

محمود احمد, September 11,2026
صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء
یمن میں شدید اور خونی عسکری پیش قدمی کے دوران ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے یمن کے بحیرۂ احمر سے متصل تقریباً تمام تر مغربی ساحلی خطے اور اس سے ملحقہ اہم جزائر پر مکمل عسکری کنٹرول حاصل کرنے کا باضابطہ دعویٰ کر دیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ایک سینئر فوجی عہدیدار نے عالمی خبر رساں ادارے فرانس پریس (اے ایف پی) سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یمن کے مغربی ساحل پر قائم حکومت کے تمام آخری مضبوط عسکری مراکز اب حوثیوں کے قبضے میں جا چکے ہیں۔ یمنی فوجی اہلکار نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مغربی ساحل کے جس خطے پر بھی اب تک حکومتی فورسز اور اتحادیوں کی عملداری تھی، وہ اب مکمل طور پر ہاتھ سے نکل چکی ہے۔
فوجی ذرائع کے مطابق بحیرۂ احمر میں ساحلی علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حوثی جنگجوؤں نے پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے عالمی جہاز رانی کے لیے انتہائی حساس اور تزویراتی آبنائے باب المندب کے قریبی سمندر میں واقع مزید دو اہم جزائر پر بھی اپنا عسکری قبضہ جما لیا ہے۔
یہ تشویشناک عسکری پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے 11 ستمبر کو تصدیق کی تھی کہ حوثی عسکریت پسندوں نے باب المندب کے عین وسط میں واقع تاریخی پیریم (میون) جزیرے پر کامل تصرف حاصل کر لیا ہے۔
اس تاریخ ساز پیش قدمی سے قبل حوثی عسکری ڈویژنز نے بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ اور ساحلی شہر موچا (المخا) پر مکمل قبضہ کیا تھا اور وہاں سے جنوب کی سمت برق رفتار پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب کے دہانے پر واقع اہم علاقے دھباب (ذباب) پر قبضہ جمایا تھا۔
واضح رہے کہ آبنائے باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے جوڑنے والی دنیا کی سب سے مصروف اور حساس ترین سمندری شاہراہ ہے، جو عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل اور توانائی کی بین الاقوامی ترسیل کے لیے اہم ترین شمار کی جاتی ہے۔ اس شاہراہ کے بالکل وسط میں واقع پیریم (میون) جزیرہ پورے خطے کا عسکری توازن برقرار رکھنے میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔
دفاعی و بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حوثی فورسز اس طویل ساحلی پٹی اور آبنائے باب المندب کے گرد و پیش میں اپنا عسکری تسلط برقرار رکھنے اور دفاعی مورچے قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف بین الاقوامی بحری جہاز رانی مفلوج ہو سکتی ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل پر دباؤ اور بحری تحفظ کا بحران مزید شدید ہو جائے گا۔






















