وزیرِ داخلہ سندھ کی انمول پنکی کو ‘بہادری’ کی سند: عدالت سے نہ بھاگنے پر شکریہ ادا کر کے سب کو حیران کر دیا

محمود احمد May13,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز): صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کوکین ڈیلر انمول پنکی کی عدالت میں پیشی کے دوران پولیس کے ناقص انتظامات اور کمزور کسٹڈی پر شدید مایوسی اور شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے نظام کے لیے لمحہ فکریہ قرار دے دیا ہے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انتہائی طنزیہ انداز میں کہا کہ جس طرح کی پولیس کسٹڈی دیکھی گئی، اس پر وہ ملزمہ کے شکر گزار ہیں کہ وہ عدالت سے بھاگی نہیں، ورنہ وہاں فرار ہونے سے روکنے کے لیے خاطر خواہ انتظامات موجود نہ تھے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بطور سربراہِ محکمہ انہیں اس صورتحال پر شدید شرمندگی ہے کہ کیا اس طرح سے نظام چلایا جائے گا۔

انہوں نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جس میں ایڈیشنل آئی جی، انٹیلی جنس کے نمائندے اور بیورو کریٹس شامل ہوں گے، جو اس بات کا جائزہ لیں گے کہ پولیس کا چالان کتنا مضبوط تھا اور کوتاہی کہاں ہوئی۔ ضیاء الحسن لنجار نے خاتون مجسٹریٹ کی جانب سے ریمانڈ نہ دیے جانے پر بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے کیس میں 24 گھنٹے کا ریمانڈ بھی نہ ملنا سوالیہ نشان ہے، جس کے خلاف وہ باقاعدہ درخواست دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملزمہ انمول پنکی ایک ‘چلتی پھرتی منشیات کی فیکٹری’ ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ وہ کسی صورت رہا نہ ہو سکے۔ وزیر داخلہ نے مزید انکشاف کیا کہ کراچی منشیات کے گینگز کا گڑھ بن چکا ہے اور انمول پنکی کے علاوہ بھی کئی گروہ یہاں سرگرم ہیں جن کے خلاف انٹیلی جنس اور پولیس کی محنت سے کریک ڈاؤن جاری ہے، تاہم اس کیس میں جو بھی پولیس افسر ذمہ دار پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی اور گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔