عدلیہ کی آزادی میں کمی، آئینی ترمیم اور عدالتی فیصلوں پر تشویش

آئینی ترامیم، عدالتی فیصلوں اور سیکیورٹی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے گئے

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز ڈیسک): انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی سالانہ رپورٹ میں ملک میں آزادی اظہار، شہری آزادیوں اور عدلیہ کی خودمختاری سے متعلق سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کے دوران ایسے اقدامات دیکھنے میں آئے جنہوں نے اختیار اور احتساب پر سوال اٹھانے والے افراد کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا، جس کے باعث مجموعی انسانی حقوق کی صورتحال متاثر ہوئی۔

⚖️ عدلیہ اور آئینی ترامیم

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی تقرریوں کے عمل میں انتظامیہ کے کردار میں اضافہ ہوا، جس سے عدلیہ کی آزادی پر اثرات مرتب ہونے کا تاثر پیدا ہوا۔

مزید برآں، بعض عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں سویلین افراد کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی راہ ہموار ہونے پر بھی قانونی حلقوں میں بحث جاری ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ ایک سیاسی جماعت کو مخصوص نشستوں سے محروم کیے جانے کے فیصلے نے جمہوری عمل کو محدود کرنے کے خدشات کو جنم دیا۔

🗣️ آزادی اظہار اور قانون سازی

ایچ آر سی پی کے مطابق پیکا ایکٹ، غداری اور انسداد دہشت گردی سے متعلق قوانین کا استعمال صحافیوں، سیاسی کارکنوں، وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھمکیوں، جبری گمشدگیوں اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث خود سنسرشپ کا رجحان بڑھا اور عوامی گفتگو محدود ہو کر رہ گئی۔

🚨 سیکیورٹی اور انسانی حقوق

رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں ترامیم کے ذریعے بعض اداروں کو بغیر الزام اور عدالتی نگرانی کے افراد کو حراست میں رکھنے کے اختیارات دیے گئے، جس سے بنیادی حقوق متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے گئے۔

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشنز کے دوران عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا گیا، جبکہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت اقدامات کے واقعات پر تشویش ظاہر کی گئی۔

👥 کمزور طبقات کی صورتحال

رپورٹ کے مطابق خواتین، بچوں، مذہبی اقلیتوں اور ٹرانس جینڈر افراد سمیت مختلف کمزور طبقات کو تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا رہا۔

اسی طرح کان کنوں اور صفائی کے شعبے سے وابستہ افراد کی حفاظت کے حوالے سے بھی خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔