امریکہ ایران کشیدگی: جنگی اخراجات 29 ارب ڈالر سے تجاوز، جنگ بندی غیر یقینی

محمود احمد May13,2026

واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز رپورٹ)
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے منگل کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے آغاز سے اب تک امریکہ کے جنگی اخراجات 29 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ امن کی امیدیں مسلسل کمزور ہو رہی ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق یہ اخراجات فروری میں شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد سے اب تک کے ہیں، جن میں فوجی ساز و سامان کی مرمت، متبادل آلات کی خریداری اور آپریشنل اخراجات شامل ہیں۔ اس سے قبل 29 اپریل کو یہ تخمینہ 25 ارب ڈالر بتایا گیا تھا۔

کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے قائم مقام کمپٹرولر جولز ہرسٹ نے بتایا کہ یہ تخمینہ مسلسل اپڈیٹ کیا جا رہا ہے کیونکہ فوجی ٹیمیں ہر مرحلے پر اخراجات کا جائزہ لے رہی ہیں۔

انہوں نے یہ بیان وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے ہمراہ دیا۔

ادھر صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات کمزور پڑ رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے سخت مؤقف کے باعث کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

اسی دوران عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی اثرات دیکھے جا رہے ہیں، جہاں اپریل میں امریکہ میں افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے چین کے طویل انتظار کے دورے سے قبل کہا ہے کہ وہ “امن کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے کامیابی حاصل کریں گے”۔

دوسری جانب ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ ماہ ایران کی ایک توانائی تنصیب پر حملہ کیا تھا، جبکہ یورپی یونین جنگ کے بعد بحری مشن پر غور کر رہی ہے۔

مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے، جو عالمی توانائی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے بھی خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، اور اسلام آباد نے چین اور آذربائیجان سمیت مختلف ممالک کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے رابطے بڑھائے ہیں۔ امریکی صدر نے اس کردار کو سراہتے ہوئے پاکستان کو “انتہائی بہترین ثالث” قرار دیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز
(بین الاقوامی ڈیسک)