نئی دہلی میں بریکس اجلاس کے موقع پر ایران، روس، چین، مصر، انڈونیشیا اور قازقستان کے وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات

Spread the love

محمود احمد, September 13,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں جاری 18ویں بریکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران، روس، چین، مصر، انڈونیشیا اور قازقستان کے وزرائے خارجہ نے اہم گروپ ملاقات میں شرکت کی، جس میں عالمی و علاقائی صورتحال، اقتصادی تعاون اور بین الاقوامی سطح پر کثیرالجہتی سفارت کاری کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے نئی دہلی میں بریکس اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ متعدد ملاقاتیں اور مشاورت کی۔ ان رابطوں میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سمیت دیگر اہم سفارتی شخصیات کے ساتھ بات چیت شامل رہی۔

وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والی یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں اہمیت رکھتی ہیں جب بریکس ممالک عالمی سیاسی اور اقتصادی نظام میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے کردار کو بڑھانے، کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط کرنے اور بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات کی حمایت پر زور دے رہے ہیں۔

18واں بریکس سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر 2026ء کو نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے۔ بھارت رواں سال بریکس کی صدارت کر رہا ہے اور اجلاس کا مرکزی موضوع لچک، جدت، تعاون اور پائیدار ترقی کے ذریعے جامع عالمی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

بریکس اب پہلے کے مقابلے میں ایک زیادہ وسیع پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ موجودہ مکمل رکن ممالک میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، ایران، انڈونیشیا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ قازقستان سمیت متعدد ممالک بریکس کے شراکت دار ممالک کے طور پر اس کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔

نئی دہلی اجلاس میں عالمی حکمرانی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، خوراکی تحفظ، سپلائی چینز اور بین الاقوامی مالیاتی نظام سمیت متعدد اہم موضوعات زیر بحث ہیں۔ عالمی سطح پر جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث بریکس پلیٹ فارم پر ہونے والی سفارتی ملاقاتیں خاص اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

اجلاس کے دوران بریکس رہنماؤں نے عالمی تنازعات کے سفارتی حل، کثیرالجہتی تعاون اور عالمی اداروں میں اصلاحات کے حوالے سے بھی اپنی ترجیحات کا اظہار کیا ہے۔ 12 ستمبر کو منظور کیے گئے نئی دہلی اعلامیے میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تحمل اور سفارتی طریقہ کار پر زور دیا گیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر دستیاب ایرانی اور بین الاقوامی رپورٹس کی بنیاد پر اردو قارئین کے لیے مرتب اور ایڈیٹ کی گئی ہے۔ خبر میں بریکس کے موجودہ رکن ممالک، شراکت دار ممالک اور نئی دہلی اجلاس کے اہم موضوعات کا پس منظر بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو سفارتی ملاقات کی اہمیت کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ مزید سرکاری معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

ماخذ: ایرانی ذرائع، Anadolu Agency، بین الاقوامی رپورٹس