

کاشف عباسی ,May 14 ,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز): پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے خیبر سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے کی جانب سے بیرونِ ملک سیاسی پناہ لینے کے معاملے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں اس وقت سامنے آیا جب وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے الزام لگایا کہ اقبال آفریدی کے بیٹے نے سفارتی پاسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے اٹلی میں سیاسی پناہ لی ہے۔ ان الزامات کے جواب میں اقبال آفریدی نے صحافیوں سے گفتگو اور سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہے اور ان کا 28 سالہ بیٹا حکومت اور اداروں کی مبینہ زیادتیوں اور ہراساں کیے جانے کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوا۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ان سے ہمدردی ہونی چاہیے کیونکہ انہوں نے اپنا بیٹا کھو دیا ہے اور اگر موقع ملا تو وہ خود بھی سیاسی پناہ پر غور کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے حکومتی دعووں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اقبال آفریدی کے بیٹے کے پاس کوئی آفیشل یا نیلا پاسپورٹ نہیں تھا کیونکہ قواعد کے مطابق 18 سال سے زائد عمر کے بچے اس کے اہل نہیں ہوتے۔ شیخ وقاص نے مزید دعویٰ کیا کہ جب بھی پولیس اقبال آفریدی کو گرفتار کرنے میں ناکام رہتی تھی تو ان کے بیٹے کو اٹھا لیا جاتا تھا، جس کے باعث اسے اپنی حفاظت کے لیے ملک چھوڑ کر اٹلی سمیت مختلف ممالک کا سفر کرنا پڑا