

کاشف عباسی ,May 14 ,2026
یجنگ (نیوز اینڈ نیوز): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان آج بیجنگ کے تاریخی ‘گریٹ ہال آف دی پیپل’ میں ایک انتہائی اہم ملاقات ہو رہی ہے۔ اس ملاقات کے ایجنڈے پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ، تائیوان کے معاملات اور دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تجارتی تناؤ جیسے حساس موضوعات چھائے ہوئے ہیں۔
ایک دہائی بعد تاریخی دورہ
گزشتہ دس سالوں میں کسی بھی امریکی صدر کا چین کا یہ پہلا دورہ ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ ایران کے ساتھ ایک شدید جنگ میں مصروف ہے، جس کی وجہ سے توانائی کی عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہو چکا ہے اور واشنگٹن کو اب تک 29 بلین ڈالر سے زائد کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اصل میں یہ ملاقات مارچ میں ہونی تھی، لیکن ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے باعث شروع ہونے والی جنگ کی وجہ سے اسے مؤخر کرنا پڑا۔
ٹیکنالوجی جائنٹس کی شرکت اور معاشی ایجنڈا
صدر ٹرمپ کے اس دورے کی خاص بات ان کے ہمراہ ٹیسلا (Tesla) کے ایلون مسک، اینویڈیا (Nvidia) کے جینسن ہوانگ اور ایپل (Apple) کے سربراہان سمیت درجن بھر اعلیٰ حکام کی موجودگی ہے۔ ایئر فورس ون کے ذریعے بیجنگ پہنچنے پر صدر ٹرمپ کا ریڈ کارپیٹ استقبال کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پیغام میں امید ظاہر کی کہ وہ چینی صدر سے مارکیٹ کو مزید ‘کھولنے’ کی درخواست کریں گے تاکہ باصلاحیت چینی عوام اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔
ملاقاتوں کا شیڈول اور اہداف
بیجنگ پہنچنے پر 300 چینی نوجوانوں نے سفید لباس میں امریکی صدر کا استقبال کیا۔ اپنے قیام کے دوران صدر ٹرمپ تاریخی ‘ٹیمپل آف ہیون’ کا دورہ بھی کریں گے، جبکہ جمعہ کو وطن واپسی سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان چائے پر ملاقات اور ورکنگ لنچ بھی طے ہے۔ دوسری جانب چین نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ تعاون کو فروغ دینے اور باہمی اختلافات کو بہتر انداز میں مینیج کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔