پانڈا بانڈ پاکستان کیلئے نئی امید یا قرضوں کا نیا بوجھ؟

Spread the love

کاشف عباسی ,May 17 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد: پاکستان نے چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ میں اپنا پہلا “پانڈا بانڈ” کامیابی سے جاری کرتے ہوئے ایک اہم مالیاتی سنگ میل عبور کر لیا ہے، جسے ماہرین نے نہ صرف بیرونی فنڈنگ کے نئے دروازے کھلنے بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے بحال ہوتے اعتماد کی علامت بھی قرار دیا ہے۔

پاکستان نے اس بانڈ کے ذریعے 1 ارب 75 کروڑ رینمنبی (چینی کرنسی) حاصل کیے، جبکہ اس پر شرحِ منافع صرف 2.5 فیصد رکھی گئی، جو پاکستان کے روایتی بیرونی قرضوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق اس بانڈ کو سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی اور طلب مقررہ حجم سے پانچ گنا زیادہ رہی۔

وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا کہ اس تاریخی بانڈ کے اجرا سے 8 ارب 80 کروڑ رینمنبی سے زائد سرمایہ کاری کی پیشکش موصول ہوئی، جو پاکستان کے معاشی استحکام اور جاری اصلاحات پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔ ان کے مطابق پانڈا بانڈ پاکستان کی مالیاتی حکمتِ عملی میں ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس کا مقصد قرضوں کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اور عالمی سرمایہ کاروں تک رسائی بڑھانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے مغربی مالیاتی اداروں اور عالمی بانڈ مارکیٹوں پر انحصار کرتا رہا ہے، تاہم پانڈا بانڈ کے ذریعے اب چین کی دوسری بڑی عالمی بانڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ مالیاتی امور کے ماہر عبدالرحمان وڑائچ کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کو چینی مالیاتی نظام کے ساتھ مزید مربوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے مستقبل میں نجی چینی سرمایہ کاری کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان معاشی استحکام اور اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھتا ہے تو یہ بانڈ ملک کے لیے مزید سستی بیرونی فنانسنگ کے دروازے کھول سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی بانڈ مارکیٹوں میں مستقل رسائی حکومتوں کو مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور بہتر گورننس پر بھی مجبور کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق صرف دو سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار تھا، زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر پہنچ چکے تھے اور عالمی سرمایہ کار پاکستان سے دور ہو رہے تھے، ایسے میں 2.5 فیصد شرح پر فنڈنگ حاصل کرنا غیر معمولی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

تاہم اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کامیابی کے باوجود پاکستان کی بنیادی معاشی کمزوریاں اب بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بانڈ کو ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی ضمانتوں کی وجہ سے بہتر ریٹنگ حاصل ہوئی، جس سے سرمایہ کاروں کے خدشات کم ہوئے۔ اگر یہ ضمانتیں نہ ہوتیں تو پاکستان کو کہیں زیادہ شرح سود پر قرض لینا پڑتا۔

ماہرین کے مطابق پانڈا بانڈ وقتی مالیاتی ریلیف ضرور فراہم کر سکتا ہے، لیکن پائیدار معاشی بہتری کے لیے ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، مالیاتی نظم و ضبط اور سیاسی استحکام ناگزیر ہیں