متحدہ عرب امارات کی بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی “اتصالات” نے پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری، خصوصاً پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے حصص سے متعلق ممکنہ تبدیلیوں پر ابتدائی غور شروع کر دیا ہے

اسلام آباد: متحدہ عرب امارات کی بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی “اتصالات” نے پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری، خصوصاً پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے حصص سے متعلق ممکنہ تبدیلیوں پر ابتدائی غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کمپنی اس وقت عالمی معاشی دباؤ، علاقائی جغرافیائی صورتحال اور کارپوریٹ تنظیمِ نو کی حکمتِ عملی کے تحت اپنے بین الاقوامی سرمایہ کاری پورٹ فولیو کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے، جس میں پاکستان میں موجود سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ کمپنی اپنے طویل المدتی کاروباری ماڈل کے تحت مختلف مارکیٹس میں سرمایہ کاری کے اثرات اور مستقبل کی حکمتِ عملی کا جائزہ لے رہی ہے۔
سفارتی اور مالیاتی ذرائع کے مطابق یہ جائزہ کسی مخصوص ملک تک محدود نہیں بلکہ خلیجی سرمایہ کاروں کی مجموعی عالمی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد اثاثوں کی بہتر تنظیم اور منافع میں استحکام حاصل کرنا ہے۔
پی ٹی سی ایل کے ڈھانچے کے مطابق حکومتِ پاکستان اور اس کے ادارے تقریباً 62 فیصد حصص کے مالک ہیں، جبکہ 26 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول ایک خلیجی ٹیلی کام گروپ کے پاس ہے، جو حال ہی میں “e&” کے نام سے ری برانڈ ہو چکا ہے۔ باقی 12 فیصد حصص عام سرمایہ کاروں کے پاس پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں موجود ہیں۔
پی ٹی سی ایل نے حالیہ برسوں میں مالی دباؤ کا سامنا کیا، تاہم ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد کمپنی کی مالی پوزیشن میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
ابھی تک نہ تو کمپنی اور نہ ہی حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس ممکنہ پیش رفت پر کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر کسی بھی بڑی سرمایہ کاری میں تبدیلی ہوتی ہے تو پاکستان کے لیے خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب اور قطر سے متبادل سرمایہ کاری کے امکانات موجود رہتے ہیں، جو ٹیلی کام اور دیگر شعبوں میں تسلسل برقرار رکھ سکتے ہیں۔