ٹرمپ کا ایران پر سخت مؤقف، جوہری پروگرام پر تشویش برقرار

Friday,1 My 2026 : محمود احمد

واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی نئی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان سے مطمئن نہیں ہیں اور ایران کو کسی بھی حالت میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کو اپنی حتمی تجاویز دے دی ہیں تاہم موجودہ پیش رفت ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے جاری ہیں اور بعض امور پر پیش رفت ہوئی ہے تاہم ابھی تک کسی معاہدے تک پہنچنے کا کوئی یقین نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی قیادت میں اختلافات ہیں اور وہ مختلف دھڑوں میں تقسیم نظر آتا ہے جس سے مذاکرات میں پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے یا مزید کشیدگی کی طرف بڑھنا چاہتا ہے۔

پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ پاکستان کی قیادت کا احترام کرتے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

دریں اثناء ایران کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ تہران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو مذاکرات اور ممکنہ جنگ بندی کی نئی تجاویز بھیجی ہیں جن کی وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ان تجاویز کی تفصیلات فی الوقت عام نہیں کی جا سکتیں۔

سی این این سمیت میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے جن میں علاقائی سمندری راستوں سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، مجوزہ معاہدہ مبینہ طور پر ایران سے اس کی جوہری سرگرمیوں پر مضبوط یقین دہانی چاہتا ہے۔