افغان میڈیکل طلبہ کا کیس: بلوچستان ہائیکورٹ نے میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم جاری رکھنے کی درخواستیں خارج کر دیں

Spread the love

محمود احمد, September 15,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 15 ستمبر 2026ء

بلوچستان ہائیکورٹ نے افغان شہریوں کی پاکستان میں میڈیکل، ڈینٹل تعلیم اور پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ جاری رکھنے سے متعلق دائر دو آئینی درخواستیں خارج کرتے ہوئے غیر ملکی شہریوں کے قیام، تعلیم اور تربیت سے متعلق ریاستی پالیسی میں مداخلت سے واضح انکار کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ غیر ملکی شہری پاکستان میں تعلیم یا تربیت جاری رکھنے کا کوئی ایسا مستقل حق نہیں رکھتے جو ریاستی پالیسی اور قومی مفاد کے خلاف ہو۔

جسٹس محمد عامر نواز رانا اور جسٹس عبدالقیوم لہڑی پر مشتمل بلوچستان ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے افغان طلبہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) کی جانب سے افغان شہریوں کے میڈیکل و ڈینٹل اداروں میں داخلے، منتقلی اور دیگر سہولت کاری سے متعلق جاری کردہ ہدایات میں مداخلت کرنے سے بھی انکار کیا۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں نقطہ اٹھایا کہ امیگریشن، غیر ملکی شہریوں کی ان کے وطن واپسی اور قومی سلامتی سے متعلق تمام اہم معاملات بنیادی طور پر حکومت اور انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ فیصلے کے مطابق کسی بھی غیر ملکی شہری کو پاکستان میں قیام یا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کا ایسا مطلق حق حاصل نہیں جس کی بنیاد پر ریاست کی وضع کردہ پالیسیوں اور قوانین کو چیلنج کیا جا سکے۔

تاہم عدالتِ عالیہ نے یہ اہم نقطہ بھی واضح کیا کہ افغان شہریوں سمیت تمام غیر ملکیوں کے ساتھ انسانی وقار، انصاف اور قانون کے مطابق سلوک کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ عدالت نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر ہمدردانہ رویے کا تقاضا اپنی جگہ مسلّم ہے، لیکن صرف اس بنیاد پر پاکستان میں قیام یا تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کا مستقل قانونی حق پیدا نہیں ہوتا۔ عدالت نے درخواستیں ابتدائی مرحلے پر خارج کرتے ہوئے متاثرہ افغان شہریوں کو اپنی شکایات کے ازالے کے لیے افغان سفارتخانے سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔

یہ اہم فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان میڈیکل طلبہ کے مستقبل سے متعلق مختلف عدالتوں میں قانونی کارروائی جاری ہے۔ پی ایم ڈی سی نے جولائی اور یکم ستمبر 2026ء کو افغان میڈیکل و ڈینٹل طلبہ کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی تھیں، جن میں موجودہ تعلیمی پروگراموں میں زیرِ تعلیم افغان شہریوں کی واپسی اور نئے داخلوں یا سہولت کاری پر پابندیاں شامل ہیں۔

دوسری جانب، لاہور ہائیکورٹ نے 11 ستمبر کو 13 افغان میڈیکل طلبہ کی درخواستوں پر پی ایم ڈی سی کی متعلقہ ہدایات کا نفاذ درخواست گزاروں کی حد تک معطل کرتے ہوئے انہیں تعلیم جاری رکھنے، امتحانات میں شرکت اور ہاسٹل واپس جانے کی اجازت دی تھی، جبکہ وفاقی وزارتِ صحت اور پی ایم ڈی سی سے 18 ستمبر تک جواب طلب کیا ہوا ہے۔ اسی طرح سندھ ہائیکورٹ نے بھی 14 ستمبر کو کراچی کے 34 افغان میڈیکل طلبہ کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے حکام کو ان کے خلاف فوری کارروائی سے روکا ہے، جس کی اگلی سماعت 29 ستمبر کو مقرر ہے۔

ملک کی مختلف ہائیکورٹس کے احکامات اپنے اپنے مقدمات اور درخواست گزاروں تک محدود ہیں، جبکہ بلوچستان ہائیکورٹ کے اس تازہ فیصلے نے حتمی نوعیت کا قانونی مؤقف سامنے رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کا مستقبل انسانی، قانونی اور امیگریشن پالیسی سے جڑا ہوا ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید قانونی پیش رفت متوقع ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر بلوچستان ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کے فیصلے، پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشنز اور مختلف عدالتوں کی کارروائی کے مستند متن کے مطابق تیار کی گئی ہے۔

ماخذ:
بلوچستان ہائیکورٹ سے متعلق رپورٹنگ؛ ڈان؛ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے متعلق عدالتی رپورٹنگ