

کاشف عباسی ,May 18 ,2026
رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز
اسلام آباد: حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے اندرونی ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اہم آئینی تبدیلیوں کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر ’’28ویں آئینی ترمیم‘‘ کی تردید کی جا رہی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ گفتگو میں کہا تھا کہ ان کی جماعت کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کسی مجوزہ آئینی ترمیم کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا، جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی آئینی تبدیلی سے قبل اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی۔
تاہم، حکمران اتحاد کے اندر موجود ذرائع کے مطابق پس پردہ مختلف آئینی اور انتظامی امور پر غور جاری ہے، جنہیں باضابطہ ’’آئینی ترمیم‘‘ کے بجائے ایک وسیع ’’قانون سازی پیکج‘‘ کی شکل دی جا سکتی ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم سے متعلق بعض شعبے دوبارہ مرکز کے دائرہ اختیار میں لانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ ان میں نصابِ تعلیم، آبادی بہبود، معدنیات و کان کنی اور بعض انتظامی شعبے شامل بتائے جا رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت بظاہر کسی بڑی آئینی تبدیلی کی تردید کر رہی ہے، تاہم پارٹی کے اندر یہ تاثر موجود ہے کہ ’’کچھ نہ کچھ ضرور پک رہا ہے‘‘۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس معاملے کو محتاط انداز میں آگے بڑھانا چاہتی ہے تاکہ اتحادی جماعتوں خصوصاً پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات کو مدنظر رکھا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی کسی بڑے قانون سازی پیکج یا آئینی اصلاحات کی طرف بڑھتی ہے تو اس کے ملکی سیاست، وفاقی ڈھانچے اور صوبائی خودمختاری پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں