

کاشف عباسی ,May 12 ,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے آثار نمایاں ہونے کے بعد پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی جانب سے پیش کیے گئے تصفیہ فریم ورک کو مسترد کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق پیر کے روز خطے میں اہم سفارتی سرگرمیاں جاری رہیں جبکہ فوجی دباؤ اور دوبارہ محاذ آرائی کے خدشات بھی بڑھنے لگے ہیں۔ پاکستان اس دوران ایک باضابطہ ثالث کے طور پر مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جواب کو “مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی خلیج بہت وسیع ہے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے جنگ بندی کی صورتحال کو شدید خطرے میں قرار دیا اور کہا کہ یہ ایسے ہے جیسے کسی مریض کے بچنے کے امکانات صرف ایک فیصد رہ جائیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے تیل بردار اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
اس صورتحال کے تناظر میں پاکستان کا دفتر خارجہ مسلسل سفارتی رابطے کر رہا ہے۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا اور علاقائی استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر گفتگو کی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان خلیجی ممالک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کئی متعلقہ ممالک ایران سے رابطے کر رہے ہیں جبکہ اسلام آباد اب بھی اس معاملے میں ایک فعال ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں تعطل پیدا ہوا تو عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو خوراک اور توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔