

محمود احمد june 24,2026
واشنگٹن/اسلام آباد (بین الاقوامی امور ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء
امریکا اور ایران کے درمیان جاری تزویراتی امن مذاکرات ایک بار پھر شدید خطرات سے دوچار ہو گئے ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکراتی عمل فوری طور پر یکطرفہ ختم کرنے کی کھلی دھمکی دے دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک مقتدر بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ایران نے باقاعدہ طور پر امریکا کو مقتدر یقین دہانی کرائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی جہازوں سے نہ تو کوئی ٹول ٹیکس لیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی انشورنس فیس وصول کی جا رہی ہے۔
امریکی صدر نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران کی جانب سے فراہم کردہ یہ معلومات اور تردید بعد میں غلط ثابت ہوئیں، تو امریکا اور ایران کے درمیان جاری تمام تر مذاکرات کو بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مقتدر بیان میں مزید کہا کہ ایران کے بعض منجمد مالیاتی فنڈز اس وقت مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہیں، اور ان فنڈز کو امریکی کسانوں کو ادائیگیاں کرنے کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران ان منجمد فنڈز کے ذریعے صرف امریکا سے ہی مکئی، گندم، سویابین اور دیگر مقتدر غذائی اجناس خریدنے کا مجاز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ایران کو خوراک کی شدید ترین ضرورت ہے اور یہ تزویراتی خریداری صرف اور صرف امریکا سے ہی کی جائے گی۔
دوسری جانب، امریکی صدر کے اس دھمکی آمیز بیان اور دباؤ کے ہتھکنڈوں پر ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا بھی ایک انتہائی اہم اور مقتدر ردِعمل سامنے آیا ہے، جس نے مذاکراتی عمل کے جاری رہنے کے حوالے سے تہران کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی چیف مذاکرات کار نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کسی بیرونی طاقت کے زور پر نہیں، بلکہ ایران کے مضبوط تزویراتی مؤقف اور عوامی مزاحمت کے نتیجے میں ہی وجود میں آئی ہے۔
محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران نے انتہائی مشکل اور کٹھن حالات کے باوجود اپنے تمام تر قومی مفادات کا بھرپور دفاع کیا ہے اور پورے مذاکراتی عمل کے دوران اپنی مقتدر خودمختاری اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق، یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ یہ معاہدہ درحقیقت امریکا کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کی ناکامی اور ایران کی عظیم سفارتی کامیابی کی ایک روشن علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں پائیدار امن اور حقیقی استحکام کسی بھی بیرونی طاقت کی مداخلت کے ذریعے ہرگز ممکن نہیں ہے، بلکہ یہ صرف اور صرف خطے کے تمام ممالک کے باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی سلامتی اور استحکام کی مقتدر ذمہ داری خود خطے کے ممالک کو اپنے ہاتھوں میں سنبھالنی چاہیے۔