کراچی میں وحشیانہ درندگی: 3 سالہ معصوم بچی مبینہ زیادتی اور بدترین تشدد کے بعد قتل، 8 گھنٹے بعد بوری بند لاش برآمد، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی جانب سے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم

Spread the love

روزینہ اسماعیل.june 24,2026

کراچی (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

روشنیوں کے شہر کراچی کے علاقے ملیر قائد آباد میں انسانیت سوز اور انتہائی دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک 3 سالہ معصوم بچی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تھانے میں واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اس گھناؤنے معاملے کا سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے پتے لگانے کے لیے ایک ہائی لیول انویسٹی گیشن کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ معصوم بچی گھر سے باہر کھیلنے کے لیے نکلی تھی لیکن طویل وقت گزرنے کے باوجود واپس نہ آئی۔ گمشدگی کے تقریباً 8 گھنٹے بعد تلاشی کے دوران اس کی شدید تشدد زدہ لاش ایک بوری میں بند ملی۔ مقتولہ کے غمزدہ والد کی مدعیت میں تھانے میں درج کیے گئے اس مقدمے میں اغواء، قتل، جنسی زیادتی، بدترین جسمانی تشدد اور دیگر سنگین قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ آئی جی سندھ نے کیس کی فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف ترین تفتیش کو یقینی بنانے کے لیے ڈی آئی جی ایسٹ کو اس خصوصی تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

اس اعلیٰ سطح کی ٹیم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مقتدر افسران کو شامل کیا گیا ہے، جن میں ڈی آئی جی ایسٹ (سربراہ کمیٹی)، ایس ایس پی ایس آئی یو، ایس ایس پی ملیر، ایس ایس پی اسپیشل برانچ انٹیلی جنس، ایس پی انویسٹی گیشن ملیر، متعلقہ ڈی ایس پی، ایس آئی او اور تفتیشی افسر شامل ہیں۔ یہ خصوصی کمیٹی بچی کے اغواء، اس پر کیے جانے والے بدترین تشدد، مبینہ زیادتی اور قتل کے تمام پہلوؤں کا جدید سائنسی، تکنیکی اور باریک بینی سے جائزہ لے گی، اور ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تفتیشی پیشرفت سے آئی جی سندھ کو باقاعدگی سے آگاہ رکھنے کی پابند ہوگی۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اس گھناؤنے واقعے پر شدید برہمی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ماتحت افسران کو دوٹوک احکامات جاری کیے ہیں کہ ایک ننھی جان کے ساتھ یہ ظلم کرنے والے وحشی عناصر کسی بھی رعایت یا نرمی کے مستحق نہیں ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سفاک ملزمان کی جلد سے جلد گرفتاری کے لیے پولیس اپنے تمام دستیاب وسائل اور جدید ترین انویسٹی گیشن ٹولز بروئے کار لائے تاکہ مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر کے سخت ترین سزا دلائی جا سکے، کیونکہ غمزدہ خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کرنا سندھ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔