

کاشف عباسی ,May 11 ,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کیلئے انکم ٹیکس میں کمی پر غور کر رہی ہے، تاہم مالی دباؤ کے باعث سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کی تجویز بھی زیر بحث ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح کم کرنے اور قابلِ ٹیکس آمدنی کی حد بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے تاکہ مہنگائی کے دباؤ کا شکار متوسط طبقے کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران تنخواہ دار طبقے نے ٹیکس وصولیوں میں غیر معمولی حصہ ڈالا، جو ہول سیلرز، ریٹیلرز، ایکسپورٹرز اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی مجموعی ادائیگیوں سے بھی زیادہ رہا۔
دوسری جانب حکومت اخراجات کم کرنے کیلئے تنخواہوں اور پنشن کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ اس سے حاصل ہونے والی ممکنہ بچت کو ٹیکس ریلیف کی صورت میں استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے مقابلے میں دوگنا سے زائد ٹیکس ادا کیا، جس کے بعد حکومت پر اس طبقے کو ریلیف دینے کیلئے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ادھر اقتصادی ذرائع کے مطابق پاکستان کو غیر ملکی مالی امداد اور فنڈنگ میں بھی تقریباً 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے آئندہ بجٹ کی حکمت عملی پر مثبت اثر پڑنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔