آئی پی پیز کا دور “دفن” کرنے کا دعویٰ، بجلی مزید سستی کرنے کا اعلان

Screenshot

منصور احمد ,May 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز، 11 مئی 2026) — وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے توانائی شعبے میں بڑے اور انقلابی اصلاحاتی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی پی پیز کے پرانے نظام کو آئندہ کے لیے “دفن” کر دیا گیا ہے اور اب ملک میں بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی لائی جا رہی ہے۔

وزیر توانائی کے مطابق توانائی سیکٹر میں جاری اصلاحات کے بعد نہ صرف صنعت اور زراعت کے لیے بجلی کے الگ نرخ ہوں گے بلکہ دن کے اوقات میں بی-3 اور بی-4 صارفین کو 6 سے 7 روپے فی یونٹ سستی بجلی فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ بجلی کو اس قدر سستا کیا جائے کہ صارفین دن کے اوقات میں اضافی بجلی بیٹریوں میں ذخیرہ کر کے رات کے وقت استعمال کر سکیں، جس سے توانائی کے استعمال میں انقلابی تبدیلی آئے گی۔

اویس لغاری نے کہا کہ حکومت نجی کمپنیوں کو اسمارٹ میٹرنگ سسٹم لانے کی اجازت دے رہی ہے جبکہ کوشش کی جا رہی ہے کہ کوئی بھی خراب میٹر تین ماہ سے زیادہ فعال نہ رہے تاکہ صارفین کو بلنگ میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ توانائی شعبے میں 20 سے 25 اصلاحاتی اقدامات پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں کلین انرجی کی شرح گزشتہ سال 55 فیصد رہی جبکہ ہدف ہے کہ 2036 تک یہ شرح 96 فیصد تک پہنچ جائے۔

وزیر توانائی نے یہ بھی بتایا کہ سرکلر ڈیٹ جو پہلے 2400 ارب روپے تھا، اسے کم کر کے 1600 ارب روپے تک لایا گیا ہے اور آئندہ دو سے تین سال میں اس کے مکمل خاتمے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے منصوبے کے مطابق پانچ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری اگلے سال جون تک مکمل کر لی جائے گی۔

اس سے قبل حکومت نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 16 روپے فی یونٹ کمی جبکہ کمرشل اور گھریلو صارفین کے لیے 8 سے 9 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا تھا۔