

محمود احمد May10,2026
واشنگٹن / تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ امن معاہدے کیلئے 30 روزہ مذاکراتی دور کی تجویز سامنے آگئی، جبکہ عالمی میڈیا نے 14 نکاتی خفیہ پلان کی تفصیلات بھی جاری کر دیں۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ پلان کے تحت ایران کو 60 فیصد افزودہ تقریباً 440 کلوگرام یورینیم بین الاقوامی نگرانی میں حوالے کرنا ہوگا، جبکہ اس کے بدلے امریکہ مرحلہ وار ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم کرے گا۔
خفیہ پلان میں ایرانی تیل کی برآمدات پر نرمی، بینکاری پابندیوں میں جزوی کمی اور بیرون ملک منجمد اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں کی بحالی بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کم کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر نیا فریم ورک طے کرنا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق مذاکرات کے دوران جنگ بندی، خلیج میں بحری کشیدگی میں کمی اور قیدیوں کے تبادلے جیسے معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔ تاہم ایران نے تاحال پلان کی تمام شقوں پر باضابطہ رضامندی ظاہر نہیں کی۔
ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سفارتی حل اب بھی ترجیح ہے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ قومی خودمختاری اور دفاعی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔