مہنگائی کے ستائے عوام اور پنشنرز کے لیے بڑی خوشخبری، حکومت کا قومی بچت اور سروا اسلامک اسکیموں پر منافع کی شرح میں شاندار اضافے کا اعلان، نئی شرحوں کا اطلاق آج سے نافذ العمل، بہبود اور پنشنرز اکائونٹ پر ماہانہ منافع بڑھ گیا

کاشف عباسی ,june 10,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک میں بچت کے رجحان کو فروغ دینے اور سرمایہ کاروں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے قومی بچت (نیشنل سیونگز) اسکیموں اور سروا اسلامک اسکیموں کے تحت مختلف سرمایہ کاری منصوبوں پر منافع کی شرح میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، اسلام آباد کے سرکاری ذرائع اور سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ان نئی اور زائد شرحوں کا باقاعدہ اطلاق ۱۰ جون ۲۰۲۶ء یعنی آج ہی سے پورے ملک میں فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا ہے، جاری کردہ سرکاری اعلامیے کی تفصیلات کے مطابق اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹ اور اسپیشل سیونگز اکاؤنٹ پر پہلے پانچ منافع کی چھ ماہی ادائیگیوں کے لیے اب سالانہ شرح بارہ اعشاریہ چار (12.4) فیصد مقرر کی گئی ہے، جبکہ چھٹے اور آخری منافع کی ادائیگی کے لیے اس شرح کو مزید بڑھا کر تیرہ اعشاریہ چھ (13.6) فیصد کر دیا گیا ہے، اسی طرح ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹ کے تحت سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے مختلف مدتوں کے لحاظ سے منافع کی شرح میں بھی واضح اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت دسویں سال کی مدت مکمل ہونے تک مجموعی منافع دو سو سولہ (216) فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ جائے گا، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش موقع ہے، وزارتِ خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق ریگولر انکم سرٹیفکیٹ ہولڈرز کے لیے اب ایک لاکھ روپے کی بنیادی سرمایہ کاری کے عوض ہر ماہ ایک ہزار بیس (1,020) روپے کا منافع دیا جائے گا، جو مجموعی طور پر سالانہ بارہ اعشاریہ چوبیس (12.24) فیصد بنتا ہے، دوسری جانب معاشرے کے کمزور اور معزز طبقات کے لیے سب سے اہم ترین بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ، پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ کے تحت اب ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر ماہانہ ایک ہزار ایک سو (1,100) روپے کا بڑا منافع مقرر کیا گیا ہے، جو کہ سالانہ بنیادوں پر تیرہ اعشاریہ بیس (13.20) فیصد کے برابر بنتا ہے، قومی بچت کے حکام کے مطابق مروجہ قوانین کے تحت بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ خریدنے کی سہولت صرف بیواؤں، بزرگ شہریوں (سینیئر سیٹیزنز) اور خصوصی افراد (ڈس ایبلڈ پرسنز) کے لیے ہی دستیاب ہوگی، جبکہ پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ خالصتاً ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ دینے والے عظیم شہدا کے پسماندگان اور اہل خانہ کے لیے مخصوص رہے گا، مختصر مدتی بچت سرٹیفکیٹس (ایس ٹی ایس سی) کے تحت سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے تین ماہ، چھ ماہ اور ایک سال کی مدت کے لیے بالترتیب گیارہ اعشاریہ چالیس (11.40) فیصد، گیارہ اعشاریہ چھیاسٹھ (11.66) فیصد اور گیارہ اعشاریہ ستتر (11.77) فیصد سالانہ منافع مقرر کر دیا گیا ہے، تاہم دوسری جانب حکومت نے روایتی عام سیونگ اکاؤنٹ پر منافع کی پرانی شرح کو بغیر کسی تبدیلی کے دس (10) فیصد سالانہ پر ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، معاشی ماہرین اور مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں جاری معاشی صورتحال کے تناظر میں منافع کی شرح میں یہ حالیہ اضافہ عوام میں بچت کی حوصلہ افزائی کرنے، بینکنگ نظام میں مائع کاری بڑھانے اور خاص طور پر فکسڈ انکم پر گزارا کرنے والے سرمایہ کاروں کو مہنگائی کے دور میں بہتر منافع فراہم کرنے کے حکومتی اقدامات کا ایک مخلصانہ حصہ ہے۔

طالبان وفد کے ممکنہ دورہ برسلز کے خلاف یورپ میں شدید غم و غصہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور افغان شہریوں کا یورپی پارلیمنٹ کے دفتر کے باہر بڑا احتجاجی مظاہرہ، طالبان کو مدعو کرنا افغان خواتین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار

منصور احمد june 09,2026

برسلز(نیوز اینڈ نیوز) — 09 جون 2026ء

افغان طالبان کے ممکنہ دورۂ برسلز اور یورپی اداروں کے ساتھ متوقع مذاکرات کے خلاف اسپین میں یورپی پارلیمنٹ کے مرکزی دفتر کے باہر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، تارکینِ وطن افغان شہریوں اور مختلف سماجی کارکنوں نے ایک بہت بڑا اور شدید احتجاجی مظاہرہ کیا ہے، برسلز اور بین الاقوامی میڈیا سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق مظاہرین نے غصے سے بھرپور نعرے بازی کرتے ہوئے طالبان وفد کو یورپی اداروں میں باضابطہ مدعو کرنے کی کسی بھی کوشش یا اقدام کو دہشت گردی و جبر کے متاثرین کی کھلی توہین اور مظلوم افغان خواتین کے سلگتے ہوئے مسائل کو یکسر نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دیا ہے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے طویل اور تاریک دورانِ حکومت میں طالبان انتظامیہ نے افغانستان کے اندر معصوم خواتین اور بچیوں کی بنیادی آزادیوں پر بدترین اور سخت ترین پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس کے باعث پورا ملک اس وقت افغان خواتین کے لیے ایک بہت بڑے قید خانے کی شکل اختیار کر چکا ہے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ طالبان کی فاشسٹ پالیسیاں خواتین کی تعلیم، روزگار، عزتِ نفس اور ان کے روشن مستقبل کے لیے ایک مسلسل اور سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں، افغان جریدے ”افغانستان انٹرنیشنل“ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق اس احتجاج میں شریک پناہ گزینوں اور عالمی نمائندوں نے یورپی یونین سے پرزور مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق پامال کرنے والے طالبان کو یورپی پارلیمنٹ جیسے معزز ترین پلیٹ فارم پر جگہ دینے کے بجائے بین الاقوامی عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑا کر کے ان کا کڑا احتساب کیا جانا چاہیے اور انہیں عالمی سطح پر جوابدہ بنایا جانا چاہیے، مظاہرین کا مؤقف تھا کہ انسانی حقوق کی ایسی سنگین و کھلی خلاف ورزیوں کے ناقابلِ تردید الزامات کی موجودگی میں طالبان کو کسی بھی قسم کا سفارتی پلیٹ فارم یا سیاسی کوریج فراہم کرنا عالمی قوانین کا جنازہ نکالنے کے برابر ہے، واضح رہے کہ اندرونی رپورٹس کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے متعدد اراکین اور اسی (۸۰) سے زائد بین الاقوامی انسانی حقوق کی نامور تنظیمیں بھی طالبان وفد کے اس ممکنہ دورۂ برسلز پر پہلے ہی شدید تشویش اور مخالفت کا اظہار کر چکی ہیں، بین الاقوامی سیاسی ماہرین اور دفاعی مبصرین کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ اس وقت خود افغانستان کے اندرونی حالات بھی سیاسی اور سماجی طور پر تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور کابل حکومت کی سخت پالیسیوں کے خلاف عوامی مزاحمت اور اندرونی لاوے کے پھٹنے کی مسلسل اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، مبصرین کے مطابق اب ملک کے اندر اور بیرونِ ملک ہونے والے یہ بڑے پیمانے کے مظاہرے طالبان کے اس عوامی حمایت اور پورے ملک پر مکمل امن و امان کے کنٹرول کے دعوؤں پر سنگین ترین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔

مودی سرکار کی نفرت انگیز سیاست کے خلاف نوجوان باغی، ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ بھارتی نوجوانوں کی حقیقی آواز بن گئی، ہندو مسلم بیانیے کے بجائے تعلیم اور روزگار دینے کا مطالبہ، تحریک تیز کرنے کا اعلان

منصور احمد june 09,2026

نئی دہلی(نیوز اینڈ نیوز) — 09 جون 2026ء

بھارت میں مودی سرکار کی عوام دشمن تعلیمی و معاشی پالیسیوں کے خلاف نوجوانوں کی ایک منفرد اور بڑی احتجاجی تحریک کے طور پر ابھرنے والی ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی پالیسیوں پر سخت اور تیکھی تنقید کرتے ہوئے دوٹوک مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی سیاست کو مذہبی منافرت اور تقسیم کے بجائے خالصتاً تعلیم، روزگار کی فراہمی اور نوجوانوں کے حقیقی مسائل پر مرکوز کیا جائے، نئی دہلی اور بھارتی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مودی سرکار کو کڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے بھارتی سیاست کو جان بوجھ کر صرف ہندو مسلم کے زہریلے بیانیے تک محدود رکھا گیا ہے، تاکہ عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا سکے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس نفرت انگیز سیاست کے باعث نوجوانوں کو درپیش بڑھتی ہوئی بے روزگاری، تعلیمی نظام کے سنگین مسائل اور روزگار کے مواقع کی بدترین کمی جیسے سب سے بنیادی اور اہم مسائل پسِ منظر میں چلے گئے ہیں، ابھیجیت دیپکے کا کہنا تھا کہ بھارت کی نئی اور باشعور نوجوان نسل اب مودی سرکار کے کھوکھلے نعروں کے بجائے اپنے مستقبل، تعلیم کی بہتری اور معقول ملازمتوں کے حوالے سے عملی و فوری اقدامات چاہتی ہے، انہوں نے مودی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر تعلیمی نظام میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں اور نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں جاری احتجاجی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری کٹھ پتلی سرکار پر عائد ہوگی، کاکروچ جنتا پارٹی کے مرکزی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی وزیر تعلیم کے فوری استعفے کے اپنے اصولی مطالبے کے ساتھ ساتھ ملکی تعلیمی نظام میں انقلابی اصلاحات اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے بہت جلد ایک جامع اور تاریخی قومی ایجنڈا بھی عوام کے سامنے پیش کرے گی، واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں بھارت کے طول و عرض میں امتحانی پرچوں کے آؤٹ ہونے، پیپرز لیک اسکینڈلز اور نتائج میں بڑے پیمانے پر ہونے والے کرپشن و تنازعات کے بعد بھارت کے مختلف بڑے شہروں میں طلبہ اور نوجوانوں کی جانب سے مودی سرکار کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور غصے میں روزبروز ہولناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، نئی دہلی کے سیاسی مبصرین کے مطابق نوجوانوں کے ان سلگتے ہوئے مسائل اور روزگار سے متعلق سخت مطالبات نے اس وقت بھارتی سیاست کے ایوانوں میں ایک نیا زلزلہ برپا کر دیا ہے اور مودی سرکار دفاعی پوزیشن پر آ گئی ہے، جبکہ دوسری جانب ملک کی مختلف سیاسی جماعتیں بھی اب انتخابی میدان میں نوجوان ووٹرز کے اس بڑھتے ہوئے انقلابی کردار کو انتہائی اہم قرار دینے پر مجبور ہو چکی ہیں، کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے اپنے فولادی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نوجوانوں کی یہ تحریک ناصرف مودی کے فاشسٹ نظریات کا مقابلہ کرے گی بلکہ تعلیم، نظام میں مکمل شفافیت، میرٹ کی بحالی اور روزگار کے بہترین مواقع کے حصول کو ہی اپنی اس بڑی جدوجہد کا بنیادی محور بنائے رکھے گی۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی ہولناک رخ اختیار کر گئی، ایرانی کارروائی میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر تباہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ترین ردِعمل، واشنگٹن جواب دینے پر مجبور ہوگا، پائلٹس کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

منصور احمد june 09,2026

واشنگٹن(نیوز اینڈ نیوز) — 09 جون 2026ء

آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس سمندری علاقے میں امریکی اور ایرانی افواج کے مابین کشیدگی ایک نئے اور انتہائی ہولناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب پیش آنے والے حالیہ سنگین واقعے کے بعد اب امریکہ ایرانی جارحیت کا جواب دینے پر مجبور ہوگا، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی فورسز کی مبینہ کارروائی کے نتیجے میں امریکی فوج کا ایک جدید اور اربوں روپے مالیت کا اپاچی (Apache) گن شپ ہیلی کاپٹر مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، واشنگٹن اور امریکی میڈیا سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے جاری کردہ باضابطہ بیان میں بتایا کہ امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے انہیں گزشتہ شب پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا ہے، جس کے مطابق دورانِ گشت امریکی فوج کے ایک جدید ترین اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر کو سمندر میں نشانہ بنایا گیا، تاہم خوش قسمتی سے ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں امریکی پائلٹس معجزانہ طور پر محفوظ رہے جنہیں جائے وقوعہ سے فوری طور پر بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے، امریکی صدر نے ایران کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی اور حساس ترین علاقے میں امریکی فوجی اثاثوں کو براہِ راست نشانہ بنانا ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے اور امریکہ اس اشتعال انگیزی پر اب اپنی مرضی کے مطابق مناسب عسکری ردعمل دینے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے، دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق خطے میں ۱۳ اپریل سے جاری بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی نیوی کی جانب سے اب تک متعدد مشکوک بحری جہازوں کو روک کر ان کا رخ موڑا جا چکا ہے جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد لے جانے والے درجنوں دیگر جہازوں کو تصدیق کے بعد گزرنے کی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے، امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اپاچی ہیلی کاپٹر کے اس حادثے کو پینٹاگون کی جانب سے ابتدائی طور پر ایک عام تکنیکی یا آپریشنل واقعہ قرار دینے کی کوشش کی جا رہی تھا، تاہم بعد ازاں خفیہ اداروں سے سامنے آنے والی نئی معلومات میں یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا کہ یہ ہیلی کاپٹر دراصل ایرانی فورسز کی بلااشتعال عسکری کارروائی کا نشانہ بنا تھا، نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صحافیوں سے ہنگامی گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ واقعے میں کسی بھی امریکی فوجی اہلکار کی جان کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون اس تمام صورتحال کا انتہائی بغور جائزہ لے رہے ہیں، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی سطح پر خام تیل کی ترسیل کی دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی اس نئی عسکری کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور پورے خطے کی سلامتی پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

مالیاتی دباؤ اور سیاسی ترجیحات، قومی اقتصادی کونسل کا اہم ترین اجلاس آج طلب، ۴۷ کھرب روپے سے زائد کے ملکی ترقیاتی بجٹ کی تشکیلِ نو پر غور، ترقیاتی منصوبوں میں بڑی کٹوتیوں کا امکان

کاشف عباسی ,june 08,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی و مالی حقائق کے پیشِ نظر ترقیاتی بجٹ کی تشکیلِ نو کے لیے قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کا اجلاس آج پیر کے روز وزیراعظم پاکستان کی زیرِ صدارت منعقد ہو رہا ہے، جس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں پر مشتمل تقریباً ۴۷ کھرب ۱۵ ارب (۴.۷۱۵ کھرب) روپے کے مجموعی ترقیاتی پروگرام کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، وفاقی دارالحکومت کے باوثوق ذرائع کے مطابق شدید مالیاتی دباؤ، سیاسی ترجیحات اور مختلف سرکاری اداروں کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیے جانے کا قوی امکان ہے، واضح رہے کہ قومی اقتصادی کونسل ملک کا اعلیٰ ترین اقتصادی فیصلہ ساز فورم ہے جو وزیراعظم، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزراء پر مشتمل ہوتا ہے، ذرائع کے مطابق آج ہونے والے اس اہم اجلاس کے چار نکاتی ایجنڈے میں سالانہ منصوبہ 2025-26 کا تفصیلی جائزہ، سالانہ منصوبہ 2026-27 کی حتمی منظوری اور چاروں صوبوں کے اہم سماجی و اقتصادی اشاریوں پر بریفنگ شامل کی گئی ہے، اجلاس کے دوران پبلک سیکٹر انویسٹمنٹ (پی ایس آئی) پروگرام 2025-26 کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ مالی سال کے لیے مجوزہ سرمایہ کاری منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا جائے گا، اس کے علاوہ رواں مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں اب تک کی گئی مختلف ترامیم، نئے اضافوں اور تقریباً ۱۷۵ ارب روپے کی بڑی کٹوتی کی باقاعدہ توثیق کرنا بھی کونسل کے ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے، وفاقی ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی پی ایس ڈی پی کا کل حجم ۱.۳ کھرب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب ملک میں مالی وسائل کی محدود دستیابی اور تنگی کے باعث صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں (اے ڈی پیز) کے حجم میں نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اجلاس میں ملک بھر میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کی اب تک کی پیش رفت کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، کیونکہ اس وقت ملک کے متعدد میگا منصوبے لاگت اور تکمیل کی مدت میں غیر معمولی اور نمایاں اضافے کا شکار ہو چکے ہیں، حکام کے مطابق ان بڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے اور روزبروز بڑھتے ہوئے اضافی اخراجات پر قابو پانے کے لیے ایک نئی اور سخت حکمتِ عملی مرتب کرنے پر غور کیا جائے گا، معاشی ماہرین کے مطابق قومی اقتصادی کونسل میں آج کیے جانے والے یہ بڑے فیصلے آئندہ پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ 2026-27 کی اصل سمت کا تعین کرنے میں سب سے اہم اور کلیدی کردار ادا کریں گے، خاص طور پر ایک ایسے نازک وقت میں جب حکومت کو ملکی ترقیاتی اخراجات، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور اپنے اتحادیوں کے سیاسی تقاضوں کے درمیان ایک مشکل توازن قائم کرنے کا بڑا چیلنج درپیش ہے۔

وفاقی بجٹ 2026-27ء، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان زرداری ہاؤس میں اہم مشاورتی اجلاس، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی پی پی پی کی تجاویز بجٹ میں شامل کرنے کی یقین دہانی، وزیراعظم شہباز شریف آج تیسرے دور میں شریک ہوں گے

کاشف عباسی ,june 08,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے حکومت کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو باقاعدہ یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں پارٹی کی جانب سے پیش کردہ تمام تجاویز اور سفارشات پر سنجیدگی سے غور کر کے انہیں شامل کیا جائے گا، وفاقی دارالحکومت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ یقین دہانی اتوار کے روز پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین ہونے والے ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں کرائی گئی، جو زرداری ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، اس اہم بیٹھک میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پارٹی وفد کی خود قیادت کی، جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینیٹر شیری رحمان اور رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر جیسی اہم سیاسی شخصیات شامل تھیں، سفارتی و سیاسی ذرائع کے مطابق دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان وفاقی بجٹ، نئے ترقیاتی منصوبوں، صوبوں کے جائز مالی حقوق اور ملک بھر میں عوامی ریلیف کے مختلف اقدامات پر تفصیلی اور تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اہم اجلاس اصل میں ہفتہ کے روز ہونا تھا، تاہم گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق گوں نا گوں مصروفیات کے باعث پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی خصوصی درخواست پر اسے اتوار تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا، اب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین بجٹ مشاورت کا تیسرا اہم دور پیر یعنی آج متوقع ہے، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی لاہور سے اپنی واپسی کے فوراً بعد خود شرکت کریں گے، سیاسی مبصرین کے مطابق وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل اتحادی جماعتوں کے درمیان جاری یہ مسلسل مشاورت حکومتی اتحاد کے مستقبل کے استحکام اور بجٹ کی بلا رکاوٹ منظوری کے لیے انتہائی اہم اور کلیدی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے غریب عوام کو ریلیف دینے، ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور صوبائی حقوق سے متعلق متعدد سخت اور اہم تجاویز حکومت کے سامنے رکھی گئی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہوا، ایران کا اسرائیل پر بڑا اور اچانک میزائل حملہ، تل ابیب سمیت پورے اسرائیل میں فضائی حملوں کے سائرن بج اٹھے، بیروت پر اسرائیلی بمباری کے بعد پاسدارانِ انقلاب کا انتقام، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیتن یاہو کو فوری جوابی کارروائی سے روکنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 08,2026

یروشلم / تہران(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں اپریل کے مہینے میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کے بعد ایران نے پہلی بار اسرائیل پر براہِ راست بڑا میزائل حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد پورے اسرائیل میں خوف و ہراس پھیل گیا اور فضائی حملوں کے سائرن بج اٹھے جبکہ صیہونی دفاعی نظام کو فوری طور پر انتہائی ہائی الرٹ کر کے متحرک کر دیا گیا، یروشلم اور تہران سے موصول ہونے والی جنگی تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کے مختلف مقامات پر ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی روکنے کے لیے ان کے فضائی دفاعی نظام نے ہنگامی کارروائی کی، یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب اسرائیل نے اسی روز بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ میں ایک مبینہ عسکری کمانڈ سینٹر کو شدید بمباری کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اس اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں دو معصوم افراد جاں بحق جبکہ بیس (۲۰) سے زائد زخمی ہوئے، دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس میزائل حملے کی باقاعدہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ایک ”انتباہی کارروائی“ قرار دیا ہے اور سخت وارننگ جاری کی ہے کہ اگر اسرائیل نے دوبارہ کسی قسم کی عسکری جارحیت کی تو اس کا اگلا جواب اس سے کہیں زیادہ سخت اور وسیع پیمانے پر دیا جائے گا، اسی تناظر میں ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور واشنگٹن کے ساتھ اہم مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنے والے محمد باقر قالیباف نے مودی سرکار کی طرح اسرائیل کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بیروت پر بزدلانہ حملے کے لیے امریکہ نے اسرائیل کو باقاعدہ ”گرین سگنل“ دیا تھا، جس کے بعد اب خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو ایران کے لیے ”جائز اہداف“ قرار دیا جا سکتا ہے، اس سنگین صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر سخت زور دیا ہے کہ وہ ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں فی الحال کسی بھی قسم کی فوری جوابی عسکری کارروائی سے مکمل گریز کریں، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین اس وقت ایک مستقل امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ موجودہ نازک صورتحال مزید خراب ہو، تاہم کشیدگی کے باعث امریکی سفارت خانے نے یروشلم میں موجود اپنے تمام سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو فوری طور پر محفوظ مقامات اور زیرِ زمین بنکرز میں رہنے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے، اسی دوران خطے میں امن کی بحالی کے لیے سرگرم پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ایک اہم اور ہنگامی ملاقات کی، جس میں خطے کی ابتر صورتحال اور جاری امن عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، سفارتی ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا ایک مخلصانہ اور خصوصی پیغام بھی ایرانی قیادت تک پہنچایا ہے، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اپریل کی جنگ بندی کے باوجود ایران اور اسرائیل کے مابین یہ عسکری تصادم ایک بار پھر انتہائی خطرناک موڑ اختیار کر چکا ہے، جس کے تباہ کن اثرات ناصرف پورے مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور خام تیل کی قیمتوں پر بھی براہِ راست مرتب ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

آزاد کشمیر میں سنگین عسکری تصادم، کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران فائرنگ سے ۴ پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی، راولاکوٹ ہسپتال پر حملے کو آئی جی پی نے ”کھلی دہشت گردی“ قرار دے دیا، بلاول بھٹو کی شدید تشویش

کاشف عباسی ,june 08,2026

مظفرآباد(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

آزاد جموں و کشمیر میں حالات انتہائی کشیدہ اور ناگفتہ بہ ہو چکے ہیں، جہاں نئی نویلی کالعدم قرار دی گئی تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین ہونے والے شدید ترین خونی تصادم اور جھڑپوں میں کم از کم ۴ پولیس اہلکار شہید جبکہ بیس (۲۰) سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے پولیس حکام کے مطابق راولاکوٹ شہر میں احتجاجی مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم اس وقت انتہائی ہولناک اور شدت اختیار کر گیا جب مشتعل افراد کے مسلح جتھوں نے مختلف مقامات پر پولیس کو سیدھی فائرنگ کا نشانہ بنایا، آزاد کشمیر پولیس کے سربراہ انسپکٹر جنرل لیاقت علی ملک کے دفتر سے جاری ہونے والے باضابطہ اور ہنگامی بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ چاروں پولیس اہلکار اس وقت جامِ شہادت نوش کر گئے جب مشتعل مظاہرین نے راولاکوٹ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) پر منظم انداز میں دھاوا بولا اور حملہ کر دیا، آئی جی پولیس کے بیان کے مطابق فرائض پر مامور ان شہید اہلکاروں کو مظاہرین کی جانب سے ممنوعہ آتشیں اسلحے اور شاٹ گن سے نشانہ بنایا گیا، جسے پولیس کے اعلیٰ حکام نے ”کھلی دہشت گردی“ قرار دیتے ہوئے امن و امان تباہ کرنے والے ان تمام ذمہ دار شرپسند عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین عسکری و قانونی کارروائی کا فولادی عزم ظاہر کیا ہے، دوسری جانب سرکاری و مقامی ذرائع کے مطابق پولیس کی جوابی کارروائی اور تصادم کے نتیجے میں مظاہرین میں شامل کم از کم دو افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ درجنوں دیگر افراد شدید زخمی ہیں جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے، تاہم مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کا خدشہ ہے کہ علاقے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، اس خونریز واقعے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے پورے علاقے میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ تمام اہم ترین سرکاری تنصیبات، چوکوں اور حکومتی عمارتوں کے گرد پولیس اور ایلیٹ فورس کی اضافی نفری تعینات کر کے گشت بڑھا دیا گیا ہے، ادھر اس سنگین صورتحال کے دوران آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے آئینی ترامیم سے متعلق صدارتی ریفرنس کی اہم سماعت کی، جس کے دوران عدالتِ عظمیٰ نے سخت ریمارکس دیے کہ آئین کے اندر تبدیلیاں یا ترامیم کوئی ایسی رعایت یا حلوہ نہیں ہیں جنہیں کسی بھی حکومت سے ڈرا دھمکا کر یا زبردستی احتجاج کے ذریعے حاصل کیا جائے، دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وہاں امن و امان کی بحالی کے لیے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے فوری اور خصوصی رابطہ کریں گے، واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کے لیے مخصوص اسمبلی نشستوں کو ختم کرنے کے خلاف ۹ جون کو مظفرآباد کی جانب ایک بڑے لانگ مارچ اور غیر معینہ مدت کے دھرنے کا اعلان کر رکھا تھا، جس کے بعد امن و امان کے پیشِ نظر حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے اس تنظیم کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت باقاعدہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔

گلگت بلتستان انتخابی دنگل، ابتدائی غیر سرکاری نتائج میں پاکستان پیپلز پارٹی ۱۰ نشستوں کے ساتھ سب سے آگے، مسلم لیگ (ن) ۶ نشستوں پر برتری کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود، سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات

کاشف عباسی ,june 08,2026

گلگت(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سب سے زیادہ نشستوں پر واضح برتری حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے سنگین الزامات بھی عائد کر دیے ہیں، گلگت سے موصول ہونے والے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق قانون ساز اسمبلی کی چوبیس (۲۴) نشستوں میں سے پیپلز پارٹی اس وقت دس (۱۰) حلقوں میں آگے ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) چھ (۶) نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے، اس کے علاوہ آزاد امیدوار پانچ (۵) حلقوں میں سبقت رکھے ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو دو (۲) نشستوں پر برتری حاصل ہے اور مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) بھی ایک نشست پر آگے چل رہی ہے، غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے علاقائی صدر امجد حسین حلقہ جی بی اے-۱ گلگت میں اپنے مخالفین سے آگے ہیں، جبکہ اسکردو اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بھی پیپلز پارٹی کو نمایاں کامیابیاں ملتی دکھائی دے رہی ہیں، پیپلز پارٹی کے نمایاں امیدواروں میں سید توقیر مہدی (جی بی اے-۷ اسکردو)، فدا محمد نشاد (جی بی اے-۹ اسکردو)، ناصر علی خان (جی بی اے-۱۰ روندو)، اقبال حسن (جی بی اے-۱۱ کھرمنگ) اور عمران ندیم (جی بی اے-۱۲ شگر) اپنے اپنے حلقوں میں واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، دوسری جانب مسلم لیگ (ن) بھی گلگت اور استور سمیت کئی اہم حلقوں میں مضبوط پوزیشن میں ہے اور سخت مقابلہ کر رہی ہے، غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کے سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن (جی بی اے-۲ گلگت)، رانا فرمان علی (جی بی اے-۱۳ استور)، رانا محمد فاروق (جی بی اے-۱۴ استور)، کفایت الرحمٰن (جی بی اے-۱۸ تانگیر)، عبدالجہان (جی بی اے-۲۰ غذر) اور محمد ابراہیم (جی بی اے-۲۲ گانچھے) اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں آگے چل رہے ہیں، تحریکِ انصاف کے حوالے سے بات کی جائے تو پارٹی انتخابی نشان کے بغیر آزاد حیثیت میں میدان میں اترنے والے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں میں سہیل عباس (جی بی اے-۳ گلگت) اپنے حلقے میں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، انتخابی نتائج کے مطابق دیامر، یاسین اور گانچھے سمیت کئی دور افتادہ علاقوں میں آزاد امیدوار انتہائی مضبوط پوزیشن میں سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی اسمبلی میں آزاد ارکان کا کردار حکومت سازی کے لیے انتہائی اہم ہو سکتا ہے، انتخابات کے دوران اور پولنگ ختم ہونے کے بعد پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف سمیت بعض بڑی سیاسی جماعتوں نے انتخابی بے ضابطگیوں اور مبینہ دھاندلی کے شدید الزامات عائد کیے ہیں، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے ان الزامات پر کارروائی جاری ہے اور سرکاری و حتمی نتائج جاری ہونا ابھی باقی ہیں، سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ نتائج اسی طرح برقرار رہے تو گلگت بلتستان میں اگلی حکومت سازی کے لیے سیاسی اتحاد، جوڑ توڑ اور آزاد امیدواروں کی حمایت فیصلہ کن اہمیت اختیار کر جائے گی۔

گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مستحکم، پی ٹی آئی کا خطے میں کوئی مؤثر ووٹ بینک نہیں، جن کے اپنے امیدوار پورے نہیں وہ دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں، صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کا پی ٹی آئی کے الزامات پر کرارا جواب

منصور احمد june 06,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جہاں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مابین لفظی جنگ اور سیاسی گرما گرمی میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے گلگت بلتستان کی انتخابی سیاست پر ن لیگ کا مخلصانہ اور دوٹوک ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں عوامی سطح پر مسلم لیگ (ن) کے حق میں ایک واضح رجحان موجود ہے اور وہاں کے مختلف علاقوں میں گونجنے والے ”شیر، شیر“ کے نعرے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عوام ن لیگ کی ماضی کی کارکردگی پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں، انہوں نے پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران جان بوجھ کر رکاوٹوں کا ایک جھوٹا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں اور سچ یہ ہے کہ اس جماعت کا گلگت بلتستان میں اب کوئی مؤثر ووٹ بینک موجود ہی نہیں رہا، عظمیٰ بخاری نے سیاسی الزامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ جن سیاسی جماعتوں کے پاس حلقوں میں کھڑے کرنے کے لیے امیدوار ہی مکمل نہیں ہیں، وہ اپنی ممکنہ شکست سے بچنے کے لیے ابھی سے ”قبل از وقت دھاندلی“ کے من گھڑت الزامات لگا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں، انہوں نے مشورہ دیا کہ انتخابی مقابلہ سستی الزام تراشی کے بجائے خالصتاً کارکردگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے کیونکہ گلگت بلتستان کے باشعور عوام اب جھوٹے دعوؤں اور مخالفین کی منفی سیاست کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور وہ صرف ترقی اور عملی کام کرنے والی جماعت کو ہی ترجیح دے رہے ہیں، صوبائی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ گلگت بلتستان میں سڑکوں کے جال، بہترین انفراسٹرکچر اور دیگر بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے وہاں کے عوام کی نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور یہی بڑی وجہ ہے کہ عوامی اعتماد ن لیگ کے ساتھ نظر آ رہا ہے جبکہ مخالف سیاسی جماعتیں ترقیاتی کاموں کے بجائے صرف پروپیگنڈا اور الزامات کی سیاست کر رہی ہیں، دوسری جانب سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول بتدریج گرم ہو رہا ہے اور تمام جماعتیں اپنے اپنے بیانیے کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہیں، مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما رانا ثناء اللہ کے مطابق ن لیگ نے خطے کے زیادہ تر حلقوں میں اپنے مضبوط امیدوار کھڑے کیے ہیں جبکہ بعض مخصوص حلقوں میں مقامی آزاد امیدواروں کی حمایت کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، ان کے مطابق کئی نشستوں پر ن لیگ اور دیگر جماعتوں کے مابین انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے اور بعض حلقوں میں ہار جیت کا فرق انتہائی کم ہوگا، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاست کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہاں ہر نئے انتخاب کے ساتھ نئی سیاسی صف بندیاں سامنے آتی ہیں، تاہم اصل اور حتمی فیصلہ ہمیشہ عوامی ووٹ کی طاقت سے ہی ہوتا ہے، جو کسی بھی جماعت کے بلند بانگ دعووں کو حقیقت میں بدلنے یا انہیں یکسر رد کرنے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔

بھارت میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف لاکھوں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے، طنزیہ آن لائن تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے کا وزیر تعلیم کے استعفے تک ملک گیر احتجاج کا اعلان، تعلیمی نظام مفلوج

روزینہ اسماعیل.june 06,2026

دہلی(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

بھارت میں امتحانی پرچوں کے پے در پے لیک ہونے کے سنگین واقعات کے خلاف ملک بھر میں طلبہ کی ایک بہت بڑی تعداد نے شدید احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایک منفرد طنزیہ آن لائن تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے نے مودی سرکار کے وزیر تعلیم سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے پورے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک چلانے کی کھلی دھمکی دے دی ہے، دہلی اور بھارتی میڈیا سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق ابھیجیت دیپکے نے نئی دہلی کے سب سے معروف احتجاجی مقام ”جنتر منتر“ پر ہزاروں بپھرے ہوئے طلبہ کے ساتھ ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا، جہاں وہ امتحانی پرچوں کے آؤٹ ہونے اور ملکی تعلیمی نظام میں موجود مبینہ خامیوں و کرپشن کے خلاف دہائیاں دے رہے تھے، انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے باقاعدہ اعلان کیا کہ اگر مرکزی وزیر تعلیم نے اپنے عہدے سے فوری طور پر استعفیٰ نہ دیا تو آئندہ چند دنوں میں بھارت کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اس احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا، امریکہ میں زیرِ تعلیم اس تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک اب ہر اس بھارتی طالب علم کی حقیقی آواز بن چکی ہے جو موجودہ ناقص تعلیمی نظام کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے، انہوں نے مودی حکومت پر سنگین الزام لگایا کہ سرکار نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت طویل عرصے سے ملک کے نوجوانوں کو دیگر فضول مسائل میں الجھا کر رکھا ہوا ہے جبکہ اصل اور بنیادی مسائل جیسے تعلیم کی بہتری اور روزگار کی فراہمی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، واضح رہے کہ بھارت میں حالیہ مہینوں کے دوران متعدد بڑے امتحانی اسکینڈلز اور چوریاں سامنے آئی ہیں، جن میں سب سے بڑے میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے بعد ملک کے لاکھوں ہونہار طلبہ کو ذہنی اذیت سے گزرتے ہوئے دوبارہ امتحان دینا پڑا، اسی طرح بھارتی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کے امتحانی نظام میں بھی شدید تکنیکی خرابیوں کے باعث نتائج میں غیر معمولی تاخیر اور دیگر مسائل نے طلبہ اور ان کے والدین میں شدید تشویش اور غصہ پیدا کیا، ان مسلسل افسوسناک واقعات کے بعد اس وقت پورے بھارت میں طلبہ اور والدین کے اندر حکومت کے خلاف شدید ناراضی اور غم و غصہ دیکھا جا رہا ہے اور مختلف شہروں میں مودی سرکار کی تعلیمی پالیسیوں پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تعلیمی ماہرین کے مطابق بار بار ہونے والے ان امتحانی لیکس اور پیپرز کی چوری نے بھارت کے پورے تعلیمی نظام کی شفافیت، ساکھ اور انتظامی کارکردگی کا جنازہ نکال دیا ہے۔

خطے کی ابتر صورتحال میں پاکستان کا بڑا سفارتی مشن، وزیر داخلہ محسن نقوی تہران کے اہم ترین دورے پر روانہ، سپریم لیڈر کو ملکی عسکری قیادت کا خصوصی پیغام پہنچانے کا فیصلہ، امریکہ ایران مذاکرات پر اہم مشاورت

کاشف عباسی ,june 06,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایک مرتبہ پھر برادر اسلامی ملک ایران کے ہنگامی اور اہم ترین دورے پر روانہ ہونے کی مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں وہ ایرانی اعلٰی قیادت کو پاکستان کی اعلٰی ترین سیاسی و عسکری قیادت کا خصوصی اور انتہائی حساس پیغام پہنچائیں گے، لاہور اور اسلام آباد کے سرکاری اور سفارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ اپنے اس تزویراتی دورے کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایک اہم اور خصوصی پیغام دیں گے، تہران روانگی سے عین قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر ملکی اعلٰی حکومتی و عسکری شخصیات سے انتہائی اہم مشاورت کی، جس میں پاک ایران دوطرفہ تعلقات، خلیج کی حالیہ سنگین علاقائی صورتحال اور ایران و امریکہ کے درمیان پسِ پردہ جاری مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، ان اعلٰی سطح کی ملاقاتوں میں خطے کی موجودہ نازک صورتحال، مشترکہ سکیورٹی چیلنجز اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط و فعال بنانے کے امور تفصیلی طور پر زیرِ غور آئے، ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے کچھ خصوصی اور اہم ہدایات بھی دی ہیں، جو وہ تہران پہنچ کر وہاں کی متعلقہ اعلٰی قیادت تک پہنچائیں گے، واضح رہے کہ پاکستان اس وقت خطے میں سفارتی روابط کو بہتر بنانے، جنگی بادلوں کو چھانٹنے اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے اور ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مختلف شعبوں میں وسعت دینے اور اعلٰی سطحی روابط کو برقرار رکھنے پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے، دفاعی و سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے اعلٰی ترین دورے خطے میں جاری موجودہ کشیدگی کو کم کرنے، مسلم امہ میں سفارتکاری کو فروغ دینے اور اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھانے میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

عوام پر ایک اور مالی بوجھ، حکومت کا مٹی کا تیل مہنگا کرنے کا بڑا فیصلہ، قیمت میں ۸ روپے ۷۰ پیسے کا اضافہ، نئی قیمت ۲۸۰ روپے ۷۰ پیسے فی لیٹر مقرر

منصور احمد june 06,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ رد و بدل کے تحت مٹی کے تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت ۲۸۰ روپے ۷۰ پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، لاہور اور اسلام آباد سے حاصل ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق پٹرولیم ڈویژن نے مٹی کے تیل کی قیمت میں ۸ روپے ۷۰ پیسے فی لیٹر اضافے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، جس کے بعد یہ نئی قیمتیں فوری طور پر ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں، وزارتِ خزانہ اور پٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل میں اضافے کے ساتھ ساتھ دیگر پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس کے تحت پٹرول کی قیمت میں ۴ روپے فی لیٹر کی واضح کمی کی گئی ہے اور پٹرول کی نئی قیمت ۳۷۷ روپے ۷۸ پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کو پرانے نرخوں پر برقرار رکھتے ہوئے ۳۸۰ روپے ۷۸ پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھا گیا ہے، اس فیصلے کے پسِ منظر اور عالمی مارکیٹ کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، عالمی منڈی کی رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں دو اعشاریہ سات (2.7) فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے نرخوں میں بھی واضح کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، تاہم عالمی منڈی میں برینٹ اور امریکی خام تیل کی قیمتوں میں اس کمی کے رجحان کے باوجود مقامی سطح پر مختلف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ٹیکس ایڈجسٹمنٹس کی وجہ سے یہ رد و بدل جاری ہے، معاشی ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرقِ وسطیٰ سمیت دیگر خطوں کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے اثرات کے باعث تیل کی قیمتوں میں یہ توازن بدلتا رہتا ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں کمی کے باوجود مٹی کے تیل اور دیگر بنیادی ایندھن کی قیمتوں میں اس اضافے کا براہِ راست اور گہرا اثر ملکی دیہی علاقوں اور شدید کم آمدنی والے غریب طبقے پر پڑے گا، جہاں مٹی کا تیل روزمرہ زندگی کے کاموں اور کھانا پکانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور بنیادی ایندھن کا کردار ادا کرتا ہے، تاہم حکومتی حکام کا اس فیصلے پر مستقل مؤقف ہے کہ ملکی سطح پر قیمتوں کا یہ حتمی تعین خالصتاً عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور ملکی معاشی حالات و زرمبادلہ کے ذخائر کو مدنظر رکھ کر ہی کیا جاتا ہے۔

غریب اور متوسط طبقے کی کمر ٹوٹ گئی، ملک میں سالانہ مہنگائی کی مجموعی شرح ۱۵ فیصد کے قریب پہنچ گئی، آٹا، گھی، دودھ، پیاز اور آلو سمیت ۲۲ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

منصور احمد june 06,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

ملک میں جاری معاشی بحران کے باعث غریب اور متوسط طبقے کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی ہے، جہاں مہنگائی کی مجموعی شرح پندرہ فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ رواں ہفتے کے دوران آٹا، گھی، کوکنگ آئل، تازہ دودھ اور ایل پی جی سمیت باقاعدہ بائیس (۲۲) انتہائی اہم اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق اگرچہ حالیہ ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی کے انڈیکس میں صفر اعشاریہ پانچ چھ (0.56) فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی ہے، تاہم سالانہ بنیادوں پر ملک میں مہنگائی کی اصل شرح چودہ اعشاریہ سات پانچ (14.75) فیصد کی بلند سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے، ادارہ شماریات کی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مارکیٹ میں مجموعی طور پر بائیس اشیاء کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ ہوا، دس اشیاء کی قیمتیں تھوڑی سستی ہوئیںcell جبکہ انیس (۱۹) اشیاء کے نرخ مارکیٹ میں مستحکم رہے ہیں، رپورٹ کے مطابق ایک ہی ہفتے کے دوران بنیادی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں جو نمایاں اور ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ان میں روزمرہ استعمال کا آٹا، ڈالڈا گھی، کوکنگ آئل، تازہ دودھ اور گھریلو ایل پی جی سلنڈر شامل ہیں، اس کے علاوہ سبزیوں کے بازار میں پیاز کی قیمت میں ریکارڈ اٹھائیس اعشاریہ ایک چھ (28.16) فیصد جبکہ آلو کی قیمت میں اکیس اعشاریہ نو ایک (21.91) فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس نے کچن کا بجٹ تباہ کر دیا ہے، دوسری جانب رپورٹ میں کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کے مطابق برائلر چکن کی قیمت میں نو اعشاریہ فار آٹھ (9.48) فیصد، لہسن کی قیمت میں نو اعشاریہ ایک تین (9.13) فیصد، ڈیزل کی قیمت میں سات اعشاریہ صفر ایک (7.01) فیصد اور پٹرول کی قیمت میں چھ اعشاریہ اسی (6.80) فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے، معاشی ماہرین کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ پٹرولیم اور چکن کی قیمتوں میں کمی کے باوجود عام مارکیٹ میں آٹے، دودھ اور کوکنگ آئل جیسی سب سے بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب اور دباؤ کے شکار متوسط طبقے کے لیے روزمرہ زندگی میں مزید شدید مشکلات اور فاقہ کشی جیسے حالات پیدا کر رہا ہے کیونکہ ان چیزوں کا اتار چڑھاؤ براہِ راست عام شہری کی جیب پر اثر ڈالتا ہے، ادارہ شماریات کے حکام کے مطابق مارکیٹ میں قیمتوں کا یہ حالیہ اتار چڑھاؤ اور مسلسل بڑھتا ہوا رجحان عالمی مارکیٹ کی صورتحال، ملک میں اجناس کی رسد و طلب اور مجموعی ملکی معاشی صورتحال سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

بھارت بوکھلاہٹ کا شکار، اقوام متحدہ میں جموں و کشمیر پر بھارتی نمائندے کے ریمارکس کا پاکستان کی طرف سے کرارا اور دوٹوک جواب، گل قیصر سروانی نے بھارتی مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کشمیر کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع قرار دے دیا

محمود احمد june 06,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ پر جنرل اسمبلی کے اہم ترین مباحثے کے دوران بھارتی نمائندے کی ہٹ دھرمی اور بے بنیاد ریمارکس کے جواب میں پاکستان نے انتہائی سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر اور علاقائی سلامتی سے متعلق اپنے تمام ٹھوس دلائل ایک بار پھر عالمی برادری کے سامنے پیش کر دیے ہیں، نیویارک سے موصول ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے کونسلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سرواَنی نے پاکستان کی طرف سے حاصل “حقِ جواب” کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے بھارتی مؤقف کو یکسر مسترد کیا اور کہا کہ بھارت ہمیشہ کی طرح اس بار بھی عالمی فورم پر حقائق کو مسخ کرنے اور دنیا کی توجہ اصل مظالم سے ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ کے تعارفی حصے کی حساس تیاری اور اسے تمام ملکوں کے اتفاقِ رائے سے منظور کرانے میں پاکستان کے مثبت اور مخلصانہ کردار کو عالمی سطح پر زبردست الفاظ میں سراہا گیا ہے، تاہم بھارتی نمائندے نے بوکھلاہٹ میں آ کر صرف ان اہم نکات پر منفی توجہ دی جو کشمیر تنازع سے متعلق سچے حقائق کو دنیا کے سامنے ظاہر کرتے ہیں، پاکستانی نمائندے نے سلامتی کونسل کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سرکاری رپورٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ رپورٹنگ کے مخصوص عرصے میں بھارت پاکستان سوال سے متعلق بیس سے زائد اہم ترین مراسلات سلامتی کونسل کے سامنے باقاعدہ پیش کیے گئے، جبکہ ۵ مئی ۲۰۲۵ کو اسی اہم ایجنڈا آئٹم پر ایک خصوصی بند کمرہ مشاورت بھی منعقد کی گئی تاکہ خطے کی نازک صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے، گل قیصر سروانی نے کشمیر تنازع پر پاکستان کا سخت اور اصولی مؤقف دہراتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ دیرینہ تنازع ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بدستور موجود ہے، اس لیے اسے کسی بھی طور پر بھارت کا کوئی ”اٹوٹ انگ“ قرار نہیں دیا جا سکتا، ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی پاس کردہ تاریخی قراردادوں کے تحت معصوم کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دینا عالمی برادری پر لازمی ہے، تاہم انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آٹھ دہائیوں کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ان مسلمہ قراردادوں پر اب تک عملدرآمد نہیں ہو سکا، پاکستان نے مقبوضہ و بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں جاری بدترین ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں، بے گناہ شہریوں کی گرفتاریوں، بنیادی آزادیوں پر عائد سخت پابندیوں اور وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے کی جانے والی آبادیاتی تبدیلیوں کے خطرناک بھارتی الزامات و اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے، اس سلسلے میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کی ۱۶ اکتوبر ۲۰۲۵ کی مشترکہ رپورٹ کا ناقابلِ تردید حوالہ بھی عالمی برادری کے سامنے رکھا، اپنے حقِ جواب کے دوران پاکستان نے بھارت پر جوابی الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے عالمی فورم پر بے نقاب کیا کہ نئی دہلی سرکار ناصرف پاکستان کے اندر دہشت گردی کی مبینہ طور پر مکمل سرپرستی کر رہی ہے اور بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں بدترین ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے، بلکہ اب بھارت کے کینیڈا اور امریکہ جیسے بیرون ممالک میں بھی ٹارگٹ کلنگ، ماورائے عدالت قتل اور دیگر ملکوں کو غیر مستحکم کرنے کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے بھیانک کردار دنیا کے سامنے آ چکے ہیں، اس کے ساتھ ہی بھارت خطے کا امن تباہ کرنے کے لیے سندھ طاس جیسے اہم بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کی مذموم کوششیں بھی کر رہا ہے، پاکستان نے واضح قانونی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کے منشور، خصوصاً آرٹیکل ۲۵ کے تحت سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کرنے کا قانونی طور پر پابند ہے، لیکن وہ مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کو یکسر نظر انداز کر رہا ہے، اپنے اختتامی مؤقف میں پاکستانی مندوب نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حقائق سے فرار اختیار کرنے اور الزامات کی سستی سیاست چمکانے سے یہ سنگین مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا، جموں و کشمیر کے اس دیرینہ تنازع کا واحد اور پرامن حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں و خواہشات کے مطابق رائے شماری کرانے میں ہی ممکن ہے، انہوں نے پاکستان کے فولادی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مظلوم کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو ہر عالمی فورم پر پوری قوت سے اجاگر کرتا رہے گا اور اس کے پرامن و منصفانہ حل کے لیے اپنی کوششوں سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ میں کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ تنازعات کی گونج، پاکستان کا اقوام متحدہ میں جموں و کشمیر کے منصفانہ حل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ، سلامتی کونسل میں اصلاحات اور ویٹو پاور پر نظرثانی کا مطالبہ

محمود احمد june 06,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی فورم پر واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سال ۲۲۰۵ کی سالانہ رپورٹ میں جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے طویل عرصے سے لٹکے ہوئے دیرینہ تنازعات کی مسلسل اہمیت کو انتہائی واضح طور پر اجاگر کیا گیا ہے، جو عالمی اور علاقائی امن و سلامتی پر مسلسل گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں، نیویارک سے موصول ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اہم اجلاس میں سلامتی کونسل کی یہ سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے صراحت سے کہا کہ یہ دونوں بڑے تنازعات طویل عرصے سے عالمی ادارے کے ایجنڈے کا حصہ چلے آ رہے ہیں اور ان کے منصفانہ حل کے بغیر دنیا میں پائیدار امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، انہوں نے رپورٹنگ کے عرصے کے حوالے سے بتایا کہ بھارت پاکستان سوال پر بیس سے زائد اہم مراسلات سلامتی کونسل کی توجہ حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ پیش کیے گئے، جبکہ مئی ۲۰۲۵ میں اس حساس موضوع پر ایک اہم بند کمرہ مشاورت بھی منعقد کی گئی، کشمیر تنازع پر پاکستان کا اصولی مؤقف پیش کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے حل طلب ہے اور سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بدستور موجود ہے، پاکستان کے مطابق اس اہم مسئلے کا حتمی حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مظلوم کشمیری عوام کی امنگوں و خواہشات کے مطابق ہی ہونا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا یہ پختہ مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام جموں و کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی مشروط ہے اور اس کے لیے کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دیا جانا ناگزیر ہے، پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب کے دوران مقبوضہ فلسطینی علاقوں خصوصاً غزہ میں جاری سنگین انسانی بحران پر بھی ملک کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۸۰۳ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے ایک بڑی اور اہم پیش رفت ہے، تاہم اس پر اس کی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد ہونا بے حد ضروری ہے، پاکستان نے اس موقع پر ایک بار پھر ایک آزاد، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی اپنی روایتی اور مخلصانہ حمایت کا اعادہ کیا جس کا مستقل دارالحکومت القدس الشریف ہو، سلامتی کونسل کی مجموعی کارکردگی اور اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس رپورٹ میں افریقہ، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور دنیا کے دیگر خطوں میں جاری مختلف تنازعات کے علاوہ کئی موضوعاتی مسائل جیسے معصوم شہریوں کا تحفظ اور مسائل کا پرامن حل بھی شامل کیا گیا ہے، انہوں نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ تاریخی قرارداد ۲۷۸۸ کا خاص حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد تنازعات کے ہمیشہ پرامن حل کے لیے بین الاقوامی اتفاقِ رائے کی ایک بہترین عکاس ہے، سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری کو بتایا کہ پاکستان نے جولائی ۲۰۲۵ میں سلامتی کونسل کی اپنی صدارت کے دوران اس رپورٹ کے تعارفی حصے کی تیاری اور اس کی حساس مسودہ سازی کی اہم ذمہ داری انتہائی احسن طریقے سے انجام دی تھی اور اس کا بنیادی مقصد ایک جامع، مکمل غیر جانبدار اور عالمی اتفاقِ رائے پر مبنی شفاف رپورٹ تیار کرنا تھا، ملاقات اور خطاب کے آخری حصے میں پاکستان نے سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں فوری اصلاحات، کام میں شفافیت اور جوابدہی کی سخت ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بعض بڑی طاقتوں کی جانب سے ویٹو کے استعمال پر بھی اب سنجیدہ غور ہونا چاہیے، انہوں نے پاکستان کا اصولی اور تاریخی مؤقف دہراتے ہوئے واضح کیا کہ ہماری پالیسی ”سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں“ کے اصول پر مبنی ہے، اور سیکیورٹی کونسل کی یہ اصلاحات کسی ایک ملک کے بجائے اقوام متحدہ کی وسیع تر رکنیت اور پوری دنیا کے مفاد میں ہونی چاہئیں۔

عوام کے لیے ریلیف، عالمی مارکیٹ کے تناظر میں پٹرول کی قیمت میں مزید ۴ روپے فی لیٹر کمی کا اعلان، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخ برقرار رکھنے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ رد و بدل کے بعد آئندہ ہفتے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کے مطابق پٹرول کی قیمت میں ۴ روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کو پرانے نرخوں پر برقرار رکھا گیا ہے، اسلام آباد سے جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے کے مطابق پٹرول کی ایکس ڈپو قیمت میں ۴ روپے کمی کے بعد اب نئی قیمت ۳۷۷ روپے ۷۹ پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت ۳۸۰ روپے ۷۸ پیسے فی لیٹر پر ہی برقرار رہے گی، وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق ڈیزل کی قیمت کو برقرار رکھنے کے لیے ٹیکس اور دیگر مالی ایڈجسٹمنٹس کی گئی ہیں، کیونکہ ڈیزل کو ملکی ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے شعبے میں بنیادی حیثیت حاصل ہے اور اس کی قیمتوں میں اضافہ ملکی مہنگائی پر براہِ راست اور گہرا اثر ڈالتا ہے، پٹرولیم قیمتوں کے رجحان کے اعداد و شمار کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت رواں سال ۱۰ اپریل کو ۵۲۰ روپے ۳۵ پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی جو کہ اب کافی نیچے آ چکی ہے، حالیہ کمی کے بعد پٹرول کی قیمت میں مسلسل چوتھے ہفتے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر پٹرول تقریباً ۳۷ روپے فی لیٹر سستا ہو چکا ہے، معاشی ماہرین کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اس مسلسل کمی سے عام صارفین اور موٹر سائیکل سواروں کو بڑا ریلیف ملے گا، جبکہ ٹرانسپورٹ اور سپلائی چین کے اخراجات میں بھی معمولی کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، تاہم ڈیزل کی قیمت تبدیل نہ ہونے اور اسے برقرار رکھنے سے مہنگائی کی مجموعی شرح پر پٹرول کی کمی کا اثر تھوڑا محدود رہ سکتا ہے، حکومتی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور ملکی زرمبادلہ کی صورتحال کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز میں جنگ کے بادل، امریکہ اور ایران کے درمیان سنگین عسکری و معاشی تصادم، خلیجی ریاستوں کو ایرانی وزیر خارجہ کی کھلی دھمکی، روس کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی بھرپور حمایت

کاشف عباسی ,june 06,2026

واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

عالمی توانائی کی سب سے اہم شاہراہ، آبنائے ہرمز اور خلیجی پانیوں میں عسکری و سفارتی کشیدگی خطرناک ترین حد تک برقرار ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے مابین الزامات کی بوچھاڑ، جوابی معاشی پابندیوں اور سمندری حدود میں جنگی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تہران اور واشنگٹن سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ان ایرانی دعووں کو مخلصانہ طور پر مسترد اور ان کی شدید تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خلیج میں امریکی بحری ڈسٹرائرز پر ایران کی جانب سے ”انتباہی فائرنگ“ کی گئی ہے، سینٹکام کا مؤقف ہے کہ ایسی کوئی کارروائی یا فائرنگ سرے سے ہوئی ہی نہیں اور امریکی بحری افواج بین الاقوامی قوانین کے تحت خطے کے پانیوں میں اپنی معمول کی دفاعی سرگرمیاں پوری قوت سے جاری رکھے ہوئے ہیں، دوسری جانب سمندری صورتحال اس وقت مزید ابتر ہو گئی جب عمان کی ایک حساس بندرگاہ کے قریب مبینہ دھماکے کے بعد تیل کی لوڈنگ کا عمل عارضی طور پر معطل کرنا پڑا، تاہم بعد میں آئل آپریشنز کو دوبارہ معمول پر لایا گیا، لیکن اس خوفناک پیش رفت کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، اسی دوران امریکی بحریہ نے بحرِ ہند میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے پابندیوں کے شکار ایک ایسے بڑے بحری ٹینکر کو روکنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے جس پر ایرانی تیل کی غیر قانونی تجارت سے متعلق سنگین الزامات عائد تھے، اس امریکی کارروائی پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری جارحیت یا مہم جوئی کی گئی تو امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والی تمام خلیجی ریاستیں ایران کے لیے ”جائز اہداف“ بن جائیں گی اور انہیں نشانہ بنایا جائے گا، انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں ہے اور یہاں طاقت کے توازن کو کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کشیدگی کے اس ماحول میں امریکی محکمہ خزانہ نے بھی ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایرانی تیل اور ایل پی جی (مائع پٹرولیم گیس) کی غیر قانونی تجارت میں مبینہ طور پر ملوث متعدد بااثر افراد، عالمی اداروں اور بحری ٹینکرز پر نئی اور سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور ان خفیہ نیٹ ورکس میں مختلف ممالک اور آف شور کمپنیوں کے تانے بانے بھی سامنے آئے ہیں، اس سنگین صورتحال کے سفارتی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس نازک موڑ پر پاکستان کی مخلصانہ ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کی کھل کر حمایت کا اظہار کیا ہے جبکہ دوسری جانب عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری فریم ورک پر سفارتی پیش رفت متوقع ہے، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی مجموعی صورتحال اب فہرست میں نہایت حساس اور فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک طرف عسکری کشیدگی اور سخت معاشی پابندیاں عروج پر ہیں تو دوسری طرف پسِ پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم خطے میں ہونے والی کسی بھی قسم کی چھوٹی سی عسکری چنگاری کا عالمی توانائی کی منڈی اور دنیا بھر کی معیشت پر براہِ راست اور تباہ کن اثر پڑ سکتا ہے۔

بجٹ 26-2025ء سے قبل وفاقی حکومت کا بڑا معاشی ایکشن، ای سی سی نے اربوں روپے کے اہم مالی اور ترقیاتی فیصلوں کی منظوری دے دی، پی ایس او کے لیے ۱۰۰ ارب روپے کی فنانسنگ سہولت اور ترقیاتی اسکیموں کے لیے اضافی فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

نئے مالی سال چھبیس ستائیس (27-2026) کے وفاقی بجٹ کی پیشکشی سے عین قبل حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعہ کے روز ایک اہم ترین اجلاس میں بڑے مالی اور ترقیاتی فیصلوں کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے تحت چالیس ارب روپے سے زائد کی سپلیمنٹری گرانٹس اور شدید مالی بحران کے شکار ادارے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے لیے سو ارب روپے کی ہنگامی فنانسنگ سہولت شامل ہے، اسلام آباد سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ اعلٰی سطح کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں ملک کے مختلف نازک مالی امور، سرکاری اداروں کی فوری ضروریات اور توانائی کے شعبے کو درپیش گردشی قرضوں کے سنگین مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، اجلاس میں ای سی سی نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان اسٹیٹ آئل کے لیے سو ارب روپے کی خودمختار ضمانت یعنی سوورن گارنٹی پر مبنی فنانسنگ کی خصوصی منظوری دی، عسکری و حکومتی حکام کے مطابق پی ایس او کو اس وقت دیگر مختلف سرکاری اداروں سے نو سو ارب روپے سے زائد کی خطیر واجب الادا رقوم کی عدم وصولی کا سامنا ہے جس کے باعث ملک میں تیل کی سپلائی چین متاثر ہونے اور ایندھن کی قلت کے شدید خدشات پیدا ہو رہے تھے، کمیٹی نے اس بحران کو ٹالنے کے ساتھ ساتھ چالیس ارب روپے سے زائد کی اضافی گرانٹس کی بھی منظوری دی جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لیے دس ارب روپے کی اضافی فنڈنگ جاری کرنے کی بھی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے، مزید برآں پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے سات اعشاریہ صفر دو چھ (7.026) ارب روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کی گئی ہے، ایک اور اہم فیصلے کے تحت ای سی سی نے مختلف وفاقی وزارتوں اور سرکاری محکموں میں ملازمین کے لیے خصوصی اعزازیہ کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے دی ہے جس میں اب لا اینڈ جسٹس ڈویژن، کامرس ڈویژن اور اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جبکہ یہ سہولت پہلے سے ہی وزارتِ خزانہ، ریونیو، پلاننگ، ایف بی آر، قومی اسمبلی، سینیٹ اور وزیراعظم آفس جیسے اعلٰی ترین اداروں کو حاصل تھی، اجلاس کے دوران گلگت بلتستان میں ہونے والے آئندہ انتخابات سے قبل وہاں کے لیے چار اعشاریہ تین اٹھ (4.38) ارب روپے کی خطیر خصوصی گرانٹ کی بھی فوری منظوری دی گئی، وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اہم ترین فیصلے جاری مالی سال کے اختتامی مرحلے میں ناگزیر حکومتی ضروریات کو پورا کرنے اور ملکی ترقیاتی کاموں کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب نئے بجٹ کی تیاریاں اب اپنے آخری اور حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔

جون کے بڑے احتجاج سے قبل آزاد کشمیر حکومت کا بڑا ایکشن، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دے دیا گیا، پورے خطے میں موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز معطل، سیاحوں کو فوری علاقہ چھوڑنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 06,2026

مظفرآباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) حکومت نے نو جون کو ہونے والے مجوزہ بڑے اور ملک گیر احتجاج سے قبل ایک انتہائی بڑا اور تزویراتی فیصلہ کرتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت باقاعدہ طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے، مظفرآباد سے موصول ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق یہ سخت ترین فیصلہ سیکیورٹی کے شدید خدشات اور خطے میں ممکنہ بدامنی و ہنگامہ آرائی کو روکنے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے، جس کے فوری بعد پورے آزاد کشمیر میں سیکیورٹی کے انتظامات کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے مزید سخت کر دیا گیا ہے، محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق جے اے اے سی کو “امن و امان کے لیے ایک بڑا خطرہ” قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اس تنظیم کی حالیہ سرگرمیاں معاشرے میں شدید انتشار، جلاؤ گھیراؤ اور عدم تحفظ پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہیں، حکومت نے پبلک سیفٹی اور امنِ عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سخت ترین ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت سیاحوں کو اس پیک سیزن کے دوران بھی فوری طور پر آزاد کشمیر کا علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ نئے آنے والے تمام ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو سختی سے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دورے بیس جون تک لازمی طور پر مؤخر کر دیں، مزید برآں انتظامیہ کو تمام ہوٹلوں کو فوری طور پر خالی کرانے کے سخت احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں، سیکیورٹی خدشات کی اسی سنگین صورتحال کے باعث پورے خطے میں ہونے والے تعلیمی امتحانات کو بھی تا حکمِ ثانی ملتوی کر دیا گیا ہے جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حساس مقامات پر وفاقی اور مقامی اضافی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، اطلاعات کے مطابق آدھی رات کے وقت پورے آزاد کشمیر کے خطے میں موبائل ڈیٹا اور تیز رفتار انٹرنیٹ سروسز کو بھی مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے جبکہ عام فون کال سروسز کو جزوی طور پر بحال رکھا گیا ہے تاکہ شرپسند عناصر سوشل میڈیا کا استعمال نہ کر سکیں، واضح رہے کہ جے اے اے سی کی جانب سے نو جون کو دی جانے والی اس مجوزہ احتجاجی تحریک کا اصل تنازع مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے کے گرد گھومتا ہے، جس میں یہ تنظیم آزاد کشمیر اسمبلی کی بارہ مخصوص نشستوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا بنیادی مطالبہ کر رہی ہے، تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں خالصتاً سیاسی فائدے اور وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور اس سے مقامی سیاست پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، تاہم آزاد کشمیر حکومت اور دیگر بڑے سیاسی حلقے اس مؤقف سے شدید اختلاف رکھتے ہیں، دوسری جانب اس حساس معاملے پر عدالتی پیش رفت کے تحت آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے ان کی قانونی رائے طلب کر لی ہے جس کے بعد خطے کی سیاسی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام سیکیورٹی ادارے صورتحال پر مسلسل کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال یا قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لیے تمام محکمے الرٹ ہیں۔