عدالت عظمیٰ نے محکمہ ریونیو سندھ کے مختیارکاروں کی سینیارٹی سے متعلق سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے تمام درخواستیں مسترد کر دیں؛ پچاس فیصد براہ راست بھرتی اور پچاس فیصد ترقی کے مقررہ کوٹے پر سختی سے عمل درآمد کا حکم

Spread the love
Woman's inheritance can only be claimed in her lifetime: SC - Pakistan - Aaj English TV

کاشف عباسی ,june 28,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک اہم اور تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کو صرف اس وقت ترقی اور سینیارٹی کا حق حاصل ہوگا جب اس کے مقررہ کوٹے میں باقاعدہ خالی آسامی موجود ہو جبکہ قواعد کے برخلاف یا خالی آسامی کے بغیر دی گئی کسی بھی ترقی کی بنیاد پر سابقہ تاریخ سے سینیارٹی کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے محکمہ ریونیو سندھ کے مختیارکاروں کی سینیارٹی سے متعلق مقدمے میں سندھ سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے دائر کردہ تمام سول پٹیشنز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں تزویراتی اور قانونی باریکیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیفرمنٹ اور سپرسیشن دو بالکل الگ قانونی تصورات ہیں جن میں ڈیفرمنٹ کسی ملازم کی ذاتی نااہلی کو ظاہر نہیں کرتی بلکہ محض انتظامی وجوہات کی بنا پر ترقی کے عمل میں ایک عارضی تاخیر ہوتی ہے جبکہ اس کے برعکس سپرسیشن اس وقت ہوتی ہے جب کسی افسر کو اس کی اہلیت، کارکردگی یا دیگر ٹھوس قانونی وجوہات کی بنیاد پر ترقی کے لیے موزوں نہ سمجھا جائے۔ سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں اس بات پر سخت زور دیا کہ پچاس فیصد براہِ راست بھرتی اور پچاس فیصد ترقی کے مقررہ کوٹے پر ہر حال میں سختی سے عمل درآمد کیا جانا ضروری ہے اور کسی بھی صورت میں کراس کوٹہ ترقی یا مقررہ منظور شدہ آسامیوں سے زیادہ ترقیاں نہیں دی جا سکتیں۔ عدالت عالیہ نے مزید واضح کیا کہ محکمہ ریونیو سندھ نے سپریم کورٹ کے سال دو ہزار اکیس کے فیصلے کی روشنی میں ہی نئی سینیارٹی لسٹ مرتب کی ہے جس میں سندھ سول سرونٹس ایکٹ انیس سو تہتر اور سندھ سول سرونٹس رولز انیس سو پچہتر کے طے شدہ قوانین کے مطابق سینیارٹی کا درست تعین کیا گیا ہے لہٰذا سندھ سروس ٹربیونل کے جاری کردہ فیصلے میں مداخلت کی کوئی بھی قانونی یا آئینی وجہ موجود نہیں ہے۔