تھانہ خرکی مردان پولیس کی بڑی کارروائی: علاقے میں فائرنگ کر کے خوف و ہراس پھیلانے والے دونوں فریقین کے 3 ملزمان گرفتار، بھاری مقدار میں اسلحہ و کارتوس برآمد

منصور احمد, JULY 28,2026

پشاور/مردان (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جولائی 2026ء

خیبر پختونخوا پولیس نے مردان میں امن و امان کی صورتِ حال کو برقرار رکھنے اور عوام الناس میں خوف و ہراس پھیلانے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے ایک اہم اور بروقت کامیابی حاصل کی ہے۔ تھانہ خرکی مردان پولیس نے منگل کے روز علاقے میں فوری اور تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے ایک ایک دوسرے پر سرِعام فائرنگ کرنے والے اور علاقے کا امن برباد کرنے والے دونوں فریقین سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر تین مرکزی ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے ان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ پولیس کی اس بروقت کارروائی سے علاقے میں کوئی بڑا جانی نقصان ہونے سے بچ گیا اور صورتِ حال کو فوراً کنٹرول میں لے لیا گیا۔

ترجمان مردان پولیس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، تھانہ خرکی کی حدود میں دو فریقین کے مابین تنازع کے باعث فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے مقامی رہائشیوں اور بازار میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لیا اور دونوں جانب سے فائرنگ میں ملوث افراد کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار کیے گئے ملزمان میں سے پہلے فریق کا تعلق تازہ گرام کے رہائشی روزی شاہ ولد ہمیش گل اور اس کے بیٹے عبید ولد روزی شاہ سے ہے، جبکہ دوسرے فریق سے تازہ گرام ہی کا رہائشی گوہر ولد مکمل شاہ شامل ہے۔ پولیس نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کے قبضے سے 3 عدد جدید پستول اور 53 عدد زندہ کارتوس برآمد کر کے باضابطہ طور پر اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔

پولیس ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت تھانہ خرکی میں مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور معاملے کی گہرائی سے مزید قانونی تفتیش و کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ مردان پولیس کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں امن و امان کے قیام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور ہوائی فائرنگ، باہمی تنازعات کی بنا پر قانون ہاتھ میں لینے اور عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پولیس ترجمان نے واضح کیا کہ قانون شکن عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت ترین قانونی اقدامات کا سلسلہ آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گا تاکہ شہری خود کو مکمل طور پر محفوظ محسوس کر سکیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اہم اجلاس: پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی باقاعدہ منظوری، ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کو وقت کی عاجلانہ ضرورت قرار دے دیا گیا

کاشف عباسی , JULY 28,026

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا ایک انتہائی اعلیٰ سطحی اور اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے توانائی کے شعبے کو جدید ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ‘پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023’ میں کی گئی اہم ترامیم کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی۔ وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے اس خصوصی اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، پروفیسراحسن اقبال کے علاوہ متعلقہ وزارتی وفاقی سیکرٹریز اور توانائی انڈسٹری کے اعلیٰ ترین سرکاری حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کے اندر آئل ریفائنریز کی موجودہ کارکردگی، توانائی کی پیداوری صلاحیت، براؤن فیلڈ ریفائنریز کے بنیادی ڈھانچے اور آئل سیکٹر میں متوقع عالمی سرمایہ کاری سے متعلق امور کا تفصیلی اور باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس بات پر شدید زور دیا کہ پاکستان میں موجود تمام آئل ریفائنریز کی جدید ترین تکنیکی بنیادوں پر اپ گریڈیشن اب کوئی اختیاری معاملہ نہیں بلکہ وقت کی شدید اور عاجلانہ ضرورت بن چکی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ جدید تقاضوں اور عالمی معیار سے ہم آہنگ ریفائنریز پاکستان کے پائیدار توانائی تحفظ کے جامع نظام کا ایک مرکزی اور اہم ترین ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات پر مبنی یہ اقدام نہ صرف ملک کی مجموعی توانائی کی ضروریات کو زیادہ مؤثر، مستحکم اور بہتر انداز میں پورا کرے گا بلکہ گرانقدر غیر ملکی زرِ مبادلہ کا خرچ کم کر کے درآمدی ایندھن پر پاکستان کا انحصار نمایاں طور پر گھٹانے میں مدددگار ثابت ہوگا۔ مزید برآں، اس سے ملک بھر میں ماحول دوست اور اعلیٰ معیار کا صاف ایندھن فراہم کرنے کا دیرینہ مقصد بھی حاصل کیا جا سکے گا، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

اجلاس میں شریک اعلیٰ حکام نے وزیراعظم اور کمیٹی کے دیگر اراکین کو پاکستان میں توانائی کی صورتِ حال پر تفصیلی بریفنگ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ ملک کی موجودہ ریفائنریز کی پیداواری گنجائش کو بڑھانے اور فرنس آئل جیسی کم معیار کی ایندھن مصنوعات کو بتدریج ختم کرنے کے لیے ان کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہو چکی ہے۔ بریفنگ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ ترامیم کے تحت اب یورو-4 اور بالخصوص اعلیٰ ترین یورو-5 معیار کے پٹرول اور ڈیزل کی مقامی سطح پر پیداوار کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ اقدام پاکستان کے عالمی ماحولیاتی معاہدوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل کے لیے انتہائی ضروری ہے، جس سے ملک میں جان لیوا اور شدید فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکے گی اور عام عوام کو بین الاقوامی معیار کا ایندھن میسر آئے گا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے توانائی کے نگران ادارے اویل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی مجموعی کارکردگی کو بین الاقوامی سانچے میں ڈھالنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ کی فوری اور حقیقی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اوگرا میں بنیادی نوعیت کی انتظامی و قانونی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ اس کا بنیادی مقصد آئل اینڈ گیس کے شعبے میں تجارتی مسابقت، شفافیت اور غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو مکمل طور پر سازگار بنانا ہے۔ وزیراعظم نے واضح اور سخت احکامات جاری کیے کہ نئی آئل ریفائننگ پالیسی کی منظوری کے بعد اس کے ہر شق پر فوری، مؤثر اور طے شدہ وقت کے اندر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں کسی بھی وزارت، ادارے یا انتظامی افسر کی طرف سے کسی بھی قسم کی غفلت، سستی یا تاخیر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام تمام سٹیک ہولڈرز کو قریبی رابطہ اور باہمی مشاورت کے ذریعے اصلاحاتی عمل تیز کرنے کا پابند کیا۔

مستقبل کی اسٹریٹجک ضروریات اور سرمایہ کاری کے حجم کو وسیع کرنے کے لیے، وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے براؤن فیلڈ ریفائنریز کے حوالے سے اس ترمیمی پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کی تشہیر اور آگاہی کے لیے قطر، برادر اسلامی ملک سعودی عرب اور دیگر اہم خلیجی ممالک میں خصوصی روڈ شوز منعقد کرنے کے واضح احکامات دیے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر براؤن فیلڈ ریفائنریز میں معاشی و تکنیکی اصلاحات متعارف کروانے پر وفاقی وزیر برائے پٹرولیم اور ان کی پوری ماہر ٹیم کی دن رات کی محنت اور شاندار کارکردگی کو کھلے دل سے سراہا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے وزارتِ پٹرولیم اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ہنگامی صورتِ حال یا عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے ملک کے اندر پٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹجک ذخائر کا حجم جلد از جلد بڑھانے کے لیے جامع عمل درآمدی منصوبہ بندی تشکیل دیں تاکہ ملک کو توانائی کے کسی بھی غیر متوقع بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔

مشرقِ وسطیٰ کی عسکری کشیدگی عالمی مہنگائی کے لیے بڑا خطرہ، آسٹریلیا کا ایندھن کے ذخائر میں کمی پر شدید تشویش کا اظہار

محمود احمد, JULY 28,2026

کینبرا (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جولائی 2026ء

آسٹریلیا نے متنبہ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ شدت اختیار کرتی ہوئی کشیدگی اور عسکری بحران عالمی سطح پر مہنگائی کے لیے ایک نیا اور ہولناک خطرہ بن سکتا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے ’شنہوا‘ کے مطابق یہ اہم ترین بیان آسٹریلیا کے وزیرِ خزانہ جم چالمرز نے وزارتِ خزانہ کی خصوصی بریفنگ کے دوران دیا ہے۔ انہوں نے دنیا کو خبردار کیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی کے متوقع بحران سے نمٹنے کے لیے دنیا کے پاس اس وقت پہلے جیسے مضبوط حفاظتی ذخائر موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ رواں سال فروری میں امریکہ-ایران جنگ کے ابتدائی مرحلے پر تیل کی قیمتوں میں آنے والے جھٹکے کو متبادل راستوں اور ہنگامی ذخائر سے قابو کر لیا گیا تھا، مگر اب وہ ذخائر نمایاں طور پر کم ہو چکے ہیں۔ جم چالمرز نے زور دیا کہ معاشی بنیادوں پر اس جنگ کا مستقل اور پائیدار خاتمہ جتنی جلد ممکن ہو اتنا ہی بہتر ہے۔ آسٹریلوی بجٹ 2026-27ء کے منفی تجزیے کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ مزید پھیلی تو ستمبر کی سہ ماہی تک خام تیل کی قیمت 200 امریکی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، جس سے آسٹریلیا میں مہنگائی کی شرح 7.25 فیصد تک پہنچنے کا شدید خدشہ ہے۔

پاکستان کا یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی بحالی پر زور؛ اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا سلامتی کونسل سے خطاب

محمود احمد, JULY 28,2026

نیویارک/اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان نے یوکرین میں جاری تصادم اور فوجی شدت میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ عام شہریوں اور حیاتیاتی بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملے نہ صرف سنگین انسانی المیے کو جنم دے رہے ہیں بلکہ اس کے منفی اثرات عالمی سطح پر غذائی اور توانائی کی سیکیورٹی کو بھی شدید متاثر کر رہے ہیں، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے شہریوں، شہری تنصیبات اور انسانی امداد فراہم کرنے والے والے اداروں پر ہونے والے اٹیکس کی شدید مذمت کی اور تمام متنازع فریقوں سے مطالبات کیے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس تنازع کا کوئی عسکری حل ممکن نہیں ہے اور پائیدار امن کی واحد راہ صرف اور صرف سنجیدہ، مسلسل اور باہمی سفارتی مذاکرات سے ہی نکل سکتی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 کی منظوری کو 17 ماہ کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کی بحالی کے مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ قرارداد 2774 پر روح کے مطابق مکمل عمل درآمد کروایا جائے اور خطے میں فوری و بلا مشروط جنگ بندی کا نفاذ یقینی بنایا جائے تاکہ سفارت کاری، گفتگو اور سیاسی حل کے لیے سازگار اور پرامن ماحول میسر آ سکے۔ پاکستانی مندوب نے اس عزم کو دہرایا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور، تمام فریقین کے جائز سلامتی خدشات اور کثیرالجہتی بین الاقوامی معاہدوں سے ہم آہنگ حل ہی آگے بڑھنے کا واحد ذریعہ ہے، اور پاکستان اس تنازع کے ایک منصفانہ، جامع اور جامع پرامن تصفیے کے لیے کی جانے والی تمام عالمی کوششوں کی بلا مشروط حمایت جاری رکھے گا۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا گلستانِ جوہر میں خراب سڑکوں اور سیوریج کے مسائل کا سخت نوٹس؛ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو فوری بحالی کی ہدایت

محمود احمد, JULY 27,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے اہم علاقے گلستانِ جوہر میں سڑکوں کی خستہ حالی اور سیوریج کے ابتر مسائل کا شدید نوٹس لیتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو ہنگامی بنیادوں پر مسائل حل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ پیر کو وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، وزیر اعلیٰ سندھ نے علاقے کی تمام مرکزی شاہراہوں اور اندرونی سڑکوں کی فوری مرمت و بحالی کا حکم دیتے ہوئے میئر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاری ترقیاتی کاموں کی خود موقع پر جا کر نگرانی کریں۔ انہوں نے میئر کراچی سے سڑکوں کی پیش رفت، نکاسیِ آب کے انتظامات اور سیوریج لائنوں کی صفائی کے حوالے سے فوری اور جامع رپورٹ طلب کی ہے۔ مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ تعمیراتی کاموں کے دوران شہریوں اور مسافروں کی آمدورفت میں کوئی خلل نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ عوام کو صاف ستھرا ماحول اور جدید سفری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ترجیح ہے۔ انہوں نے گلستانِ جوہر کے رہائشیوں کو یقین دلایا کہ ان کے درپیش تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور کسی بھی محکمے کی جانب سے سستی یا غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کے الزامات بے بنیاد اور سیاسی مایوسی کا مظہر ہیں: وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری

منصور احمد, JULY 27,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنماؤں ندیم افضل چن اور سعید غنی کی مشترکہ پریس کانفرنس پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسے حقائق کے منافی، بے بنیاد الزامات اور سیاسی مایوسی کا مظہر قرار دیا ہے۔ اپنے اہم ترین سیاسی بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وفاقی و صوبائی حکومتیں نعروں کے بجائے عوامی خدمت، بنیادی ترقیاتی منصوبوں اور پائیدار معاشی استحکام پر کامل یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ندیم افضل چن کی جانب سے حکومتی کارکردگی، گرین بس منصوبے، گندم کی خریدو فروخت اور مون سون بارشوں کے انتظامی امور پر لگائے گئے تمام تر الزامات محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا حصہ ہیں اور پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ اپنی مسلسل سیاسی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی بجائے اپنی کارکردگی کا خود جائزہ لے۔

بیرسٹر دانیال چوہدری نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے تناظر میں سعید غنی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ن لیگ کے امیدوار پر فائرنگ کے تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا، تاہم انہوں نے کارکن مختیار یونس کے جاں بحق ہونے پر دلی افسوس کا اظہار کیا اور لواحقین سے تعزیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں تمام تر انتخابات آئین اور قانون کے عین مطابق، بالکل آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انداز میں منعقد ہو رہے ہیں، اور ممکنہ شکست کے شدید خوف کے باعث قبل از وقت دھاندلی کا شور مچانا پیپلز پارٹی کی ہمیشہ سے پرانی روایت رہی ہے۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی شاندار کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ گرین بس منصوبہ صوبے کے شہریوں کو جدید، محفوظ، باوقار اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کر رہا ہے جس سے روزانہ ہزاروں افراد مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ سکولوں میں آئی ٹی لیبز، فرنیچر اور سمارٹ کلاس رومز کی فراہمی کے کام تیزی سے جاری ہیں۔

کسانوں اور زراعت کے حوالے سے ندیم افضل چن کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پنجاب حکومت کے لیے زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے اور گندم کی خریداری سمیت تمام قومی فیصلے مکمل شفافیت کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مون سون بارشوں کے حوالے سے “آدھا پنجاب ڈوبنے” کی باتوں کو حقیقت کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی براہِ راست ہدایات پر انتظامیہ نے بروقت کارروائی کر کے محض دو سے تین گھنٹوں کے اندر تمام متاثرہ شہروں سے بارشی پانی کا مکمل انخلا یقینی بنایا۔ بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی بصیرت افروز قیادت میں وفاقی حکومت نے مہنگائی میں واضح کمی، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی ریلیف کے لیے ٹھوس اور معاشی اقدامات کیے ہیں جن کے مثبت نتائج اب عوام کے سامنے آ رہے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا پمز ہسپتال کا دورہ: 200 بیڈز پر مشتمل زیرِ تکمیل جدید ایمرجنسی بلاک کا جائزہ، جلد فعال کرنے کا حکم

روزینہ اسماعیل, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کا دورہ کر کے وہاں 200 بیڈز پر مشتمل زیرِ تعمیر جدید اور سٹیٹ آف دی آرٹ ایمرجنسی سینٹر کے ترقیاتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا، جو اس وقت اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ دورے کے دوران پمز ہسپتال کی سینئر انتظامیہ اور انجینئرنگ ٹیموں نے وفاقی وزیر کو منصوبے کی موجودہ پیش رفت، فنی امور، جدید طبی آلات اور دستیاب سہولیات پر مفصل بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ ایمرجنسی بلاک کی عمارت کی فنشنگ، صفائی ستھرائی اور تمام تر درپیش تکنیکی امور کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ اسے عوام الناس کے علاج معالجے کے لیے بلا تاخیر کھولا جا سکے۔ انہوں نے انتظامیہ کو منصوبے کا پی سی-فور کا عمل بھی تیز کرنے کی سخت تاکید کی۔ سید مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پمز پر جڑواں شہروں اور گردونواح کے اضلاع سے آنے والے مریضوں کا شدید بوجھ ہے، اس لیے اس جدید ایمرجنسی سینٹر کا فعال ہونا وقت کی سب سے بڑی اور عاجلانہ ضرورت ہے۔

بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ اس جدید ایمرجنسی بلاک میں شدید زخمی اور تشویشناک حالت کے مریضوں کے لیے 30 بیڈز پر مشتمل جدید ترین سرجیکل آئی سی یو10 بیڈز پر مشتمل میڈیکل آئی سی یو، دو بڑے اور جدید آپریشن تھیٹرز جبکہ دو مائنر آپریشن تھیٹرز قائم کیے گئے ہیں جو ہنگامی بنیادوں پر بہترین طبی نگہداشت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اس کے بعد وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے تعاون سے پمز میں قائم کردہ پیڈیاٹرک (بچوں کے) ایمرجنسی سینٹر کا بھی معائنہ کیا اور وہاں زیرِ علاج بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات اور دیکھ بھال کے معیار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح اور سخت الفاظ میں ہدایت کی کہ معصوم بچوں کے علاج معالجے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور حکومت ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے اس عزم کو دہرایا کہ وزارتِ صحت تمام سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے تمام ضروری اقدامات مسلسل جاری رکھے گی۔

وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے امریکی کانگریسی وفد کی اعلیٰ سطحی ملاقات: سائبر سیکیورٹی، سٹیم اور تعلیمی تبادلوں کے فروغ کے لیے وسیع تر تعاون کا عزم

کاشف عباسی , JULY 27,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی اور عسکری و ٹیکنالوجی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی سمت ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکہ کی ریاست واشنگٹن کے نمائندے کانگریس مین مائیکل جیمز بامگارٹنر اور ریاست مونٹانا سے منتخب ہونے والے سابق امریکی وزیرِ داخلہ و کانگریس مین ریان کیتھ زنکے سے ایک اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم وجیہہ قمر، چیئرمین نیوٹیک قمرالاسلام راجہ، سیکرٹری تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سائبر سیکیورٹی، جدید تکنیکی مہارتوں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی اور نتیجہ خیز تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں درپیش ڈیجیٹل سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے سائبر سیکیورٹی کے خصوصی کورسز اور سرٹیفیکیشن پروگرامز فوری طور پر تیار کیے جائیں گے۔ دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے مابین جدید نصاب کی تیاری، مشترکہ تحقیق، فیکلٹی کے تبادلے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و فن ٹیک کے شعبوں میں قریبی علمی شراکت داری استوار کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی کانگریسی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمانی اور تعلیمی وفود کی اس طرح کی باقاعدہ آمد سے پاک امریکہ دیرینہ اور متعدد الجہتی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ حکومتِ پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اور کلیدی ستون ہیں اور دونوں ممالک کے روابط مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، صحت، زراعت اور تعلیم جیسے باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں میں تعاو ن کی نئی راہداریاں کھولی جا سکیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے فل برائٹ پروگرام اور دیگر تعلیمی تبادلے کے پروگراموں کے اثرات کو سراہتے ہوئے بتایا کہ اب تک 44 ہزار سے زائد پاکستانی ان میرٹ پر مبنی پروگراموں سے مستفید ہو چکے ہیں، جو انسانی وسائل کی تعمیر میں ایک عظیم سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے تمام صوبوں سے ان توانائی، پانی، ماحولیات، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے حیاتیاتی موضوعات پر ریسرچ میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کی تاکہ مشترکہ چیلنجز سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔

اس اہم ملاقات کے دوران بین الاقوامی امیگریشن، ویزا پالیسیوں اور حساس ٹیکنالوجیز کے تحفظ کے موجودہ تناظر پر بھی تعمیری گفتگو ہوئی، جس پر وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ امریکی جامعات اور انڈسٹریز آج بھی عالمی سطح پر ‘سٹیم’ صلاحیتوں کی معترف ہیں اور پاکستان آئی ٹی، فن ٹیک، اور ایگری ٹیک کے میدان میں واشنگٹن کا ایک انتھائی قابلِ اعتماد، باصلاحیت اور متحرک شراکت دار بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ دونوں فریقین نے قلیل مدتی تحقیقی تبادلوں، ورچوئل لیبارٹریز، دوہری ڈگری پروگرامز اور اساتذہ کی تربیت کے لیے مشترکہ مراکز کے قیام کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر حتمی اتفاق کیا کہ تعلیم، تحقیقی ویزہ سہولیات اور تکنیکی جدت طرازی ہی وہ بنیادی ذرائع ہیں جو دونوں اقوام کے درمیان اعتماد، افہام و تفہیم اور معاشی خوشحالی کو طویل عرصے تک یقینی بنا سکتے ہیں، جبکہ وفاقی وزارتِ تعلیم نے اس اہم شراکت داری کو مزید نئی بلندیوں تک لے جانے کے اپنے اٹل عزم کا اعادہ کیا۔

چینی سپلائی چین کمپنی کا آئی سی سی آئی کا دورہ، فارما اور ہیلتھ کیئر شعبوں میں سرمایہ کاری پر اتفاقِ رائے

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

چین کی معروف اور پیش رو سپلائی چین کمپنی ‘یوزونگھے (ہوبئی)’ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ونس ما کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی اور کثیر الجہتی چینی تاجر وفد نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کا باضابطہ دورہ کیا، جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر، میڈیکل ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع اور نئے مواقع کا گہرائی سے جائزہ لینا تھا تاکہ دونوں دوست ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی و صنعتی تعاون کو مزید بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔ دورے کے دوران ہونے والے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وفد کے قائد ونس ما نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی کمپنی اور چینی سرمایہ کار پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی، متحرک اور انتہائی پرکشش مارکیٹ کی نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ یہاں محض تجارت ہی نہیں بلکہ براہِ راست سرمایہ کاری، جدید چینی ٹیکنالوجی کی پاکستان منتقل اور مقامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر جوائنٹ وینچرز (مشترکہ منصوبے) قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان یہ قریبی اور مضبوط صنعتی تعاون جہاں ایک طرف پاکستان میں صحت کی بنیادی سہولیات کے معیار کو بلند کرنے اور فارماسیوٹیکل سپلائی چین کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، وہی دوسری جانب جدید ترین ٹیکنالوجی، مہارت اور تحقیق کے تبادلے سے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے لیے تجارت اور سرمائے کے نئے افق کھولے گا۔ ونس ما نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ اسلام آباد چیمبر میں ہونے والی بی ٹو بی یعنی تاجر سے تاجر کی سطح پر مذاکراتی ملاقاتیں دونوں ممالک کی تجارتی برادری کے درمیان دیرپا اور پائیدار معاشی تعلقات کی مضبوط بنیاد ثابت ہوں گی۔

چینی وفد کا گرمجوشی سے پرخلوص خیرمقدم کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ اس اعلیٰ سطحی چینی وفد کا دورہ پاکستان اور چین کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے ہوئے معاشی اور صنعتی تعلقات کا ایک روشن مظہر ہے، جو خاص طور پر دواسازی، صحتِ عامہ اور سپلائی چین مینجمنٹ کے شعبوں میں ایک نئے سنہری باب کا آغاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے تمام تر صنعتی خطے کو پاکستان کا سب سے اہم فارماسیوٹیکل، سرجیکل اور ہیلتھ کیئر حب تسلیم کیا جاتا ہے، جہاں چینی کمپنیاں مشترکہ منصوبوں، نجی سرمائے کی فراہمی، پروسیسنگ ٹیکنالوجی اور صنعتی سہولیات کے ذریعے وسیع فائس حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے آئی سی سی آئی کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ چیمبر چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں قابلِ اعتماد اور بااعتماد تجارتی شراکت داروں سے جوڑنے اور تمام تر درکار سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنا فعال اور کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔

تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے دونوں ممالک کے جیو پولیٹیکل اور اقتصادی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ، بائیوٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر میں ہونے والی جدید جدت طرازیوں اور جدید ترین سپلائی چین کے شعبوں میں چین کی عالمی سطح پر مسلمہ مہارت اور دوسری طرف پاکستان کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت و روز بروز پھیلتی ہوئی صارفین کی مارکیٹ، دونوں اقوام کے لیے باہمی مفاد پر مبنی معاشی تعاون کا ایک مثالی ماحول فراہم کرتی ہیں۔ مزید برآں، آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان تعمری ملاقاتوں سے پاکستان کی دواسازی کی صنعت کو چین کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی اور نئی تجارتی راہداریاں کھلیں گی۔ اس اہم موقع پر چینی وفد کے دیگر ارکان جن میں لیو ہی شامل تھے، کے ساتھ ساتھ اسلام آباد چیمبر کے ایگزیکٹو ممبران ذوالقرنین عباسی، وسیم چوہدری، عمران منہاس، روحیل انور بٹ، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، اور آئی سی سی آئی کے دیگر اراکین اسرار مشوانی، عظمیٰ شیراز اور وفاقی دارالحکومت کی جید کاروباری و صنعتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور دوطرفہ اقتصادی روابط کو جلد از جلد عملی شکل دینے کے عزم کو دہرایا۔

سی پیک یونیورسٹی کنسورشیم: ایچ ای سی نے پاکستانی اور آزاد کشمیر کے ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کے لیے چین میں 6 ماہ کی ریسرچ فیلوشپ کا اعلان کر دیا

روزینہ اسماعیل, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) یونیورسٹی کنسورشیم کے فریم ورک کے تحت پاکستان اور آزاد کشمیر کی تسلیم شدہ جامعات میں زیرِ تعلیم ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کے لیے چین کی بہترین جامعات و تحقیقاتی اداروں میں چھ ماہ کی باوقار تحقیقی فیلوشپ کے لیے آن لائن درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ ایچ ای سی کے سرکاری بیان کے مطابق، اس فلیگ شپ پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان دیرپا تعلیمی و سائنسی تعاون کو استوار کرنا، مشترکہ تحقیق کے دائرہ کار کو وسعت دینا اور قومی ترجیحات سے منسلک جدید ترین موضوعات پر اعلیٰ معیار کی تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس فیلوشپ کے تحت پاکستانی محققین کو چین کے جدید ترین لیبارٹری انفراسٹرکچر، ماہرین کی سرپرستی اور عالمی معیار کے تحقیقاتی ماحول سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیانی تعلیمی اور معاشی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔

کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اہلیت کے معیار کے مطابق، اس فیلوشپ پروگرام کے لیے صرف وہی پاکستانی یا آزاد کشمیر کے شہری اپلائی کر سکتے ہیں جو کسی بھی منظور شدہ پاکستانی جامعہ میں کل وقتی ایم ایس، ایم فل یا پی ایچ ڈی کے طالب علم ہوں اور سلیکشن کے وقت بھی انہی ڈگری پروگرامز میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں۔ پی ایچ ڈی کے امیدواروں کے لیے لازمی ہے کہ انہوں نے اپنا کورس ورک مکمل کر لیا ہو، ان کی رجسٹریشن کو کم از کم 18 ماہ ہو چکے ہوں اور ان کا تحقیقی پروپوزل باضابطہ طور پر منظور شدہ ہو۔ اسی طرح ایم ایس اور ایم فل کے طلبا کے لیے کم از کم 18 کریڈٹ آورز کی تکمیل اور تھیسز یا تحقیقی مرحلے میں داخل ہونا بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، امیدواروں کا مجوزہ تحقیقی منصوبہ ایسا ہونا چاہیے جو چین میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت میں مکمل کیا جا سکے اور اس کا براہِ راست تعلق ان کے بنیادی تھیسز سے ہو، جبکہ چین کی جس میزبان جامعہ یا لیب کا قبولیت نامہ پیش کیا جائے، اس کا سی پیک یونیورسٹی کنسورشیم کا باقاعدہ رکن ہونا ضروری ہے۔

یہ فیلوشپ پروگرام وقت کی جدید ضروریات اور پاکستان کے قومی و اقتصادی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ایچ ای سی کے مطابق اس پروگرام میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ، مشین لرننگ، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، قابلِ تجدید توانائی، گرین ٹیکنالوجی، زراعت، غذائی تحفظ، بائیوٹیکنالوجی، واٹر مینجمنٹ، ماحولیاتی سائنسز اور موسمیاتی تبدیلی جیسے جدید سائنسی شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹیشن، صحتِ عامہ، بائیو میڈیکل سائنسز، معاشیات، عالمی تجارت اور سی پیک سٹڈیز جیسے اسٹریٹجک موضوعات پر تحقیق کرنے والے سکالرز بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایچ ای سی نے تمام اہل اور پرعزم سکالرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل دستاویزات کے ساتھ اپنے آن لائن فارمز ایچ ای سی کے پورٹل پر جمع کروائیں، جس کے لیے آخری تاریخ 14 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے۔

یورپی یونین کا روس پر پابندیوں کا طریقہ کار تبدیل کرنے پر غور؛ فنانشل ٹائمز کا انکشاف

محمود احمد, JULY 27,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

یورپی یونین روس کے خلاف اقتصادی و سیاسی پابندیاں عائد کرنے کے اپنے برسوں پرانے اور روایتی فریم ورک میں بنیادی تبدیلیوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، برسلز میں پالیسی ساز اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پابندیوں کی منظوری کے موجودہ نظام میں اہم اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ یہ صورتِ حال اور پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب یونان نے روس کے خلاف پابندیوں کے حالیہ اور انتہائی اہم پیکج کی منظوری کو مسلسل کئی ہفتوں تک روکے رکھا اور بلاآخر اپنی معیشت اور نجی شعبے کی بقا کی خاطر ایک بڑی کامیابی حاصل کی۔ رپورٹس کے مطابق، یونانی حکومت نے یورپی یونین کے اجلاسوں میں اس وقت تک نئے پابندیوں کے مسودے کی تائید اور توثیق سے صاف انکار کر دیا تھا جب تک کہ دیگر تمام یورپی ممبر ممالک نے یونان کی ایک معروف اور بڑی شپنگ کمپنی ’ڈائنا گیس‘ کو روس کے ساتھ تجارت کے حوالے سے خصوصی استثنا دینے پر مکمل رضامندی ظاہر نہیں کی۔

فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ یونان کا بنیادی مقصد اپنی کمپنی کے بحری جہازوں کو اس بات کی قانونی اجازت دلوانا تھا کہ وہ یورپی یونین کی حد سے باہر کے تیسرے ممالک تک روسی مائع قدرتی گیس کی تجارتی ترسیل بلا تعطل جاری رکھ سکیں۔ یونانی حکام کا موقف تھا کہ اگر ان کی شپنگ انڈسٹری پر یہ یکطرفہ پابندیاں نافذ کی گئیں تو اس سے نہ صرف یونانی معیشت کو اربوں ڈالر کا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہوگی۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق، یہ یورپی یونین کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ روس کے خلاف اجتماعی اور متفقہ اقتصادی پابندیوں کے فریم ورک کے دوران کسی مخصوص ملک کی درخواست پر ایک خاص تجارتی کمپنی کو یوں واضح اور بڑی نرمی دی گئی ہے۔ اس واقعے نے بلاواسطہ طور پر اس حقیقت کو بھی طشت از بام کر دیا ہے کہ ماسکو کے خلاف برسلز کی جانب سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے اثرات اور نقصانات یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک پر ایک جیسے مرتب نہیں ہوتے، بلکہ ساحلی اور تجارتی لحاظ سے متحرک ممالک کو اس کا زیادہ معاشی خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

یونان کی جانب سے ملنے والی اس کامیابی اور مسلسل تاخیر کے بعد، اب برسلز کے اعلیٰ حکام اور یورپی کمیشن میں اس بنیادی نقطے پر گہرا غور و خوض جاری ہے کہ مستقبل میں روس یا کسی بھی دیگر ملک کے خلاف پابندیوں کا منظوری کا عمل کس طرح پیش کیا جائے۔ یورپی سفارت کاروں کے مطابق، اب یہ تجویز زیرِ غور ہے کہ آئندہ ایک ہی بڑا، پیچیدہ اور جامع پابندیوں کا پیکج لانے کے بجائے چھوٹے، انفرادی اور مخصوص موضوعاتی پیکجز تیار کر کے انہیں مرحلہ وار منظور کروایا جائے۔ اس نئی مجوزہ حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر مستقبل میں کسی ایک یا دو رکن ممالک کو کسی مخصوص شعبے پر تحفظات ہوں یا وہ اپنے قومی معاشی مفادات کی خاطر ویٹو پاور کا استعمال یا فیصلے میں تاخیر کریں، تو اس کے باعث پورے پابندیوں کے پلان اور دیگر اہم شقوں کی منظوری بالکل معطل نہ ہو جائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین اس نئے طریقہ کار کو اپناتی ہے تو یہ یورپی اتحاد کی خارجہ پالیسی اور فیصلوں کی رفتار کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ روسی توانائی پر یورپی ممالک کا انحصار اور معاشی ترجیحات اب بھی اتحاد کی یکجہتی پر حاوی دکھائی دیتی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران جنگ کے حوالے سے 3 آپشنز زیرِ غور؛ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا بڑا دعویٰ

محمود احمد, JULY 27,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کی رپورٹ کے حوالے سے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ شدید ہوتی ہوئی عسکری کشیدگی کے تناظر میں مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے تین بنیادی اختیارات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق ان تین راستوں میں سے پہلا اختیار ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینا اور جنگ میں شدت لانا ہے، دوسرا اختیار ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے اس پر غیر معمولی اور انتہائی سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے، جبکہ تیسرا اختیار امریکہ کی جانب سے میدانِ جنگ میں اپنی “فتح” کا باقاعدہ اعلان کر کے جنگ سے مکمل دستبرداری اختیار کرنا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اور پینٹاگون کے اعلیٰ حکام گزشتہ پانچ ماہ سے جاری اس خونریز تصادم کے باوجود اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں، جن میں زبردست عسکری طاقت کے استعمال کے ذریعے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا بنیادی مقصد بھی شامل تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان تینوں آپشنز پر غور و خوض کے لیے وائٹ ہاؤس اور دفاعی اداروں کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین، صدر کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ متعدد اہم اور بند کمرہ اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ ان تمام ملاقاتوں میں ماہرین اور عسکری حکام نے ان تینوں میں سے ہر ایک راستے کے ممکنہ نتائج، خطرات اور فائدے پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے ایک حصے کا ماننا ہے کہ ایران پر مزید دباؤ بڑھایا جائے، جبکہ دوسرا فریق اس بات کا معترف ہے کہ ایران کے خلاف کھلی جنگ امریکہ کے لیے سفارتی، معاشی اور جیو پولیٹیکل سطح پر ایک دلدل ثابت ہو رہی ہے اور امریکہ کو فتح کا اعلان کر کے اس غیر سود مند لڑائی کو جلد از جلد ختم کر دینا چاہیے۔

یہ تمام تر صورتِ حال اس تناظر میں پیدا ہوئی ہے جب روان سال 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران کے متعدد علاقوں اور فوجی تنصیبات پر شدید حملے کیے تھے۔ اس واقعے کے بعد اگرچہ پاکستان کی مؤثر سفارتی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے اور عارضی فائر بندی قائم ہو گئی تھی، لیکن یہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ 8 جولائی کو امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کا بہانہ بنا کر ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی دن اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اس کے فوری جواب میں ایران نے بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی عسکری اڈوں اور تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا، جس سے پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ بعد ازاں 24 جولائی کو فریقین نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر براہِ راست حملے عارضی طور پر روک دیے تھے۔

تاہم، حملے رکنے کے باوجود تہران کا موقف انتہائی سخت نظر آتا ہے۔ ایرانی عسکری قیادت اور پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ امریکی بمباری رکنے کے باوجود آبنائے ہرمز پر ان کا کنٹرول بلاشرکتِ غیرے برقرار ہے اور عالمی سطح پر تیل کی نقل و حمل کی اس اہم ترین شاہراہ پر وہ اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ مزید برآں، ایرانی وزارتِ خارجہ نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو منقطع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پہلے خود کھلی جارحیت کا مظاہرہ کرتا ہے اور پھر بات چیت کا ڈرامہ رچاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ سخت موقف اور واشنگٹن کا اپنے مقاصد میں ناکام ہونا، صدر ٹرمپ کو تیسرے اختیار کی طرف مائل کر سکتا ہے تاکہ وہ بغیر کسی بڑے معاشی اور جانی نقصان کے اس جنگ سے امریکی فوج کو نکال سکیں۔

اسلام آباد پولیس خدمت مراکز کی شاندار کارکردگی؛ جاری سال 21 ہزار سے زائد کریکٹر سرٹیفکیٹس جاری

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

اسلام آباد کیپٹل پولیس کے خدمت مراکز نے رواں سال (یکم جنوری 2026ء سے 26 جولائی 2026ء تک) کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو 21 ہزار سے زائد کریکٹر سرٹیفکیٹس جاری کیے ہیں۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں قائم تمام خدمت مراکز شہریوں کو جدید، شفاف اور آسان ماحول میں معیاری سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پولیس ترجمان نے شہریوں کو آگاہ کیا کہ وہ بغیر کسی دشواری یا طویل انتظار کے خدمات حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس کی آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے “آن لائن اپائنٹمنٹ” کا آپشن استعمال کر سکتے ہیں۔

جامعہ ہری پور میں مشترکہ شجرکاری مہم کا پروقار افتتاح؛ سرسبز اور صحت مند پاکستان کے عزم کا اعادہ

روزینہ اسماعیل, JULY 27,2026

ہری پور (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

محکمہ جنگلات خیبر پختونخوا، آر ای سی پی پاکستان اور یونیورسٹی آف ہری پور کے شعبہ ماحولیاتی سائنسز کے باہمی اشتراک سے پیر کے روز یونیورسٹی آف ہری پور میں ایک پروقار شجرکاری مہم کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس ماحول دوست پیش رفت کا بنیادی مقصد اجتماعی اور ہم آہنگ کوششوں، ماحولیاتی آگاهی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بیدار کر کے سرسبز و شاداب مستقبل کی بنیا د رکھنا ہے۔ ترجمان یونیورسٹی کے مطابق تقریب سے ڈویژنل فارسٹ آفیسر ہری پور عقیل عباسی، انسپکٹر جنرل آف فارسٹس سید محمود ناصر اور سی ای او آر ای سی پی پاکستان ڈاکٹر ارشاد رامی نے خطاب کیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عابد فرید نے اپنے کلیدی خطاب میں پائیدار ماحولیاتی توازن کے لیے درختوں کی افادیت پر زور دیتے ہوئے تینوں اداروں کے مشترکہ جذبے کو سراہا۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کو معلوماتی و انتظامی خدمات کے اعتراف میں شیلڈز پیش کی گئیں، جس کے بعد کیمپس میں یادگاری پودے لگائے گئے اور یادگاری گروپ فوٹو لی گئی۔

امریکی دفاعی صنعت میں چینی نایاب معدنیات کا بحران؛ 2027 کی متبادل سپلائی چین کی آخری تاریخ پر عدم اطمینان کا خدشہ

محمود احمد, JULY 27,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

امریکی دفاعی صنعت چین سے پاک نایاب معدنیات کی سپلائی چین قائم کرنے کی مقررہ آخری تاریخ کو پورا کرنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو بالآخر چینی نژاد معدنیات کے استعمال میں کچھ نرمی دینے یا استثنیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

قانون اور آخری تاریخ

امریکی وفاقی قانون کے تحت یکم جنوری 2027ء سے ہر امریکی دفاعی ٹھیکیدار کے لیے لازم ہوگا کہ وہ سرٹیفائی کرے کہ اس کے نایاب ارتھ میگنٹس کی تیاری کے کسی بھی مرحلے — کان کنی سے لے کر حتمی میگنٹ کی تیاری تک — میں چین، روس، ایران یا شمالی کوریا کا کوئی کردار شامل نہیں۔ یہ پابندی سماریئم-کوبالٹ اور نیوڈیمیم میگنٹس پر لاگو ہوگی جو جدید لڑاکا طیاروں، میزائلوں کے راستہ متعین کرنے والے نظاموں اور جوہری آبدوزوں سمیت جدید ترین امریکی ہتھیاروں کے نظام میں استعمال ہوتے ہیں۔

صنعت کو درپیش مشکلات

ماہرین کے مطابق امریکہ میں گھریلو سطح پر نایاب معدنیات کی پروسیسنگ کی صلاحیت ابھی تک اس پیمانے پر موجود نہیں جو واشنگٹن کو درکار ہے۔ بڑے دفاعی ادارے اپنے ہزاروں ذیلی سپلائرز کا آڈٹ کر رہے ہیں تاکہ 2027ء کے مکمل تعمیل کے تقاضے پورے کیے جا سکیں، تاہم گھریلو “کان سے میگنٹ تک” سپلائی چین کی تعمیر میں طویل وقت درکار ہے اور چین کی مضبوط اجارہ داری اس عمل کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک امریکی معدنیات کمپنی میں 400 ملین ڈالر کی حصص خریداری، ایک اور امریکی نایاب ارتھ کمپنی کو 1.6 ارب ڈالر کی امداد کا خط، اور 12 ارب ڈالر مالیت کا اسٹریٹجک ذخیرہ شامل ہے۔ اس کے باوجود امریکہ ہر سال چین سے تقریباً 10 ہزار ٹن نایاب ارتھ میگنٹس درآمد کرتا ہے، اور یہ طلب دفاعی و توانائی کے شعبوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔

استثنیٰ کا امکان

قانون کے تحت اگر کسی معدنیات کا غیر چینی متبادل دستیاب نہ ہو تو ٹھیکیدار استثنیٰ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ ایسے استثنیٰ نایاب ہی دیے جائیں گے۔ تاہم صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنوری 2027ء تک گھریلو پیداواری صلاحیت مطلوبہ سطح تک نہ پہنچ سکی تو کئی اہم دفاعی پروگراموں کو یا تو تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا یا پھر انہیں استثنیٰ کے عمل پر انحصار کرنا ہوگا — جسے قانون خود ایک غیرمعمولی اقدام کے طور پر دیکھتا ہے۔

پس منظر

یہ آخری تاریخ اصل میں سال 2024ء کے دفاعی اختیارات کے قانون کے تحت ایک سال کے لیے موخر کی گئی تھی تاکہ صنعت کو متبادل سپلائرز تلاش کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔ تاہم اب وہ اضافی مہلت بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔ اسی دوران چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے باعث مغربی دفاعی، آٹوموبائل اور برقی آلات کی سپلائی چینز بھی شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی دفاعی صنعت وقت پر خود کفیل سپلائی چین قائم کرنے میں ناکام رہی تو حکومت کو یا تو آخری تاریخ میں مزید توسیع دینی پڑے گی یا پھر بڑے پیمانے پر استثنیٰ جاری کرنا پڑ سکتا ہے — جو بالواسطہ طور پر چینی معدنیات پر انحصار جاری رکھنے کے مترادف ہوگا۔

امریکی بمباری کے باوجود آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول برقرار ہے، واشنگٹن سے اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے: ایران کا سخت اعلان

محمود احمد, JULY 27,2026

تہران/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

ایران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت نے واضح اور سخت الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ بمباری کا سلسلہ روکے جانے کے باوجود، تہران خطے کی سب سے اہم اور حکمتِ عملی کے اعتبار سے حساس ترین سمندری شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ پر اپنا مکمل اور بلاشرکتِ غیرے کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ واشنگٹن انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی یا میز کے مذاکرات میں بالکل بھی دلچسپی نہیں رکھتے۔

امریکی حملے اور تہران کا سخت مؤقف

حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں پیش آنے والے خوفناک فوجی تصادم اور امریکہ کی جانب سے ایران کے متعدد اہم اور حساس بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکایک بمباری کا سلسلہ روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔ واشنگٹن کے اس اقدام کا مقصد خطے کو ایک مکمل اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں جانے سے بچانا اور سفارتی راستے تلاش کرنا بتایا گیا تھا۔ تاہم، تہران کی جانب سے اس امریکی پیش رفت پر انتہائی تند و تیز اور سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

ایرانی عسکری حکام اور پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ “امریکہ کا یہ وہم ہے کہ وہ بمباری شروع کر کے اپنی مرضی سے اسے روک سکتا ہے اور پھر مذاکرات کا ڈرامہ رچا سکتا ہے۔ ایران پر مسلط کی جانے والی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہماری فورسز ہمہ وقت تیار ہیں اور امریکہ کی اس ناگہانی کارروائی نے سفارت کاری کے تمام بقایا امکانات کو ختم کر دیا ہے۔”

آبنائے ہرمز کی عالمی و اقتصادی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی نقل و حمل کے لیے سب سے اہم ترین سمندری راستہ قرار دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر استعمال ہونے والے کل خام تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی تنگ سمندری راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

ایران کی جانب سے اس گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کا سختی سے اعادہ کرنے اور امریکی بحری جہازوں و خلیجی تیل بردار جہازوں کو کسی بھی وقت کارروائی کا نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں شدید ہاہاکار مچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں معمولی نوعیت کی رکاوٹ یا بلاکبندی کا سامنا بھی ہوتا ہے تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی، جس کا براہِ راست اثر ایشیائی اور یورپی معیشتوں پر پڑے گا۔

مذاکرات کی منسوخی اور سفارتی تعطل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک طرف جہاں سخت پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں تو دوسری جانب ایک نئے معاہدے یا مذاکرات کی تجویز بھی پیش کی جاتی رہی ہے۔ تاہم، ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کی جانب سے اس پر قطعی اور حتمی انکار آ چکا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران امریکہ پر وعدہ خلافی اور بین الاقوامی قوانین کی شدید خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ:

“امریکہ پہلے خود حملے کرتا ہے، ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے اور پھر مذاکرات کی پیشکش کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ ہم ایسے دباؤ اور دھمکیوں کے سائے میں واشنگٹن سے کوئی گفتگو نہیں کریں گے۔ اب بات چیت کا باب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔”

عالمی برادری اور علاقائی صورتِ حال

ایران کے اس حتمی اور سخت موقف نے عالمی برادری بالخصوص اقوامِ متحدہ ، یورپی یونین اور ایشیائی ممالک کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تمام بڑی عالمی طاقتیں دوٹوک انداز میں زور دے رہی ہیں کہ تہران اور واشنگٹن دونوں تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ عالمی اقتصادی نظام اور توانائی کے سپلائی سلسلے میں کوئی بڑا بحران جنم نہ لے سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ سخت اور جارحانہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران اپنے دفاعی نظام کو مضبوط تر سمجھتے ہوئے امریکی دباؤ کے سامنے قطعی طور پر جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری بیڑے اور ایرانی فورسز کی موجودگی کی وجہ سے صورتِ حال مزید باریک اور حساس موڑ اختیار کر سکتی ہے۔

کیپٹن محمد سرور شہید (نشانِ حیدر) کے 78ویں یومِ شہادت کے موقع پر ملک بھر میں قرآن خوانی اور خراجِ عقیدت

کاشف عباسی , JULY 27,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

نشانِ حیدر حاصل کرنے والے ارضِ پاک کے پہلے شجاع سپوت، کیپٹن محمد سرور شہید کے 78ویں یومِ شہادت کی مناسبت سے ملک بھر کی مساجد میں قرآن خوانی کی محافل کا انعقاد کیا گیا، جن میں علماء کرام اور جلیل القدر مذہبی رہنماؤں نے شہدائے پاکستان کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ علماء کرام نے مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دفاعِ وطن کی خاطر جان کی قربانی دینے والے شہداء ہمارا حقیقی سرمایہ اور قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کیپٹن محمد سرور شہید جیسے قومی ہیروز کی لازوال خدمات اور جرات و بسالت کو اجاگر کرنا نئی نسل میں حب الوطنی، یکجہتی اور قومی ذمہ داری کے شعور کو بیدار کرنے کا باعث بنتا ہے۔ علماء نے واضح کیا کہ کیپٹن محمد سرور شہید کی تاریخی قربانی آج بھی جرات، وفاداری اور وطن عزیز سے بے لوث محبت کی روشن ترین علامت ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی و معاشی تعاون کا نیا باب؛ 40 رکنی اعلیٰ سطح امریکی وفد پاکستان پہنچ گیا

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے مابین کاروباری و معاشی شراکت داری کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے، جس سلسلے میں معروف امریکی سرمایہ کاروں، کاروباری رہنماؤں اور ٹیکنالوجی ماہرین پر مشتمل 40 رکنی اعلیٰ سطح وفد 26 سے 31 جولائی تک پاکستان کے اہم دورے پر موجود ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ، وزارتِ تجارت اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے باہمی اشتراک سے ترتیب دیے گئے اس دورے کا مقصد بی ٹو بی اجلاس، پالیسی بریفنگز اور سرمایہ کاری کے ٹھوس معاہدوں کو حتمی شکل دینا ہے۔ دورے کے دوران وفد کی وزیرِ اعظم، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ، اور ایس آئی ایف سی کے حکام سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ امریکی وفد مصنوعی ذہانت ، ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ایرو اسپیس، معدنیات، توانائی اور دفاع جیسے جدید شعبوں میں پاکستان کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

بلوچستان میں ‘فتنة الہندوستان’ (بی ایل ایف) کی سفاکیت؛ آوران سے حاملہ خاتون روبینہ کے اغوا، زیادتی اور قتل کا لرزہ خیز واقعہ

کاشف عباسی , JULY 27,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے درندوں نے سفاکیت اور درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضلع آوران سے بلوچستان کی بیٹی اور حاملہ خاتون روبینہ کو اغوا کے بعد شدید جنسی زیادتی اور بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق مقتولہ روبینہ کی مسخ شدہ لاش 25 جولائی کو آوران کے علاقے کبری کور نالہ سے برآمد ہوئی، جسے اکبر ولد غنی اور بی ایل ایف کے مسلح دہشت گردوں نے 20 اور 21 جولائی کی درمیانی شب اغوا کیا تھا اور چار دن تک محبوس رکھنے کے بعد لاش پھینک کر فرار ہو گئے۔ مقتولہ کے والد نے شدید غم و غصے اور دُہائی دیتے ہوئے کہا کہ نام نہاد حقوق کی جنگ لڑنے والی اس تنظیم نے ان کی معصوم اور حاملہ بیٹی پر یہ ظلم کیوں ڈھایا۔ سیاسی و سماجی ماہرین اور عام شہریوں کا کہنا ہے کہ حقوق کے ڈرامے رچانے والے یہ عناصر حقیقت میں بلوچ عوام اور وہاں کی خواتین کے کھلے دشمن ہیں جن کا بلوچ روایت، غیرت اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانے والے یہ درندے اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

روس کے ماؤنٹ ایلبروس پر شدید برفانی طوفان؛ بوسنیا کے 5 کوہ پیما ہلاک

محمود احمد, JULY 27,2026

ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

روس کے ماؤنٹ ایلبروس پر شدید برفانی طوفان کے باعث بوسنیا اور ہرزیگووینا سے تعلق رکھنے والے 5 کوہ پیما ہلاک ہو گئے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کوہ پیما یورپ کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایلبروس سر کرنے کی مہم پر تھے کہ اچانک علاقے میں موسم انتہائی خراب ہو گیا اور شدید طوفان نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شدید برف باری، تیز ہواؤں اور انتہائی کم درجہ حرارت کے باعث کوہ پیماؤں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ امدادی کارروائیوں کے باوجود بوسنیا کے 5 کوہ پیماؤں کی جانیں نہ بچائی جا سکیں۔

ماؤنٹ ایلبروس کے بارے میں

ماؤنٹ ایلبروس روس کے قفقاز کے علاقے میں واقع ہے اور سطح سمندر سے 5,642 میٹر بلند ہے۔ اسے یورپ کی بلند ترین چوٹی تصور کیا جاتا ہے اور یہ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے ایک مقبول لیکن انتہائی خطرناک مقام ہے۔

ماہرین کے مطابق ماؤنٹ ایلبروس پر موسم انتہائی تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے، اور اچانک آنے والے برفانی طوفان، شدید ہوائیں اور کم حدِ نگاہ کوہ پیماؤں کے لیے جان لیوا خطرات پیدا کر دیتے ہیں۔ تازہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلند پہاڑی علاقوں میں موسم کی شدت کو نظر انداز کرنا کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔