اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ (فلسطین) پر بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد کا بیان

Spread the love

محمود احمد May22,2026

نیویارک: نیوز اینڈ نیوز

اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔

پاکستانی نمائندے نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں گزشتہ دو برسوں سے جاری تباہ کن جنگ نے انسانی زندگی، بنیادی ڈھانچے اور پورے معاشرتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی محدود امید بھی اب مسلسل خطرات سے دوچار ہے جبکہ خطے کی مجموعی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان نے غزہ میں قیامِ امن اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مصر، قطر، ترکیہ اور امریکا کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی ریاست اور عرب ممالک کے مؤقف کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

اجلاس میں غزہ کے انتظامی امور کے لیے قائم عبوری ڈھانچے، قومی انتظامی کمیٹی، سرکاری اداروں کی بحالی، پولیس فورس کی تشکیل اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ رابطوں میں پیش رفت کو مثبت قدم قرار دیا گیا، تاہم پاکستان نے واضح کیا کہ زمینی حقائق اب بھی انتہائی تشویشناک ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں، فضائی حملے اور انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں مسلسل جاری ہیں، جن کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خلاف ورزیوں سے امن عمل کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور عالمی برادری کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

غزہ میں انسانی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ لاکھوں فلسطینی اب بھی عارضی خیموں میں انتہائی خراب حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ صاف پانی، خوراک، ادویات اور طبی سہولیات کی شدید قلت برقرار ہے جبکہ بیشتر اسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ خوراک کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ اور نکاسیٔ آب کے نظام کی تباہی نے بیماریوں اور وباؤں کے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔

پاکستان نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عالمی امدادی وعدوں کو عملی شکل دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ متاثرہ فلسطینی عوام تک فوری مالی اور انسانی امداد پہنچنا ضروری ہے۔

پاکستانی نمائندے نے بین الاقوامی سمندری حدود میں امدادی قافلے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کو روکنے اور انسانی امدادی کارکنوں کی گرفتاری کی شدید مذمت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد میں پاکستانی سماجی کارکن سعد ایدھی بھی شامل ہیں اور ان تمام کارکنوں کی فوری رہائی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

اجلاس میں مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آبادکاری، فلسطینیوں کی بے دخلی اور مسجدِ اقصیٰ میں اشتعال انگیز کارروائیوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات دو ریاستی حل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

پاکستان نے زور دیا کہ غزہ سے متعلق امن منصوبے اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ پاکستانی نمائندے نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر قائم ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔