برکس سمٹ 2026: نئی دہلی میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی یو اے ای کے ولی عہد سے اہم ملاقات

محمود احمد, September 12,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے ہفتے کے روز بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سے ایک اہم اور تزویراتی ملاقات کی ہے۔

نئی دہلی دورے کے پہلے روز ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی مصروفیت انتہائی اہم رہی، جہاں انہوں نے برکس کے مرکزی اجلاس، اقتصادی سربراہی اجلاس اور برکس رہنماؤں کے اہم بند کمرہ اجلاس سے تفصیلی خطاب کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بھارت کے ممتاز مذہبی رہنماؤں، دانشوروں اور نامور بھارتی کاروباری شخصیات سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں۔

ایرانی صدر اور اماراتی ولی عہد کی یہ اعلیٰ سطحی ملاقات ایک ایسے حساس وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری شدید جنگی صورتحال کے دوران تہران کی جانب سے خطے میں متحدہ عرب امارات سب سے زیادہ ایرانی عسکری کارروائیوں اور حملوں کی زد میں رہا ہے۔

ایرانی صدارتی دفتر کے مطابق صدر مسعود پیزشکیان نئی دہلی میں برکس اجلاس کے موقع پر دیگر عالمی رہنماؤں، وزرائے اعظم اور بین الاقوامی حکام سے بھی تفصیلی ملاقاتیں اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

واضح رہے کہ نئی دہلی میں جاری اس تاریخی برکس سربراہی اجلاس 2026ء میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ سمیت دنیا کے اہم ترین اور اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک کے سربراہانِ مملکت اور نمائندے شریک ہیں۔

ایران کا معائنہ کاروں کی سلامتی کے تحفظ سے انکار: جوہری ادارے کے سربراہ محمد اسلامی آئی اے ای اے جنرل کانفرنس کے لیے ویانا روانہ

محمود احمد, September 12,2026

ویانا (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی 70ویں جنرل کانفرنس میں ایران کی نمائندگی کے لیے اہم اور انتہائی تزویراتی دورے پر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا روانہ ہو گئے ہیں۔

ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ محمد اسلامی کا یہ ویانا کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ ہفتے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی مبینہ “عدم تعمیل” اور ایرانی عدم تعاون کی پاداش میں ایران کا دوسیہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے کی تاریخی اور سخت قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی تھی۔

بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق یہ سخت ترین بین الاقوامی قرارداد مغربی طاقتوں یعنی امریکہ، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی تھی، جس پر تفصیلی بحث کے بعد بورڈ آف گورنرز کے کل 35 رکن ممالک میں سے 23 نے واضح طور پر قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا تھا، جبکہ دیگر ارکان نے مخالفت يا ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا راستہ اختیار کیا تھا۔

اقوام متحدہ میں معاملے کے اٹھائے جانے اور بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے جواب میں ایران کی جانب سے باضابطہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ خطے میں جاری جنگی صورتحال اور اس کی قومی جوہری تنصیبات پر متوقع حملوں اور خطرات کے پیشِ نظر بین الاقوامی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی سلامتی اور تحفظ کی حتمی ضمانت دینا اب مزید ممکن نہیں رہا ہے۔

محمد اسلامی کا ویانا میں آئی اے ای اے کی جنرل کانفرنس کے موقع پر عالمی حکام اور ڈائریکٹر جنرل سے ملاقاتوں کا امکان ہے، جہاں وہ ایران کی جوہری پالیسی، سلامتی کے خدشات اور مغربی ممالک کے اقدامات پر تہران کے شدید تحفظات اور موقف کو پیش کریں گے۔

آپریشن سندور میں ہلاک فوجیوں کی موت تیرہ مہینے چھپانے پر مودی حکومت کو شدید ہزیمت کا سامنا، بھارتی اپوزیشن اور میڈیا پھٹ پڑے

منصور احمد, JULY 01,2026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

مودی حکومت نے اپنی سیاسی ہزیمت اور ناکامی کو چھپانے کے لیے “آپریشن سندور” میں ہلاک ہونے والے اپنے ہی فوجیوں کے ساتھ مقتدر غداری کر لی ہے، جس پر بھارت کے اندر سے ہی شدید ترین ردِعمل سامنے آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں شروع کیا جانے والا “آپریشن سندور” دراصل مودی حکومت کی دم توڑتی اور گرتی ہوئی سیاست کو سہارا دینے کا ایک انتہائی ناکام تزویراتی حربہ تھا۔ معروف بھارتی جریدے “دی ہندو” کی ایک مقتدر رپورٹ کے مطابق، بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کے سچ اور اس میں ہونے والے جانی نقصان کو پورے تیرہ مہینے تک دنیا اور عوام سے چھپا کر رکھا، جو کہ ان کے اپنے ہی فوجی جوانوں کی قربانی کا سرعام مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

اس لرزہ خیز انکشاف پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کی سرکردہ رہنما سپریا شرینیت نے مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ جوانوں کی ہلاکت پر دانستہ جھوٹ بول کر ان کی قربانیوں کا سرعام مذاق اڑانے والے بزدل ثابت ہوئے ہیں۔ “دی ہندو” کی رپورٹ کے مطابق، ریٹائرڈ ونگ کمانڈر انوما آچاریہ نے بھی مودی حکومت کو سخت آڑے ہاتھوں لیا اور اسے اپنے سیاسی و انتخابی مفاد کے لیے معصوم فوجیوں کو دھوکہ دینے والی تاریخ کی بدترین اور نااہل حکومت قرار دیا۔ اسی طرح، سابق بھارتی فوجی افسر کرنل روہت چوہدری نے مودی حکومت کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ مودی کی ہندوتوا پارٹی صرف الیکشن جیتنے کے لیے فوج کے مقدس نام پر سیاست چمکانے اور ووٹ بٹورنے کا مکروہ دھندا کرتی ہے؛ اس مقتدر جھوٹ اور فریب پر قائم مودی حکومت کو اب ایک لمحہ بھی اقتدار میں رہنے کا حق نہیں، لہٰذا اپوزیشن نے ان سے فوری استعفیٰ اور معافی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

معروف اور مقتدر بھارتی صحافی سوجیت نائر نے اس تزویراتی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ مودی حکومت کے لیے نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے فوجی جوانوں کی جانیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں، بلکہ وہ ان کے لیے صرف اقتدار کی کرسی حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا ایک سستا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن سندور میں بھارتی فوجی جوانوں کی المناک موت کو تیرہ ماہ تک چھپا کر رکھنا کسی طور پر بھی بی جے پی کی فتح نہیں، بلکہ یہ نریندر مودی کی بدترین شکست اور سیاسی ناکامی کا سب سے بڑا اعتراف ہے۔ اس اسکینڈل نے بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت کے دفاعی اور سیاسی انتظام کے کھوکھلے پن کو بری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

حق و حریت کا ابدی بیانیہ: کربلا ناانصافی کے خلاف پکار رہا ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق اور امن کے لیے موثر اقدامات اٹھائے، مشعال حسین ملک

منصور احمد june 26,2026

اسلام آباد (کشمیر امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

جیل میں بند مقتدر حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور ممتاز کشمیری رہنما مشعال حسین ملک نے عالمی برادری پر پرزور انداز میں دباؤ ڈالتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے، انصاف کی فراہمی اور دیرپا امن کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر بامعنی اور موثر اقدامات اٹھائے۔ محرم الحرام کے مقتدر موقع پر جاری کیے گئے اپنے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ کربلا کا لازوال پیغام پوری دنیا میں جاری ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کا ابدی درس دیتا ہے۔

مشعال حسین ملک نے معرکہ کربلا کے نظریاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم قربانی سچائی، انصاف، صبر اور استقامت کی ایک ایسی لازوال علامت ہے جو دنیا بھر میں اپنے وقار اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی مظلوم قوموں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سید الشہداء کی یہ بے مثال قربانی جرات، صداقت اور مقتدر انصاف کے لیے غیر متزلزل عزم کے اعلیٰ ترین انسانی نظریات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کربلا کا پیغام وقت اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہے، جو محکوم اور مظلوم قوموں کو امید، حوصلہ اور طاقت دیتا ہے اور انسانیت کو یہ سکھاتا ہے کہ کس طرح پورے وقار اور استقامت کے ساتھ ظلم کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مقبوضہ وادی کی مقتدر صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے لوگ کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق اور انصاف کے حصول کے لیے بے پناہ مشکلات، مظالم اور لازوال قربانیوں کو برداشت کرتے ہوئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ مشعال حسین ملک نے اصرار کیا کہ محرم الحرام کا یہ مقدس مہینہ امتِ مسلمہ سمیت وسیع تر عالمی برادری کو اس مقتدر ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے کہ وہ ہر حال میں مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں، آپس میں اتحاد، رواداری اور ہمدردی کو فروغ دیں اور معاشرے میں انصاف کے اصولوں کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ غاصبانہ طاقت ہمیشہ عارضی ہوتی ہے جبکہ سچائی، الٰہی قربانی اور اصولوں کی غیر متزلزل عملداری ہمیشہ ابدی رہتی ہے اور دنیا بھر کی آنے والی نسلوں کو حق پر جینے کا حوصلہ دیتی رہے گی۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کا مقتدر خطاب؛ فلسطین اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار، سال 2025ء کے دوران ریکارڈ 38 ہزار سے زائد جانی و حقوقی خلاف ورزیاں رپورٹ، ذمہ دار عناصر کے کڑے احتساب کا مطالبہ

محمود احمد june 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی سنگین صورتحال میں معصوم بچوں کی ابتر ہوتی ہوئی حالت پر شدید ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ جنگ، تشدد اور بنیادی حقوق سے طویل محرومی کے سب سے زیادہ ہولناک اور سنگین اثرات معصوم بچوں کو ہی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام ’’بچوں اور مسلح تنازعات‘‘ سے متعلق منعقدہ اہم کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے غیر ملکی تسلط کے تحت زندگی گزارنے والے بچوں کی حالتِ زار کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے مقتدر برادری کی توجہ دلاتے ہوئے نشاندہی کی کہ صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایک سال کے دوران بچوں کے خلاف وحشیانہ سنگین خلاف ورزیوں کے 12 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے مقتدر خطاب میں واضح کیا کہ غیر ملکی قبضے کی دیگر تمام تر صورتحال میں بچوں کو درپیش گہرے نفسیاتی صدمات اور جسمانی مظالم بھی شدید عالمی تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی تمام صورتحال کی کڑی اور لائیو نگرانی کی جائے اور ان کے بارے میں سلامتی کونسل کو مکمل غیر جانبدارانہ رپورٹنگ فراہم کی جائے تاکہ انسانی حقوق پامال کرنے والے ذمہ دار عناصر کا بلا تفریق احتساب ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ تنازعات اور غیر ملکی قبضے کے حالات میں بچوں کی مشکلات کا کوئی بھی مؤثر حل اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک ان سنگین مسائل کی بنیادی سیاسی و تزویراتی وجوہات کا تدارک نہ کیا جائے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پیشگی سفارت کاری، تنازعات کے دیرپا حل اور اختلافات کے پرامن تصفیے پر زیادہ توجہ دینے کی مقتدر ضرورت پر زور دیا۔

سفیر جدون نے کہا کہ جو عالمی تنازعات اور علاقائی اختلافات طویل عرصے تک حل طلب رہتے ہیں، ان کی انسانی قیمت دنیا کو بہت بھاری چکانی پڑتی ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں اور بالخصوص معصوم بچوں جیسے کمزور طبقات کے کندھوں پر آتا ہے۔ انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے فوری عملی اقدامات کا مقتدر تقاضا کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں مؤثر نگرانی، خلاف ورزیوں کے مرتکبین کو سزا سے استثنا (سزا سے چھوٹ) کے خاتمے، اسکولوں کو حملوں اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال سے محفوظ رکھنے، اور متاثرہ علاقوں میں محفوظ تعلیمی نظام کے فروغ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تمام متحارب فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون، بچوں کے حقوق کے کنونشن اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی مکمل پاسداری کریں۔

پاکستانی مندوب نے اس امر کی نشاندہی کی کہ یہ اہم مباحثہ ’’بچوں اور مسلح تنازعات‘‘ کے مینڈیٹ کے قیام کی تیسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا ہے، جسے 1996ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قائم کیا تھا، اور انہوں نے اس مینڈیٹ کے لیے پاکستان کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کا مقتدر حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ سال 2025ء کے دوران دنیا بھر میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے 38 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس مینڈیٹ کے قیام کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی اور تشویشناک تعداد ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ابھرتے ہوئے نئے خطرات، بشمول بغیر پائلٹ فضائی ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس جدید ہتھیاروں کے نظام، بچوں کو پہلے سے کہیں زیادہ اور غیر معمولی حملوں کی مقتدر زد میں لا رہے ہیں، لہٰذا بچوں کی فلاح و بہبود سلامتی کونسل کی ترجیحات میں ہر صورت سرفہرست رہنی چاہیے۔