

محمود احمد May30,2026
(نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء):واشنگٹن
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمتی معاہدے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے، تاہم چند اہم اور حساس معاملات پر مذاکرات ابھی بھی جاری ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم ان کی انتظامیہ کو امید ہے کہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی مشاورت کے باوجود بعض بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔
رپورٹس کے مطابق قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ معاہدے میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ بن گیا ہے۔ ایران اپنے منجمد مالی اثاثوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ امریکی حکام اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تہران نے 12 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کو مذاکرات کی اہم شرط قرار دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں آزاد بحری آمدورفت اور خطے میں استحکام کو بھی کسی بھی ممکنہ معاہدے کا اہم حصہ قرار دیا۔
ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج خطے میں ہر ممکن ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
امریکی مرکزی کمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ خطے میں تعینات امریکی فوجی دستے مکمل الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت پر فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے امریکی بیانات پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے لیکن مذاکرات ابھی فیصلہ کن مرحلے میں داخل نہیں ہوئے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم جوہری پروگرام، منجمد اثاثوں اور بعض سکیورٹی معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم موجودہ اختلافات کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کا عمل ابھی مزید وقت لے سکتا ہے۔