

کاشف عباسی ,May 30 ,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء)
— ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ سفارتی عمل میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں اور تیسری مرتبہ مذاکراتی اعتماد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے سامنے آنے والے غیر معمولی مطالبات نے ثابت کر دیا ہے کہ واشنگٹن کا مقصد صرف مذاکرات نہیں بلکہ دیگر سیاسی اور تزویراتی اہداف کا حصول بھی ہے۔
محسن رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ہمیشہ باعزت اور منصفانہ مذاکرات کا حامی رہا ہے، تاہم کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کیا جائے گا جو ایرانی مفادات، خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف ہو۔ ان کے مطابق حالیہ امریکی بیانات اور شرائط نے مذاکراتی فضا کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے مزید 24 بحری جہاز محفوظ طریقے سے گزرے ہیں اور تمام جہاز ایرانی نگرانی اور سکیورٹی انتظامات کے تحت اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہوئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤثر کنٹرول برقرار ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز پر مشاورت بڑھانے پر اتفاق
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمان کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں علاقائی صورتحال، جنگ بندی کی کوششوں اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز سے متعلق خودمختار اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق پالیسی سازی پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران خطے کے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشاورت اور تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے تمام فیصلے بین الاقوامی قوانین اور علاقائی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔ انہوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی اور اسلامی تعاون تنظیم سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر غیر یقینی صورتحال برقرار
ادھر امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق واشنگٹن کو اب بھی امید ہے کہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمتی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، تاہم متعدد اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ ذرائع کے مطابق قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ مذاکرات میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اپنے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس پیش رفت کے بغیر مذاکرات کے اگلے مرحلے میں جانے پر آمادہ نہیں۔ دوسری طرف امریکی حکام ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں سکیورٹی سے متعلق اپنی شرائط پر زور دے رہے ہیں۔
خطے میں کشیدگی برقرار، سفارتی کوششیں جاری
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر خطے میں کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ امریکی مرکزی کمان نے بھی اپنی افواج کی مکمل تیاری کی تصدیق کی ہے۔ اس کے برعکس ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز، منجمد ایرانی اثاثوں اور جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کے باعث مذاکراتی عمل بدستور نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی نے سفارتی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے