بحری معیشت کے فروغ اور بین الاقوامی تجارت کی سہولت کے لیے کسٹمز نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات نافذ، ممبر کسٹمز سید شکیل شاہ

Spread the love

محمود احمد, JULY 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبر کسٹمز سید شکیل شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم ٹاسک فورس کی سفارشات اور ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے تحت بحری معیشت کے فروغ اور بین الاقوامی تجارت کو سہل بنانے کے لیے کسٹمز نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کے نفاذ کا سلسلہ جاری ہے۔ وہ جمعرات کو یہاں وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے میری ٹائم افیئرز کے چیئرمین افتخار احمد راؤ اور سیکرٹری میری ٹائم افیئرز کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں میری ٹائم افیئرز کا بنیادی کردار ہے اور ٹاسک فورس کی نشاندہی پر بندرگاہوں سے متعلق متعدد اہم مسائل کے حل کے لیے مقتدر اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں درآمدی سامان کی کلیئرنس کا دورانیہ 1 سال کے اندر 52.9 گھنٹوں سے کم ہو کر 18.3 گھنٹے رہ گیا ہے، جبکہ حکومت نے اس ہدف کو 12 گھنٹے تک لانے کا عزم کر رکھا ہے۔

سید شکیل شاہ نے بتایا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات پر ملک کی بندرگاہوں پر کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی کے لیے فیس لیس نظام نافذ کیا گیا ہے، جس سے فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو 16 فیصد اضافے کے بعد 6.8 ملین روپے سے بڑھ کر 7.7 ملین روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ درآمدی ٹیکسوں کی مجموعی وصولی میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے بڑے بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی (بنکرنگ) کے مقتدر قواعد تیار کر کے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر نافذ کر دیے گئے ہیں، جس سے بحری تجارت میں اضافہ ہو گا۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے قوانین اپ گریڈ کیے ہیں اور اب آف ڈاک ٹرمینلز سمیت بندرگاہوں پر مجموعی طور پر 50 ہزار کنٹینرز ذخیرہ کرنے کی گنجائش حاصل کر لی گئی ہے۔ مزید برآں، مقامی شپ بلڈنگ کے فروغ کے لیے ویسلز پر کسٹمز ڈیوٹی کے بعد اب نئے مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس بھی مکمل ختم کر دیا گیا ہے۔

ممبر کسٹمز نے تزویراتی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹل اصلاحات کے تحت دریائے سندھ کے اطراف ملک بھر میں 35 ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں جو مشکوک، اسمگل شدہ اور ٹیکس چوری میں ملوث کارگو کی نگرانی کریں گے۔ ان مقتدر اقدامات کی بدولت پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی وصولیوں میں 124 ارب روپے اور سگریٹ پر درآمدی ڈیوٹی کی مد میں 51 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوا ہے، جبکہ ٹائروں کی قانونی درآمد میں 42 فیصد، فیبرکس میں 41 فیصد، کاسمیٹکس میں 75 فیصد اور الیکٹرانکس کی درآمدات میں 105 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نظام میں شفافیت لانے کے لیے فریٹ فارورڈنگ ایجنٹس کی رجسٹریشن کے لیے پیشہ ورانہ امتحان کا انعقاد اب انسٹی ٹیوٹ آف بائننس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کرے گا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان سنگل ونڈو، پیشگی کارگو ڈیکلریشن، این ایل سی کے ساتھ کنٹینرز اسکیننگ کے جدید نظام اور ریئل ٹائم ٹریکنگ سسٹم کی بدولت پاکستان کے بحری و تجارتی شعبے کو عالمی معیار کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔