

منصور احمد june 24,2026
اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک بھر میں سرمایہ کاری کی غیر قانونی اسکیموں اور غیر قانونی ڈپازٹ ٹیکنگ کے خلاف گرینڈ آپریشن اور مؤثر کارروائی کرنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید بڑھانے پر مکمل اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد بٹ نے ایس ای سی پی ہیڈ آفس کا ایک اہم مقتدر دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران غیر قانونی ڈپازٹ اسکیموں کے خلاف مشترکہ کارروائی، معلومات کے فوری تبادلے اور مربوط انفورسمنٹ کے لیے ایک باقاعدہ مفاہمتی یادداشت طے کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ڈپازٹ اسکیمیں غیر معمولی اور فرضی منافع کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہیں اور بعد ازاں انہیں بھاری مالی نقصان پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی تخریبی سرگرمیاں ملک کے مجموعی مالیاتی نظام پر عوام کے اعتماد کو بری طرح مجروح کرتی ہیں اور قانونی کاروباری و مالیاتی اداروں کے لیے بھی شدید نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ چیئرمین ایس ای سی پی نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ غیر قانونی ڈپازٹ اسکیموں میں ملوث عناصر کے خلاف بروقت اور سخت ترین قانونی کارروائی اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ ملاقات میں طے پایا کہ دونوں مقتدر اداروں کے درمیان یہ مضبوط تعاون قانون شکن عناصر کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنائے گا، قانون پر عمل درآمد کو مزید موثر بنائے گا اور متاثرہ شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد بٹ نے ملک سے مالی جرائم کے مکمل خاتمے اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ایس ای سی پی کے حکام کو اپنے قریبی تعاون کا پختہ یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اور تزویراتی اشتراک نفاذی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کرے گا، احتساب کے عمل کو پہلے سے زیادہ مؤثر بنائے گا اور غیر قانونی ڈپازٹ اسکیموں سمیت دیگر تمام مالیاتی فراڈ کی حوصلہ شکنی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
دوسری جانب ایس ای سی پی نے عوام الناس کی آگاہی کے لیے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ کسی بھی کمپنی کی محض ایس ای سی پی میں رجسٹریشن یا اندراج اسے عوام سے سرمایہ اور ڈپازٹ جمع کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں دیتا۔ کمپنیز ایکٹ 2017ء کی دفعہ 84 کے تحت صرف بینکنگ کمپنیوں اور ایس ای سی پی سے باقاعدہ لائسنس یافتہ اداروں کو ہی یہ اجازت حاصل ہے، ان کے علاوہ کسی بھی دوسری کمپنی یا ادارے کے لیے عوام سے کسی بھی قسم کا ڈپازٹ وصول کرنا سراسر غیر قانونی اور ممنوع ہے، جس پر سخت سزا دی جا سکتی ہے۔