ریاستِ قطر نے غیر ملکی تارکینِ وطن کے لیے ویزہ اور اقامہ قوانین میں اچانک بڑی اور سخت تبدیلیاں کر دیں، پاکستانیوں سمیت تمام غیر ملکیوں کے لیے اقامہ منسوخی کے بعد قطر میں رکنے کی رعایتی مدت تیس دن سے گھٹا کر صرف چودہ دن مقرر، مقررہ وقت پر ملک نہ چھوڑنے پر روزانہ کے حساب سے بھاری جرمانے عائد، وزٹ ویزہ کی خلاف ورزی پر دو سو قطری ریال روزانہ فائن کا اعلان، نوزائیدہ بچوں کی رجسٹریشن اور سفری دستاویزات کے لیے بھی کڑی شرائط جاری

Spread the love

محمود احمد june 17,2026

دوحہ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

خلیجی ملک قطر میں مقیم لاکھوں غیر ملکی تارکینِ وطن اور وہاں سیر و تفریح کے لیے جانے والے سیاحوں کے لیے قطری حکومت نے ریذیڈنسی پرمٹ (اقامہ) کی منسوخی کے بعد ملک میں قانونی قیام کی رعایتی مدت کو آدھا کرتے ہوئے نئے اور بھاری جرمانے عائد کر دیے ہیں، دوحہ سے حاصل ہونے والی خلیجی میڈیا رپورٹس اور روزنامہ گلف ٹائمز کے مطابق قطری وزارتِ داخلہ کے پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے محفوظ سفری طریقہ کار پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے ویبنار کے دوران ایئرپورٹ پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے مقتدر افسر کیپٹن علی احمد علی الکواری نے ویزہ اور اقامہ قوانین میں کی جانے والی ان بڑی اور دوررس تبدیلیوں کا باقاعدہ اور سرکاری اعلان کیا ہے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ قطر کی حکومت نے اقامہ منسوخی کے حوالے سے رائج پرانے قوانین کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، پرانے ملکی قانون کے تحت جن غیر ملکی ملازمین کے اقامے یا ریذیڈنسی پرمٹ منسوخ یا منقطع کر دیے جاتے تھے انہیں نیا روزگار ڈھونڈنے یا واپسی کی تیاری کے لیے ملک میں رہنے کی ۳۰ دن کی رعایتی مہلت دی جاتی تھی لیکن اب اس مدت کو فوراً کم کر کے صرف ۱۴ دن کر دیا گیا ہے، یعنی جن تارکینِ وطن کے اقامے اب منسوخ ہوں گے انہیں ہر صورت دو ہفتوں کے اندر اندر قطر کی سرزمین چھوڑنی ہو گی، اگر کوئی شخص اس مقررہ ۱۴ دن کی مدت گزرنے کے بعد بھی قطر میں غیر قانونی طور پر روپوش یا قیام پذیر رہے گا تو اسے روزانہ کی بنیاد پر ۱۰ قطری ریال کا مالی جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

قطری وزارتِ داخلہ کے عہدیدار نے وزٹ ویزہ پر قطر آنے والے دنیا بھر کے سیاحوں اور مسافروں کو بھی ایک سخت اور آخری وارننگ جاری کی ہے کہ وہ دوحہ ایئرپورٹ پر اپنے پاسپورٹ پر لگی ویزہ کی مہر پر درج شدہ ویزہ کی میعاد اور قطر میں قیام کی حتمی تاریخ کو اچھی طرح اور باریک بینی سے چیک کر لیں، کیونکہ اگر کوئی وزٹ ویزہ ہولڈر اپنے مقررہ ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی ایک دن کے لیے قطر میں رکا رہا تو اسے ۲۰۰ قطری ریال روزانہ کے حساب سے انتہائی بھاری جرمانہ بھرنا پڑے گا جس میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، اسی طرح قطر میں مقیم غیر ملکی فیملیز کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے سفر اور اقامے کے حوالے سے بھی کیپٹن الکواری نے نئی اور اہم شرائط سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ قطر میں پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کی پیدائش کی فوری اطلاع پاسپورٹ حکام کو دینا قانوناً لازمی ہے، والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے متعلقہ ملک کے سفارتخانے سے بچے کا نیا پاسپورٹ اور ضروری دستاویزات حاصل کرنے کے بعد بچے کا ریذیڈنسی پرمٹ اپنے والد کی اسپانسرشپ یعنی کفالت کے تحت فوری بنوائیں، اگر قطر میں پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچے کا اقامہ وقت پر نہیں بنوایا جاتا اور وہ بچہ ایک بار ملک سے باہر چلا جاتا ہے تو اقامے کی قانونی مہر کے بغیر وہ معصوم بچہ دوبارہ کسی صورت قطر کی حدود میں داخل نہیں ہو سکے گا۔

وزارتِ داخلہ کے سینیئر عہدیدار نے تمام مسافروں کو قطر سے کسی دوسرے ملک روانگی یا سفر سے پہلے اپنے تمام تر معاملات اور واجبات کلیئر کرنے کی سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایئرپورٹ آنے سے قبل اپنے موبائل فون پر قطر حکومت کی آفیشل ”میٹراش“ موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے اپنا موجودہ سفارتی اسٹیٹس لازمی چیک کریں، مسافر ایپ پر یہ سو فیصد یقینی بنائیں کہ ان کے نام پر کوئی ٹریفک جرمانہ، اوور اسٹے کا فائن یا حکومت کا کوئی دوسرا واجب الادا ٹیکس باقی تو نہیں ہے کیونکہ یہ بقایا جات ایئرپورٹ پر ان کے سفری طریقہ کار کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں اور انہیں پرواز سے روکا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ قطری حکام نے یہ سہولت بھی دی ہے کہ نئے پاسپورٹ پر پرانے اقامے کو ٹرانسفر کرنے کا سارا عمل بھی اب اسی موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے آسانی سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔