دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے متاثرین کو مزید 67 کروڑ 77 لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی

Spread the love

منصور احمد ,May 22,2026

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

منصوبے کے متاثرین کو مجموعی طور پر 64 ارب 24 کروڑ روپے سے زائد ادا کیے جا چکے ہیں

اسلام آباد: واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے متاثرہ افراد کو معاوضے کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ضلع اپر کوہستان کے علاقے ہربن کے متاثرین میں مزید 67 کروڑ 77 لاکھ روپے تقسیم کر دیے۔ یہ رقم زمینوں کے حصول اور دیگر املاک کے معاوضے کے طور پر ادا کی گئی۔

معاوضے کے چیک بوشی داس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران متاثرین کے حوالے کیے گئے۔ تقریب میں دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے جنرل منیجر و پراجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر ڈاکٹر نزاکت حسین، ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان عزیز اللہ جان، ڈپٹی کمشنر دیامر لیفٹیننٹ محمد اویس عباسی (ریٹائرڈ)، تھور ہربن گرینڈ امن جرگہ کے اراکین، مقامی عمائدین، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور واپڈا کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے، جو ملک کی پانی، خوراک اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے حقوق کا تحفظ حکومت اور واپڈا کی اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کے تحت شفاف انداز میں معاوضوں کی ادائیگی جاری رکھی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ہربن اور تھور کے قبائل کے درمیان زمین کی حدود سے متعلق کئی دہائیوں پرانا تنازع 2022ء میں تھور ہربن گرینڈ امن جرگہ کی کامیاب کوششوں سے حل ہوا تھا، جس کے بعد متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کی راہ ہموار ہوئی۔ اس جرگے نے خیبرپختونخوا کے ضلع اپر کوہستان اور گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے قبائل کے درمیان مذاکرات کے ذریعے امن معاہدہ کرایا تھا۔

واپڈا حکام کے مطابق ادارہ اب تک اپر کوہستان کی ضلعی انتظامیہ کو 4 ارب 48 کروڑ روپے سے زائد جبکہ ضلع دیامر کی انتظامیہ کو 59 ارب 76 کروڑ روپے سے زیادہ رقم منتقل کر چکا ہے۔ اس طرح دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے لیے زمینوں اور جائیدادوں کے حصول کی مد میں مجموعی ادائیگیاں 64 ارب 24 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 35 ہزار 924 ایکڑ اراضی درکار ہے، جس میں سے اب تک 33 ہزار 848 ایکڑ زمین حاصل کی جا چکی ہے۔ حاصل کی گئی زمین میں گلگت بلتستان کے 32 ہزار 428 ایکڑ جبکہ خیبرپختونخوا کے 1 ہزار 420 ایکڑ شامل ہیں۔

دیامر بھاشا ڈیم دریائے سندھ پر تعمیر کیا جا رہا ہے اور اسے پاکستان کے اہم ترین آبی و توانائی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا جبکہ 4 ہزار 500 میگاواٹ سستی، ماحول دوست اور کم لاگت بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوگی۔

ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ ملک میں زرعی ترقی کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگا کیونکہ اس سے مزید 12 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب کی جا سکے گی۔ علاوہ ازیں دیامر بھاشا ڈیم ہر سال تقریباً 18 ارب یونٹ کم لاگت بجلی پیدا کرے گا، جس سے توانائی بحران میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔