ایتھوپیا کے سفیر کا سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کا دورہ، دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ پر زور

منصور احمد ,May 12,2026

سیالکوٹ (نیوز اینڈ نیوز) — ایتھوپیا کے ہائی کمشنر و سفیر برائے پاکستان ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے منگل کے روز سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SCCI) کا سرکاری دورہ کیا، جہاں ان کا پرتپاک استقبال سینئر نائب صدر مراد ارشد اور ایگزیکٹو ممبران نے کیا۔

سفیر نے سیالکوٹ کی صنعتی صلاحیت کو سراہتے ہوئے پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کی انڈسٹریل طاقت دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے کہا کہ ایتھوپیا غیر ملکی سرمایہ کاروں خصوصاً پاکستانی کاروباری برادری کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے، جن میں بڑی آبادی، ہنر مند افرادی قوت، سستی گرین انرجی اور علاقائی منڈیوں تک رسائی شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایتھوپیا میں جاری ہوم گرون اکنامک ریفارمز کے نتیجے میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے، جس میں مختلف مراعات اور ٹیکس چھوٹ بھی شامل ہیں۔ ان اصلاحات نے معاشی عدم توازن کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ پیداوار اور روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ کیا ہے۔

سفیر نے پاکستانی تاجروں کو دعوت دی کہ وہ ایتھوپیا کا دورہ کریں اور زراعت، ایگرو پروسیسنگ، مینوفیکچرنگ، کان کنی، سیاحت اور آئی سی ٹی کے شعبوں میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔

اس موقع پر سید احتشام مظہر نے سفیر کے دورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ کی صنعتی برادری دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تقریب کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

آئی ایم ایف کا پاکستان کو اصلاحات جاری رکھنے کا مشورہ، مشرق وسطیٰ جنگ کے خطرات پر خبردار

کاشف عباسی ,May 10 ,2026

واشنگٹن: عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پاکستان کیلئے تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث توانائی قیمتوں، تجارت اور عالمی مالیاتی صورتحال پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کو معاشی اصلاحات کا عمل تیز کرنا ہوگا۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے تیسرے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے دوسرے جائزے کی منظوری دی، جس کے بعد پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر EFF جبکہ 22 کروڑ ڈالر RSF کے تحت ملیں گے۔ اس کے ساتھ موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 4.8 ارب ڈالر موصول ہو جائیں گے۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان نے مشکل عالمی حالات اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باوجود معاشی استحکام برقرار رکھا، تاہم مستقبل میں بیرونی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ فنڈ کے مطابق جنگ کے اثرات سے تیل کی قیمتوں، تجارتی سرگرمیوں اور عالمی مالیاتی مارکیٹس میں دباؤ پیدا ہو سکتا ہے، جو پاکستان کی معیشت کیلئے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک نے کہا کہ پاکستان کو معاشی استحکام برقرار رکھنے کیلئے سخت مالیاتی پالیسی، ٹیکس اصلاحات اور ساختی تبدیلیوں پر تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، محصولات میں اضافہ کیا جائے اور سرکاری اداروں میں اصلاحات کی جائیں۔

فنڈ نے کہا کہ توانائی شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں اور بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو حقیقی لاگت کے مطابق رکھنا ہوگا تاکہ مالیاتی دباؤ دوبارہ پیدا نہ ہو۔ ساتھ ہی کمزور طبقے کیلئے ٹارگٹڈ ریلیف کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ روپے کی قدر میں لچک برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ بیرونی معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کیا جا سکے، جبکہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کیلئے سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھنی چاہیے۔

فنڈ نے مزید کہا کہ پاکستان کو گورننس بہتر بنانے، نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے، بدعنوانی کے خلاف اداروں کو مضبوط کرنے اور نجی شعبے کیلئے رکاوٹیں ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پائیدار معاشی ترقی حاصل کی جا سکے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور کر لی

کاشف عباسی ,May 09 ,2026

واشنگٹن / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے جاری اصلاحاتی پروگرام کا جائزہ مکمل کرتے ہوئے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو ملنے والی مجموعی رقم تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس واشنگٹن میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان کی معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور اقتصادی استحکام کیلئے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ فنڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان نے ٹیکس اصلاحات، مالیاتی نظم و نسق اور توانائی کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کے شعبوں میں پیشرفت کی ہے، تاہم ملک کو اب بھی بڑے معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی قسط کی منظوری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مسلسل رابطے اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کیلئے جاری کوششوں کا مظہر ہے۔

حکومتی حکام کے مطابق نئی قسط سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، مالیاتی دباؤ میں کمی اور معاشی اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ حکومت اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان بڑی معاشی پیشرفت، اربوں ڈالر کے نئے معاہدوں کی تیاری

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز)  این این آئی۔ 08 مئی2026ء: پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی و معاشی تعاون میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں 52 رکنی اعلیٰ سطحی چینی تجارتی وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔ وفد کے دورے کے دوران اربوں ڈالر کے معاہدوں اور اہم کاروباری شراکت داریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق چینی وفد 8 مئی سے 14 مئی تک پاکستان میں مختلف حکومتی و کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کرے گا، جبکہ سرمایہ کاری، صنعت، توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے سے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان نئے تجارتی مواقع پیدا ہوں گے۔ وفد کے دورے کو پاک چین اقتصادی تعاون کے حوالے سے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ فنڈ قائم، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی سرپرستی

اسلام آباد,(نیوز اینڈ نیوز) اے پی پی۔ 06 مئی2026

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی سرپرستی میں کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور مالیاتی منڈیوں کو مستحکم بنانا ہے۔

حکام کے مطابق اس فنڈ کے قیام سے کیپٹل مارکیٹ میں شفافیت، جدت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ اس اقدام کے ذریعے مارکیٹ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور نئے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں مدد ملے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فنڈ کے تحت مختلف اصلاحاتی اقدامات، آگاہی مہمات اور تکنیکی ترقی کے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے تاکہ پاکستان کی مالیاتی منڈی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ملکی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ مضبوط کیپٹل مارکیٹ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور معاشی ترقی کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔