فٹبال عالمی کپ دو ہزار چھبیس کے مقتدر مقابلے اس وقت ایک بڑے تنازع کی زد میں آ گئے ہیں جب ٹاپ سولہ راؤنڈ کے ایک انتہائی اہم پری کوارٹر فائنل میچ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن اور مصر کے درمیان کھیلے گئے مقابلے نے شدید متنازع صورتحال اختیار کر لی۔ تفصیلات کے مطابق، اس سنسنی خیز اور اعصاب شکن مقابلے میں ارجنٹائن نے مصر کو دو کے مقابلے میں تین گول سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں اپنی جگہ تو بنا لی ہے، لیکن میچ کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ کھیل کے دوسرے ہاف کے آدھے سے زیادہ وقت گزرنے تک مصر کی مضبوط ٹیم کو صفر کے مقابلے میں دو گول کی مقتدر برتری حاصل تھی، تاہم ارجنٹائن نے میچ کے آخری مختصر وقت میں اچانک تین پے در پے گول داغ کر میچ کا فیصلہ یکسر اپنے حق میں بدل دیا۔
ارجنٹائن کی اس اچانک فتح اور واپسی میں عالمی فٹبال ایسوسی ایشن کے ریفریز کا کردار انتہائی مشکوک اور جانبدارانہ نظر آیا۔ میچ کے دوران مصر کی ٹیم کی جانب سے کیا گیا ایک بالکل واضح اور درست گول نہ صرف فاؤل قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا، بلکہ کھیل کے بالکل اختتامی اور فیصلہ کن لمحات سے ٹھیک پہلے مصری ٹیم کو ایک واضح اور یقینی پنالٹی دینے سے بھی صاف محروم کر دیا گیا۔ اس کے برعکس، مقتدر میچ کے دوران ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کی جانب سے کیے جانے والے کئی سنگین فاؤلز کو فیلڈ ریفریز نے یکسر نظر انداز کیا۔ اس میچ کی متنازع ترین ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جس کے بعد دنیا بھر کے فٹبال صارفین سمیت خود ارجنٹائن کے بعض کھلاڑی اور کوچ بھی ریفریز کے ان ناقص فیصلوں پر کڑی تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں۔ عالمی فٹبال کے مداحوں کی جانب سے اس پورے میچ کو جان بوجھ کر ارجنٹائن کے حق میں فکس قرار دے کر شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمت کی یادداشت اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اور امریکی افواج نے گزشتہ رات ایران کے اندر ایک بڑی فوجی کارروائی کی ہے۔ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے مقتدر موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران، نیٹو اتحاد اور اسپین کے حوالے سے انتہائی سخت اور اہم بیانات جاری کیے۔ صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز ایران نے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ہم نے گزشتہ رات ایران کے انتہائی خطرناک لوگوں پر بہت طاقتور حملے کیے ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیمار ذہنیت لوگ ہیں، ہم نے ایران کے معاملے میں پہلے ہی بہت زیادہ وقت ضائع کر دیا ہے، اس لیے اب مفاہمت کا وقت ختم ہو چکا ہے اور ہمیں آگے بڑھ کر اپنا کام کرنا ہوگا۔
امریکی صدر نے میڈیا کو بتایا کہ انقرہ میں نیٹو چیف کے ساتھ ان کے انتہائی تعمیری مذاکرات ہوئے ہیں، جس میں بنیادی طور پر ایران کو نیوکلیئر ہتھیاروں سے پاک کرنے کے تزویراتی ہدف پر بات چیت کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل یا برقرار نہیں رکھ سکتا۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے نیٹو اتحاد پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے امریکہ کا ایک مشکل ترین پارٹنر قرار دیا اور کہا کہ وہ نیٹو کی کارکردگی سے بالکل خوش نہیں ہیں کیونکہ اس مقتدر فوجی اتحاد نے ایران کے خلاف امریکی مہم میں مطلوبہ مدد فراہم نہیں کی۔
اس موقع پر امریکی صدر نے اسپین کے خلاف ایک انتہائی سخت اور غیر متوقع موقف اپناتے ہوئے اسے نیٹو کا ایک خوفناک شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے مقتدر اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو فوری طور پر اسپین کے ساتھ تمام تر دوطرفہ تجارت بند کرنے کا قطعی حکم دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کے اس سخت ترین معاشی اقدام کے پیچھے تزویراتی عوامل کارفرما ہیں؛ رواں سال مارچ میں اسپین کی حکومت نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی آپریشنز کے لیے اسپین کی سرزمین پر موجود مشترکہ فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اس کے ساتھ ہی اسپین نے ممکنہ جنگ میں شامل امریکی جنگی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بھی مکمل طور پر بند کر دی تھیں۔
سابق مقتدر کرکٹر عاقب جاوید نے سلمان بٹ کے پروگرام “اسٹریٹ ڈرائیو” میں خصوصی شرکت کرتے ہوئے اپنے کرکٹ سفر، کھلاڑیوں کے تربیتی نظام، سلیکشن پالیسی، سینٹرل کنٹریکٹس، اکیڈمی اسٹرکچر اور کرکٹ کی مجموعی ڈیولپمنٹ سے متعلق مختلف تزویراتی امور پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کی مقتدر قیادت میں ملک بھر میں کرکٹ کی پائیدار ترقی اور فروغ کے لیے انتہائی سنجیدہ اور مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جن کے مستقبل میں بہترین نتائج برآمد ہوں گے۔
عاقب جاوید کا سلیکشن پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ کی سلیکشن ہمیشہ ایسے بہترین کمبینیشن کے تحت ہونی چاہیے جو میچ میں بیس وکٹیں لینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہو، کیونکہ اس روایتی اور مقتدر فارمیٹ میں غیر ضروری تجربات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ انہوں نے زور دیا کہ سلیکشن کے دوران گراؤنڈ کی کنڈیشنز، ٹیم کمبینیشن اور میچ جیتنے کی صلاحیت کو بنیادی طور پر مدنظر رکھا جانا چاہیے، جبکہ ہر بولر کو اپنی انفرادی ذمہ داری اور ٹیم کی تزویراتی ضرورت کو گہرائی سے سمجھنا بھی بے حد ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کھلاڑیوں کے تربیتی نظام میں نظم و ضبط، ریڈ بال کرکٹ اور اکیڈمی سسٹم پر خصوصی توجہ دینا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان فاسٹ بولرز کی درست انداز میں ورک لوڈ مینجمنٹ پاکستان کرکٹ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ عاقب جاوید نے قومی ٹیم کے مقتدر فاسٹ بولر عامر جمال کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حالیہ کیمپ میں اپنی شاندار رفتار، شارپنس اور طویل اسپیلز کرنے کی بہترین صلاحیت سے سب کو متاثر کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے نوجوان فاسٹ بولر علی رضا کو انتہائی باصلاحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جلد بازی میں زیادہ ورک لوڈ نہیں دینا چاہیے، بلکہ جسمانی طور پر مزید مضبوط ہونے اور مرحلہ وار آگے بڑھنے کے لیے مناسب وقت فراہم کرنا ضروری ہے۔
سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سے متعلق امور کے لیے قائم مقتدر ادارے کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الغامدی اور یونیسکو کے مقتدر نمائندے کے مابین سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایک اہم اور تزویراتی ملاقات ہوئی ہے۔ یہ مقتدر ملاقات مصنوعی ذہانت اور حکومت سے متعلق عالمی مکالمے کے سلسلے میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر سائیڈ لائنز میں ہوئی۔ ملاقات کے دوران دونوں اعلیٰ عہدے داروں نے سعودی عرب اور یونیسکو کے مابین مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جبکہ مصنوعی ذہانت کے پس منظر میں عالمی سطح پر اخلاقی ضوابط کی مقتدر پالیسی اور اس سے جڑے اہم امور کو بھی زیرِ بحث لایا گیا۔
ڈاکٹر عبداللہ الغامدی نے یونیسکو کی جانب سے اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کو مقتدر الفاظ میں سراہا، اور ساتھ ہی مملکتِ سعودی عرب کی طرف سے بین الاقوامی سطح پر ادا کیے جانے والے کلیدی کردار اور عالمی معیار کے قائم کردہ مرکز کا خصوصی ذکر کیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے اس مقتدر ادارے کو یونیسکو کی جنرل کانفرنس نے دوسرے درجے کے مرکز کے طور پر منظور کیا تھا، جو عالمی سطح پر اس جدید ٹیکنالوجی کی تحقیق و ترقی کے تزویراتی امور میں مدد دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر الغامدی نے سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی ان مقتدر کوششوں پر بھی روشنی ڈالی جو بین الاقوامی سطح پر مصنوعی ذہانت کے اصولوں اور پریکٹس کے لیے کی جا رہی ہیں، جس کے تحت اب تک ۶۰ سے زائد کمپنیوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے مقتدر اصول واضح کیے جا چکے ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے چین میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور حالیہ شدید بارشوں کے باعث ہونے والے قیمتی جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر بیانیے میں صدر مملکت نے کہا کہ چین میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور شدید بارشوں سے ہمارے عظیم چینی بھائیوں اور بہنوں کو پہنچنے والے نقصان پر انہیں دلی طور پر گہرا دکھ پہنچا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس قدرتی آفت کے نتیجے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے تمام چینی خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اس انتہائی مشکل وقت میں چین کی حکومت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی جانب سے مکمل اور غیر مشروط یکجہتی کا اعادہ کیا۔ صدر مملکت نے دونوں ممالک کے مابین تزویراتی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے مقتدر الفاظ میں کہا کہ پاکستان اور چین کی یہ لازوال اور آہنی دوستی ہر امتحان کی گھڑی میں ہمیشہ مضبوط، پائیدار اور قائم رہے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کے مختلف علاقوں میں تباہ کن طوفان، شدید بارشوں، بگولوں اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث ہونے والے قیمتی جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر تزویراتی بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ چین کے گوانگ شی ژوانگ خودمختار علاقے سمیت ہوبے اور گانسو صوبوں میں حالیہ تباہ کن موسمیاتی آفات سے ہونے والے قیمتی جانی نقصان پر انتہائی رنجیدہ ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غیور پاکستانی عوام اور اپنی حکومت کی طرف سے چینی صدر شی جن پنگ، چین کی حکومت، وہاں کے عوام اور بالخصوص اس آفت کے نتیجے میں متاثر ہونے والے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اپنے مقتدر بیان میں مزید کہا کہ اس انتہائی مشکل گھڑی میں ہم اپنے عظیم اور دیرینہ چینی بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے آفات کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی اور متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی و ریسکیو کارروائیوں کی مکمل کامیابی کے لیے بھی خصوصی دعا کی۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے امیگریشن حکام نے ایک کامیاب اور مقتدر کارروائی کرتے ہوئے سفری دستاویزات میں جعلسازی کرنے والے مسافر کو موقع پر گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور سے پرواز کے ذریعے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور پہنچنے والے پاکستانی شہری راشد اللہ کے پاسپورٹ کی جب امیگریشن کلیئرنس کے دوران مقتدر جانچ پڑتال کی گئی، تو اس پر پاکستان سے روانگی کی ایک جعلی مہر پائی گئی۔
امیگریشن حکام کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی تفتیش اور سخت پوچھ گچھ کے دوران مسافر نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے اپنے پاسپورٹ پر یہ جعلی مہر لگوانے کے لیے ملائیشیا میں مقیم فضل نامی ایک ایجنٹ کو ۲۶۰۰ ملائیشین رنگٹ کی خطیر رقم ادا کی تھی۔ مقتدر امیگریشن حکام نے قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد ملزم کو مزید تادیبی کارروائی اور گہرائی سے تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے انسدادِ انسانی سمگلنگ سرکل لاہور کے مقتدر حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ ایف آئی اے انتظامیہ کا اس حوالے سے دوٹوک الفاظ میں کہنا ہے کہ جعلی سفری دستاویزات کی تیاری اور انسانی سمگلنگ کے گھناؤنے کاروبار کے خلاف ادارے کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد مستقل جاری ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں سری لنکا کے وزیر داخلہ آنند وجے پالا سے ایک مقتدر ملاقات کی ہے، جس کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس تزویراتی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے انسدادِ منشیات کے حوالے سے مؤثر کوآرڈینیشن قائم کرنے اور پولیس ٹریننگ کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید بڑھانے کا مقتدر فیصلہ کیا ہے۔
ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن اور جعلی پاسپورٹ پر سفر کرنے والے جرائم پیشہ عناصر کی روک تھام کے لیے بھی اشتراکِ کار کو تیز کرنے پر مکمل اتفاق کیا گیا، جس کے تحت دونوں ملکوں کے امیگریشن شعبے کے سربراہان فی الفور ایک دوسرے سے رابطہ قائم کریں گے۔ دونوں وزرائے داخلہ نے عالمی سطح پر جرائم پیشہ افراد کے نیٹ ورکس اور منی لانڈرنگ کے جڑ سے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ مفاہمتی یادداشت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس مقتدر تعاون کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کی وزارتوں کے مابین ایک ’’جوائنٹ ورکنگ گروپ‘‘ تشکیل دینے اور شہریوں کو ویزا سے متعلق درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم پروگرام برائے ہیپاٹائٹس سی حکومت کی اولین اور مقتدر ترجیحات میں شامل ہے اور ملک کو اس موذی مرض سے پاک کرنا ہمارا پختہ قومی عزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ محض صحت کا ایک عام منصوبہ نہیں بلکہ ہماری قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ایک جامع مہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم پروگرام برائے ہیپاٹائٹس سی کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اور تزویراتی جائزہ اجلاس کے دوران کیا۔ اس مقتدر اجلاس میں ہیپاٹائٹس کے قومی تکنیکی مشاورتی گروپ کے سربراہ پروفیسر سعید اختر، ایڈیشنل سیکرٹری صحت، پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیپاٹائٹس سی پروگرام، پمز اور پولی کلینک ہسپتالوں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) اسلام آباد نے خصوصی شرکت کی۔
اجلاس کے دوران پراجیکٹ ڈائریکٹر نے وفاقی وزیر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ کے پائلٹ مرحلے کی پیش رفت اور اب تک کے نتائج پر تفصیلی بریفنگ دی اور مقتدر اعداد و شمار پیش کیے۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے بریفنگ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں پائلٹ مرحلہ شروع کرنے کا بنیادی مقصد عملی طور پر نظام میں درپیش آنے والے مسائل اور رکاوٹوں کی تزویراتی نشاندہی کرنا تھا، اور اب ان تمام مسائل کا انتہائی مؤثر حل نکال کر آئندہ ۱۵ دنوں کے اندر اس پورے اسکریننگ نظام کو مکمل طور پر فعال اور مستحکم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی بروقت تشخیص اور فوری علاج کے ذریعے اس بیماری کے پھیلاؤ کو مقتدر انداز میں روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی مجموعی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہو چکی ہے، اسی لیے اس بیماری کا جڑ سے خاتمہ اب ایک قومی ترجیح اور ناگزیر مقصد بن چکا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں اس مقتدر پروگرام کی کامیابی میں پمز اور پولی کلینک ہسپتال کلیدی اور تزویراتی کردار ادا کریں گے، جبکہ عوامی آگاہی مہم کو میڈیا کے ذریعے مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ ہر شہری اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ لازمی کروائے۔ وفاقی وزیرِ نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ ہیپاٹائٹس سی ایک مکمل طور پر قابلِ علاج بیماری ہے، تاہم اس کے حتمی خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ پوری قوم کی مشترکہ اور مخلصانہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مہم میں بھرپور حصہ لیں۔ وزیرِ صحت نے مقتدر اعلان کیا کہ حکومت شہریوں کو مفت اسکریننگ اور مفت علاج کی جدید سہولت فراہم کر رہی ہے، اور جن افراد میں بھی ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوگی، ریاست ان کے علاج معالجے کے تمام تر اخراجات خود برداشت کرے گی۔
پاکستان نے عالمی فورم پر کیوبا کے حق میں مقتدر آواز اٹھاتے ہوئے وہاں عائد اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے فوری خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں کا خاتمہ نہ صرف کیوبا کے غیور عوام کو درپیش شدید انسانی مشکلات اور مصائب میں کمی لانے میں مقتدر حد تک مددگار ثابت ہوگا، بلکہ انہیں ترقی اور خوشحالی کے بنیادی حق سے مستفید ہونے کا مساوی موقع بھی فراہم کرے گا، جبکہ اس اقدام سے کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اشتراکِ عمل کے اصولوں کو بھی پائیدار تقویت ملے گی۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں “ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے کیوبا پر عائد اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت” کے اہم عنوان سے ہونے والے دوسرے مقتدر مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کیوبا اور اس کے عوام پر عائد طویل پابندیوں کے منفی اثرات پر پاکستان کی گہری تشویش کا کھل کر اظہار کیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے کثیرالجہتی نظام اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں سے اپنے دیرینہ و مقتدر عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ خودمختار مساوات اور باہمی احترام پر مبنی بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی روابط ہی اصل میں عالمی نظام کی مضبوط بنیاد ہیں۔ انہوں نے تزویراتی انداز میں اس بات پر زور دیا کہ یکطرفہ اقتصادی اقدامات، خصوصاً جب انہیں ترقی پذیر ممالک کے خلاف امتیازی انداز میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، تو یہ ان تمام بنیادی عالمی اصولوں سے کھلم کھلا متصادم ہو جاتے ہیں، جن کی اجازت بین الاقوامی قانون ہرگز نہیں دیتا۔
پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور زریں اصولوں، بالخصوص دنیا کی تمام ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے غیر مشروط احترام کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے منشور کے باب ششم کے مقتدر قوانین کے مطابق تمام تر بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا اور تمام متعلقہ فریقوں پر یہ واضح کیا کہ وہ آپسی مسائل کے پائیدار حل کے لیے باہمی مکالمے اور سفارت کاری کے مؤثر راستے کو اپنائیں اور اس سلسلے میں اپنی مخلصانہ کوششیں مستقل جاری رکھیں۔
پاکستان نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک مضبوط اور تزویراتی موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ذمہ داری برائے تحفظ’ کے فریم ورک کی سب سے بڑی ناکامی ان مخصوص حالات میں کھل کر نمایاں ہوتی ہے جہاں دہائیوں پرانے طویل تنازعات اور غیر ملکی غاصبانہ قبضے اب بھی جاری ہوں، اور بین الاقوامی برادری کی مسلسل توجہ کے باوجود معصوم انسانوں پر مظالم کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری رہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں “ذمہ داری برائے تحفظ اور نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی تطہیر اور انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام” کے مقتدر عنوان سے منعقدہ اہم مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دنیا کا کیا گیا “دوبارہ کبھی نہیں” کا تاریخی وعدہ آج بھی ادھورا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر اجتماعی مظالم کے شکار لاچار متاثرین کو نہ تو کوئی ذمہ داری میسر آ سکی ہے، نہ تحفظ اور نہ ہی انصاف مل پایا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی تطہیر اور انسانیت کے خلاف جرائم انسانیت کے بدترین اور سنگین ترین جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سال دو ہزار پانچ کے عالمی سربراہی اجلاس میں ‘ذمہ داری برائے تحفظ’ کا یہ مقتدر اصول ایسے ہی سنگین ترین انسانی جرائم کی بیخ کنی اور روک تھام کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ تاہم، دو دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود آج یہ پورا فریم ورک شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جبکہ دنیا بھر میں مختلف تنازعات کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔ ان کے مطابق، اجتماعی مظالم کی روک تھام کا مشترکہ اور تزویراتی مقصد اکثر اوقات عالمی سطح پر بے عملی، حقیقت سے انکار، انتخابی رویوں اور ادارہ جاتی جمود کی نذر ہو جاتا ہے۔
سال دو ہزار پانچ کے عالمی سربراہی اجلاس کے نتائج پر مشتمل مقتدر دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر عاصم نے کہا کہ ذمہ داری برائے تحفظ کا بنیادی تصور ریاستوں کی اپنی اندرونی ذمہ داری اور بین الاقوامی برادری کی مجموعی اجتماعی ذمہ داری کے درمیان ایک توازن پر مبنی تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جو ممالک ماضی میں متنازع نظریات کے تحت کارروائیوں کے سخت حامی تھے، آج وہ رکن ممالک کی متفقہ اجتماعی ذمہ داری کو پوری کرنے سے صاف گریزاں ہیں۔ انہوں نے مقتدر فورم کو بتایا کہ دنیا میں قابض طاقتیں سنگین ترین جرائم کے ارتکاب کے باوجود جوابدہی سے مکمل محفوظ رہتی ہیں، جبکہ بعض دیگر حالات میں حکومتوں کی جانب سے اپنے عوام کے تحفظ اور مستقل امن کی بحالی کی مخلصانہ کوششوں کو بیرونی سیاسی و اقتصادی دباؤ، بیرونی مداخلت اور باغی و دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کے ذریعے جان بوجھ کر کمزور کیا جاتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے مقتدر انداز میں زور دیا کہ اگر اس اصول کو ایک معتبر انسانی اصول کے طور پر زندہ رکھنا ہے، تو اس پر اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق، یکساں، مستقل اور کسی بھی دوہرے معیار کے بغیر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے اجتماعی مظالم کی روک تھام کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں ابتدائی انتباہی نظام، امن مشنز اور امن سازی کی کوششوں میں مستقل سرمایہ کاری شامل ہو۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود طویل المدتی اور دیریںہ تنازعات کو متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔ مزید برآں، انہوں نے نفرت انگیز تقاریر، غیر ملکیوں سے نفرت، اسلاموفوبیا اور دیگر انتہا پسند نظریات کا مؤثر مقابلہ کرنے کو ناگزیر قرار دیا، کیونکہ یہی عوامل دنیا میں امتیازی سلوک، تشدد اور اجتماعی مظالم کو جنم دیتے ہیں۔ اپنے اختتامی کلمات میں سفیر عاصم نے عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر ان مقتدر مقاصد کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مستقل جاری رکھے گا۔
کے تزویراتی اور مقتدر مقابلے اب اپنے انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ٹاپ 16 راؤنڈ کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز پری کوارٹر فائنل میچ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن نے مصر کی مضبوط ٹیم کو ایک سخت اور اعصاب شکن مقابلے کے بعد 2-3 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ اس مقتدر کامیابی کے ساتھ ہی ارجنٹائن نے عالمی کپ کی ٹرافی اپنے نام برقرار رکھنے کی دوڑ میں قدم مضبوطی سے جما لیے ہیں، جبکہ دوسری جانب مصر کی ٹیم مقتدر کھیل پیش کرنے کے باوجود ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے اور اس کا عالمی کپ کا سفر یہیں اختتام پذیر ہو گیا۔
دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا یہ پری کوارٹر فائنل مقابلہ فٹبال کے شائقین کے لیے سحر انگیز ثابت ہوا۔ میچ کے آغاز ہی سے دونوں جانب سے جارحانہ فٹبال کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ ارجنٹائن نے میچ کے ابتدائی لمحات میں گیند پر اپنا کنٹرول قائم کرتے ہوئے مصری دفاع پر پے در پے حملے کیے اور گول اسکور کر کے برتری حاصل کی، تاہم مصری فارورڈز نے بھی شاندار جوابی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ارجنٹائن کے مضبوط دفاع کو توڑا اور گول برابر کر کے میچ میں سنسنی پھیلا دی۔ مصر کی جانب سے دکھائی جانے والی اس بھرپور تزویراتی مزاحمت نے ارجنٹائن کے مقتدر کھلاڑیوں کو دباؤ میں لائے رکھا اور دونوں ٹیمیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے آخر تک لڑتی رہیں۔
میچ کے فیصلہ کن اور آخری لمحات میں ارجنٹائن کے مقتدر فارورڈز نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے ایک بہترین موو بنائی اور مصری گول کیپر کو چکمہ دیتے ہوئے تیسرا اور فیصلہ کن گول داغ کر اپنی ٹیم کی جیت یقینی بنا دی۔ اس آخری گول نے میچ کا فیصلہ ارجنٹائن کے حق میں کر دیا۔ مصر نے میچ برابر کرنے کی آخری وقت تک کوشش کی لیکن وہ ارجنٹائن کے مقتدر دفاع کو دوبارہ نہ توڑ سکے۔ اس سنسنی خیز فتح کے بعد ارجنٹائن کی ٹیم اور اسٹیڈیم میں موجود ان کے ہزاروں شائقین نے جشن منایا، جبکہ مصری کھلاڑی اس شاندار مقابلے کے بعد دلبرداشتہ نظر آئے۔
پرتگال کے 41 سالہ مقتدر کپتان اور فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے کرسٹیانو رونالڈو کا ورلڈ کپ ٹائٹل جیتنے کا دیرینہ خواب پری کوارٹر فائنل میچ میں روایتی حریف سپین (ہسپانیا) کے ہاتھوں سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 سے ملنے والی عبرتناک ہار کے بعد ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے، جس پر وہ میچ کے اختتام پر میدان میں زار و قطار آنسو بہاتے نظر آئے۔ بین الاقوامی میڈیا “ڈھاکہ ٹریبیون” کے مطابق، امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں کھیلے گئے ٹاپ 16 راؤنڈ کے اس انتہائی اہم اور تزویراتی میچ میں رونالڈو حریف ٹیم کے مضبوط دفاع کو توڑنے میں مکمل ناکام رہے اور پرتگالی حملوں کو کوئی فیصلہ کن شکل نہ دے سکے۔ اپنے شاندار اور تاریخی کیریئر میں لاتعداد کلب ٹرافیاں اور سال 2016ء کا یورپی چیمپئن شپ (یورو کپ) ٹائٹل جیتنے والے کرسٹیانو رونالڈو کے سجے سجائے اعزازات کے کیبنٹ میں اب کبھی ورلڈ کپ کا مقتدر میڈل نہیں سج سکے گا۔
میچ کے فوری بعد انتہائی مایوسی اور رنجیدگی کے عالم میں مقتدر گفتگو کرتے ہوئے کرسٹیانو رونالڈو کا کہنا تھا کہ فٹبال کے کھیل میں کبھی جیت اور کبھی ہار ہوتی ہے، وہ ایک مطمئن ضمیر کے ساتھ ورلڈ کپ کے اس عظیم اسٹیج سے رخصت ہو رہے ہیں کیونکہ ان کے لیے اپنے ملک کے لیے 2016ء کا یورو کپ جیتنا بھی ورلڈ کپ جتنا ہی اہم اور یادگار تھا۔ کرسٹیانو رونالڈو نے اپنے اس آخری ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 3 شاندار گول اسکور کیے جن میں ازبکستان کے خلاف میچ میں دو گول اور کروشیا کے خلاف پنالٹی پر کیا گیا اہم گول شامل ہے، تاہم وہ سپین کے خلاف سیمی فائنل کی دوڑ کے اس اہم میچ میں کوئی جادو نہ جگا سکے۔ پانچ بار دنیا کا معتبر ترین ‘بیلن ڈی اور’ ایوارڈ جیتنے والے رونالڈو حالیہ برسوں میں اپنی روایتی تیز رفتار کھو چکے تھے، جس کی وجہ سے وہ ونگز پوزیشن چھوڑ کر سینٹر فارورڈ کے طور پر کھیل رہے تھے اور ان پر ناقدین کی جانب سے اپنے کیریئر کو ضرورت سے زیادہ طول دینے پر سخت تنقید کا سامنا بھی تھا۔ میچ کے اختتام پر فٹبال کی تاریخ کا یہ پہلا ارب پتی کھلاڑی اور انسٹاگرام پر 671 ملین فالوورز کا ریکارڈ رکھنے والا عالمی سپر اسٹار اکیلا اور شدید رنجیدہ حالت میں میدان سے باہر روانہ ہوا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے علاقے زیارت میں بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے 9 پولیس اہلکاروں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے مقتدر کارروائی کے دوران 15 بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر پولیس فورس کی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ منگل کو اسلام آباد سے جاری کردہ ایک مقتدر تعزیتی بیان میں وزیر داخلہ نے شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا کی ہے۔
محسن نقوی نے مقتدر شہدا کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں اور ان کی ان لازوال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دو ٹوک اور تزویراتی انداز میں واضح کیا کہ دشمن عناصر یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ ایسے بزدلانہ حملے ملک میں امن و امان کو کسی صورت سبوتاژ نہیں کر سکتے اور دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ کو ہر قیمت پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے مقتدر بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر پوری پولیس ٹیم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ غیور پاکستانی قوم اور ہماری مقتدر سکیورٹی فورسز دشمن کی جانب سے امن کو سبوتاژ کرنے کی ہر سازش اور ناپاک کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح متحد اور پرعزم ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے علاقے زیارت میں فتنہ الخوارج کی جانب سے پولیس چوکی پر کیے گئے بزدلانہ دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ایس ایچ اوز سمیت تمام پولیس اہلکاروں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ منگل کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم نے مقتدر شہدا کے درجات کی بلندی اور ان کے سوگوار اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا کی ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حملے کے بعد کیے گئے کامیاب کلیئرنس آپریشن میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں 15 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر فورسز کے مقتدر جوانوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے اپنے مقتدر بیان میں واضح کیا کہ فتنہ الخوارج کے اس حملے نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ گمراہ لوگ بلوچستان کی تعمیر و ترقی، امن اور معصوم عوام کی خوشحالی کے کھلے دشمن ہیں۔ انہوں نے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مقتدر شہدا کی یہ عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔ وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی شرپسند عنصر کو بلوچستان کے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور امن دشمن دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک ان کے خلاف یہ مقتدر جنگ پوری قوت سے جاری رہے گی۔
وفاقی وزیرِ برائے تجارت جام کمال خان نے کراچی میں رکنِ قومی اسمبلی (ایم این اے) میر اعجاز خان جکھرانی کی رہائش گاہ پر جا کر ان کے جوان سال صاحبزادے میر زاہد خان جکھرانی کے بے وقت انتقال پر گہرے دکھ، افسوس اور دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ منگل کے روز جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وفاقی وزیر نے تعزیتی ملاقات کے دوران مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی فاتحہ خوانی کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ اور مقتدر مقام عطا فرمائے۔
جام کمال خان نے سوگوار خاندان سے گہری ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی باپ کے لیے اس کے جوان بیٹے کا دنیا سے بچھڑ جانا ایک انتہائی بڑا، کمر توڑ اور ناقابلِ تلافی صدمہ ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میر اعجاز خان جکھرانی اور تمام اہلِ خانہ کو یہ عظیم صدمہ ہمت کے ساتھ برداشت کرنے کا حوصلہ اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ واضح رہے کہ میر اعجاز خان جکھرانی کے صاحبزادے میر زاہد خان جکھرانی محض 22 برس کی عمر میں کراچی کے ایک مقامی ہسپتال میں کچھ عرصے تک زیرِ علاج رہنے کے بعد خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے۔
وزارتِ مذہبی امور نے بتایا ہے کہ رواں حج سیزن کے لیے رجسٹریشن کے آغاز کے محض پندرہ دنوں کے اندر رجسٹرڈ عازمینِ حج کی مجموعی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ گزشتہ روز ریکارڈ 12 ہزار 880 عازمین نے گھر بیٹھے اپنی ڈیجیٹل حج رجسٹریشن کا عمل کامیابی سے مکمل کیا۔ منگل کے روز وزارتِ مذہبی امور کے مقتدر ترجمان عمر بٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، حج پورٹل یا مخصوص موبائل ایپلی کیشن ’’پاک حج‘‘ کے ذریعے رجسٹریشن کا یہ مقتدر عمل سائلین کے لیے نہایت آسان اور باسہولت بنا دیا گیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ یہ نظام وزیراعظم کے وژن کے مطابق ‘ڈیجیٹل پاکستان’ کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کی جانب ایک انتہائی اہم اور تزویراتی قدم ہے۔
وزارتِ مذہبی امور نے اپنے اگلے انقلابی مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ مستقبل قریب میں حج کے تمام تر واجبات بھی مکمل طور پر آن لائن وصول کیے جائیں گے۔ نیشنل آئی ٹی بورڈ کا تیار کردہ یہ جدید ‘حج مینجمنٹ سسٹم’ عازمینِ حج اور وزارت کے درمیان بلا تعطل رابطے کا ایک آسان اور شفاف ترین ذریعہ بن چکا ہے۔ اب تک کے مقتدر اعداد و شمار کے مطابق، مجموعی عازمین میں سے ایک لاکھ 87 ہزار افراد نے سرکاری حج سکیم جبکہ 63 ہزار افراد نے پرائیویٹ حج سکیم کا انتخاب کیا ہے۔ رجسٹرڈ ہونے والے عازمینِ حج کی تعلیمی قابلیت بھی مقتدر حد تک نمایاں ہے، جن میں 3 ہزار پی ایچ ڈی ہولڈرز، 45 ہزار ماسٹرز اور 60 ہزار بیچلرز ڈگری کے حامل اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری شامل ہیں۔ عمر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو 33 سے 44 سال کی عمر کے عازمینِ حج 76 ہزار کی ریکارڈ تعداد کے ساتھ سب سے نمایاں گروپ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مختلف کثیرالجہتی اقدامات میں پاکستان کی جاری فعال شمولیت اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی ہے۔ منگل کے روز دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم کو مستقبل قریب میں منعقد ہونے والے مختلف اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی پروگراموں اور کانفرنسوں کی تیاریوں کی اب تک کی پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔
سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان کے مسلسل اور پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے اصولی و تزویراتی مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے حوالے سے وزارتِ خارجہ کے حکام کو ضروری اور مقتدر ہدایات جاری کیں۔ اسلام آباد میں منعقدہ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ، سپیشل سیکرٹری (اقوامِ متحدہ)، ایڈیشنل سیکرٹری (ایشیا پیسیفک) اور وزارتِ خارجہ کے دیگر سینئر سفارتی حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی برآمدات میں تیز رفتار اضافے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کو بینکوں سے قرضوں کی فراہمی میں ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایس ایم ایز کی ترقی کی راہ میں حائل دیرینہ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تزویراتی اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ سمیڈا ملکی نوجوانوں اور ویمن انٹرپرینیورز (خواتین کاروباریوں) کو چھوٹے و درمیانے درجے کی نئی صنعتیں لگانے میں فعال معاونت فراہم کرے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز یہاں اسلام آباد میں سمیڈا کی کارکردگی اور فروغ کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس مقتدر اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے ذاتی طور پر شرکت کی، جبکہ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور صنعت کے مقتدر ماہرین نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کر کے اپنی آراء کا اظہار کیا۔ اجلاس کے دوران سمیڈا حکام کی جانب سے ملک بھر میں ایس ایم ایز کی سہولت اور استعداد کار بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے بریفنگ کا جائزہ لینے کے بعد خصوصی ہدایت کی کہ ایس ایم ایز کی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، بالخصوص ملکی کسانوں کی اجناس و پھلوں کی جدید پراسیسنگ (ویلیو ایڈیشن) کے لیے انہیں تکنیکی آگاہی اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کے حوالے سے تمام تر سہولیات یکجا کی جائیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو قرضوں کی آسان فراہمی کے حوالے سے خصوصی اور پرکشش پراڈکٹس کی تیاری کی حوصلہ افزائی کی جائے، جبکہ نئے کاروباریوں کو فزیبلٹی رپورٹس کی تیاری اور دیگر ابتدائی مراحل میں مکمل پیشہ ورانہ مدد فراہم کی جائے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تمام کمرشل بینکوں کے ساتھ مل کر ایک جامع اور فول پروف لائحہ عمل مرتب کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ ایس ایم ایز کی قرضوں تک رسائی کو ہر سطح پر آسان بنایا جا سکے۔ اجلاس کو مقتدر حکام نے بتایا کہ پاکستانی ایس ایم ایز کی عالمی منڈی تک رسائی اور ملکی برآمدات کو بڑھانے کے لیے رواں برس 700 سے زائد ایس ایم ایز کی 16 بین الاقوامی ایونٹس میں شرکت کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے 35 بڑے شہروں میں ایس ایم ایز کو مالی ضابطوں، ٹیکسیشن اور کاروبار کی جدید تکنیک کے حوالے سے خصوصی ٹریننگ بھی دی گئی ہے۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ آخری رسومات اور انتظامات کا جائزہ لینے والے مقتدر ادارے کے مطابق، یہ سوگواری جلوس شام پانچ بجے تہران کے مصلیٰ سے ایک خصوصی ٹرالر پر روانہ ہوا اور اس نے تقریباً دس گھنٹوں کا طویل سفر طے کرتے ہوئے آزادی اسکوائر تک کا راستہ مکمل کیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مقتدر مانیٹرنگ سیل کے مطابق، اس جلوس میں لاکھوں کی تعداد میں سوگواروں اور شہریوں نے شرکت کی، جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں گہرے سرخ پرچم اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق، علی خامنہ ای کے تابوت کو کل قم سے عراق کے مقدس شہر نجف اشرف میں حضرت علی علیہ السلام کے روضہ مبارک پر منتقل کیا جائے گا۔ عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق، سابق سپریم لیڈر کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای، ایران کے موجودہ صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمان کے مقتدر اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی خصوصی طور پر نجف جائیں گے اور عراق میں نمازِ جنازہ کے مقتدر اجتماعات میں شرکت کریں گے۔ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ بدھ کے روز عراق کے مقتدر شہروں کربلا اور نجف میں ادا کی جائے گی، جبکہ انہیں جمعرات کے روز ایران کے شہر مشہد میں حرمِ امام رضا علیہ السلام میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ادھر جنازے کے جلوس کے دوران تہران کی سڑکوں پر کچھ سوگواروں کو امریکہ اور اسرائیل مخالف پوسٹرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے بھی دیکھا گیا، جن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خلاف سخت نعرے درج تھے۔ مقتدر خبر رساں ادارے ’’فارس نیوز‘‘ کے دفتری ٹیلی گرام چینل پر ایک ویڈیو بھی نشر کی گئی ہے، جس میں کچھ سوگواروں کو ایک فلائی اوور پر امریکی صدر کے پوسٹر پر علامتی طور پر پتھر پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔