

منصور احمد ,May 16,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز):
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں طلاق کے مقدمات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں خاندانی نظام پر بڑھتے دباؤ نے سماجی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق رواں سال اب تک مجموعی طور پر پینتالیس ہزار طلاق کے مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں، جبکہ ہر ماہ تقریباً نو ہزار نئے کیسز فیملی کورٹس میں سامنے آ رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں روزانہ تین سو سے زائد طلاق کی درخواستیں دائر کی جا رہی ہیں، جبکہ اوسطاً ہر گھنٹے اڑتیس طلاقیں رجسٹر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران طلاق کے مقدمات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سال دو ہزار تئیس میں پچاسی ہزار مقدمات دائر ہوئے، جو دو ہزار چوبیس میں بڑھ کر اکانوے ہزار تک پہنچ گئے، جبکہ دو ہزار پچیس میں یہ تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں روزانہ تیس سے زائد کورٹ میرجز بھی ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران اڑتیس ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن میں شادی کے صرف ایک سے تین ماہ کے اندر ہی طلاق کی درخواستیں دائر کر دی گئیں۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح معاشرتی ڈھانچے، خاندانی نظام اور نئی نسل کے مستقبل کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
ماہرین نے والدین، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں اور سماجی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ نوجوان نسل میں برداشت، باہمی احترام اور خاندانی ذمہ داریوں سے متعلق شعور اجاگر کیا جائے تاکہ اس بڑھتے ہوئے سماجی مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔