

منصور احمد, JULY 10,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء
وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق مقدمے کا 10 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کے احکامات باقاعدہ واپس لے لیے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں جاری کیے گئے اس مقتدر فیصلے میں واشگاف طور پر قرار دیا گیا ہے کہ عدالتیں اپنے سامنے موجود اصل تنازع تک ہی محدود رہیں اور غیر ضروری معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔ تحریری فیصلے کے مطابق، سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی طور پر لیاری کی ایک غیر قانونی عمارت سے متعلق اپیل زیر سماعت تھی، تاہم عدالت نے اس مقدمے کا دائرہ کار پہلے پورے لیاری اور پھر تزویراتی طور پر پورے کراچی شہر تک وسیع کر دیا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے زیر سماعت مقدمے سے آگے بڑھ کر غیر قانونی شادی ہالز، شاپنگ سینٹرز، مارکیٹس اور کراچی ماسٹر پلان کے خلاف تعمیرات کو مسمار کرنے جیسے وسیع احکامات جاری کیے، جو عدالتی اختیارات سے تجاوز کے مترادف تھے۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے مقتدر فیصلے میں قرار دیا کہ بلڈنگ قوانین اور تعمیرات سے متعلق جملہ معاملات صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ آئین اور قانون سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور سندھ حکومت کو غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے کا قانونی پابند بناتے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانونی نظام اور متعلقہ انتظامی ادارے پہلے سے موجود ہیں، اس لیے مروجہ قانون کے مطابق انہی اداروں کو اپنی تزویراتی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہییں۔ عدالت نے مزید کہا کہ صرف ایس بی سی اے کی ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر کسی بھی عمارت کو مسمار کرنے کا یکطرفہ حکم نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ہر شہری کا یہ بنیادی آئینی حق ہے کہ اس کے خلاف کوئی بھی کارروائی مکمل قانونی تقاضوں اور شفاف طریقہ کار کے مطابق عمل میں لائی جائے۔
عدالتی فیصلے میں تزویراتی طور پر واضح کیا گیا کہ وفاقی آئینی عدالت کسی بھی غیر قانونی تعمیر کو جائز قرار نہیں دے رہی، بلکہ یہ اصول طے کر رہی ہے کہ ایسی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لیے قانون اور ضابطہ پہلے سے موجود ہے، جس پر صرف متعلقہ اداروں کو ہی عملدرآمد کرنا چاہیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ اصل مقدمہ لیاری کی ایک مخصوص عمارت سے متعلق تھا، جو فریقین کے مطابق اب غیر مؤثر ہو چکا ہے، لہٰذا سپریم کورٹ کی جانب سے اس مقدمے میں جاری کیے گئے تمام سابقہ احکامات واپس لیتے ہوئے کیس کو باقاعدہ نمٹا دیا گیا ہے۔ اس تحریری فیصلے کے ساتھ جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے ایک اضافی نوٹ بھی تحریر کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور عوامی سہولیات کا تحفظ ریاست کی اولین اور مقتدر ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پارکس، کھیل کے میدان، گرین بیلٹس، فٹ پاتھ، ساحل اور دیگر عوامی مقامات کو غیر قانونی قبضوں اور غیر قانونی تبدیلیوں سے ہر صورت محفوظ بنایا جائے۔