ہے اور یہ این ایف سی ایوارڈ آئین کے مطابق جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے اور علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر اس ملک کو تمام صوبوں کے مشترکہ تعاون سے مضبوط اور خوشحال بنانا ہے۔

گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ دونوں رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں دہشت گرد عناصر کے خلاف پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کے حال ہی میں کیے گئے کامیاب آپریشنز پر فورسز کے بہادر جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے ناسو سے مکمل پاکیزگی اور خاتمے تک اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ گورنر سندھ نہال ہاشمی نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی ان سے بالمشافہ ملاقات کر کے گورنر سندھ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی ہے۔

میر رضا علی کی پراسرار موت کا معاملہ: سندھ حکومت کا کامل، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی یقین دہانی کا اعادہ

محمود احمد, September 10,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے میر رضا علی کی پُراسرار اور حساس موت کی تحقیقات کے لیے قائم شدہ عدالتی کمیشن کے سامنے خود پیش ہو کر حکومتِ سندھ کی جانب سے کامل، منصفانہ، آزادانہ اور مکمل شفاف انکوائری میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ حکومتِ سندھ اس عدالتی کمیشن کی کارروائی، تحقیقات اور قانونی طریقہ کار میں کسی بھی قسم کی مداخلت ہرگز نہیں چاہتی اور کمیشن کے پاس تمام اختیارات موجود ہیں کہ وہ بلا خوف و خطر اپنی تحقیقات کو آگے بڑھائے۔

سندھ ہائی کورٹ میں جمعرات کے روز کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کے روبرو پیشی کے موقع پر صوبائی وزیر داخلہ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت کے دوران ایک غلط فہمی جنم لے گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ سندھ کی جانب سے کمیشن کو کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق کسی قسم کی ہدایت جاری نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی متوفی میر رضا علی کے رنجیدہ اہلخانہ کے اٹھائے گئے قانونی سوالات کے جوابات دینے کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بات کی گئی تھی۔

بعد ازاں کمیشن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ تحریری حکم نامے میں صوبائی وزیر داخلہ کی اس فوری اور واضح وضاحت اور حکومتِ سندھ کے مسلسل اور مکمل تعاون کی فراہم کردہ یقین دہانی کو سراہا گیا۔ میر رضا علی کے متاثرہ خاندان کے نامور وکیل جبران ناصر نے بھی عدالتی فورم پر استدعا کی کہ صوبائی وزیر داخلہ کی جانب سے پیش کی گئی وضاحت اور کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کی اس یقین دہانی کو باقاعدہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ اس پیش رفت کے بعد ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور کمیشن کے فاضل سربراہ کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمی اور تحفظات کا یکسر خاتمہ ہو گیا۔

عدالتی کمیشن نے کیس کی تمام تر کارروائی آئندہ پیر 14 ستمبر 2026ء کو صبح 11 بجے سے دوبارہ شروع کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او عدیل افضل کو مقررہ تاریخ پر تمام ضروری دستاویزی ریکارڈ سمیت پیش ہونے کے لیے باقاعدہ نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب کمیشن کو ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس کا موصول ہونے والا جواب نامکمل، غیر تسلی بخش اور مبہم قرار دیتے ہوئے کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو 15 ستمبر کو ذاتی طور پر پیش ہو کر اپنے جواب کی تفصیلی وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سماعت کے دوران فاضل جج جسٹس عمر سیال نے صوبائی وزیر داخلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متوفی کے غم زدہ اہلخانہ کے اعتماد کو مکمل طور پر بحال رکھنا اس قانونی انکوائری کا سب سے اہم اور بنیادی پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہلخانہ کے ذہنوں میں بہت سے پیچیدہ سوالات موجود ہیں اور حکومتِ سندھ و وزیراعلیٰ کی جانب سے شفاف تحقیقات کی یقین دہانی بلاشبہ قابلِ تعریف ہے، تاہم خاندان کا اعتماد متاثر ہونے کے باعث کمیشن کے لیے یہ ایک بے حد مشکل اور حساس ذمہ داری ہے۔

جسٹس عمر سیال نے مزید واضح کیا کہ متوفی کے خاندان کے وکیل کو تمام ضروری سوالات اٹھانے کی قانون کے مطابق مکمل اجازت حاصل ہے اور گزشتہ سماعت پر سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کے اپنائے گئے رویے پر کمیشن نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر داخلہ کو طلب کرنے کا بنيادی مقصد حکومتِ سندھ کے موقف اور کامل تعاون کے بارے میں عام عوام اور متاثرہ خاندان کا اعتماد بحال کرنا تھا۔

صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کمیشن کے سربراہ کو یقین دلایا کہ حکومتِ سندھ اس باوقار کمیشن کی ہر بات پر پورا اعتماد رکھتی ہے اور یہ تحقیقات جس سمت بھی جائیں، حکومت اصل ملزمان تک پہنچنے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اپنا مکمل تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمیشن کو یہ کامل اختیار حاصل ہے کہ وہ جس بھی ذمہ دار یا شخص سے چاہے سوال کرے۔ انہوں نے اہلخانہ کے دکھ اور جذبات کا احترام کرتے ہوئے پچھلی سماعت کی صورتحال پر کمیشن سے معذرت بھی کی۔

دوسری جانب میر رضا علی کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے متوفی کے بزنس پارٹنر احمد سے متعلق سامنے آنے والے بعض سنگین الزامات اور ان کے وکیل کی طرف سے موصولہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن سے استدعا کی کہ احمد کو دوبارہ کمیشن کے سامنے طلب کیا جائے تاکہ وہ اگر کوئی مزید موقف یا معلومات دینا چاہیں تو ریکارڈ پر لا سکیں۔ کمیشن نے جبران ناصر کو ہدایت کی کہ اس نقطے پر باضابطہ تحریری درخواست جمع کرائی جائے، جس پر وکیل صفائی نے جلد درخواست دائر کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے اہم ٹیلی فونک رابطہ: دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال کا تفصیلی جائزہ

منصور احمد,September 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے گزشتہ شب ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو کی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کا احاطہ کیا۔

جمعرات کے روز دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین موجودہ باہمی تعلقات کی پیش رفت اور علاقائی سیکیورٹی کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ گفتگو کے دوران سینیٹر اسحاق ڈار اور حاقان فیدان نے مسئلہ فلسطین پر دونوں برادر اسلامی ممالک کے تاریخی و مشترکہ مؤقف کا اعادہ کیا اور مظلوم فلسطینیوں کی سفارتی تائید کا عزم دہرایا۔

اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی اور ایسی بستیوں سے منسلک خدمات و کمپنیوں پر قدغنیں عائد کرنے کے برطانوی فیصلے کی تحسین کی اور اس ضمن میں آٹھ عرب و اسلامی ممالک کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کی مکمل حمایت کی۔ اس کے علاوہ دونوں وزرائے خارجہ نے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل سے متعلق سامنے آنے والے مشترکہ اعلانات کا خیرمقدم کیا۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں سفارتی رہنماؤں نے خطے کے دیگر اہم ممالک بالخصوص سعودی عرب اور مصر کے ساتھ اہم علاقائی مسائل پر مسلسل اور قریبی سیاسی و سفارتی مشاورت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے چار ملکی ‘ریجنل فور’ (R4) فریم ورک کے ذریعے باہمی مشاورت اور مربوط حکمت عملی کو مزید آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔

بیان کے اختتام پر بتایا گیا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے امریکی شہر نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ سالانہ اجلاس کے موقع پر آمنے سامنے تفصیلی ملاقات کرنے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر برطانوی پابندی کا تاریخی اقدام: پاکستان کا خیرمقدم اور مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کا عزم

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمد کی جانے والی تمام مصنوعات اور اشیائے صرف پر مکمل پابندی عائد کرنے کے جرات مندانہ فیصلے کا پرجوش اور غیر مشروط خیرمقدم کیا ہے۔

ترجمان وزارتِ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کا مسلسل اور متنازع پھیلاؤ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے چارٹر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی سراسر کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ اس قسم کے غاصبانہ اقدامات نہ صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دو ریاستی حل کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کو بھی شدید ترین خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے برطانیہ کے اس اقدام کے ساتھ ساتھ کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دنیا کے دیگر متعدد باوقار ممالک کے ان اعلانات کا بھی پرتپاک خیرمقدم کیا ہے جن میں انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف بالکل اسی نوعیت کے سخت تجارتی و معاشی اقدامات پر غور کرنے اور بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ عالمی برادری کے یہ اجتماعی اور مربوط اقدامات مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری تمام غاصبانہ اور غیر قانونی سرگرمیوں کو سرسری طور پر مسترد کرنے کا ایک انتہائی واضح، دوٹوک اور سخت ترین پیغام ثابت ہوں گے۔

یاد رہے کہ برطانیہ کی حکومت نے 8 ستمبر کو باضابطہ اعلان کیا تھا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار یا پیدا ہونے والی تمام اشیا کی برطانیہ درآمد پر پابندی عائد کرے گی۔ برطانوی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر کی گئی ایک مشترکہ سفارتی و اقتصادی کوشش کا حصہ ہے، جبکہ بستیوں کی توسیع، مالی معاونت اور انفراسٹرکچر میں براہِ راست مدد فراہم کرنے والی مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی پابندیوں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے گا۔ برطانوی انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اقدامات براہِ راست اسرائیل کے ساتھ مجموعی دوطرفہ تجارت کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ ان کا ہدف صرف غیر قانونی بستیوں اور ان کی توسیع سے جڑی مالی و تجارتی سرگرمیاں ہیں۔

بیان کے اختتام پر پاکستان نے ایک بار پھر مظلوم فلسطینی عوام کے ناقابلِ تسخیر حقِ خودارادیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا بابرکت دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

تارکینِ وطن ملک کا قیمتی اثاثہ، سفری دستاویزات کی فوری تصدیق کے لیے جدید ون ونڈو پورٹل قائم کرنے کی ہدایت: سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم تمام پاکستانی ملک کا انتہائی قیمتی معاشی و قومی اثاثہ ہیں، اور موجودہ حکومت ان کی سفری دستاویزات اور پاسپورٹ سے متعلق مسائل کے فوری حل اور سہولیات کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کی طرف سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی صدارت میں پاسپورٹ رولز کمیٹی کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پاسپورٹ اینڈ امیگریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے سینئر حکام اور نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون نے سفری دستاویزات اور دیگر ضروری کاغذات کی بروقت، شفاف اور بغیر کسی تاخیر کے تصدیق کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط، جدید اور تیز رفتار ڈیجیٹل نظام وضع کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے حکام کو احکامات دیے کہ نادرست ریکارڈ کی تصدیق اور پاسپورٹس کے اجراء کے عمل کو سائلین کے لیے انتہائی آسان اور تیز بنایا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تمام انتظامی تصدیقی مراحل کے لیے ایک واضح اور محدود ٹائم لائن مقرر کی جائے تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو سفارت خانوں یا پاسپورٹ دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور نہ ہی غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وزارتِ داخلہ کی سطح پر فوری الیکٹرانک طریقہ کار مرتب کرنے اور تمام ضروری تصدیقی کارروائیوں کو آن لائن پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم شہریوں کے تمام مسائل اور کاغذات کی ایک ہی جگہ پر تصدیق کے لیے جدید ون ونڈو پورٹل متعارف کرانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ پاسپورٹ قوانین اور قواعد و ضوابط میں مزید بہتری لانے کے لیے فوری سفارشات اور تجاویز تیار کریں۔

وفاقی وزیر قانون نے تمام متعلقہ اداروں کو احکامات دیے کہ وہ پاسپورٹ رولز کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اس پورٹل اور آن لائن نظام کے حوالے سے ایک واضح اور قابلِ عمل لائحہ عمل پیش کریں تاکہ تمام تر کارروائی کو مکمل طور پر شفاف، موثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کا چوتھا اعلیٰ سطحی اجلاس: وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی صدارت میں اہم فیصلے منظور

منصور احمد,September 09,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چوتھے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں کمپنی کے انتظامی، مالی، اور عملی (آپریشنل) امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعدد بنیادی فیصلوں اور تجاویز کی منظوری دی گئی، جبکہ گزشتہ بورڈ اجلاس کے فیصلے توثیق کر کے نافذ العمل بنا دیے گئے۔

اجلاس کے دوران بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کی مجموعی کارکردگی، ادارے کے انتظامی ڈھانچے، ہوابازی کے عملی امور اور مستقبل کی جامع اسٹریٹجی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر کمپنی کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے، انتظامی امور کو زیادہ منظم و فعال کرنے، اور کمپنی کی آپریشنل استعداد کار میں خاطر خواہ اضافے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بورڈ حکام کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کو جدید دور کے تقاضوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جائے اور اس کی انتظامی و آپریشنل صلاحیتوں میں ہر ممکن بہتری لائی جائے تاکہ یہ ادارہ وسیع الرقبہ صوبہ بلوچستان کے اندر اور باہر فضائی سفری سہولیات کی فراہمی میں اپنا کلیدی اور مثبت کردار ادا کر سکے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے متعلقہ حکام کو واضح احکامات دیے کہ کمپنی کے تمام مالی و انتظامی امور میں مکمل شفافیت، اعلیٰ درجے کے پیشہ ورانہ نظم و نسق، اور کڑی نگرانی کے نظام کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہدایت کی کہ اجلاس میں منظور کیے گئے تمام اہم فیصلوں پر بلا تاخیر اور بروقت عمل درآمد کے لیے ایک موثر اور شفاف عملدرآمد میکنزم تیار کیا جائے۔

بورڈ کے اس اہم اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان، ڈائریکٹر جنرل بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کیپٹن علی آزاد، اور کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تمام اراکین سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور ادارے کی ترقی کے لیے تجاویز پیش کیں۔

پائیدار قومی ترقی اور پائیدار معاشی استحکام کے لیے خواتین کو مکمل طور پر بااختیار بنانا ناگزیر ہے: قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

قائم مقام صدر مملکت اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں پائیدار قومی، معاشی اور جمہوری ترقی اس وقت تک مکمل اور مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک ملک کی نیمی آبادی یعنی خواتین کو تمام ریاستی اداروں، معیشت اور پالیسی سازی میں مساوی نمائندگی اور قیادت کے مکمل مواقع فراہم نہ کیے جائیں۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے زیرِ اہتمام منعقدہ “پاکستان ویمن لیڈرشپ اینڈ پالیسی سمٹ 2026” کے عظیم الشان اور پروقار اجلاس سے بطور مہمانِ خصوصیہ خطاب کرتے ہوئے قائم مقام صدر نے چیمبر آف کامرس اور تمام دیگر شراکت داروں کی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس دو انتہائی اہم اور ناگزیر قومی ترجیحات یعنی خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں کی آبیاری اور موثر و عملی پالیسی سازی کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کا سبب بنی ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے سمٹ میں موجود معاشی ماہرین، صنعتکاروں اور پالیسی سازوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی حقیقی معاشی طاقت کو بیدار کرنے کے لیے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ خواتین صرف ترقی اور فوائد سے مستفید ہونے والی محض صارفین نہ ہوں، بلکہ وہ معاشی میدان میں بحیثیت کامیاب تاجر، صنعتکار، پیش ور ماہر، ڈیجیٹل جدت کار اور قائدانہ کردار ادا کرنے والی رہنما کے طور پر معیشت کی بنیادی محرک بنیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چاہے کسی بھی دور دراز علاقے یا پس منظر سے تعلق رکھنے والی خاتون ہو، اسے معیاری تعلیم، مالی وسائل، جدید ترین ٹیکنالوجی، بین الاقوامی مارکیٹوں اور اعلیٰ سطح کی فیصلہ سازی تک بلاامتیاز مساوی اور آسان رسائی میسر ہونی چاہیے۔

قائم مقام صدر مملکت نے اپنے خطاب میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے انقلابی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عالمی سطح پر تسلیم شدہ پروگرام کے ذریعے مالی معاونت کی رقم براہِ راست مستحق خواتین کے ہاتھوں میں پہنچانے سے گھریلو نظام کے اندر معاشی فیصلہ سازوں کے طور پر ان کے وجود کو بے پناہ تقویت ملی ہے۔ ان کے مطابق یہ محض عارضی امداد نہیں بلکہ مالی انحصار سے خود مختاری اور باوقار بااختیاری کی جانب ایک اہم تاریخی تبدیلی کی علامت ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ خواتین کی زیرِ قیادت کام کرنے والے کاروباروں اور نئے اسٹارٹ اپس کے لیے مالی سرمائے اور قرضوں کی فراہمی کے عمل کو انتہائی آسان اور سہل بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی سطح پر ایک ایسا شفاف ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہوگا جہاں جب کسی خاتون کے پاس کوئی بھی تخلیقی یا تجارتی تصور ہو تو اسے سستے اور آسان مالی وسائل، منڈیوں تک رسائی، اور میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی تمام تر سہولیات بغیر کسی صنفی رکاوٹ کے فراہم کی جائیں۔

قائم مقام صدر نے پاکستان کی تاریخ کی ان عظیم اور جرات مند خواتین کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے تمام روایتی رکاوٹوں کو توڑ کر ملکی تاریخ کو نئی سمت دی۔ انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم شائستہ اکرام اللہ اور بالخصوص سابق وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک مسلم اکثریتی ملک کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بن کر ایسی چٹانوں کو توڑا جنہیں تسخیر کرنا طویل عرصے تک ناممکن سمجھا جاتا تھا، اور ان کا وہ تاریخی سفر آج بھی خواتین کو عوامی زندگی میں آگے آنے اور قیادت سنبھالنے کی مسلسل ترغیب دیتا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر قائم مقام صدر نے اعلان کیا کہ جب خواتین کی قیادت مضبوط ہوتی ہے تو خاندان خوشحال ہوتے ہیں، خواتین کی معاشی شمولیت سے قومیں ترقی کرتی ہیں اور جب خواتین پالیسی سازی میں شریک ہوتی ہیں تو جمہوریت زیادہ شفاف، منصفانہ اور پائیدار بنتی ہے۔ تقریب کے اختتام پر قائم مقام صدر نے اسلام آباد چیمبر کے نمایاں ارکان میں شیلڈز اور اسناد بھی تقسیم کیں، جبکہ چیمبرز کی قیادت کی جانب سے قائم مقام صدر کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

بلوچستان میں خواتین اور کمسن بچیوں پر تشدد، تیزاب گردی اور قتل کے واقعات پر شدید تشویش: حقوقِ نسواں کی تنظیموں کا حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ایواجی الائنس اور عورت فاؤنڈیشن نے بلوچستان میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران خواتین اور کمسن بچیوں کے خلاف مبینہ تشدد، بدترین قتل، تیزاب گردی، اور جنسی زیادتی کے واقعات میں اچانک ہونے والے خطرناک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور تمام متعلقہ سیکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری، شفاف اور مؤثر اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

جاری کردہ مشترکہ پریس ریلیز میں دونوں معتبر حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے کچلاک میں 15 سالہ کمسن لڑکی کے مبینہ قتل، مستونگ کے علاقے کلی ببری میں ایک خاتون پر تیزاب پھینکنے اور شدید تشدد، تربت کے علاقے سے ایک خاتون کی لاوارث لاش ملنے، اور ضلع نوشکی کے علاقے احمد وال میں 9 سالہ معصوم بچی کے مبینہ جنسی استحصال، بے دردی سے قتل اور لاش چھپانے کے دلخراش واقعات کو معاشرے اور ریاست کے لیے انتہائی تشویشناک اور شرمناک قرار دیا ہے۔

تنظیموں کے نمائندوں نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف ایسے سفاکانہ مظالم کا بڑھنا پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے سنگین جرائم کے سدباب کے لیے صرف ابتدائی اطلاع یعنی مقدمات (ایف آئی آر) کا درج کر لینا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ ملزمان کی فوری گرفتاری، سائنسی و جدید بنیادوں پر تفتیش، تیز ترین عدالت انصاف اور متاثرین کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور قائم بالذات نظام تشکیل دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تنظیموں نے صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام واقعات کا سخت نوٹس لے کر ملزمان کو فوری کٹہرے میں لایا جائے۔

طبی اور فرانزک سہولیات کی عدم دستیابی پر گہری تشویش

ایواجی الائنس اور عورت فاؤنڈیشن نے صوبے بھر میں بنیادی طبی اور فرانزک سہولیات کی ناگفتہ بہ صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سول ہسپتال نوشکی میں ضروری پوسٹ مارٹم کے لیے لیڈی سرجن یا ماہر ڈاکٹروں کی غیر موجودگی اور بلوچستان کے تمام دیگر اضلاع میں پولیس سرجنز کی شدید قلت ایسے حساس ترین اور سنگین مقدمات کی سائنسی تحقیقات اور مظلوموں کو انصاف کی فراہمی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ تمام اضلاع، خصوصاً دور دراز علاقوں میں مناسب طبی، فرانزک، نفسیاتی اور قانونی سہولیات کی فراہمی فوری یقینی بنائی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو بلا تاخیر انصاف مل سکے۔

متاثرین کے تحفظ اور بحالی کے لیے مربوط نظام کی ضرورت

مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خواتین اور بچیوں پر تشدد کے خلاف ایک ایسا جامع قانونی و انتظامی ردِعمل وقت کی اہم ضرورت ہے، جس میں متاثرین کا مکمل تحفظ، ان کی رازداری، مفت طبی علاج، نفسیاتی علاج، اور مکمل قانونی امداد شامل ہو۔ دونوں تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان پولیس، محکمہ صحت، پراسیکیوشن، محکمہ سماجی بہبود، اور محکمہ حقوقِ نسواں کے درمیان ایک ایسا مضبوط آن لائن اور عملی رابطہ نظام قائم کیا جائے تاکہ حساس مقدمات کی کارروائی میں حائل رکاوٹیں ختم کی جا سکیں۔ پریس ریلیز کے اختتام میں واضح کیا گیا کہ خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لیے نئی قانون سازی کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود قوانین پر بغیر کسی سیاسی و قبائلی مراعات کے، بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو تین ماہ مکمل: کئی اضلاع میں شٹر ڈاؤن ہڑتال

محمود احمد, September 09,2026

مظفرآباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ مطالبات اور احتجاجی تحریک کو مسلسل تین ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔ تحریک کے نوے دن پورے ہونے پر خطے کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے جس سے عوامی و تجارتی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے حقوق اور چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے رواں برس 9 جون کو بھمبر کے مقام سے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا باقاعدہ آغاز کیا تھا، جسے آج 9 ستمبر کو پورے تین ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔

اس طویل احتجاجی سلسلے کو مزید تیز کرنے کے لیے تنظیم کی اعلیٰ قیادت نے رواں ماہ کی 5 تاریخ کو اپنے مطالبات کے حق میں پورے خطے میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے کا نیا اعلان کیا تھا۔

اس ہڑتال کی کال پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جزوی شٹر ڈاؤن دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہر کے مرکزی تجارتی علاقے پلیٹ اپر اڈہ میں واقع تمام بڑی مارکیٹس اور دکانیں مکمل طور پر بند ہیں، جبکہ دوسری جانب بینک روڈ اور ٹالی منڈی کے علاقوں میں کاروباری مراکز اور دکانیں کھلی ہیں۔ اس کے برعکس ضلع باغ اور ضلع کوٹلی میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے جہاں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔

احتجاج اور ہڑتال کے باعث خطے بھر میں سڑکوں پر عمومی ٹرانسپورٹ اور گاڑیوں کی روانی معمول کے مقابلے میں انتہائی کم ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے عام شہریوں اور مسافروں کو شديد دشواری کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ضلع باغ میں مقامی ضلعی انتظامیہ نے ہڑتال کرنے اور دکانیں بند رکھنے والے متعدد تاجروں کے خلاف سخت انتظامی کارروائی کرتے ہوئے ان کی دکانوں کو سیل کر دیا ہے، جس کے بعد علاقے میں انتظامیہ اور تاجروں کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

بلوچستان میں پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے خوفناک آپریشنز: خاران اور واشک میں 11 شدت پسند ہلاک

کاشف عباسی , September 09,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے باضابطہ جاری کردہ اعلامیے میں دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے حساس اضلاع خاران اور واشک میں 6 اور 7 ستمبر کو کارروائیاں کرتے ہوئے 11 خطرناک شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

عسکری ترجمان آئی ایس پی آر کے باضابطہ بیان کے مطابق، شدت پسندوں کے ایک مسلح گروہ نے 6 ستمبر کو ضلع خاران کی مرکزی شاہراہ کو زبردستی بند کر کے ٹریفک کی عمومی روانی کو بری طرح متاثر کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر پیش قدمی کرتے ہوئے شدت پسندوں کو گھیر لیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے اور مقابلے کے نتیجے میں 8 شدت پسند موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ 7 ستمبر کو ضلع واشک کے پیچیدہ اور دور دراز علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر ان کے خفیہ ٹھکانے پر ہدف پر مبنی کارروائی کی گئی۔ سکیورٹی فورسز اور مسلح عناصر کے درمیان فائرنگ کے سخت تبادلے کے بعد مزید 3 شدت پسند انجام کو پہنچے۔

شعبہ تعلقات عامہ نے تصدیق کی ہے کہ ان دونوں کامیاب اور منظم کارروائیوں کے دوران شدت پسندوں کے تحویل سے 2.9 ٹن کی بڑی مقدار میں انتہائی حساس اور خطرناک بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے، جو دہشت گردانہ بم دھماکے اور آئی ای ڈیز تیار کرنے میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں صفائی اور سرچ آپریشن مکمل کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ بلوچستان میں امن کو تباہ کرنے والے عناصر کا بلا تفریق مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

ستمبر کی ملک گیر ذیلی انسدادِ پولیو مہم کے دوران 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے؛ ورکرز کی حفاظت، عزت و وقار اور فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات مکمل

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے ستمبر میں منعقد ہونے والی آئندہ ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم سے قبل ملک بھر میں خدمات انجام دینے والے لاکھوں فرنٹ لائن ورکرز کے یومیہ معاوضے میں 28 فیصد کا بڑا اضافہ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔

حکومتی شیڈول کے مطابق یہ اہم ذیلی مہم 21 سے 27 ستمبر 2026 تک جاری رہے گی، جس کے دوران بلوچستان، گلگت بلتستان، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے 115 مخصوص و حساس اضلاع میں پولیو ٹیمیں 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔

وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو محترمہ عائشہ رضا فاروق کی قیادت میں پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام ملک بھر میں قطرے پلانے والی فرنٹ لائن ورک فورس کے لیے انتظامی و مالی معاونت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ معاوضے میں 28 فیصد اضافے کا یہ اہم ترین فیصلہ ملک بھر میں پولیو ورکرز کے ساتھ منعقد کیے گئے معلوماتی لسننگ سیشنز کے بعد کیا گیا، جن میں ورکرز نے پروگرام کی مرکزی قیادت سے براہِ راست بات چیت کرتے ہوئے فیلڈ کے تجربات، درپیش چیلنجز اور اپنی تجاویز پیش کی تھیں۔

پروگرام کی جانب سے پولیو ورکرز کی حفاظت، عزت و وقار اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے متعدد بنیاد کاری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں منتخب علاقوں میں قائم فرنٹ لائن ورکرز سپورٹ سینٹرز میں بنیادی سہولیات کی بہتری، تمام ورکرز کو باضابطہ شناختی کارڈز کا اجراء، اور فیلڈ میں ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نئی آپریشنل سیفٹی گائیڈ لائنز کی تیاری شامل ہے۔ یہ تمام تر پیش رفت وزیراعظم کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں کی جا رہی ہے تاکہ پولیو ورکرز کی قربانیوں کا اعتراف کیا جا سکے۔

محترمہ عائشہ رضا فاروق نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے فرنٹ لائن ورکرز پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کی جدوجہد میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ ہر روز ہر بچے تک پہنچنے اور کمیونٹیز کی مدد کے لیے انتہائی مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریوں سے بڑھ کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یومیہ معاوضے میں 28 فیصد اضافہ ورکرز کی انتھک محنت، لگن اور عظیم خدمات کا اعتراف ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ہر ورکر فیلڈ میں خود کو محفوظ اور معزز محسوس کرے۔

فرنٹ لائن ورکرز کی انتھک خدمات اور سائنسی حکمتِ عملی کی بدولت پاکستان نے پولیو کے خاتمے میں تاریخی پیش رفت کی ہے۔ 1990ء کی دہائی کے اوائل میں جہاں سالانہ اندازاً 20,000 پولیو کیسز سامنے آتے تھے، وہیں ملک میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ کیسز کی تعداد کم ہو کر سال 2025 میں 31 اور سال 2026 میں اب تک صرف 3 کیسز تک محدود رہ گئی ہے۔

پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے تمام والدین، سرپرستوں، دینی علماء، اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ ستمبر کی مہم میں ان پولیو ٹیموں کا اپنے گھروں میں احترام کے ساتھ استقبال کریں اور پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے لازمی پلوائیں۔ پولیو پروگرام نے اس مشن میں گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو (جی پی ای آئی) کے شراکت داروں کے مسلسل تعاون پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔