امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار، ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی نگرانی کا دعویٰ کر دیا

Spread the love

محمود احمد May22,2026

:نیوز اینڈ نیوز

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیجی خطے کی صورتحال پر امریکا کی مکمل نظر ہے اور آبنائے ہرمز میں عالمی بحری سرگرمیوں کی نگرانی مؤثر انداز میں جاری رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا خطے میں کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جس سے عالمی تجارتی راستے متاثر ہوں یا بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہو۔

اپنے تازہ بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں اور واشنگٹن ایک ایسے معاہدے کی کوشش کر رہا ہے جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم تمام ممکنہ آپشنز اب بھی زیر غور ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ افزودہ یورینیم ایران کے اندر محفوظ رکھا جائے، کیونکہ اس سے خطے کی سلامتی اور عالمی امن کے حوالے سے خدشات جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کا حل جلد سامنے آ سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری رابطوں میں اہم پیشرفت متوقع ہے اور پاکستان کی سفارتی کوششیں اس عمل میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ذریعے ایک اہم سفارتی وفد تہران پہنچ رہا ہے تاکہ جاری مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔

مارکو روبیو کے مطابق امریکا اس معاملے کا پرامن حل چاہتا ہے، تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو واشنگٹن کے پاس دیگر راستے بھی موجود ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی اضافی بحری پابندیاں یا ٹیکس عالمی سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر فعال ہے اور ملک کسی بھی بیرونی دباؤ یا جارحیت کا مقابلہ کرنے کی بھرپور طاقت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اور مسلح افواج ملکی خودمختاری کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔

ایرانی فوجی قیادت نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی یا اشتعال انگیزی کی گئی تو اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود تہران سفارتی راستہ اختیار کرنے کے حق میں ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

عالمی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تناؤ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو نہایت حساس بنا دیا ہے، جبکہ پاکستان، سعودی عرب، قطر اور دیگر علاقائی ممالک سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہیں