ایتھوپیا اور پاکستان کا زراعت، لائیو سٹاک اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

منصور احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان اور ایتھوپیا نے باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، جدید زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، غذائی تحفظ اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں پیش رفت کے لیے زراعت میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے زرعی اداروں کے درمیان علم اور تجربات کے تبادلے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے ایک جامع زرعی معاہدے کی تجویز سمیت دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سفیرِ ایتھوپیا نے اپنے ملک کی معیشت میں زراعت کی اہمیت اور حکومتِ ایتھوپیا کی جانب سے اس شعبے کو دی جانے والی ترجیح پر روشنی ڈالتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے ایتھوپیا کے “گرین لیگیسی انیشی ایٹو” کو پائیدار ترقی، زرعی نمو اور غذائی تحفظ کا جامع پروگرام قرار دیتے ہوئے اس کا تجربہ پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کی اور پاکستانی زرعی کاروباری شخصیات کو ایتھوپیا میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے وفاقی وزیر کو 2027ء میں ادیس ابابا میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس “کوپ 32” کی میزبانی سے متعلق تیاریوں سے بھی آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے زرعی تحقیق، جدید کاشتکاری کی ٹیکنالوجی، زرعی مشینری، آبپاشی، لائیو سٹاک اور ایگرو پروسیسنگ کے شعبوں میں پاکستان کی مہارت کا ذکر کرتے ہوئے مکمل تکنیکی معاونت کی آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک فصلوں کی پیداواری صلاحیت، معیاری بیجوں کی تیاری، موسمیاتی اثرات سے محفوظ زراعت اور مشینی کاشتکاری میں تعاون کو نمایاں وسعت دے سکتے ہیں۔

گوگل نے پاکستان میں دفتر قائم کر دیا، کروم بکس برآمد کرنے کا بھی منصوبہ: وزیراعظم شہباز شریف سے گوگل وفد کی ملاقات

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آئی ٹی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی “گوگل” پاکستانی نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے اپنے پروگراموں کا دائرہ کار مزید وسعت دے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں گوگل کے 9 رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا، جس کی قیادت گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی کے نائب صدر ولسن وائٹ کر رہے تھے جبکہ امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نٹالی بیکر بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

وزیرِ اعظم نے وفد کو حکومت کے “ڈیجیٹل نیشن پاکستان” وژن اور قومی ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان میں گوگل کے مستقل دفتر کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس قدم سے دونوں کے درمیان شراکت داری کو نئی تقویت ملے گی۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف، ولسن وائٹ اور نٹالی بیکر نے مشترکہ طور پر پاکستان میں گوگل کے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

گوگل کے نائب صدر ولسن وائٹ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں مقامی سطح پر قائم کردہ کروم بک اسمبلی لائن کی کارکردگی انتہائی شاندار ہے اور یہاں اسمبل ہونے والی کروم بکس کو خطے کے دیگر ممالک میں برآمد کرنے کے روشن امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوگل پاکستان کی باصلاحیت یوتھ کے لیے آئی ٹی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور گیمنگ کے شعبوں میں تربیتی پروگراموں کو مزید وسیع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

نیشنل بینک کی سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی اماراتی کمپنی کو منتقل کرنے پر سیکیورٹی خدشات، وزارتِ آئی ٹی کو خط ارسال

منصور احمد, August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

پاک ڈیٹا کام کی جانب سے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کی 400 سے زائد برانچز کی سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی متحدہ عرب امارات کی نجی کمپنی ‘یحسات’ پر منتقل کیے جانے کے بعد قومی سلامتی کے تناظر میں شدید تحفظات سامنے آ گئے ہیں۔ پاک ڈیٹا کام کے سابق سی ای او بریگیڈیئر (ر) سید ذوالفقار علی نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام (آئی ٹی) کو ایک اہم اور تفصیلی خط تحریر کر دیا ہے جس میں اس منتقلی کو ملکی سیکیورٹی کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔

خط کے متن کے مطابق نیشنل بینک تمام اہم حکومتی اور حساس مالیاتی اکاؤنٹس کا تحفظ کرتا ہے، اس لیے سیٹلائٹ نیٹ ورک کا غیر ملکی کنٹرول میں جانا قومی سلامتی کے حوالے سے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ پاک ڈیٹا کام گزشتہ 5 سال سے نیشنل بینک کو پاک سیٹ سیٹلائٹ کے ذریعے بیک اپ کنیکٹیویٹی فراہم کر رہا تھا جس کے وی ایس اے ٹی ہبز کراچی اور اسلام آباد میں قائم تھے۔ تاہم اب منتقلی کے بعد یحسات کا سیٹلائٹ اور مین ہب دونوں یو اے ای میں واقع ہیں، جو موجودہ علاقائی صورتحال میں حساس ترین ڈیٹا کی حفاظت پر سوالات اٹھاتا ہے۔

سابق سی ای او نے اپنے خط میں ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارش کی ہے کہ نیشنل بینک کی سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کو بلا تاخیر دوبارہ قومی سیٹلائٹ ‘پاک سیٹ’ پر منتقل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے او جی ڈی سی ایل اور اے جی پی آر کے اہم نیٹ ورکس کو بھی پاک سیٹ پر شفٹ کرنے کی تجاویز دی ہیں۔ خط میں زور دیا گیا ہے کہ ان تمام اہم قومی اداروں کے لیے ایک مخصوص اور محفوظ ملکی سیٹلائٹ نیٹ ورک قائم کیا جائے اور پاک ڈیٹا کام کے کراچی مرکز میں مستقل سیٹلائٹ ہبز کا قیام عمل میں لایا جائے۔

سعودی عرب کی نئی ایئر لائن ‘ریاض ایئر’ کا پاکستان کے لیے فضائی آپریشنز کا باقاعدہ آغاز: پہلی پرواز اسلام آباد پہنچ گئی

محمود احمد, August 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

سعودی عرب کی نو تشکیل شدہ قومی ایئر لائن ‘ریاض ایئر’ نے پاکستان میں اپنے باقاعدہ فضائی آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت ایئر لائن کی پہلی پرواز سعودی دارالحکومت ریاض سے اسلام آباد پہنچ گئی۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق ریاض ایئر کی افتتاحی پرواز نے 69 مسافروں کو لے کر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کامیابی سے لینڈ کیا۔ ایئرپورٹ پر نئی ایئر لائن کی آمد کا استقبال روایتی ‘واٹر کینن سیلوٹ’ کے ساتھ کیا گیا۔ اس موقع پر ایئرپورٹ پر ایک پروقار تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ذیشان سعید اور دونوں ممالک کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

پاکستان میں اپنے آپریشنز کے پہلے مرحلے کے تحت ریاض ایئر، ریاض اور اسلام آباد کے درمیان ہفتہ وار 7 پروازیں چلائے گی۔ افتتاحی پرواز اسلام آباد پہنچنے کے بعد 272 مسافروں کو لے کر ریاض کے لیے روانہ ہوئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ذیشان سعید نے ریاض ایئر کے آپریشنز کو دونوں برادر ممالک کے درمیان فضائی رابطوں اور معاشی تعلقات کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں اور دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والے زائرین اور کاروباری برادری کو بہترین سفری سہولیات میسر آئیں گی۔

سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں سیل ڈیڈز کی عدم تکمیل: قومی خزانے کو 71 کروڑ روپے کے نقصان کا انکشاف

کاشف عباسی , August 08,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

لاہور کی سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں معاہدوں اور قانونی تقاضوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث سرکاری خزانے کو 70 کروڑ 96 لاکھ 64 ہزار روپے کے سنگین مالیاتی و ریونیو نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ نشاندہی پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون میں زیرِ سماعت آڈٹ رپورٹ کے دوران سامنے آئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے تحریری حقائق کے مطابق سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں مجموعی طور پر 339 صنعتکاروں کو کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے تھے، تاہم ان میں سے صرف 214 صنعتکاروں نے ہی باقاعدہ سیل ڈیڈز کی کاغذی کارروائی مکمل کی۔ دوسری جانب 125 صنعتکاروں نے کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے باوجود سیل ڈیڈز مکمل نہیں کروائیں، جس کی وجہ سے متعلقہ تمام صنعتی پلاٹس آڈٹ اعتراض کی زد میں آ گئے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 125 صنعتکاروں کی جانب سے سیل ڈیڈز کی عدم تکمیل کے باعث اسٹامپ ڈیوٹیز اور دیگر سرکاری ٹیکسز کی مد میں تقریباً 71 کروڑ روپے کی رقم وصول نہیں ہو سکی۔ آڈٹ کے مطابق ان نادہندہ پلاٹوں کا مجموعی رقبہ 213 ایکڑ سے زائد بنتا ہے، جبکہ علاقے کا مقررہ ڈی سی ریٹ 5 لاکھ روپے فی مرلہ تھا۔

رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ انڈسٹریل اسٹیٹ کی انتظامیہ نے صنعتکاروں سے سیل ڈیڈز کی تکمیل کے لیے کوئی موثر اقدام یا سخت ہدایت جاری نہیں کی، جس کی وجہ سے سرکاری واجبات کی وصولی شدید متاثر ہوئی۔

اسی اثناء میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹل آڈٹ کمیٹی نے سیل ڈیڈز کی تکمیل کا معاملہ عدالتی فیصلے تک موخر کر دیا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون نے انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیل ڈیڈز کی جلد از جلد تکمیل کے لیے کیس کو بھرپور قانونی انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

واضح رہے کہ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کے صنعتکاروں نے حکومت کے موجودہ ڈی سی ریٹ کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ صنعتکاروں کا موقف ہے کہ موجودہ ڈی سی ریٹ ‘پنجاب انڈسٹریل اسٹیسٹس ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی’ کی مقرر کردہ قابلِ اطلاق فروخت قیمت سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

وزارت تجارت کا برآمدی شعبوں اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے 10 ارب روپے کے فنڈز کا اعلان

منصور احمد, August 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ملکی برآمدات کو فروغ دینے اور صنعتی سیکٹر میں سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے ٹیکسٹائل، ملبوسات اور دیگر اہم برآمدی شعبوں کے لیے 10 ارب روپے (10,000 ملین روپے) کی مالی معاونت کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

وزارت تجارت کے مطابق یہ خطیر رقم ڈیوٹی ڈرا بیک اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اسکیموں کے تحت جاری کی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد برآمدی انڈسٹری کو لیکویڈیٹی (مالی روانی) کا ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ صنعتکار اور برآمد کنندگان بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی پیداواری صلاحیت اور مسابقت کو بہتر بنا سکیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر جام کمال خان نے کہا کہ وزارت تجارت کا یہ فیصلہ ٹیکسٹائل انڈسٹری سمیت دیگر ایکسپورٹ سیکٹرز کو درپیش مالی مشکلات سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فنڈز کی اس فوری فراہمی سے صنعتوں کی لیکویڈیٹی میں خاطر خواہ بہتری آئے گی اور وہ اپنی برآمدی حجم میں اضافہ کر سکیں گے۔

مالیاتی و صنعتی ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کے لیے ملنے والی اس رقم سے پاکستانی برآمد کنندگان کو جدید مشینری اور ٹیکنالوجی اپنانے میں سہولت ملے گی، جس سے نہ صرف مصنوعات کی معیار میں بہتری آئے گی بلکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی موجودگی بھی مزید مستحکم ہوگی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ یہ فنڈنگ پاکستان کے برآمدی شعبوں کو خودکفیل بنانے، مقامی انڈسٹری کو ہر ممکن سہولت کی فراہمی اور ملک میں پائیدار معاشی و برآمدی ترقی کے لیے حکومتِ پاکستان کی ترجیحی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، پاکستان میں بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

محمود احمد, August 07,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں تاریخ ساز اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں جمعہ کے روز سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتی دھات جاری برس کے جنوری کے بعد اپنے سب سے بڑے ہفتہ وار اضافے کی جانب گامزن ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,254.11 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 7 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی۔ جاری ہفتے کے دوران عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت بھی 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,312 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی ہے۔

دیگر قیمتی دھاتوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو چاندی کی قیمت 0.8 فیصد اضافے سے 61.96 ڈالر اور پلاٹینم 0.4 فیصد اضافے سے 1,735.71 ڈالر فی اونس پر آگئی، جبکہ پیلیڈیم کی قیمت میں 0.3 فیصد معمولی کمی دیکھی گئی اور وہ 1,367.06 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور عالمی سطح پر مہنگائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے لیے سونے کی جانب رخ کر رہے ہیں، جس سے قیمتوں کو 4,000 ڈالر سے اوپر برقرار رہنے اور آگے بڑھنے میں مدد مل رہی ہے۔

عالمی مارکیٹ کے اس براہِ راست اثر کے باعث مقامی صرافہ بازار میں بھی سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ پاکستان میں فی تولہ سونا 11,300 روپے کے ریکارڈ اضافے کے بعد 4 لاکھ 49 ہزار 236 روپے کی سطح سے تجاوز کر چکا ہے۔ محض دو دنوں میں فی تولہ سونے میں مجموعی طور پر 21,300 روپے کا زبردست اضافہ ہو چکا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید اضافے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

سی پیک زرعی تعاون: چین کی جانب سے پاکستان کو جدید زرعی مشینری کے 258 یونٹس موصول

منصور احمد, August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت زرعی تعاون پروگرام میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر چین سے جدید زرعی مشینری اور آبپاشی کے آلات کے 258 یونٹس پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک کے زرعی شعبے کو جدید اور سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ تمام جدید آلات پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پارک) کے ایگریکلچرل انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) اسلام آباد میں موصول اور اسمبل کیے۔ باضابطہ افتتاح کے بعد اس مشینری کو پارک اور تمام صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب کو 75، سندھ کو 45، خیبرپختونخوا کو 38، بلوچستان کو 36 جبکہ پارک کو 64 یونٹس فراہم کیے گئے ہیں۔

موصول ہونے والے 258 یونٹس میں 9 مختلف اقسام کی مشینری شامل ہے، جن میں 40 ٹریکٹر، 20 روٹری ٹلرز، 30 روٹری ٹلج فرٹیلائزر ڈرلز، 40 کرالر ٹائپ رائس-ویٹ کمبائن ہارویسٹرز، 8 کارن ہارویسٹرز، 40 انٹر ٹلج ویڈرز، 40 ٹرمرز، 20 ہوز ریل آبپاشی نظام اور 20 شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر پمپنگ سسٹمز شامل ہیں۔

یہ تمام معاونت وزیراعظم کے زرعی جدیدکاری اقدام کا حصہ ہے جسے حال ہی میں منظور ہونے والی قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2026ء اور قومی سیڈ پالیسی 2026ء کی مکمل حاصل ہے۔ ان پالیسیوں کے تحت اعلیٰ کوالٹی کے بیج، جینیاتی تحقیق اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے تجارتی فروغ کے لیے فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کا ایک اہم ترین پہلو پارک اور چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (سی اے اے ایس) کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری ہے۔ حکومت نے پارک کو سی اے اے ایس کی طرز پر ازسرِنو منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نارک اسلام آباد میں پانچ جدید ‘سینٹرز آف ایکسی لینس’ قائم کیے جا رہے ہیں جو جینوم تحقیق، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈرونز، روبوٹکس اور زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ پر کام کریں گے۔

علاوہ ازیں، وزیراعظم کے ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو چین بھیجنے کے تربیتی پروگرام کے تحت اب تک 885 گریجویٹس اپنی تربیت مکمل کر چکے ہیں جبکہ باقی 115 گریجویٹس جلد چین روانہ ہوں گے۔ یہ تمام تربیت یافتہ ماسٹر ٹرینرز ملک بھر کے کسانوں، محققین اور زرعی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرائیں گے۔

ٹیکسٹائل ویلیو چین کے لیے بڑی پیش رفت: پاکستان نے کپاس کی 14 نئی اور جدید اقسام کی منظوری دے دی

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

پاکستان نے ملک میں کپاس کی پیداوار، معیار اور ٹیکسٹائل ویلیو چین کو تقویت دینے کے لیے 2021ء سے 2025ء کے دوران کپاس کی 14 نئی اور جدید اقسام کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ نئی اقسام اعلیٰ فائبر کوالٹی، زیادہ جننگ آؤٹ ٹرن شدید گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت اور مہلک گلابی سنڈی کے خلاف مضبوط مزاحمت سے لیس ہیں، جس سے ملک کے بیجوں کے ذخیرے کو تاریخی استحکام حاصل ہوگا۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی اقسام ملک کے دو ممتاز زرعی تحقیقاتی اداروں، سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (CCRI) ملتان اور سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (CCRI) سکرنڈ، سندھ نے تیار کی ہیں۔ سی سی آر آئی ملتان نے 11 جبکہ سی سی آر آئی سکرنڈ نے 3 جدید اقسام تیار کی ہیں۔ سی سی آر آئی ملتان کی منظور شدہ اقسام میں بی ٹی سی آئی ایم-663، بی ٹی سی آئی ایم-678، بی ٹی سی آئی ایم-785، بی ٹی سائٹو-535، سائٹو-226، سی آئی ایم-775، سی آئی ایم-343، سائٹو-537، سائٹو-511، بی ٹی سی آئی ایم-775 اور بی ٹی سی آئی ایم-990 شامل ہیں۔ دوسری جانب سی سی آر آئی سکرنڈ کی جانب سے متعارف کروائی گئی اقسام میں بی ٹی کریس-682، بی ٹی کریس-674 اور کریس-644 شامل ہیں، جنہوں نے سندھ کے کردار کو کپاس کے قومی تحقیقی پروگرام میں مزید مستحکم کر دیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان تمام نئی اقسام میں جننگ آؤٹ ٹرن 38.2 فیصد سے 42.3 فیصد، فائبر کی لمبائی 29.6 ملی میٹر تک اور فائبر کی مضبوطی 33.5 تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق کپاس کی معیار کا تعیّن محض مجموعی پیداوار سے نہیں بلکہ مائیکرونائر، فائبر کی مضبوطی اور جننگ آؤٹ ٹرن جیسے تکنیکی اشاریوں سے کیا جاتا ہے، جو ٹیکسٹائل ملوں، اسپننگ صنعت اور جننگ فیکٹریوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

ان تمام اقسام کی تفصیلات کے مطابق سی سی آر آئی ملتان کی تیار کردہ قسم سی آئی ایم-775 نے 42.3 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ جننگ آؤٹ ٹرن ریکارڈ کیا ہے اور اسے کاٹن لیف کرل وائرس کے خلاف انتہائی مزاحم قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح بی ٹی سائٹو-535 نے 41.5 فیصد اور سائٹو-537 نے 41 فیصد جی او ٹی حاصل کیا ہے۔ ریشے کی لمبائی کے اعتبار سے سائٹو-226 نے تمام نئی اقسام میں سب سے زیادہ 29.6 ملی میٹر فائبر کی لمبائی ریکارڈ کی ہے جو اعلیٰ معیار کے کپڑے کی تیاری کے لیے بہترین سمجھی جاتی ہے۔

فائبر کی پائیداری کے حوالے سے سی آئی ایم-343 نے تمام جدید اقسام میں سب سے زیادہ 33.5 فائبر اسٹرینتھ ریکارڈ کی ہے جبکہ یہ قسم خشک سالی اور گلابی سنڈی کے خلاف بھی مکمل موثر ثابت ہوئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور کیڑوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بی ٹی سی آئی ایم-663 اور بی ٹی سی آئی ایم-678 شدید گرمی برداشت کرنے اور جلد پکنے والی اقسام ہیں، جبکہ بی ٹی سی آئی ایم-785 میں گرمی اور گلابی سنڈی دونوں کے خلاف مزاحمت یکجا کی گئی ہے۔ سکرنڈ کی تیار کردہ بی ٹی کریس-682 اور بی ٹی کریس-674 کا جی او ٹی 38.5 فیصد رہا، جبکہ نان بی ٹی قسم کریس-644 نے 40.5 فیصد جی او ٹی کے ساتھ زیادہ پیداواری صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ان تمام اقسام کا مائیکرونائر 3.5 سے 4.9 کی مثالی حد کے اندر ہے، جو اسپننگ ملز میں بہترین دھاگے کی تیاری کو یقینی بناتا ہے۔

چینی سپلائی چین کمپنی کا آئی سی سی آئی کا دورہ، فارما اور ہیلتھ کیئر شعبوں میں سرمایہ کاری پر اتفاقِ رائے

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

چین کی معروف اور پیش رو سپلائی چین کمپنی ‘یوزونگھے (ہوبئی)’ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ونس ما کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی اور کثیر الجہتی چینی تاجر وفد نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کا باضابطہ دورہ کیا، جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر، میڈیکل ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع اور نئے مواقع کا گہرائی سے جائزہ لینا تھا تاکہ دونوں دوست ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی و صنعتی تعاون کو مزید بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔ دورے کے دوران ہونے والے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وفد کے قائد ونس ما نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی کمپنی اور چینی سرمایہ کار پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی، متحرک اور انتہائی پرکشش مارکیٹ کی نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ یہاں محض تجارت ہی نہیں بلکہ براہِ راست سرمایہ کاری، جدید چینی ٹیکنالوجی کی پاکستان منتقل اور مقامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر جوائنٹ وینچرز (مشترکہ منصوبے) قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان یہ قریبی اور مضبوط صنعتی تعاون جہاں ایک طرف پاکستان میں صحت کی بنیادی سہولیات کے معیار کو بلند کرنے اور فارماسیوٹیکل سپلائی چین کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، وہی دوسری جانب جدید ترین ٹیکنالوجی، مہارت اور تحقیق کے تبادلے سے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے لیے تجارت اور سرمائے کے نئے افق کھولے گا۔ ونس ما نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ اسلام آباد چیمبر میں ہونے والی بی ٹو بی یعنی تاجر سے تاجر کی سطح پر مذاکراتی ملاقاتیں دونوں ممالک کی تجارتی برادری کے درمیان دیرپا اور پائیدار معاشی تعلقات کی مضبوط بنیاد ثابت ہوں گی۔

چینی وفد کا گرمجوشی سے پرخلوص خیرمقدم کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ اس اعلیٰ سطحی چینی وفد کا دورہ پاکستان اور چین کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے ہوئے معاشی اور صنعتی تعلقات کا ایک روشن مظہر ہے، جو خاص طور پر دواسازی، صحتِ عامہ اور سپلائی چین مینجمنٹ کے شعبوں میں ایک نئے سنہری باب کا آغاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے تمام تر صنعتی خطے کو پاکستان کا سب سے اہم فارماسیوٹیکل، سرجیکل اور ہیلتھ کیئر حب تسلیم کیا جاتا ہے، جہاں چینی کمپنیاں مشترکہ منصوبوں، نجی سرمائے کی فراہمی، پروسیسنگ ٹیکنالوجی اور صنعتی سہولیات کے ذریعے وسیع فائس حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے آئی سی سی آئی کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ چیمبر چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں قابلِ اعتماد اور بااعتماد تجارتی شراکت داروں سے جوڑنے اور تمام تر درکار سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنا فعال اور کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔

تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے دونوں ممالک کے جیو پولیٹیکل اور اقتصادی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ، بائیوٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر میں ہونے والی جدید جدت طرازیوں اور جدید ترین سپلائی چین کے شعبوں میں چین کی عالمی سطح پر مسلمہ مہارت اور دوسری طرف پاکستان کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت و روز بروز پھیلتی ہوئی صارفین کی مارکیٹ، دونوں اقوام کے لیے باہمی مفاد پر مبنی معاشی تعاون کا ایک مثالی ماحول فراہم کرتی ہیں۔ مزید برآں، آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان تعمری ملاقاتوں سے پاکستان کی دواسازی کی صنعت کو چین کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی اور نئی تجارتی راہداریاں کھلیں گی۔ اس اہم موقع پر چینی وفد کے دیگر ارکان جن میں لیو ہی شامل تھے، کے ساتھ ساتھ اسلام آباد چیمبر کے ایگزیکٹو ممبران ذوالقرنین عباسی، وسیم چوہدری، عمران منہاس، روحیل انور بٹ، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، اور آئی سی سی آئی کے دیگر اراکین اسرار مشوانی، عظمیٰ شیراز اور وفاقی دارالحکومت کی جید کاروباری و صنعتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور دوطرفہ اقتصادی روابط کو جلد از جلد عملی شکل دینے کے عزم کو دہرایا۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی و معاشی تعاون کا نیا باب؛ 40 رکنی اعلیٰ سطح امریکی وفد پاکستان پہنچ گیا

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے مابین کاروباری و معاشی شراکت داری کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے، جس سلسلے میں معروف امریکی سرمایہ کاروں، کاروباری رہنماؤں اور ٹیکنالوجی ماہرین پر مشتمل 40 رکنی اعلیٰ سطح وفد 26 سے 31 جولائی تک پاکستان کے اہم دورے پر موجود ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ، وزارتِ تجارت اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے باہمی اشتراک سے ترتیب دیے گئے اس دورے کا مقصد بی ٹو بی اجلاس، پالیسی بریفنگز اور سرمایہ کاری کے ٹھوس معاہدوں کو حتمی شکل دینا ہے۔ دورے کے دوران وفد کی وزیرِ اعظم، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ، اور ایس آئی ایف سی کے حکام سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ امریکی وفد مصنوعی ذہانت ، ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ایرو اسپیس، معدنیات، توانائی اور دفاع جیسے جدید شعبوں میں پاکستان کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

پاکستان اور لیبیا کے درمیان تجارتی حجم 1 ارب ڈالر تک لے جایا جا سکتا ہے؛ لاہور چیمبر میں اہم سیمینار کا انعقاد

منصور احمد, JULY 25,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں “پاکستان لیبیا تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ” کے عنوان سے ایک سیمینار انعقاد پذیر ہوا، جس کی صدارت صدر ایل سی سی آئی فہیم الرحمن سہگل نے کی جبکہ پاکستان کے نامزد سفیر برائے لیبیا میجر جنرل (ر) ممتاز حسین نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اپنے استقبالیہ خطاب میں فہیم الرحمن سہگل نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان موجودہ دوطرفہ تجارت انتہائی کم ہے، تاہم اسے باآسانی 1 ارب امریکی ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات، پراسیسڈ فوڈ، آئی ٹی اور تعمیراتی سامان میں وسیع مواقع کی نشاندہی کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نامزد سفیر میجر جنرل (ر) ممتاز حسین نے کہا کہ لیبیا کی 70 لاکھ کی آبادی اور تعمیرِ نو کے منصوبے پاکستانی تاجروں کے لیے زبردست موقع ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ لکی سیمنٹ لیبیا میں اپنا پلانٹ قائم کرنے کے آخری مراحل میں ہے اور ان کا ہدف اگلے دو سال میں لیبیا کو برآمدات دوگنی کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں پاکستانی افرادی قوت کو 20 ہزار سے بڑھا کر 40 ہزار تک پہنچانا ہے۔

ملکی ترقی کا انحصار برآمدات اور جدید ٹیکنالوجی پر ہے؛ احسن اقبال کا ایکسپو سینٹر لاہور میں الیکٹرک وہیکلز اور گرین انرجی نمائش سے خطاب

منصور احمد, JULY 25,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی خود مختاری، پائیدار ترقی اور مستقبل کا انحصار درآمداتی انحصار ختم کر کے ‘ڈالر کمانے والی’ برآمداتی معیشت کی تشکیل پر ہے۔ ایکسپو سینٹر لاہور میں جدید الیکٹرک وہیکلز اور توانائِی پاکستان نمائش کی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت نے الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے فروغ کے لیے 80 ہزار روپے تک سبسڈی سمیت ای وی گاڑیوں پر ڈیوٹیوں میں نمایاں کمی کی ہے تاکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کو برقی توانائی پر منتقل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 2035ء تک برآمدات کو 100 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچانا ہوگا جبکہ ایف بی آر کے نظام کو مکمل ڈیجیٹلائز اور مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس کیا جا رہا ہے تاکہ ٹیکس بیس کو وسیع کیا جا سکے۔ امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روایتی جنگ میں دندان شکن شکست کے بعد بھارت اب فتنة الہندوستان کے ذریعے غیر روایتی دہشت گردی کی لہر کو ہوا دے رہا ہے، جسے قوم کے تعاون سے ناکام بنایا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کے عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کی طرف لوٹیں گے۔

اسرائیلی آبادکاروں کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں سے تمام اشیاء کی درآمدات پر پابندی کا اعلان؛ نیدرلینڈز کا 22 ستمبر سے فیصلہ نافذ کرنے کا فیصلہ

محمود احمد, JULY 22,2026

ایمسٹرڈیم (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نیدرلینڈز کی حکومت نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال 22 ستمبر سے اسرائیلی آبادکاروں کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں سے ہر قسم کی سامان اور مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر دے گی۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، یورپی یونین میں شامل آئرلینڈ، بیلجیئم اور سپین کے بعد نیدرلینڈز بھی ان اہم یورپی ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں سے تجارتی روابط ختم کرنے کے لیے باقاعدہ اقدامات کیے ہیں۔ غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد میں مسلسل اضافے کے بعد 27 رکنی یورپی یونین پر اس قسم کی سخت پابندیوں کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ڈچ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “ان اقدامات کے ذریعے نیدرلینڈز اس غیر قانونی صورتِ حال اور قبضہ داری کا حصہ نہ بننے کی اپنی بین الاقوامی اور قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے عزم کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔” وزارت نے واضح کیا کہ اس نئی پابندی کا اطلاق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں میں تیار ہونے والی تمام اشیاء کی خرید و فروخت اور درآمد پر ہو گا۔

فلسطینی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘گلوبل ایکو’ کے مطابق، غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں سے کی جانے والی مجموعی زرعی برآمدات کا ایک تہائی حصہ اکیلے نیدرلینڈز کو بھیجا جاتا تھا، جبکہ کل تجارتی برآمدات کا تقریباً آدھا حصہ یورپی یونین کی مارکیٹوں میں جاتا تھا، جس پر اب شدید اثرات مرتب ہوں گے۔

سعودی عرب کی وزارتِ تجارت کا ‘ڈسکاؤنٹ سیزن 2026’ کا اعلان؛ یکم اگست سے 31 اکتوبر تک رعایت فراہم کی جائے گی

منصور احمد, JULY 22,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

سعودی عرب کی وزارتِ تجارت نے مملکت میں باقاعدہ ‘ڈسکاؤنٹ سیزن 2026ء’ کا اعلان کر دیا ہے جو یکم اگست سے شروع ہو کر 31 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق، وزارتِ تجارت نے واضح کیا ہے کہ تمام تجارتی اداروں اور دکانداروں کو سامان رعایت پر فروخت کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (اجازت نامہ) حاصل کرنا لازم ہوگا۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ ڈسکاؤنٹ سیزن ایک خاص بنیاد پر شروع کیا جا رہا ہے جس سے دیگر روایتی سیزن جیسے کہ رمضان المبارک اور عیدین کی سیل متاثر نہیں ہوں گی۔

وزارتِ تجارت کے مطابق تاجر اور دکاندار اپنے ادارے کے لیے مخصوص آن لائن پورٹل کے ذریعے سیلز پرمٹ آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ خریداروں اور صارفین کی سہولت کے لیے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خریداری کے مقام پر موجود بارکوڈ کو اپنے موبائل سے سکین کر کے یہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ آیا اس ادارے کے پاس باقاعدہ سرکاری اجازت نامہ موجود ہے یا نہیں، نیز سیل سے قبل اور بعد کے نرخوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی قوانین کے تحت کوئی بھی دکاندار یا کمپنی وزارتِ تجارت کی باضابطہ منظوری کے بغیر ‘سیل’ کا اشتہار یا نوٹس نہیں لگا سکتی۔ اجازت نامے کے حصول کے لیے اشیاء کے پرانے اور نئے رعایتی نرخوں کا مکمل اندراج کروانا ضروری ہوتا ہے۔

پاکستان کو موبائل فونز کی تیاری اور برآمدات کا علاقائی مرکز بنانے کی پیشکش؛ وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی سام سنگ کے وفد سے اہم ملاقات

کاشف عباسی , JULY 22,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے معروف عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ‘سام سنگ’ کو پاکستان میں تیار ہونے والے اسمارٹ فونز کی برآمدات بڑھانے اور پاکستان کو موبائل فون سازی، مرمت و تجدید (ریفربشمنٹ) اور برآمدات کا علاقائی مرکز بنانے کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت برآمدات، صنعتی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔

وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، بدھ کے روز سام سنگ پاکستان کے سربراہ نے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ وفاقی وزیرِ تجارت سے وزارتِ تجارت میں تفصیلی ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے سام سنگ کی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ صرف پاکستان کی مقامی مارکیٹ تک محدود رہنے کے بجائے یہاں سے تیار کردہ موبائل فونز کو افریقی ممالک اور دیگر عالمی منڈیوں میں برآمد کر کے عالمی سپلائی چین کا حصہ بنے۔

جام کمال خان نے پاکستان میں اصل کمپنی کے زیرِ انتظام تصدیق شدہ موبائل فون مرمت و تجدید کے مراکز قائم کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے معیاری اور وارنٹی والے فونز مارکیٹ میں آئیں گے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ممکن ہو سکے گی۔

ملاقات کے دوران سام سنگ کے وفد نے پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار کی پیش رفت سے آگاہ کیا، جبکہ ٹیکس ڈھانچے اور استعمال شدہ موبائل فونز کی بیرونی درآمدات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مقامی صنعت کو تحفظ دینے کے لیے مناسب کسٹم ڈیوٹی کا فرق برقرار رکھا جائے۔

وفاقی وزیرِ تجارت نے صنعت کی جانب سے ٹیکس تحفظات کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ کمپنی ریفربشمنٹ، برآمدات اور نئی سرمایہ کاری سے متعلق تفصیلی تجاویز پیش کرے تاکہ انہیں آئندہ موبائل فون مینوفیکچرنگ پالیسی میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان کو عالمی ٹیکنالوجی اداروں کے لیے ایک پرکشش اور منافع بخش مرکز بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

قابلِ تجدید توانائی، سیاحت، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے وفاق کا تعاون جاری رہے گا؛ 100 میگاواٹ سولر منصوبے، دانش اسکولز اور آسان خدمت سینٹر کے قیام کا اعلان

کاشف عباسی , JULY 21,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں قابلِ تجدید توانائی، سیاحت، بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر)، صحت، تعلیم اور دیگر اہم شعبوں میں مسلسل ترقیاتی اقدامات اٹھا رہی ہے اور خطے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے نو منتخب صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے گلگت بلتستان کے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ امجد حسین نے اسلام آباد میں اہم ملاقات کی۔ وزیرِ اعظم نے امجد حسین کو وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ملاقات میں گلگت بلتستان کے انتظامی و ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کے جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی کا منصوبہ اور دانش اسکولز کا قیام سرِ فہرست ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے شہریوں کی سہولت اور تمام اداریاتی خدمات کی ایک ہی چھت تلے فراہمی کے لیے گلگت میں ‘پاکستان آسان خدمت سینٹر’ قائم کرنے کی بھی باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

ملاقات کے دوران نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ بھی موجود تھے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اب روزانہ کی بنیاد پر تعین ہوگا؛ نظام میں مکمل شفافیت اور پرائسنگ فارمولا عوام کے سامنے لانے کا مقتدر فیصلہ

کاشف عباسی , JULY 17,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے ایک بڑے تزویراتی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے مروجہ نظام کو ہفتہ وار سے بدل کر روزانہ کی بنیاد پر لانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ ایک مقتدر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس تاریخی اقدام کا بنیادی مقصد قیمتوں میں ہونے والے عالمی اتار چڑھاؤ کے ثمرات کو بلا تاخیر اور بروقت عوام تک منتقل کرنا ہے، جس سے نظام میں نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ پورا پرائسنگ فارمولا بھی پبلک کر دیا جائے گا۔

عطاء اللہ تارڑ نے عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اضافہ بین الاقوامی کشیدگی کا نتیجہ ہے، تاہم پاکستان اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے جنہیں عالمی برادری نے بھی سراہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب دنیا بھر میں کشیدگی کے باعث کئی ترقی یافتہ ممالک میں تیل کے حصول کے لیے طویل قطاریں لگی ہوئی تھیں اور راشننگ کا نظام چل رہا تھا، اس وقت وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کے اضافی کارگوز منگوائے، جس کی بدولت پاکستان کے کسی شہر میں ایک دن کے لیے بھی پٹرول یا ڈیزل کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جب عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، تب وفاقی حکومت نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے 129 ارب روپے کی خطیر مقتدر سبسڈی فراہم کی تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے ہفتہ وار قیمتوں کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک گزشتہ چھ دنوں کی اوسط قیمت نکال کر ساتویں دن فیصلہ کیا جاتا تھا، جس کے باعث عالمی منڈی میں فوری کمی کا فائدہ عوام تک پہنچنے میں تاخیر ہوتی تھی، مگر اب روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین سے یہ دیرینہ شکایت ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گی۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی میں بے پناہ اضافے کے تاثر کو سراسر غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ لیوی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بھی کم رکھی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملکی بقا کے لیے ماحول دوست ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے پاکستان کا الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک وہیکلز کی طرف بڑھنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حوالے سے مقتدر ریگولیشن کا ذکر کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ کمپنیوں کی جانب سے اندھا دھند منافع کمانے کا تاثر بالکل بے بنیاد ہے، کیونکہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایف آئی اے اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ان کی سخت ترین نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار اضافی منافع کمانے والی کمپنیوں سے رقم واپس وصول کی گئی ہے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ انہوں نے عوام کو مطلع کیا کہ اوگرا کے موجودہ چیئرمین کی سربراہی میں ایک جدید آئی ٹی بیسڈ شفاف نظام متعارف کرایا جا چکا ہے اور شہری کسی بھی شکایت کی صورت میں اوگرا کی ویب سائٹ پر براہِ راست رجوع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی حلقوں سے اپیل کی کہ عوامی مفاد کے اس حساس معاشی معاملے پر سیاست چمکانے سے گریز کیا جائے۔

یورپی یونین کے اشتراک سے 12 لاکھ یورو مالیت کا نیا منصوبہ ’’منزل‘‘ شروع، پاکستانی نوجوانوں کو کاروباری و سماجی قیادت کے لیے بااختیار بنایا جائے گا

محمود احمد, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

یورپی یونین کے مالی تعاون اور مقتدر اشتراک سے 12 لاکھ یورو مالیت کا ایک نیا انقلابی منصوبہ ’’منزل‘‘ کامیابی سے شروع کر دیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد پاکستانی نوجوانوں کو روزگار، کاروباری مواقع، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی تزویراتی صلاحیت اور کمیونٹی قیادت کے لیے جامع طور پر بااختیار بنانا ہے۔ لاہور اور کراچی میں باقاعدہ طور پر شروع کیے گئے اس تزویراتی منصوبے کے تحت راولپنڈی، لاہور، میرپورخاص اور سانگھڑ میں تقریباً 4 ہزار مستحق نوجوان خواتین و مردوں کو براہِ راست معاشی و تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ 40 نوجوانوں کی قیادت میں قائم مقامی تنظیموں کی استعداد کار (کیپیسٹی بلڈنگ) بھی بڑھائی جائے گی۔

جاری کردہ مقتدر تفصیلات کے مطابق، اس اہم منصوبے پر عملدرآمد ناروین چرچ ایڈ ، سول سوسائٹی سپورٹ پروگرام اور شراکت فاؤنڈیشن کے باہمی اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی مکمل مالی معاونت یورپی یونین فراہم کر رہی ہے۔ منصوبے کا تزویراتی مقصد نوجوانوں کو صرف ترقیاتی پروگراموں کے روایتی مستفید افراد کے بجائے کامیاب کاروباری شخصیات، موسمیاتی تحفظ کے علمبردار، کمیونٹی رہنما اور مقامی طرزِ حکمرانی میں فعال شراکت دار بنانا ہے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مارکیٹ کی جدید ضروریات سے ہم آہنگ مہارتیں، روزگار و کاروبار کے مواقع، قائدانہ صلاحیتوں کی تربیت اور مقامی سطح پر موسمیاتی مسائل کے پائیدار حل تیار کرنے میں مدد دی جائے گی۔ منصوبے میں خواتین، خصوصی افراد، خواجہ سرا برادری، مذہبی اقلیتوں اور معاشرتی طور پر محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے پاکستان میں قائم وفد کے قائم مقام سربراہ برائے تعاون ڈاکٹر سباستین لوریون نے کہا کہ یورپی یونین کو اس مقتدر منصوبے کی حمایت پر فخر ہے، کیونکہ جب نوجوانوں کو آواز، مواقع اور شناخت ملتی ہے تو معاشرے زیادہ مضبوط، جدید اور منصفانہ بنتے ہیں۔ ناروین چرچ ایڈ کے کنٹری ڈائریکٹر اسٹیفن کینٹ نے اپنے مقتدر خطاب میں کہا کہ “منزل” اس پختہ یقین پر مبنی ہے کہ نوجوان صرف ترقیاتی منصوبوں کے مستفید نہیں بلکہ تبدیلی کے حقیقی رہنما، اختراع کار اور دیرپا حل کے تزویراتی شراکت دار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں کی مہارتوں، تنظیموں اور سرکاری اداروں کے ساتھ روابط کو مضبوط بنا کر ایسے پائیدار حل میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جن کے فوائد منصوبے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی مقامی آبادی کو مستقل حاصل ہوتے رہیں گے۔

عالمی مارکیٹ میں مندی کے بعد پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 14,900 روپے کی تاریخی کمی، سونا 4 لاکھ 38 ہزار 036 روپے کی سطح پر آگیا، چاندی کی قیمتیں بھی یکایک گر گئیں، صرافہ مارکیٹ کی رپورٹ

روزینہ اسماعیل.june 19,2026

کراچی (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

بین الاقوامی بلین مارکیٹ اور مقامی صرافہ بازاروں میں پٹرولیم مصنوعات کے بعد اب سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھی بڑے پیمانے پر غیر معمولی اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 149 ڈالر کی زبردست مندی کے بعد 4,156 ڈالر کی سطح پر نیچے آگئی ہے، عالمی مارکیٹ میں ہونے والی اس بڑی گراوٹ کے براہِ راست اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں جس کے باعث پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 14,900 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 4 لاکھ 38 ؎ہزار 036 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

صرافہ مارکیٹ کے مقتدر ذرائع کے مطابق فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 13,410 روپے کی بڑی کٹوتی دیکھی گئی ہے جس کے بعد مقامی بازاروں میں 10 گرام سونا گھٹ کر 3 لاکھ 74 ہزار 205 روپے کی سطح پر آگیا ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے کامیاب معاہدے اور عالمی معیشت میں استحکام کی بحالی کے باعث سرمایہ کار اب سونے کی محفوظ پناہ گاہوں سے سرمایہ نکال کر دیگر تجارتی شعبوں میں لگا رہے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتی دھاتوں کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں اور عام خریداروں کے لیے ایک طویل عرصے بعد بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔

سونے کے ساتھ ساتھ ملکی صرافہ بازاروں میں چاندی کی قیمتوں کو بھی بڑا بریک لگا ہے، اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 413 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 6,946 روپے کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 373 روپے کی بڑی گراوٹ کے ساتھ مارکیٹ میں 5,895 روپے کی سطح پر بند ہوئی، صرافہ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث مارکیٹ میں خریداروں کا رش بڑھنے کا امکان ہے، تاہم آنے والے دنوں میں عالمی حالات کے مطابق قیمتوں میں مزید استحکام یا کمی متوقع ہے۔