پاک چین اقتصادی شراکت داری میں تاریخی سنگِ میل: چینی سرمایہ کاری سے قائم کمپنی ‘سروس لانگ مارچ ٹائرز’ کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پہلی لسٹنگ، نجی شعبے کی تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او

Spread the love

کاشف عباسی ,june 28,026۔

اسلام آباد (اقتصادی و تجارتی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

پاکستان اور چین کے درمیان کیپیٹل مارکیٹ تعاون میں ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت دونوں برادر ممالک کی کیپیٹل مارکیٹس میں براہِ راست روابط بڑھنے سے دوطرفہ معاشی و تزویراتی شراکت داری مزید مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں پاک-چین مشترکہ ٹائر کمپنی “سروس لانگ مارچ ٹائرز” نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اپنی تاریخی لسٹنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جسے ملکی مالیاتی تاریخ میں ایک مقتدر موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

سروس لانگ مارچ ٹائرز دراصل پاکستان کے معروف ’’سروسز گروپ‘‘ اور چین کی مقتدر ’’چاؤیانگ لانگ مارچ ٹائر کمپنی‘‘ کا ایک مشترکہ تزویراتی منصوبہ ہے۔ یہ پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ چینی سرمایہ کاری اور اشتراک سے قائم کسی صنعتی کمپنی نے پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں اپنی باقاعدہ عوامی لسٹنگ کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مالیاتی اور کارپوریٹ تعاون میں ایک مقتدر سنگِ میل ہے۔ کمپنی نے اس پبلک لسٹنگ کے ذریعے مارکیٹ سے ریکارڈ 28 ملین امریکی ڈالر حاصل کیے ہیں، جو پاکستان کے نجی شعبے کی تاریخ کا سب سے بڑا انیشل پبلک آفرنگ ثابت ہوا ہے۔ اس بھاری کثیر الجہتی سرمایہ کاری سے ملک میں مقامی سطح پر ٹائر سازی کی صنعتی صلاحیت میں گراں قدر اضافہ ہوگا، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ بچانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ملکی برآمدات کو بھی بھرپور فروغ حاصل ہوگا۔

اس مقتدر تزویراتی کامیابی کے بعد دونوں ممالک کی مالیاتی انتظامیہ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ کیپیٹل مارکیٹ کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان اور چین ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کی بنیاد پر مارکیٹ انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور مشترکہ سرمایہ کاری کی نئی مصنوعات، بالخصوص “اسلامی فنانس” کے شعبے میں تعاون کو مقتدر خطوط پر آگے بڑھائیں گے۔ معاشی ماہرین اور تجارتی حلقوں نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اس نوعیت کی لسٹنگ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور مالیاتی تعاون کے روشن مستقبل کی عکاس ہے، جو آنے والے دنوں میں مزید چینی کمپنیوں کو پاکستانی مارکیٹ کا رخ کرنے کی مقتدر ترغیب دے گی۔