قیدی وین سے حوالاتیوں کے فرار کیس میں تفتش تیز، سیکیورٹی پر تعینات سب انسپکٹر سمیت پانچ پولیس اہلکار حراست میں لے لیے گئے

Spread the love

منصور احمد june 30,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

چکیاں پوسٹ کے قریب قیدی وین سے خطرناک حوالاتیوں کے فرار ہونے کے سنسنی خیز واقعے کی تحقیقات میں مقتدر پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں غفلت برتنے اور مبینہ سہولت کاری کے شبہے میں سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات پانچ پولیس اہلکاروں کو باقاعدہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تزویراتی ذرائع کے مطابق زیرِ حراست اہلکاروں میں سب انسپکٹر امتیاز، ہیڈ کانسٹیبل یاسر، کانسٹیبل محرم اور کانسٹیبل عزیر سمیت ڈیوٹی پر موجود دیگر اہلکار شامل ہیں، جنہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر کے واقعے کے مختلف محرکات پر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

تحقیقاتی مقتدرہ کے مطابق، معاملے کی کڑی نگرانی کرتے ہوئے اڈیالہ گارڈ کے سیکیورٹی اہلکاروں کے موبائل فونز قبضے میں لے کر ان کے کال ریکارڈ کا فرانزک جائزہ شروع کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی اندرونی رابطے کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، فرار ہونے والے ملزمان سے عدالت میں پیشی کے دوران ملاقات کرنے والے مشکوک افراد اور ان کے لواحقین کی تمام تر تفصیلات بھی حاصل کر لی گئی ہیں تاکہ بیرونی سہولت کاروں کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔ دوسری جانب، فرار کے فوری بعد ناکہ بندی کے دوران دوبارہ گرفتار کیے جانے والے چار ملزمان کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے سہالہ پولیس کے مقتدر حوالے کر دیا گیا ہے، تاہم پولیس تاحال فرار ہونے والے بقیہ دس مقتدر حوالاتیوں میں سے کسی ایک کو بھی دوبارہ پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

یاد رہے کہ گزشتہ شام کہوٹہ کچہری سے قانونی پیشی بھگتانے کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے والے قیدی چکیاں پوسٹ کے قریب اس وقت وین سے فرار ہو گئے تھے جب انہوں نے سوچی سمجھی تزویراتی منصوبہ بندی کے تحت وین کے اندر تعینات ایک سیکیورٹی اہلکار کی آنکھوں میں مرچیں پھینکیں اور افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہتھکڑیوں سمیت موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس سنگین ترین واقعے کے فوری بعد راولپنڈی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی جانب سے مضافاتی علاقوں، جنگلات اور ممکنہ ٹھکانوں پر فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن اور چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔