اقوام متحدہ میں پاکستان کا مارخور کے تحفظ میں کامیابیوں کا اظہار، پہاڑی حیاتیاتی تنوع کے لیے عالمی تعاون پر زور

Spread the love

محمود احمد May19,2026

نیوز اینڈ نیوز رپورٹ

اقوام متحدہ / نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ مارخور پاکستان کے لیے صرف ایک جنگلی جانور نہیں بلکہ قومی وقار، بقا اور قدرتی حسن کی علامت ہے، جبکہ اس کے تحفظ کے لیے عالمی تعاون وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ میں “مارخور اور پہاڑی حیاتیاتی تنوع: ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے عالمی کوششوں کا فروغ” کے عنوان سے منعقدہ “مارخور کے عالمی دن 2026” کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

تقریب کا انعقاد پاکستان اور تاجکستان کے مستقل مشنز نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور عالمی ادارہ برائے تحفظِ قدرت کے تعاون سے کیا، جس میں سفارت کاروں، ماحولیاتی ماہرین اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ “پہاڑوں کا بادشاہ” کہلانے والا مارخور چترال، کوہستان، کالام، گلگت بلتستان، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر کے بلند پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور یہ پاکستان کے قدرتی ورثے کا اہم حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک دہائی قبل معدومی کے خطرے سے دوچار مارخور کی آبادی میں نمایاں اضافہ پاکستان کی مؤثر تحفظی پالیسیوں، مقامی برادریوں کی شمولیت اور مضبوط سیاسی عزم کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی تحفظی حکمتِ عملی، جس میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پروگرام بھی شامل ہیں، اس کامیابی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی مارخور کے قدرتی مسکن کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے، بارشوں میں کمی اور جنگلاتی تبدیلیوں کے باعث مارخور کے لیے خوراک اور محفوظ ماحول کے مسائل بڑھ رہے ہیں، جبکہ برفانی چیتوں اور دیگر شکاری جانوروں کی نقل و حرکت نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

سفیر عاصم نے کہا کہ غیر قانونی شکار کے خلاف کامیابیوں کے باوجود یہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور اس سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تاجکستان کی ماحولیاتی تحفظ کمیٹی کے چیئرمین بہادر شیر علی زادہ نے بتایا کہ ان کے ملک میں مارخور کی تعداد 1990 کی دہائی میں 300 رہ گئی تھی، جو اب بڑھ کر 7 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے ڈائریکٹر جمیل احمد نے کہا کہ پہاڑی علاقے دنیا کے دیگر خطوں کی نسبت زیادہ تیزی سے موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے گلیشیئرز، پانی کے ذخائر اور حیاتیاتی تنوع کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

عالمی ادارہ برائے تحفظِ قدرت کی مستقل مبصر سوفی سینڈسٹروم جافے نے کہا کہ مارخور کی بحالی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب مقامی برادریوں کو بااختیار بنایا جائے اور سائنسی رہنمائی کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے تو مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مارخور کے عالمی دن کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، پہاڑی ماحولیاتی نظام کی بحالی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے ایک مؤثر عالمی پلیٹ فارم بنایا جائے گا۔