جامعہ اشرفیہ لاہور میں تمام مذاہب اور مکاتبِ فکر کے مشترکہ وفد کا تاریخی دورہ؛ بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال

Spread the love

کاشف عباسی , JULY 03,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

قومی یکجہتی، مذہبی رواداری اور بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کی جانب ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر قومی پیغامِ امن کمیٹی کے مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر پر مشتمل مشترکہ وفد نے پاکستان کے ممتاز ترین دینی ادارے جامعہ اشرفیہ لاہور کا دورہ کیا ہے جہاں انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے وفد کا والہانہ اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔ جامعہ اشرفیہ کی قیادت نے اس دورے کو قومی اتحاد اور مقتدر مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کی جانب ایک انتہائی مثبت اور تاریخی تزویراتی اقدام قرار دیا ہے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں آنے والے اس اعلیٰ سطحی وفد میں مسیحی، ہندو، شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کے ممتاز ترین نمائندے شامل تھے۔ وفد میں بشپ کامران، رمیش کمار، بھگت لال کھوکھر، علامہ محمد حسین اکبر، علامہ عارف واحدی، مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا انوارالحق، مولانا یوسف کشمیری، انجینئر عثمان، مولانا زاہد محمود، حافظ مقبول احمد، علامہ توقیر عباس، علامہ سلمان نقوی، اور مولانا اکبر آصف میر سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء، مذہبی رہنما اور مقتدر دانشور بڑی تعداد میں شریک تھے۔ دورے کے دوران وفد اور جامعہ اشرفیہ کی مقتدر قیادت کے درمیان بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری، باہمی احترام، قومی اتحاد اور معاشرتی استحکام کے فروغ سے متعلق تفصیلی اور تعمیری تبادلۂ خیال کیا گیا، اور شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں امن، بھائی چارے، برداشت اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تمام مذہبی و سماجی طبقات باہمی تعاون کے ساتھ اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں جاری رکھیں گے۔

شرکاء نے اس مشترکہ دورے کو قومی ہم آہنگی کی تاریخ کا ایک اہم ترین سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب اور مسالک کے نمائندوں کا ایک ہی مقتدر پلیٹ فارم پر متحد ہو کر ملک کے اتنے بڑے دینی ادارے کا دورہ کرنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے تمام مذہبی طبقات امن، رواداری اور ملکی اتحاد کے مشترکہ تزویراتی ایجنڈے پر مکمل متفق ہیں۔ انہوں نے پُرعزم امید کا اظہار کیا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے تحت اس نوعیت کے مقتدر مشترکہ اقدامات نہ صرف بین المذاہب اور بین المسالک روابط کو مزید مضبوط بنائیں گے بلکہ ملک بھر میں مستقل امن، قومی یکجہتی اور باہمی احترام کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی مقتدر تاریخ میں یہ پہلا منفرد موقع ہے کہ جب تمام مسالک و مذاہب کی اعلیٰ قیادت ایک دینی ادارے میں مشترکہ وفد کی صورت میں پہنچی اور ان کا بھرپور استقبال کیا گیا، جس پر قومی پیغامِ امن کمیٹی بلاشبہ مبارکباد کی مستحق ہے۔