یمن میں حوثیوں کا سب سے بڑا عسکری و بحری کنٹرول: بحیرۂ احمر کی تقریباً پوری ساحلی پٹی پر قبضے کا دعویٰ

محمود احمد, September 11,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

یمن میں شدید اور خونی عسکری پیش قدمی کے دوران ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے یمن کے بحیرۂ احمر سے متصل تقریباً تمام تر مغربی ساحلی خطے اور اس سے ملحقہ اہم جزائر پر مکمل عسکری کنٹرول حاصل کرنے کا باضابطہ دعویٰ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ایک سینئر فوجی عہدیدار نے عالمی خبر رساں ادارے فرانس پریس (اے ایف پی) سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یمن کے مغربی ساحل پر قائم حکومت کے تمام آخری مضبوط عسکری مراکز اب حوثیوں کے قبضے میں جا چکے ہیں۔ یمنی فوجی اہلکار نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مغربی ساحل کے جس خطے پر بھی اب تک حکومتی فورسز اور اتحادیوں کی عملداری تھی، وہ اب مکمل طور پر ہاتھ سے نکل چکی ہے۔

فوجی ذرائع کے مطابق بحیرۂ احمر میں ساحلی علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حوثی جنگجوؤں نے پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے عالمی جہاز رانی کے لیے انتہائی حساس اور تزویراتی آبنائے باب المندب کے قریبی سمندر میں واقع مزید دو اہم جزائر پر بھی اپنا عسکری قبضہ جما لیا ہے۔

یہ تشویشناک عسکری پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے 11 ستمبر کو تصدیق کی تھی کہ حوثی عسکریت پسندوں نے باب المندب کے عین وسط میں واقع تاریخی پیریم (میون) جزیرے پر کامل تصرف حاصل کر لیا ہے۔

اس تاریخ ساز پیش قدمی سے قبل حوثی عسکری ڈویژنز نے بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ اور ساحلی شہر موچا (المخا) پر مکمل قبضہ کیا تھا اور وہاں سے جنوب کی سمت برق رفتار پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب کے دہانے پر واقع اہم علاقے دھباب (ذباب) پر قبضہ جمایا تھا۔

واضح رہے کہ آبنائے باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے جوڑنے والی دنیا کی سب سے مصروف اور حساس ترین سمندری شاہراہ ہے، جو عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل اور توانائی کی بین الاقوامی ترسیل کے لیے اہم ترین شمار کی جاتی ہے۔ اس شاہراہ کے بالکل وسط میں واقع پیریم (میون) جزیرہ پورے خطے کا عسکری توازن برقرار رکھنے میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔

دفاعی و بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حوثی فورسز اس طویل ساحلی پٹی اور آبنائے باب المندب کے گرد و پیش میں اپنا عسکری تسلط برقرار رکھنے اور دفاعی مورچے قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف بین الاقوامی بحری جہاز رانی مفلوج ہو سکتی ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل پر دباؤ اور بحری تحفظ کا بحران مزید شدید ہو جائے گا۔

نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے حاشیے پر اہم ملاقات: ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی گفتگو

محمود احمد, September 11,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے، جس میں دونوں اہم ایشیائی ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعاون کے فروغ اور اسٹریٹجک معاہدوں پر عمل درآمد جاری رکھنے کے عزم کا دہرایا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا اور سفارتی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز منعقد ہونے والی اس معتبر ملاقات میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران اور بھارت کے تاریخی اور تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی طے پانے والے اسٹریٹجک معاہدوں، بالخصوص چابہار بندرگاہ اور مواصلاتی راہداریوں کی ترقی کے منصوبوں پر پیش رفت اور پیشرفت کو مسلسل برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

یہ اہم ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نئی دہلی میں برکس کا سالانہ سربراہی اجلاس مکمل شدومد اور عالمی برادری کی توجہ کے ساتھ جاری ہے۔ اس عالمی سربراہی اجلاس میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ سمیت دنیا کے دیگر تمام اہم برکس رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومتی نمائندے بھرپور شرکت کر رہے ہیں۔

اس دوطرفہ ملاقات سے قبل برکس کے مرکزی اقتصادی سربراہی اجلاس سے اپنے جامع خطاب کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے رکن ممالک کے درمیان بینکنگ، مالیاتی اور تجارتی شعبوں میں تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط، باہمی اور موثر بنانے پر خاص زور دیا تھا۔

ایرانی صدر نے امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی یکطرفہ اقتصادی پابندیوں اور مالیاتی دباؤ کے بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کا واضح حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی و مالیاتی ناکہ بندی اور تجارتی ہتھکنڈوں کے سیاسی استعمال سے آزاد اور خودمختار ممالک کے درمیان جائز بین الاقوامی تجارت کو سنگین نوعیت کے خطرات لاحق ہو رہے ہیں، جن کا مقابلہ صرف اور صرف برکس کے موثر معاشی اشتراک سے ہی ممکن ہے۔

برکس ممالک قومی کرنسیوں میں تجارت کو وسعت دیں اور آزاد مالیاتی نظام قائم کریں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بڑا مطالبہ

محمود احمد, September 11,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کی عالمی تنظیم برکس کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی تجارت کے فروغ کے لیے قومی کرنسیوں کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ وسعت دیں اور عالمی مالیاتی دباؤ سے بچنے کے لیے آزاد و موثر بین الاقوامی مالیاتی و ادائیگیاں کا نظام ہنگامی بنیادوں پر تشکیل دیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان برکس کے سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچے ہیں۔ برکس بزنس فورم کا اہم اور کثیر الجہتی اجلاس 11 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے، جبکہ مرکزی برکس سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو منعقد ہوگا۔

برکس بزنس فورم کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ رکن ممالک کے درمیان تجارتی لین دین میں اپنی اپنی قومی کرنسیوں کے استعمال کو مستحکم کرنا دورِ حاضر کا اہم ترین اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہدف کے حصول کے لیے باہمی ادائیگیوں کے ایسے جدید مالیاتی اور بینکنگ کے ذرائع تشکیل دینا ناگزیر ہیں جو رکن ممالک کے درمیان معاشی و تجارتی تعاون کو کسی بھی بیرونی دباؤ کے بغیر مضبوط بنا سکیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عالمی مالیاتی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی اقتصادی نظام محدود تعداد میں طاقتور کرنسیوں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ سیاسی دباؤ، تحکم اور یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کے مقابلے میں شدید غیر محفوظ اور کمزور ثابت ہوتا ہے۔

مسعود پزشکیان نے اپنی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو پائیدار اور حقیقی اقتصادی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے تنظیم کے نیو ڈیولپمنٹ بینک کو مرکزی کردار ادا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ بینک تمام رکن ممالک میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور توانائی کے اہم منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرے۔

انہوں نے بینکنگ نظام کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے مخصوص کریڈٹ لائنز کے قیام، مقامی اور قومی کرنسیوں میں فنانسنگ کے فروغ اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مناسب اور قابلِ اعتماد ضمانتی نظام فراہم کرنے کی تجاویز پیش کیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تمام برکس ممالک باہمی تجارت، سرحد پار سے ہونے والی ادائیگیوں کے تحفظ اور عالمی مالیاتی اداروں میں دور رس اصلاحات کے لیے مربوط تعاون بڑھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے برکس کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں نے بھی اپنے حالیہ اجلاس میں سرحد پار ادائیگیوں کے نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق مزید موثر، کم لاگت، شفاف اور محفوظ بنانے کی ضرورت پر کامل اتفاق کیا ہے۔

یمنی حکومتی فورسز کے اچانک انخلا کے بعد اہم بحری گزرگاہ کا کنٹرول حوثیوں کے ہاتھ میں چلے جانے کی اطلاعات؛ المخا ایئرپورٹ پر سعودی بمباری

محمود احمد, September 11,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

یمن میں جاری خونی عسکری پیش قدمی کے دوران ایران کے حمایت یافتہ حوثی عسکریت پسندوں نے عالمی تجارت اور سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی تزویراتی (اسٹریٹجک) اہمیت کے حامل باب المندب کے دہانے پر واقع اہم جزیرے “میون” پر باقاعدہ قبضہ کر لیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرکاری فورسز کے اعلیٰ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یمنی حکومتی اور اتحادی فورسز شدید عسکری دباؤ کے بعد جزیرہ میون سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ گئی ہیں، جس کے فوراً بعد حوثی جنگجوؤں نے جزیرے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

جغرافیائی و عسکری لحاظ سے انتہائی حساس جزیرہ میون، جسے بین الاقوامی سطح پر اکثر “باب المندب جزیرہ” بھی کہا جاتا ہے، اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے بالکل وسط میں واقع ہے۔ یہ جزیرہ باب المندب کی چوڑائی کو دو اہم بین الاقوامی بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے، جس کے باعث یہاں سے گزرنے والے ہر تجارتی و تلی ٹینکر پر براہِ راست نظر رکھی جا سکتی ہے۔

اس اہم پیش رفت سے قبل موصول ہونے والی معتبر اطلاعات کے مطابق یمن کے ساحلی شہر “ذباب” پر بھی حوثی عسکریت پسند پہلے ہی کامل کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ ان دونوں اہم علاقوں پر قبضے کے بعد اب باب المندب کی اس نایاب اور اہم آبی گزرگاہ کے بیشتر اور اہم حصوں پر حوثیوں کا کنٹرول تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جو نہ صرف عالمی بحری تجارت بلکہ بالخصوص برادر ملک سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات کے لیے سب سے اہم تجارتی راستہ شمار کیا جاتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے گزشتہ ہفتے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومتی فورسز اور سعودی اتحادی افواج کے خلاف متعدد محاذوں پر ایک ہی وقت میں بڑے پیمانے پر حتمی عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

دوسری جانب حوثی گروپ سے وابستہ سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی پیش قدمی کو روکنے کے لیے سعودی عرب کی فضائیہ نے یمن کے مختلف اضلاع میں درجنوں شدید بمبار حملے کیے ہیں، جن کے دوران المخا شہر میں واقع ہوائی اڈے (المخا ایئرپورٹ) کو دو مرتبہ شدید بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ المخا کی اہم اور تاریخی بندرگاہ بھی حالیہ دنوں میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں حوثیوں کے کنٹرول میں جا چکی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے: امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کا عزم

محمود احمد, September 11,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

ایران کے صدر مسعود پزشکیان ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کی عالمی تنظیم برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس میں باضابطہ شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔

ایرانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان اپنے دورے کے دوران برکس کے مرکزی سربراہی اجلاس، بین الاقوامی اقتصادی سربراہی اجلاس اور برکس رہنماؤں کے اہم بند کمرہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ایرانی صدارتی دفتر نے بتایا کہ مسعود پزشکیان کے ان تمام خطابات کا بنیادی موضوع جامع عالمی طرزِ حکمرانی کی تشکیل، منصفانہ اقتصادی نظام کا فروغ اور کثیرالجہتی (ملٹی لیٹرل) بین الاقوامی نظام کو مزید مضبوط و فعال بنانا ہوگا۔

بھارت کی میزبان حکومت کی جانب سے نئی دہلی میں منعقد کیے جانے والے اس اہم برکس اجلاس میں شرکت کرنے والے دیگر ممتاز عالمی رہنماؤں میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ بھی شامل ہیں، جس کے باعث اس عالمی فورم کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔

نئی دہلی روانگی سے قبل تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے دورے کا بنیادی مقصد واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ برکس بلاک میں ایران کی فعال شمولیت اور شرکت کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں امریکہ کی یکطرفہ اور جارحانہ معاشی و سیاسی پالیسیوں کا موثر انداز میں مقابلہ کرنا اور ایک متوازن عالمی نظام قائم کرنا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق، نئے برکس بینک (نیو ڈویلپمنٹ بینک) کے دائرہ کار کے تحت آئندہ تمام تر مشترکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تجارتی مالیات کو امریکی ڈالر پر کسی بھی قسم کا انحصار کیے بغیر فروغ دیا جائے گا، تاکہ رکن ممالک کے اقتصادی و تجارتی مفادات کو عالمی معاشی دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔

سفیر عاصم افتخار احمد کا سعودی عرب کی دفاعی خود مختاری کی کامل حمایت کا اعادہ؛ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی فوری رہائی اور سیاسی تصفیے کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل, September 11,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن اور خطے میں پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر سلامتی کونسل کے بلائے گئے ہنگامی اجلاس سے باضابطہ خطاب کرتے ہوئے مملکتِ سعودی عرب کے مختلف شہروں بالخصوص ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں حوثی گروپ کی جانب سے شہری آبادی اور معاشی اہداف پر کیے گئے فضائی و میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ کی جانب سے یمن کی تازہ ترین صورتحال پر دی گئی تفصیلی بریفنگ کو سراہا اور اجلاس میں مملکتِ سعودی عرب اور یمن کے معزز مستقل نمائندگان کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سرحدوں اور معاشی تنصیبات پر حوثیوں کے یہ غیر قانونی اقدامات سعودی عرب کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس سے یمن کے تنازع کو پرامن اور پائیدار سفارتی راستے سے حل کرنے کی تمام تر جاری کوششوں کو شدید ترین دھچکا پہنچ رہا ہے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے وزیراعظم پاکستان کے جامع موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ اس نوعیت کے تمام بزدلانہ حملے بے گناہ انسانی جانوں کے اتلاف کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کی جانب سے برادر ملک سعودی عرب کی خود مختاری، علاقائی سالمیت، سیکیورٹی اور پائیدار خوشحالی کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کو اپنے علاقے، شہریوں اور وہاں مقیم افراد کے تحفظ کے ساتھ ساتھ کسی بھی بیرونی عسکری خطرے کے مقابلے میں اپنے تمام قومی اثاثوں کا دفاع کرنے کے جائز اور قانونی حق کی مکمل تائید کرتا ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ یمن کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک اور خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ مختلف محاذوں پر جاری عسکری کارروائیوں میں اضافہ، بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حوثیوں کے پیہم حملے، سعودی عرب میں شہری تنصیبات پر بمباری اور یمن کے اندر بگڑتا ہوا انسانی بحران عالمی برادری کے لیے گہرے تحفظات کا باعث ہے۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ ان پیش رفت کے پورے خطے پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے مزید تباہی کو روکنے کے لیے سفارت کاری کو فوراً متحرک کرنا ہوگا تاکہ 2022ء سے برقرار قائم شدہ نسبتاً پرسکون صورتحال کو دوبارہ بکھرنے سے بچایا جا سکے۔

پاکستانی سفیر نے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک جامع، یمنی قیادت میں اور یمنی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کو بحال کرنے کی حمایت کی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ یمن میں سنگین انسانی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر انسانی امداد اور مالی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔

اس موقع پر پاکستان نے اقوام متحدہ کے عملے، انسانی امدادی کارکنوں اور سفارتی اہلکاروں کو حوثیوں کی جانب سے من مانے طریقے سے حراست میں رکھنے کے عمل کی بھی شدید مذمت کی اور ان تمام افراد کی فوری، غیر مشروط اور محفوظ رہائی کا پرزور مطالبہ کیا۔ پاکستان نے اپنے خطاب کے اختتام پر سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے یکجا ہو کر خطے میں پائیدار امن، استحکام اور پرامن سیاسی تصفیے کے لیے متحد رہنے کا مطالبہ کیا۔

ایران کا سرکاری بینک سپہ جرمنی میں دیوالیہ: فرینکفرٹ شاخ مالیاتی واجبات کی ادائیگی میں ناکام

محمود احمد, September 10,2026

برلن (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

جرمنی کے بااختیار وفاقی مالیاتی نگران ادارے بافن نے ایران کے سرکردہ سرکاری بینک “بینک سپہ” کی جرمنی کے تجارتی مرکز فرینکفرٹ میں قائم باضابطہ شاخ کو اپنے تمام مالیاتی قرضوں اور دیگر تمام انتظامی و تجارتی ذمہ داریاں پوری کرنے سے یکسر قاصر قرار دے دیا ہے۔

جرمنی کے وفاقی مالیاتی نگران ادارے کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق فرینکفرٹ میں قائم بینک سپہ کی یہ جرمن شاخ اب اپنے کھاتے داروں اور تجارتی صارفین کی جمع شدہ کروڑوں یورو کی رقوم واپس کرنے کی عملی و قانونی پوزیشن میں بالکل نہیں رہی ہے۔

ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے اس سخت قانونی نوٹس کے بعد جرمنی کی بینکاری دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے بینک سپہ کی اہم جرمن شاخ یورو زون کے سب سے اہم اور بنیادی مالیاتی مرکز فرینکفرٹ میں واقع ہے، جو نہ صرف جرمنی کا معاشی حب ہے بلکہ جہاں یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کا مرکزی دفتر بھی قائم ہے۔

ایران کے اس بینک کی جرمن سرگرمیاں اور تجارتی لین دین اس سے قبل بھی جرمن مالیاتی نگران ادارے کی خصوصی توجہ اور کڑی نگرانی کا مرکز رہے ہیں۔ بافن نے اس سے قبل نومبر 2017ء کے دوران بھی فرینکفرٹ میں قائم بینک سپہ کی اس شاخ کو اگلے حکمِ ثانی تک صارفین یا تجارتی کمپنیوں کو نئے قرضے جاری کرنے سے سخت قانونی حکم کے تحت روک دیا تھا۔

اس وقت بافن کی جانب سے عائد کی جانے والی اس پابندی کی حتمی یا تفصیلی وجوہات میڈیا کے سامنے عام نہیں کی گئی تھیں اور یہ بھی واضح نہیں ہو سکا تھا کہ نگران ادارے کے شدید تحفظات بینک کی طرف سے دیے گئے مجموعی قرضوں کے حجم پر تھے یا صارفین کے قرضوں کی واپسی سے متعلق معاہدوں اور قانونی طریقہ کار پر مرکوز تھے۔

جرمن مالیاتی اتھارٹی کے موجودہ حتمی فیصلے اور بینک کو نااہل قرار دیے جانے سے جرمنی میں ایران کے سرکاری بینک سپہ کی مالیاتی صورتحال، بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ اور صارفین کے کروڑوں روپے کے واجبات کی بحفاظت ادائیگی کی صلاحیت پر انتہائی سنجیدہ عالمی اور قانونی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی جائیں گے: بیجنگ کا باضابطہ اعلان

محمود احمد, September 10,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

چین کی وزارت خارجہ نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے کہ صدر شی جن پنگ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خاص دعوت پر 12 اور 13 ستمبر کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کا اہم دورہ کریں گے، جہاں وہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں چین کی نمائندگی کرتے ہوئے شرکت کریں گے۔

بیجنگ کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کے اس اہم دورۂ بھارت کو چین اور بھارت کے مابین اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کی بحالی اور برکس بلاک کے تمام رکن ممالک کے باہمی معاشی و سیاسی تعاون کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر شی جن پنگ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں عالمی معاشی صورتحال، کثیر قطبی نظام اور علاقائی تحفظ سے متعلق چینی پالیسی کا حتمی خاکہ پیش کریں گے۔

سینیئر چینی قیادت کی آمد اور عالمی رہنماؤں کے تحفظ کے پیش نظر بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں سیکیورٹی کے بے مثال اور انتہائی سخت انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق دہلی پولیس کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ حساس علاقوں بالخصوص تغلق روڈ کے پورے زون میں تقریباً 500 جدید ترین سی سی ٹی وی کیمرے اور خودکار سینسرز نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ تمام تر رفت و آمد، سیکیورٹی اور سمارٹ نگرانی کے انتظامات کو فول پروف اور انتہائی موثر بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ برکس دنیا کی تیز ترین اور ابھرتی ہوئی بڑی ملکی معیشتوں کے درمیان قائم اقتصادی و تجارتی تعاون کا ایک معتبر عالمی پلیٹ فارم ہے۔ اس اہم اتحاد کا نام ابتدائی طور پر اس کے بانی ممالک یعنی برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ کے انگریزی ناموں کے پہلے حروف کے ملاپ سے تشکیل پایا تھا، جس میں بعد ازاں دیگر اہم معیشتیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

برکس فورم کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی، تکنیکی، سیاسی اور مالیاتی شعبوں میں مضبوط تعاون کو فروغ دینا اور دنیا کے سامنے مغرب کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی کردار اور خودمختاری کو موثر انداز میں مضبوط کرنا ہے۔

یمن میں فضائی حملوں کی نئی لہر: حوثیوں کا سعودی عرب کے 40 بمبار حملوں کا دعویٰ، باب المندب میں شدید کشیدگی

محمود احمد, September 10,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی عسکری گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف تزویراتی (اسٹریٹجک) اور ساحلی علاقوں میں تقریباً 40 سے زائد شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ سنسنی خیز دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے درمیان سرحد کے دونوں جانب حملوں اور زمینی جھڑپوں میں یکبارگی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حوثی انتظامیہ سے وابستہ سرکاری خبر رساں ادارے سبأ کے مطابق سعودی طیاروں نے تعز، الحدیدہ، الجوف اور مأرب کے اہم صوبوں میں قائم عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے تقریباً 40 فضائی حملے کیے، تاہم ان شدید حملوں سے متعلق حوثیوں کے اس دعوے کی کسی بھی غیر جانبدار یا آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق یہ خطرناک پیش رفت سعودی عرب کے سرحدی و جنوبی علاقوں پر حوثیوں کے حالیہ تباہ کن میزائل اور ڈرون حملوں کے فوری بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی قیادت میں قائم قائم ملٹری اتحاد کے باضابطہ بیانات کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے گنجان آباد جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط اور جازان کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد جدید بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون داغے تھے۔

یمنی دفاعی رپورٹس کے مطابق یمن میں دوبارہ سے ابھرنے والی اس بدترین عسکری کشیدگی نے سال 2022ء کے دوران فریقین کے مابین قائم ہونے والے نازک اور تاریخی معاہدے کو انتہائی شدید دباؤ اور داؤ پر لگا دیا ہے، جبکہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان چند انتہائی اہم صوبوں اور تیل پیدا کرنے والے علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے کی لڑائی بار دیگر شدت اختیار کر چکی ہے۔

دریں اثنا، بحیرہ احمر کی عالمی اہمیت کی حامل باب المندب کی آبنائے کے اطراف بھی سیکورٹی کی صورتحال انتہائی حساس اور نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے انتہائی اہم ساحلی علاقوں اور چوکیوں پر اپنی حتمی پوزیشنز مضبوط کرتے ہوئے اس عالمی اہمیت کی حامل تجارتی بحری گزرگاہ کے بالکل قریب تک پہنچ چکے ہیں۔ واضح رہے کہ باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو باہم جوڑنے والا دنیا کا وہ اہم ترین سمندری راستہ ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر عالمی تجارت اور خام تیل و توانائی کا ایک بڑا اور اہم حصہ دوسرے براعظموں کو منتقل ہوتا ہے۔

امریکہ کی جنگ پسندی عالمی طاقت اور اقتصادی جغرافیے کی مشرق کی جانب منتقلی کا بہترین محرک بنی ہے: میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی

محمود احمد, September 10,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

ایران کے رہبرِ اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر عسکری مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے بین الاقوامی و علاقائی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی دائمی جنگ پسندی، بین الاقوامی طاقت کے توازن اور عالمی اقتصادی جغرافیے کی مغربی خطے سے مشرق کی جانب تیزی سے منتقلی کے لیے سب سے بہترین اور طاقتور محرک ثابت ہوئی ہے۔

ایرانی افواج کے سابق کمانڈر انچیف اور رہبرِ اعلیٰ کے دفاعی امور کے خصوصی مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے عالمی سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ ایک پیغام میں مغرب اور امریکہ کی جیو پولیٹیکل پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ دشمن کی جانب سے محض فتح کا مصنوعی تاثر دینے کی تمام تر کوششیں، درحقیقت اس کی عملی شکست کی واضح علامت ہیں اور یہ بین الاقوامی طاقت، توازن اور عالمی سلامتی کے ایک جدید کثیر قطبی (ملٹی پولر) نظام کے ناگزیر وجود کو تسلیم کرنے کے بالکل مترادف ہے۔

ایرانی حکام اور عسکری کمانڈروں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ایران کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف حالیہ مسلط کردہ جنگ و عسکری مہم جوئی میں امریکہ اور اسرائیل کو تاریخی اور واضح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایرانی انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ مغرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ کا بنیادی اور حتمی مقصد اسلامک ریپبلک آف ایران کا کامل خاتمہ تھا، تاہم ایرانی قوم کی مزاحمت اور عسکری حکمتِ عملی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تمام تر اہداف کو خاک میں ملا دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منظر نامے پر مشرق کا اثر و رسوخ اور کثیر قطبی دنیا کا قیام پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔

چین نے کبھی کسی ملک کی ترقی کی ’’سیڑھی‘‘ نہیں کھینچی، بلکہ ہمیشہ سیڑھی بنا کر دی ہے: ترجمان چینی وزارت خارجہ ماؤ ننگ

محمود احمد, September 10,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

چین کی حکومت نے عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کی اقتصادی اور تکنیکی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے یا انہیں پیچھے دھکیلنے کے بجائے معاشی، صنعتی، بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شفاف تعاون اور معاونت فراہم کرنے کی مستقل پالیسی پر گامزن ہے۔ چین کی جانب سے زور دے کر کہا گیا ہے کہ بیجنگ نے تاریخ میں کبھی کسی ملک کی ترقی کی ’’سیڑھی‘‘ نہیں کھینچی، بلکہ ہمیشہ دنیا کے ترقی پذیر اور ابھرتے ہوئے ممالک کے لیے معاشی ترقی کی نئی راہ ہموار کی ہے اور ان کی صنعتی صلاحیتیں بہتر بنانے میں عملی مدد فراہم کی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یہ تمام تر تفصیلات گزشتہ روز دارالحکومت بیجنگ میں معمول کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک بین الاقوامی صحافی کے سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے بیان کیں۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ کی عالمی معاشی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ چین نے نہ تو کبھی کسی ملک کی ترقی کی ’’سیڑھی‘‘ کھینچی ہے اور نہ کبھی ایسا کرے گا، بلکہ اس کے برعکس چین دنیا کے تمام شراکت دار اور کمزور ممالک کے لیے معاشی و صنعتی ترقی کی نئی ’’سیڑھی بنانے‘‘ کے اپنے عزم پر سختی سے قائم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین اعلیٰ معیار اور عالمی معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) تعاون کے مضبوط فریم ورک کے ذریعے اپنے تمام شراکت دار ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی کو دور کرنے کے لیے مسلسل اور فعال مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین اعلیٰ ترین معیار اور مناسب ترین قیمت کے صنعتی آلات، جدید سائنسی و تکنیکی مصنوعات کی فراہمی کے ساتھ اپنے کئی دہائیوں پر محیط معاشی تجربات اور ڈجیٹل ٹیکنالوجی کو بھی شراکت دار ممالک کے ساتھ بلا جھجھک شیئر کر رہا ہے۔

ترجمان نے چین کی اس عالمی پالیسی کے مثبت اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ کے ان مخلصانہ اور شفاف اقدامات سے گلوبل ساؤتھ کے تمام ممالک کو اپنی صنعتی و پیداواری لاگت نمایاں حد تک کم کرنے، قومی پیداواری صلاحیت کو تیزی سے بڑھانے اور اپنی آزادی کے ساتھ صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے میں زبردست اور پائیدار مدد مل رہی ہے۔

مکہ دفاعی معاہدے میں فی الحال کسی نئے ملک کو شامل کرنے پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی: ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر

منصور احمد,September 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

پاکستان کے دفتر خارجہ کے باضابطہ ترجمان سجاد حیدر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تاریخی “مکہ دفاعی معاہدے” کے تحت باقاعدگی سے باہمی مشاورت اور رابطے میں ہیں، تاہم فی الوقت اس عسکری و دفاعی معاہدے میں کسی بھی نئے ملک کو شامل کرنے کے حوالے سے کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی سطح پر کوئی بات چیت ہو رہی ہے۔

جمعرات کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مختلف اعلیٰ انتظامی و عسکری سطحوں پر باقاعدگی سے ملاقاتیں اور تفصیلی مشاورت کر رہے ہیں اور تینوں برادر ممالک مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر نے دفاعی اتحاد کے مستقبل اور ترجیحات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تینوں ممالک کی بنیادی ترجیح مکہ دفاعی معاہدے کے تحت طے پانے والے موجودہ تعاونی فریم ورک اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال، منظم اور مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسے دیگر ممالک کے لیے اس اہم دفاعی اتحاد میں شمولیت کا راستہ کھولا جا سکتا ہے جو اس معاہدے کے بنیادی اصولوں، سیکورٹی نقطہ نظر اور علاقائی ضرورتوں سے مکمل ہم آہنگی رکھتے ہوں۔

سجاد حیدر کے مطابق دفاعی اتحاد میں نئے ممالک کی ممکنہ شمولیت سے متعلق تمام تر اہم فیصلے مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی باہمی مشاورت اور متفقہ رائے سے ہی کیے جائیں گے۔

ترجمان نے جاری گفتگو کے دوران افواہوں کا خاتمہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ فی الحال اس حساس معاملے پر کوئی باضابطہ گفتگو یا بات چیت نہیں ہو رہی، اس لیے اس جاری ابتدائی مرحلے پر مکہ دفاعی معاہدے میں کسی بھی نئے ملک کی شمولیت کا سوال بالکل قبل از وقت اور غیر متعلقہ ہے۔

واضح رہے کہ سہ فریقی تاریخی مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین رواں برس 7 اگست 2026ء کو سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا، جس کا بنيادی مقصد ان تینوں اہم اسلامی ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع، سیکیورٹی، عسکری ٹیکنالوجی کے تبادلے اور دفاعی تعاون کو ایک نئے جدید اور ناقابلِ تسخیر موڑ پر لانا ہے۔

ریپبلکن پارٹی کا ڈلاس میں پہلا وسط مدتی انتخابی کنونشن: ڈونلڈ ٹرمپ کا ہر بالغ امریکی کو 5,000 ڈالر دینے کا بڑا اور غیر متوقع اعلان

محمود احمد, September 10,2026

ڈلاس (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں ریپبلکن پارٹی کا پہلا وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابی کنونشن منعقد ہوا جس میں روایتی صدارتی انتخابی سال کے بڑے اجتماعات جیسا شاندار اور جوشیلا ماحول دیکھنے میں آیا۔ چمکدار اور رنگ برنگے ملبوسات میں ملبوس جذباتی حامی، اہم امیدواروں کی تقاریر کا مسلسل سلسلہ، اور انتخابی مہم سے متعلق یادگاری اشیا فروخت کرنے والے دکاندار اس بڑے اجتماع کا نمایاں حصہ تھے۔

تاہم کسی بھی روایتی حزبی کنونشن کے برعکس ڈلاس میں منعقد ہونے والی اس دو روزہ تقریب میں پارٹی کا کوئی باضابطہ یا قانونی کاروبار انجام نہیں دیا گیا۔ اس کے بجائے یہ تمام تر اجتماع ریپبلکن رہنماؤں کے لیے ایک زبردست پاور شو اور انتخابی جلسے کی حیثیت رکھتا تھا، جو رواں سال نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے دوران امریکی کانگریس کا کنٹرول مکمل طور پر برقرار رکھنے اور اپنے ووٹ بینک و ووٹرز کی شرکت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن کا ریپبلکن پارٹی کی قیادت اور ووٹرز پر اثر و رسوخ آج بھی بدستور مکمل طور پر قائم و دائم ہے، نے دو روزہ تقریب کی افتتاحی شام ایک انتہائی طویل اور جذباتی کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے اس خطاب میں ان تمام اہم موضوعات اور پالیسیوں پر کھل کر بات کی جن پر وہ رواں سال انتخابی جلسوں میں بار بار اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں، تاہم اس تقریب کے دوران ان کی جانب سے چند انتہائی غیر متوقع اور سنسنی خیز اعلانات بھی کیے گئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے اپنے سیاسی جلسوں اور تقریروں میں غیر روایتی اور چونکا دینے والی تجاویز پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ اپنے اسی انداز کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ریپبلکن پارٹی نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں یعنی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 ڈالر (تقریباً 3,700 برطانوی پاؤنڈ) کا بڑا کیش ریلیف دینے کی باقاعدہ قانون سازی کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس معاشی منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس رقم کی فراہمی کی صرف اور صرف ایک بنیادی شرط ہوگی، اور وہ یہ کہ ہر شہری کو یہ رقم لازمی طور پر امریکہ کی حدود ہی کے اندر مختلف اشیاء اور خدمات پر خرچ کرنا ہوگی تاکہ ملکی معیشت کو تقویت مل سکے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے پورے خطاب میں یہ بالکل نہیں بتایا کہ اس دیوہیکل منصوبے پر عملی طور پر کیسے عمل درآمد کیا جائے گا، اس کھربوں ڈالر کی خطیر رقم کا انتظام کہاں سے ہوگا، یا امریکی حکومت اور اس کے محکمے یہ کیسے چیک اور جانچ سکیں گے کہ یہ رقم واقعی امریکہ کے اندر ہی خرچ کی گئی ہے۔

ریاستی مخالف جماعت ڈیموکریٹس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیر متوقع اعلان پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور انہوں نے اسے فوری طور پر ایک سیاسی اور “کھوکھلا وعدہ” قرار دے کر مسترد کر دیا، جبکہ متعدد معاشی اور قانونی ناقدین نے یہ سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے ہیں کہ آیا امریکی آئین اور قانونی فریم ورک کے تحت ایسا معاشی وعدہ عملی طور پر ممکن بھی ہے یا نہیں۔

حساب کتاب کے مطابق اس وقت امریکہ میں تقریباً 27 کروڑ بالغ افراد موجود ہیں، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر فی کس 5,000 ڈالر کی رقم تقسیم کی جائے تو امریکی حکومت کے خزانے پر اس کا مجموعی بوجھ تقریباً 1.3 کھرب (1.3 ٹریلین) ڈالر پڑے گا۔

امریکی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجویز عملی طور پر قابلِ عمل ہے یا نہیں، بظاہر اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ تھی کہ اس بڑے اعلان کا کنونشن میں موجود ٹرمپ کے حامیوں اور حاضرین پر کیا تاثر قائم ہوا۔ پورے ہال میں اس تجویز کا اعلان ہوتے ہی پرجوش شرکاء نے کھڑے ہو کر منٹوں تک زوردار تالیاں بجائیں اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے حامیوں کے اس والہانہ ردِعمل سے بے حد محظوظ اور خوش دکھائی دیے۔

قانونی چارہ جوئی کے لیے مقررہ مدت کی پابندی بنیادی اصول ہے: وفاقی آئینی عدالت کا تفصیلی تحریری فیصلہ

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے ایک اہم اور تفصیلی تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ قانونی داد رسی اور چارہ جوئی کے لیے متعین کردہ مقررہ مدت پر عمل کرنا قانون کا بنیادی اور اہم ترین اصول ہے، اس لیے محض کسی معاملے کو بنیادی حقوق کا مسئلہ قرار دے کر غیر معمولی تاخیر سے دائر کی گئی آئینی درخواست کے ذریعے قانون میں طے شدہ مدت کو نظر انداز یا بائی پاس نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی تحریری فیصلے میں مذہبی لٹریچر، کتب اور مواد پر پابندی اور ان کی ضبطگی کے خلاف دائر کی گئی متعدد اپیلیں اور درخواستیں بلاجواز تاخیر کی بنیاد پر خارج کر دی گئی ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے قرار دیا ہے کہ درخواستوں کی دائرگی میں بغیر کسی ٹھوس وجہ کے غیر معمولی تاخیر قانونی اصطلاح میں “لیشز” کا باعث بنتی ہے، اور آئینی درخواست کے ذریعے قانونی مدت سے بچنے کی ایسی تمام کاوشیں دراصل آئین اور قانون کے جائز عمل کا غلط استعمال ہیں۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے نشاندہی کی کہ درخواست گزاروں کے پاس صوبائی حکومت کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 99 اے کے تحت کی گئی انتظامی کارروائی کے خلاف دفعہ 99 بی کے تحت ہائی کورٹ سے باضابطہ رجوع کرنے کا مؤثر اور متبادل قانونی راستہ موجود تھا۔ اس کے علاوہ متعلقہ آرڈیننس کے تحت بھی متفقہ طور پر اپیل کا حق میسر تھا، تاہم تمام تر درخواست گزاروں نے مقررہ قانونی مدت کے اندر یہ لازمی قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے انتہائی تاخیر کا مظاہرہ کیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں بنیادی قانونی نقطہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اختیارات کا ہر قسم کا استعمال قانون کے اندر موجود باضابطہ ماخذ سے منسلک ہونا ضروری ہے۔ محض یہ حقیقت کہ کوئی فیصلہ انتظامی افسر کی جانب سے ہوا ہے، اسے ازخود غیر قانونی یا محض صوابدیدی اختیار نہیں بنا دیتی، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اختیار کس بنیادی قانون کے تحت حاصل کیا گیا تھا اور اس کا ماخذ کیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ بنیادی حقوق بلاشبہ آئین پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ اہم ترین ضمانتیں ہیں، تاہم ان حقوق کا استعمال ملکی قانون، عمومی پالیسی اور اخلاقیات کے واضح تابع ہوتا ہے۔ مذہبی آزادی سمیت آئین میں درج تمام بنیادی حقوق کو ہمیشہ وسیع تر عوامی مفاد، بین المذاہب ہم آہنگی اور امنِ عامہ کے ساتھ متوازن بنانا قانون کے لیے بے حد ضروری ہے۔

مقدمے کے پس منظر کے مطابق درخواست گزار محمد عبد القدوس نے پنجاب حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 25 جون 2014 کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت “روحانی خزائن” کی جلد اول سے 23 پر باضابطہ پابندی عائد کی گئی تھی اور تمام دستیاب نقول کو ضبط کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر تمام درخواست گزاروں نے بھی مختلف دینی و دیگر لٹریچر اور متنازع مواد کے خلاف کی جانے والی حکومتی و انتظامی کارروائیوں کو عدالت عالیہ میں چیلنج کر رکھا تھا۔

عدالت نے حتمی طور پر قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے وقت پر متبادل قانونی چارہ جوئی کا فورم اختیار کرنے کے بجائے برسوں کی تاخیر کے بعد براہِ راست آئینی درخواستیں دائر کی ہیں اور عدالت کے سامنے تاخیر کی کوئی معقول یا قابلِ قبول وجہ بھی پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلوں کو بحال رکھتے ہوئے قرار دیا کہ زیرِ نظر فیصلے میں کوئی قانونی یا دائرہ اختیار کی خامی موجود نہیں جس کی بنیاد پر مداخلت کی جائے، اور اسی بنا پر تمام درخواستیں خارج کرتے ہوئے زیر التوا متفرق متفرقات کو نمٹا دیا گیا۔

اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر برطانوی پابندیوں کا اقدام: پاکستان کا برطانیہ اور دیگر ممالک کے فیصلے کا پرجوش خیرمقدم

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی یا وہاں سے صادر کی جانے والی تمام مصنوعات کی درآمد پر باضابطہ پابندی عائد کرنے کے تاریخی اور جرات مندانہ اعلان کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم پریس ریلیز اور باضابطہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مسلسل اور متنازع توسیع بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے چارٹر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے ایسے تمام تر غیر قانونی اور غاصبانہ اقدامات نہ صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے حصول کے لیے جاری عالمی سفارتی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، بلکہ پوری مشرقِ وسطیٰ کے دائم امن، توازن اور استحکام کو بھی سخت خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کا اپنے بیان میں مزید کہنا ہے کہ پاکستان برطانیہ کے اس اقدام کے ساتھ ساتھ کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دنیا کے دیگر متعدد اہم ممالک کے اس اہم اعلان کی بھی مکمل تائید اور خیرمقدم کرتا ہے، جس میں انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ اور اسی نوعیت کے سخت تجارتی و سفارتی قدغنوں پر غور کرنے اور عملی اقدامات کی حمایت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ترجمان نے امید ظاہر کی کہ ان بین الاقوامی اقدامات، تجارتی پابندیوں اور مشترکہ فیصلوں سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری تمام تر غاصبانہ و غیر قانونی سرگرمیوں کو عالمی برادری کی جانب سے یکسر مسترد کیے جانے کا ایک انتہائی واضح، دوٹوک اور سخت پیغام پہنچے گا۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کے خلاف تاریخی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کی ‘نسل کشی’ اور تشدد پر مجرمانہ چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

گزشتہ روز برطانوی پارلیمان کے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا تھا کہ یہ اقدام اسرائیل فلسطین تنازع کے حوالے سے برطانیہ کے ‘ایک نئے اور عملی طرزِ عمل کی شروعات’ ہے، جو صرف زبانی زبانی ناانصافی کی نشاندہی ہی نہیں کرتا بلکہ بین الاقوامی سطح پر عملی پیش رفت بھی کرتا ہے۔ برطانوی پابندیوں کے تحت بستیوں کی مصنوعات پر کامل پابندی عائد رہے گی جبکہ بستیوں کی توسیع میں مددگار کمپنیوں اور افراد پر بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔

یہ جدید پابندیاں فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر نافذ کی گئی ہیں، جنہوں نے ایک مشترکہ بین الاقوامی اعلامیے میں کہا ہے کہ یہ قدم دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے طرزِ عمل میں اہم موڑ ثابت ہوگا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ تمام تر بستیاں مکمل طور پر غیر قانونی ہیں اور حالیہ مہینوں کے دوران ان علاقوں میں فلسطینیوں پر تشدد کے بزدلانہ واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ایران کا بڑا عسکری و بحری اقدام: ‘ممنوعہ سمندری علاقے’ کی حدود خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب تک بڑھانے کا اعلان

محمود احمد, September 09,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں جاری شدید عسکری کشیدگی کے دوران بڑا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے طے کردہ ‘ممنوعہ سمندری علاقے’ کی جغرافیائی حدود کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جس میں اب خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب کے انتہائی اہم اور حساس حصے بھی شامل ہوں گے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے باضابطہ ترجمان حسین محبی نے تہران میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس نئے اور جدید توسیع شدہ ممنوعہ علاقے سے ایرانی حکومت یا بحریہ کی پیشگی اجازت کے بغیر گزرنے والے تمام ملکی و غیر ملکی تجارتی اور آئل ٹینکرز کے خلاف سخت ترین تعزیری ‘پابندیاں’ نافذ کی جائیں گی۔

ایرانی عسکری ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس توسیع شدہ ممنوعہ علاقے کی دقیق جغرافیائی حدود اور اس سے متعلقہ بین الاقوامی کوآرڈینیٹس کا باقاعدہ نقشہ اور تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی، تاہم ابتدائی طور پر یہ سمندری حد بندرگاہ چابہار کے علاقے سے شروع ہوتی ہے۔

حسین محبی نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو بحری جہاز ایران کی جانب سے مقررہ اور واضح کی گئی ممنوعہ حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہوں گے، انہیں بعد میں عالمی توانائی کی شاہ رگ سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ایسے خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو بین الاقوامی قانونی، لاجسٹک، تکنیکی اور انشورنس کی خدمات کی فراہمی بھی روک دی جائے گی تاکہ ان کی آزادانہ آمدورفت ناممکن بنائی جا سکے۔

ایران کی جانب سے یہ غیر معمولی اور خطرناک اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین خلیج فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد عسکری و بحری محاذ آرائی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث خطے میں بین الاقوامی تجارتی جہازرانی اور خام تیل و ایل این جی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے محدود سمندری زونز کی توسیع کا یہ اقدام حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے قریب کئی آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے تسلسل میں دیکھا جا رہا ہے۔

ایران اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز کے باہر بحری حدود میں ایک نیا ‘محدود سمندری زون’ قائم کرنے کا باضابطہ اعلان کر چکا ہے، جس کا حتمی مقصد ان بین الاقوامی جہازوں کو روکنا اور تحویل میں لینا تھا جو ایرانی نگرانی، جانچ اور تجارتی پابندیوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تہران کے اس تازہ ترین اعلان کے بعد خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری تجارت اور خصوصاً خلیجی ممالک سے عالمی منڈیوں کو ہونے والی توانائی کی فراہمی پر بلاواسطہ منفی اثرات اور معاشی خطرات کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ایندھن کی قیمتوں میں ٹیکسوں کا بڑا حصہ: پٹرول پر 134 روپے اور ڈیزل پر 118 روپے سے زائد کے ٹیکس عائد ہونے کا انکشاف

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے دوران پاکستان میں ایندھن کی حتمی قیمتوں کا ایک بہت بڑا حصہ مختلف ٹیکسوں، لیوی، کسٹم ڈیوٹیز اور تجارتی مارجنز پر مشتمل ہونے کی تحریری دستاویزات سامنے آئی ہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں پیش کیے گئے مستند اعداد و شمار کے مطابق ایک لیٹر پٹرول پر پاکستانی عوام مجموعی طور پر 134 روپے 60 پیسے کا بھاری ٹیکس اور اضافی اخراجات ادا کر رہے ہیں، جبکہ فی الوقت پٹرول کی اصل قیمت 229 روپے 75 پیسے فی لیٹر بتائی گئی ہے۔

دستاویزات کی تفصیلات کے مطابق پٹرول پر فی لیٹر 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کاربن لیوی عائد کی گئی ہے، جبکہ 21 روپے 15 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور تقریباً 3 روپے پریمیم بھی فی لیٹر قیمت میں پہلے سے شامل کیے گئے ہیں۔ مزید برآں پٹرول کی حتمی فروخت کی رقم میں 7 روپے 60 پیسے ریفائنری و فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مقررہ منافع اور 9 روپے 98 پیسے پٹرول پمپ ڈیلرز کا مارجن شامل ہوتا ہے۔

دوسری جانب معیشت کی شاہ رگ سمجھے جانے والے ڈائریکٹ ڈیزل کی بات کی جائے تو ایک لیٹر ڈیزل پر مجموعی ٹیکسز اور اخراجات کی رقم 118 روپے 55 پیسے بتائی گئی ہے، جو کہ ڈیزل کی کل فروخت کی قیمت کا تقریباً 31 فیصد بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں ڈیزل کی اصل بنیادی قیمت 267 روپے 40 پیسے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق ڈیزل پر بھی حکومت کی جانب سے 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کاربن لیوی وصول کی جا رہی ہے، جبکہ 15 روپے 68 پیسے کسٹم ڈیوٹی اور ایک روپیہ پریمیم کی مد میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 2 پیسے فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل کمپنیوں کا منافع اور 9 روپے 98 پیسے ڈیلرز کا کمیشن و مارجن بھی شامل کیا جاتا ہے۔

معاشی ماہرین اور رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات پر عائد یہ بھاری لیوی، کسٹم ڈیوٹیز، کمپنیوں کے منافع اور دیگر اخراجات ہی عوام کے لیے ایندھن کی حتمی مہنگی قیمت اور ملک میں افراطِ زر کا بنیادی سبب بن رہے ہیں۔

برطانیہ کی پابندیوں پر اسرائیل کا شدید جوابی ایکشن: مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا باضابطہ اعلان

محمود احمد, September 09,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف تاریخی پابندیوں اور بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر مکمل درآمدی قدغن کے اعلان کے جواب میں اسرائیل نے انتہائی سخت اور غیر معمولی سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے مشرقی یروشلم میں واقع برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے گزشتہ روز پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں حکومت کا تاریخی فیصلہ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ برطانیہ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم تمام غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیائے صرف اور مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان پابندیوں کے تحت بستیوں کی تعمیری سرگرمیوں، انفراسٹرکچر، مالیاتی معاونت اور رئیل اسٹیٹ میں سہولت کاری فراہم کرنے والی مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی سخت مالی و قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے واضح کیا تھا کہ یہ جامع فیصلہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے اور اس سے جڑے معاشی تعلقات کے حوالے سے برطانوی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ برطانوی حکومت نے مغربی کنارے میں انتہا پسند آبادکاروں کے تشدد، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے کے تحت نئی بستیوں کی تعمیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ سمیت 12 اتحادی ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بستیوں کی مسلسل توسیع بند کرے اور دو ریاستی حل کے تمام سفارتی راستے مسدود کرنے سے گریز کرے۔

برطانیہ کے ان اقتصادی و سفارتی اقدامات پر اسرائیل نے نپٹا ہوا اور سخت ترین جوابی حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے برطانوی فیصلے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ پر عالمی برادری میں “سنگین اور من گھڑت جھوٹ” پھیلانے کا براہِ راست الزام عائد کیا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی حکومت نے ردِعمل کے طور پر مشرقی یروشلم میں سالہا سال سے قائم برطانوی قونصل خانے کے دفتری آپریشنز کو مکمل طور پر بند کرنے اور سفارتی عملے کی سہولیات محدود کرنے سمیت متعدد جوابی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔

دوطرفہ سفارتی کشیدگی کا یہ نیا اور خوفناک دور ایک ایسے نازک لمحے پر شروع ہوا ہے جب اسرائیل نے مغربی کنارے کے انتہائی حساس علاقے ای 1 میں نئی بستیوں کی تعمیر کے لیے باضابطہ ٹینڈرز جاری کیے ہیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے رکن ممالک اس منصوبے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ای 1 منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کو مشرقی یروشلم سے جغرافیائی طور پر الگ تھلگ کر کے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی تمام امیدوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ اسرائیل کے اس تازہ ترین جوابی قدم کے بعد برطانیہ اور تل ابیب کے درمیان سفارتی و تجارتی تعلقات بدترین تنزلی کا شکار ہو چکے ہیں۔

اروناچل پردیش میں بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان دو روزہ مذاکرات

محمود احمد, September 09,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر طویل عرصے سے جاری شدید عسکری کشیدگی کو کم کرنے کے تناظر میں بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان اروناچل پردیش کے حساس سرحدی علاقے میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے دو دور کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے دہلی میں پریس بریفنگ کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اعلیٰ عسکری سطح کی پہلی فلیگ میٹنگ 6 ستمبر کو اروناچل پردیش میں بھارت کی جانب واقع واچا کے مقام پر ہوئی، جبکہ مذاکرات کی دوسری اہم ملاقات 7 ستمبر کو چین کی حدود میں واقع دامائی میں منعقد کی گئی۔ یہ مشرقی سیکٹر کی سرحد پر دونوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک کے درمیان پہلی باضابطہ کور کمانڈر سطح کی عسکری و سفارتی ملاقات تھی۔

وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں ممالک کے کمانڈروں کے درمیان یہ اہم مذاکرات اپر سبانسری کے متنازع ٹاکسنگ علاقے میں حال ہی میں پیدا ہونے والی عسکری کشیدگی کے پس منظر میں منعقد کیے گئے۔ بھارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام ملاقاتیں اگست 2025 اور اگست 2026 میں دونوں ممالک کے خصوصی نمائندوں کے درمیان طے پانے والی اعلیٰ سطحی مفاہمت، نیز مئی اور اگست 2026 میں بیجنگ اور نئی دہلی میں منعقدہ ورکنک میکنزم فار کنسلٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے فیصلوں کے تسلسل کے طور پر عمل میں لائی گئی ہیں۔

رندھیر جیسوال نے پریس کانفرنس کے دوران دو روزہ مذاکرات کے حتمی نتائج یا تفصیلی معاہدے کی فوری معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مغربی سیکٹر میں بھی اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان اسی نوعیت کا فعال اور مربوط رابطہ موجود ہے، جو سال 2020 میں وادیٔ گلوان میں ہونے والی خونریز عسکری جھڑپوں کے بعد قائم کیا گیا تھا۔

بھارت اور چین کے درمیان طویل مشترکہ سرحد پر سرحدی تنازع کے باعث ایل اے سی کے متعدد حساس حصوں پر فوج کی بھاری نفری تعینات رہی ہے۔ تاہم حالیہ مہینوں کے دوران دونوں ممالک نے باہمی عسکری و سفارتی رابطوں کو تیز کر کے کشیدگی میں کمی لانے اور سفارتی تعلقات کو استوار کرنے کی کاوشیں شروع کر رکھی ہیں۔ بھارتی ترجمان کے مطابق دوطرفہ تعلقات بتدریج مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مذاکرات کا یہ تازہ اور اہم دور چینی صدر شی جن پنگ کے بھارت میں متوقع برکس سربراہی اجلاس کے اہم دورے سے محض چند روز قبل سامنے آیا ہے، جسے خطے میں طاقت کے توازن اور دوطرفہ تعلقات کی بہتری کی کوششوں میں انتہائی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانیہ کا مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی کا تاریخی اعلان

محمود احمد, September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات اور اشیائے صرف کی درامد پر باضابطہ طور پر مکمل پابندی عائد کرنے سمیت بستیوں کی غیر قانونی توسیع اور پھیلاؤ کے خلاف متعدد سخت اقدامات کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے منگل کے روز پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں خطاط کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت ایک انتہائی جامع اور سخت پابندیوں کا بین الاقوامی نظام متعارف کرانے جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس پابندی کا بنیادی ہدف صرف غیر قانونی طور پر قائم کی گئی اسرائیلی بستیاں اور ان کے پھیلاؤ کو روکنا ہے، جبکہ اس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ مجموعی یا عمومی دوطرفہ تجارت کو نقصان پہنچانا ہرگز نہیں ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے اپنے سخت ترین موقف کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ برطانوی عوام یہ پسند کریں گے کہ ملک کی مارکیٹوں اور دکانوں میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع غیر قانونی بستیوں کی مصنوعات بیچ کر فلسطینی سرزمین پر قبضے اور تسلط کی مالی حمایت کی جائے۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے بھی مشترکہ اور قومی سطح پر مغربی کنارے کی ان بستیوں کی اشیا پر پابندیاں نافذ کرنے کا باقاعدہ اعادہ کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق ان نئے قانونی اقدامات میں مناسب اور مخصوص مذہبی استثنا بھی شامل رکھا جائے گا، تاہم جو افراد، کمپنیاں یا ادارے ان غیر قانونی بستیوں کی تعمیر یا توسیع میں سہولت کاری فراہم کریں گے، انہیں برطانیہ کی جانب سے انتہائی شدید اقتصادی و سفارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے اندر مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں اور ان سے منسلک کاروباری اشتہارات کی نمائش پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمان میں دہرایا گیا کہ بین الاقوامی قانون کی نظر میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں اور متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے سمیت بستیوں کی یہ مسلسل توسیع دو ریاستی حل کے تمام سفارتی امکانات کو تباہ کر رہی ہے۔ وزیر خارجہ نے پارلیمان میں برطانوی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ لندن حکومت مغربی کنارے میں فلسطینی باشندوں کی مسلسل جبری بے دخلی اور خطے کے بگڑتے حالات کو ‘نسلی صفائی’ کے مترادف سمجھتی ہے۔

برطانیہ کے اس فیصلے پر تل ابیب کے حکام کی جانب سے شدید اور تلخ ردِعمل سامنے آیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے بھی برطانوی اقدامات پر تنقید کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس حتمی فیصلے کے بعد برطانیہ اور اسرائیل کے دوطرفہ تعلقات میں مزید بگاڑ اور شدید سفارتی کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔