عالمی مارکیٹ میں مندی کے بعد پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 14,900 روپے کی تاریخی کمی، سونا 4 لاکھ 38 ہزار 036 روپے کی سطح پر آگیا، چاندی کی قیمتیں بھی یکایک گر گئیں، صرافہ مارکیٹ کی رپورٹ

روزینہ اسماعیل.june 19,2026

کراچی (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

بین الاقوامی بلین مارکیٹ اور مقامی صرافہ بازاروں میں پٹرولیم مصنوعات کے بعد اب سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھی بڑے پیمانے پر غیر معمولی اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 149 ڈالر کی زبردست مندی کے بعد 4,156 ڈالر کی سطح پر نیچے آگئی ہے، عالمی مارکیٹ میں ہونے والی اس بڑی گراوٹ کے براہِ راست اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں جس کے باعث پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 14,900 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 4 لاکھ 38 ؎ہزار 036 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

صرافہ مارکیٹ کے مقتدر ذرائع کے مطابق فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 13,410 روپے کی بڑی کٹوتی دیکھی گئی ہے جس کے بعد مقامی بازاروں میں 10 گرام سونا گھٹ کر 3 لاکھ 74 ہزار 205 روپے کی سطح پر آگیا ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے کامیاب معاہدے اور عالمی معیشت میں استحکام کی بحالی کے باعث سرمایہ کار اب سونے کی محفوظ پناہ گاہوں سے سرمایہ نکال کر دیگر تجارتی شعبوں میں لگا رہے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتی دھاتوں کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں اور عام خریداروں کے لیے ایک طویل عرصے بعد بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔

سونے کے ساتھ ساتھ ملکی صرافہ بازاروں میں چاندی کی قیمتوں کو بھی بڑا بریک لگا ہے، اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 413 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 6,946 روپے کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 373 روپے کی بڑی گراوٹ کے ساتھ مارکیٹ میں 5,895 روپے کی سطح پر بند ہوئی، صرافہ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث مارکیٹ میں خریداروں کا رش بڑھنے کا امکان ہے، تاہم آنے والے دنوں میں عالمی حالات کے مطابق قیمتوں میں مزید استحکام یا کمی متوقع ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست اتار چڑھاؤ، ابتدائی بدترین مندی کے بعد تیز ترین بحالی، ہنڈرڈ انڈیکس سرخ زون سے نکل کر مثبت زون میں داخل، سرمایہ کاروں کی اربوں روپے کی نئی خریداری

کاشف عباسی ,june 10,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز یعنی بدھ کو ٹریڈنگ کے دوران زبردست اتھل پتھل اور سنسنی خیز اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں مارکیٹ ابتدائی اوقات میں شدید منفی رجحان اور مندی کا شکار ہوئی، تاہم بعد ازاں سرمایہ کاروں کی جانب سے مارکیٹ میں کیے جانے والے بھرپور اعتماد اور بڑے پیمانے پر خریداری کے باعث مارکیٹ نے ایک بار پھر نمایاں اور تیز ترین بحالی دکھائی، جس کی بدولت ہنڈرڈ انڈیکس دوبارہ مثبت زون میں داخل ہو گیا، اسلام آباد اور کراچی کے مالیاتی ذرائع سے حاصل ہونے والی کاروباری تفصیلات کے مطابق آج صبح کاروبار کے آغاز پر کے ایس ای-100 انڈیکس میں شدید مندی دیکھی گئی اور انڈیکس ۵۰ سے زائد پوائنٹس کی فوری کمی کے ساتھ ۱ لاکھ ۷۰ ہزار ۲ سو اسی (170,280) پوائنٹس کی نچلی سطح تک گر گیا تھا، جس سے سرمایہ کاروں میں کچھ دیر کے لیے تشویش کی لہر دوڑ گئی، تاہم ٹریڈنگ کے باقاعدہ آغاز اور دن گزرنے کے ساتھ ہی مارکیٹ کے مختلف منافع بخش شعبوں میں نئی سرمایہ کاری بڑھنے سے صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی اور مارکیٹ میں تیز ترین خریداری کا ایک بڑا رجحان پیدا ہوا، جس کے بعد کے ایس ای-100 انڈیکس نے اپنی پرانی پوزیشن کو ناصرف بحال کیا بلکہ ۳۰۰ سے زائد پوائنٹس کے شاندار اضافے کے ساتھ ۱ لاکھ ۷۰ ہزار ۷ سو انتیس (170,729) پوائنٹس کی بلند سطح تک پہنچ گیا، جو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے بحال ہوتے ہوئے مضبوط اعتماد اور مثبت تزویراتی رجحان کی واضح عکاسی کرتا ہے، مارکیٹ کے معاشی ماہرین اور اسٹاک تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے ملک کے بڑے تجارتی بینکنگ، توانائی، آئل اینڈ گیس اور صنعتی شعبوں کے سستے شیئرز میں اچانک بڑی خریداری کی گئی، جس کے باعث ہنڈرڈ انڈیکس نے مندی کے جھٹکے سے نکل کر انتہائی تیزی سے بحالی دکھائی اور اس کے نتیجے میں مارکیٹ کی مجموعی کاروباری فضا دن کے اختتام تک مکمل طور پر مثبت اور منافع بخش رہی، واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای-100 انڈیکس ۱ لاکھ ۷۰ ہزار ۳ سو تیس (170,330) پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا، جس کے مقابلے میں آج کی یہ بحالی ملکی معیشت اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک خوش آئند لہر ثابت ہوئی ہے۔

نیشنل بینک نے بڑی عالمی کرنسیوں کی نئی شرحِ تبادلہ جاری کر دی

کاشف عباسی ,May 30 ,2026

اسلام آباد: (نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء)

نیشنل بینک آف پاکستان نے ہفتہ کے روز مختلف عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی نئی شرحِ تبادلہ جاری کر دی ہے۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ، یورو، سعودی ریال، اماراتی درہم اور جاپانی ین سمیت اہم غیر ملکی کرنسیوں کی خرید و فروخت کی قیمتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔

نیشنل بینک آف پاکستان کے مطابق امریکی ڈالر کی قیمتِ خرید 277.29 روپے جبکہ قیمتِ فروخت 280.29 روپے مقرر کی گئی ہے۔

برطانوی پاؤنڈ کی قیمتِ خرید 373.27 روپے اور قیمتِ فروخت 377.74 روپے ریکارڈ کی گئی، جبکہ یورو کی قیمتِ خرید 322.34 روپے اور قیمتِ فروخت 326.17 روپے رہی۔

اسی طرح جاپانی ین کی قیمتِ خرید 1.7433 روپے جبکہ قیمتِ فروخت 1.7640 روپے مقرر کی گئی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے درہم کی قیمتِ خرید 73.82 روپے اور قیمتِ فروخت 74.70 روپے رہی، جبکہ سعودی ریال کی قیمتِ خرید 75.93 روپے اور قیمتِ فروخت 76.32 روپے ریکارڈ کی گئی۔

مالیاتی ماہرین کے مطابق عالمی منڈیوں میں کرنسیوں کی قدر میں اتار چڑھاؤ، بین الاقوامی معاشی حالات اور مقامی اقتصادی عوامل شرحِ تبادلہ پر اثرانداز ہوتے ہیں، جس کے باعث کرنسیوں کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے۔

اہم کرنسیوں کی شرحِ تبادلہ

کرنسیقیمتِ خریدقیمتِ فروخت
امریکی ڈالر277.29 روپے280.29 روپے
برطانوی پاؤنڈ373.27 روپے377.74 روپے
یورو322.34 روپے326.17 روپے
سعودی ریال75.93 روپے76.32 روپے
اماراتی درہم73.82 روپے74.70 روپے
جاپانی ین1.7433 روپے1.7640 روپے

نیشنل بینک کی جانب سے جاری کردہ یہ نرخ بین الاقوامی مالیاتی رجحانات اور ملکی زرِمبادلہ مارکیٹ کی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں

پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون میں پیشرفت، چانگژو میں اہم معاہدے اور سرمایہ کاری پر گفتگو

منصور احمد ,May 23,2026

چانگژو، چین/ نیوز اینڈ نیوز

حکومتِ پاکستان نے چین کے ساتھ صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم پیشرفت کرتے ہوئے چینی صنعتی اداروں اور مقامی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کی ہیں۔ یہ پیشرفت وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کے چین کے صوبہ جیانگسو کے صنعتی شہر چانگژو کے دورے کے دوران سامنے آئی۔

پاکستانی وفد نے معروف چینی کمپنی Star Charge کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں وفد کو الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر، اسمارٹ انرجی سسٹمز، توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید ٹیکنالوجی اور کلاؤڈ بیسڈ انرجی مینجمنٹ پلیٹ فارمز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمپنی اس وقت دنیا کے 60 سے زائد ممالک میں اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے۔

ملاقات کے دوران پاکستان میں الیکٹرک وہیکل انفراسٹرکچر، اسمارٹ انرجی منصوبوں اور مقامی صنعتی پیداوار کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وفد کو پاکستان میں کمپنی کے مجوزہ مقامی دفتر، صنعتی توسیعی منصوبوں اور سرمایہ کاری حکمتِ عملی سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔

پاکستانی وفد نے بعد ازاں Changfa Group کا بھی دورہ کیا، جو زرعی اور صنعتی مشینری کی تیاری میں چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس موقع پر کنگز برج وینچرز اور چانگفا گروپ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت پاکستان میں زرعی اور صنعتی مشینری کی مقامی تیاری، تکنیکی تعاون اور جدید مینوفیکچرنگ منصوبوں کے فروغ پر کام کیا جائے گا۔

چینی حکام اور پاکستانی وفد کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں پاکستان کی صنعتی جدیدکاری، برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکنالوجی کے تبادلے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں صنعتی روابط، مشترکہ منصوبوں اور مینوفیکچرنگ شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

دورے کے دوران چانگژو کے میئر ژو وی اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی پاکستانی وفد کا استقبال کیا اور چین کے صنعتی ترقیاتی ماڈل، سرمایہ کاری سہولت کاری اور جدید صنعتی پالیسیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

ہارون اختر خان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی تعاون پاکستان کی معیشت، مینوفیکچرنگ شعبے اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

آئی ایم ایف سے 1.3 بلین ڈالر کی قسط موصول، بجٹ سے قبل معاشی جائزے کا آغاز

کاشف عباسی ,May 14 ,2026

اسلام آباد/کراچی (نیوز اینڈ نیوز): پاکستان کی معیشت کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے، جہاں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے 1.3 بلین ڈالر کی تازہ قسط اسٹیٹ بینک کو موصول ہو گئی ہے۔ اس رقم کی آمد کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 17 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں، جو کہ مرکزی بینک کے مقررہ ہدف 18 بلین ڈالر کے انتہائی قریب ہیں۔

بجٹ سے پہلے جائزہ اور معاشی اصلاحات آئی ایم ایف کے وفد نے بدھ کے روز پاکستان کی معیشت کا بجٹ سے پہلے جائزہ شروع کر دیا ہے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مرکز مالی سال 27-2026 کے لیے آمدنی کے اہداف کا تعین، نئے ٹیکس اقدامات اور معاشی اصلاحات کی حکمت عملی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان ہونے والی گفتگو میں مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ضرورت پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔

فنڈز کی تفصیلات اور اسٹیٹ بینک کی تصدیق اسٹیٹ بینک نے تصدیق کی ہے کہ اسے 12 مئی 2026 کی قدر کے مطابق آئی ایم ایف سے مجموعی طور پر تقریباً 1.3 بلین ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔ یہ فنڈز ‘توسیعی فنڈ سہولت’ اور ‘لچک و استحکام کی سہولت’ کے تحت منظور کیے گئے تھے۔ غیر ملکی ذخائر میں یہ اضافہ ملکی کرنسی کو استحکام دینے اور عالمی برادری میں برآمد کنندگان و درآمد کنندگان کا اعتماد بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

پانڈا بانڈ کے لیے چین کا دورہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ‘پانڈا بانڈ’ کے اجراء کے سلسلے میں چین روانہ ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی مارکیٹ سے مالی وسائل حاصل کرنا اور معاشی استحکام کی کوششوں کو مزید بہتر بنانا ہے۔


بیجنگ میں ‘سپر پاورز’ کا ٹکراؤ: صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات پر تجارت اور جنگ کے سائے

کاشف عباسی ,May 14 ,2026

یجنگ (نیوز اینڈ نیوز): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان آج بیجنگ کے تاریخی ‘گریٹ ہال آف دی پیپل’ میں ایک انتہائی اہم ملاقات ہو رہی ہے۔ اس ملاقات کے ایجنڈے پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ، تائیوان کے معاملات اور دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تجارتی تناؤ جیسے حساس موضوعات چھائے ہوئے ہیں۔

ایک دہائی بعد تاریخی دورہ
گزشتہ دس سالوں میں کسی بھی امریکی صدر کا چین کا یہ پہلا دورہ ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ ایران کے ساتھ ایک شدید جنگ میں مصروف ہے، جس کی وجہ سے توانائی کی عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہو چکا ہے اور واشنگٹن کو اب تک 29 بلین ڈالر سے زائد کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اصل میں یہ ملاقات مارچ میں ہونی تھی، لیکن ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے باعث شروع ہونے والی جنگ کی وجہ سے اسے مؤخر کرنا پڑا۔

ٹیکنالوجی جائنٹس کی شرکت اور معاشی ایجنڈا
صدر ٹرمپ کے اس دورے کی خاص بات ان کے ہمراہ ٹیسلا (Tesla) کے ایلون مسک، اینویڈیا (Nvidia) کے جینسن ہوانگ اور ایپل (Apple) کے سربراہان سمیت درجن بھر اعلیٰ حکام کی موجودگی ہے۔ ایئر فورس ون کے ذریعے بیجنگ پہنچنے پر صدر ٹرمپ کا ریڈ کارپیٹ استقبال کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پیغام میں امید ظاہر کی کہ وہ چینی صدر سے مارکیٹ کو مزید ‘کھولنے’ کی درخواست کریں گے تاکہ باصلاحیت چینی عوام اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔

ملاقاتوں کا شیڈول اور اہداف
بیجنگ پہنچنے پر 300 چینی نوجوانوں نے سفید لباس میں امریکی صدر کا استقبال کیا۔ اپنے قیام کے دوران صدر ٹرمپ تاریخی ‘ٹیمپل آف ہیون’ کا دورہ بھی کریں گے، جبکہ جمعہ کو وطن واپسی سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان چائے پر ملاقات اور ورکنگ لنچ بھی طے ہے۔ دوسری جانب چین نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ تعاون کو فروغ دینے اور باہمی اختلافات کو بہتر انداز میں مینیج کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ایتھوپیا کے سفیر کا سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کا دورہ، دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ پر زور

منصور احمد ,May 12,2026

سیالکوٹ (نیوز اینڈ نیوز) — ایتھوپیا کے ہائی کمشنر و سفیر برائے پاکستان ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے منگل کے روز سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SCCI) کا سرکاری دورہ کیا، جہاں ان کا پرتپاک استقبال سینئر نائب صدر مراد ارشد اور ایگزیکٹو ممبران نے کیا۔

سفیر نے سیالکوٹ کی صنعتی صلاحیت کو سراہتے ہوئے پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کی انڈسٹریل طاقت دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے کہا کہ ایتھوپیا غیر ملکی سرمایہ کاروں خصوصاً پاکستانی کاروباری برادری کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے، جن میں بڑی آبادی، ہنر مند افرادی قوت، سستی گرین انرجی اور علاقائی منڈیوں تک رسائی شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایتھوپیا میں جاری ہوم گرون اکنامک ریفارمز کے نتیجے میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے، جس میں مختلف مراعات اور ٹیکس چھوٹ بھی شامل ہیں۔ ان اصلاحات نے معاشی عدم توازن کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ پیداوار اور روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ کیا ہے۔

سفیر نے پاکستانی تاجروں کو دعوت دی کہ وہ ایتھوپیا کا دورہ کریں اور زراعت، ایگرو پروسیسنگ، مینوفیکچرنگ، کان کنی، سیاحت اور آئی سی ٹی کے شعبوں میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔

اس موقع پر سید احتشام مظہر نے سفیر کے دورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ کی صنعتی برادری دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تقریب کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

آئی ایم ایف کا پاکستان کو اصلاحات جاری رکھنے کا مشورہ، مشرق وسطیٰ جنگ کے خطرات پر خبردار

کاشف عباسی ,May 10 ,2026

واشنگٹن: عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پاکستان کیلئے تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث توانائی قیمتوں، تجارت اور عالمی مالیاتی صورتحال پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کو معاشی اصلاحات کا عمل تیز کرنا ہوگا۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے تیسرے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے دوسرے جائزے کی منظوری دی، جس کے بعد پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر EFF جبکہ 22 کروڑ ڈالر RSF کے تحت ملیں گے۔ اس کے ساتھ موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 4.8 ارب ڈالر موصول ہو جائیں گے۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان نے مشکل عالمی حالات اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باوجود معاشی استحکام برقرار رکھا، تاہم مستقبل میں بیرونی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ فنڈ کے مطابق جنگ کے اثرات سے تیل کی قیمتوں، تجارتی سرگرمیوں اور عالمی مالیاتی مارکیٹس میں دباؤ پیدا ہو سکتا ہے، جو پاکستان کی معیشت کیلئے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک نے کہا کہ پاکستان کو معاشی استحکام برقرار رکھنے کیلئے سخت مالیاتی پالیسی، ٹیکس اصلاحات اور ساختی تبدیلیوں پر تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، محصولات میں اضافہ کیا جائے اور سرکاری اداروں میں اصلاحات کی جائیں۔

فنڈ نے کہا کہ توانائی شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں اور بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو حقیقی لاگت کے مطابق رکھنا ہوگا تاکہ مالیاتی دباؤ دوبارہ پیدا نہ ہو۔ ساتھ ہی کمزور طبقے کیلئے ٹارگٹڈ ریلیف کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ روپے کی قدر میں لچک برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ بیرونی معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کیا جا سکے، جبکہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کیلئے سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھنی چاہیے۔

فنڈ نے مزید کہا کہ پاکستان کو گورننس بہتر بنانے، نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے، بدعنوانی کے خلاف اداروں کو مضبوط کرنے اور نجی شعبے کیلئے رکاوٹیں ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پائیدار معاشی ترقی حاصل کی جا سکے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور کر لی

کاشف عباسی ,May 09 ,2026

واشنگٹن / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے جاری اصلاحاتی پروگرام کا جائزہ مکمل کرتے ہوئے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو ملنے والی مجموعی رقم تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس واشنگٹن میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان کی معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور اقتصادی استحکام کیلئے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ فنڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان نے ٹیکس اصلاحات، مالیاتی نظم و نسق اور توانائی کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کے شعبوں میں پیشرفت کی ہے، تاہم ملک کو اب بھی بڑے معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی قسط کی منظوری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مسلسل رابطے اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کیلئے جاری کوششوں کا مظہر ہے۔

حکومتی حکام کے مطابق نئی قسط سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، مالیاتی دباؤ میں کمی اور معاشی اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ حکومت اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان بڑی معاشی پیشرفت، اربوں ڈالر کے نئے معاہدوں کی تیاری

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز)  این این آئی۔ 08 مئی2026ء: پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی و معاشی تعاون میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں 52 رکنی اعلیٰ سطحی چینی تجارتی وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔ وفد کے دورے کے دوران اربوں ڈالر کے معاہدوں اور اہم کاروباری شراکت داریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق چینی وفد 8 مئی سے 14 مئی تک پاکستان میں مختلف حکومتی و کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کرے گا، جبکہ سرمایہ کاری، صنعت، توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے سے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان نئے تجارتی مواقع پیدا ہوں گے۔ وفد کے دورے کو پاک چین اقتصادی تعاون کے حوالے سے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ فنڈ قائم، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی سرپرستی

اسلام آباد,(نیوز اینڈ نیوز) اے پی پی۔ 06 مئی2026

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی سرپرستی میں کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور مالیاتی منڈیوں کو مستحکم بنانا ہے۔

حکام کے مطابق اس فنڈ کے قیام سے کیپٹل مارکیٹ میں شفافیت، جدت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ اس اقدام کے ذریعے مارکیٹ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور نئے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں مدد ملے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فنڈ کے تحت مختلف اصلاحاتی اقدامات، آگاہی مہمات اور تکنیکی ترقی کے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے تاکہ پاکستان کی مالیاتی منڈی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ملکی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ مضبوط کیپٹل مارکیٹ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور معاشی ترقی کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔