ایران نے امریکی تجاویز پر جواب روک لیا، خلیج میں کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے جاری

کاشف عباسی ,May 10 ,2026

تہران / واشنگٹن / بیروت (نیوز اینڈ نیوز) ایران نے خلیج میں حالیہ بحری جھڑپوں اور بڑھتی کشیدگی کے بعد امریکی سفارت کاری کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتے ہوئے واشنگٹن کی تازہ تجاویز پر فوری جواب دینے سے گریز کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے امکانات تاحال برقرار ہیں۔

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی کے باوجود صورتحال نسبتاً پرسکون ہے، تاہم امریکہ ایران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے تاکہ دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری تنازع کے خاتمے اور ممکنہ امن مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن کو ایران کے جواب کی توقع ہے، لیکن ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترک ہم منصب کے ساتھ گفتگو میں امریکی قیادت کی نیت اور سفارتی سنجیدگی پر شکوک کا اظہار کیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ خلیج فارس میں امریکی افواج کی حالیہ کارروائیوں اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں نے سفارتی عمل کے حوالے سے ایران کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ادھر جمعے کو پیش آنے والے ایک واقعے میں امریکی جنگی طیارے نے دو ایرانی پرچم بردار آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن پر امریکہ نے اپنی بحری ناکہ بندی چیلنج کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ایرانی فوجی حکام کے مطابق ایران نے امریکی کارروائی کا جواب دیا، تاہم بعد ازاں جھڑپیں ختم ہو گئیں۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز، جو عالمی تجارت کیلئے ایک اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ایران اپنے معاشی اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایران آئندہ کئی ماہ تک شدید معاشی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے تہران پر واشنگٹن کے دباؤ کی محدود حیثیت ظاہر ہوتی ہے۔

ادھر بحرین میں حکام نے مبینہ طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے حامی 40 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ برطانیہ نے بھی مشرق وسطیٰ میں اپنی جنگی سرگرمیوں کے پیش نظر ایک جنگی بحری جہاز تعینات کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیل نے لبنان میں بھی فضائی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے بیروت کے جنوب میں ایک اہم شاہراہ کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔